Today News
گورنر فیصل کریم کنڈی کی مولانا فضل الرحمان سے ون آن ون ملاقات
اسلام آباد:
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر خصوصی ملاقات کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو صوبائی حکومت کی صوبے کے معاملات میں عدم توجہی کا نتیجہ قرار دیا۔
Today News
آٹھ مارچ ، غور و فکرکا دن
دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بظاہر خوشی، یکجہتی اور عورتوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے مگر اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے پیچھے خوشی سے زیادہ درد مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ عورت کی آزادی کا یہ سفرکسی ایک لمحے میں شروع نہیں ہوا بلکہ یہ صدیوں کی ناانصافیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب صنعتی انقلاب آیا تو دنیا کے بڑے شہروں میں کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں، تب ان کارخانوں میں ہزاروں عورتیں بھی مزدوری کرنے لگیں۔ ان عورتوں کی زندگی نہایت سخت تھی۔ انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اورکام کی جگہوں پر کسی قسم کے تحفظ کا تصور بھی موجود نہ تھا۔ نیویارک اور یورپ کے کئی صنعتی شہروں میں عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں نیویارک کی ہزاروں مزدور عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر بہتر اجرت کم اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج دراصل ایک بڑی عالمی تحریک کی ابتدا تھی۔
1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک کی خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی اور جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔ چند ہی برسوں بعد روس میں یہ دن ایک تاریخی موڑ کا سبب بن گیا۔
1917 میں روس کی خواتین مزدوروں نے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بھوک کے خلاف روٹی اور امن کے نعرے کے ساتھ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج بعد میں ایک بڑے عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس میں نئی حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے آٹھ مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں یہ دن مزدور تحریکوں اور ترقی پسند حلقوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتا گیا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اسے عالمی دن کے طور پر تسلیم کر لیا۔
عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔ اسے جائیداد سمجھا گیا اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں رہے اور اس کی زندگی اکثرگھر کی چار دیواری میں قید رہی۔ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اس کی محنت کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا کارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین ان کی محنت ہمیشہ معیشت کی بنیاد رہی مگر ان کے حصے میں عزت اور انصاف کم ہی آیا۔ بیسویں صدی میں جب عورتوں نے تعلیم اور شعور حاصل کرنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اس آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود عورتوں کی جدوجہد جاری رہی۔
آج اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عورتوں کو قانونی حقوق حاصل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی شکلیں اب بھی موجود ہیں۔ گھریلو تشدد جنسی ہراسانی کم عمری کی شادیاں تعلیم سے محرومی اور جنگوں کے اثرات آج بھی لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ایسے میں جب ہم آٹھ مارچ کی بات کرتے ہیں تو ایک اور دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران میں جنگ کے نتیجے میں ایک سو پینسٹھ معصوم بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے نکلی تھیں مگر نفرت اور تشدد کی آگ نے ان کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں جو خالی پن رہ گیا ہے وہ کسی بھی جشن کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔
یہ سانحہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ابھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں عورت اور بچی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ایک بچی خوف کے سائے میں اسکول جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔اسی لیے آٹھ مارچ کے دن یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ دن واقعی جشن کا دن ہے یا یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ کیا ہم صرف تقریبات، سیمیناروں اور نعروں کے ذریعے عورتوں کے مسائل حل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں سماج کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عورت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جب کسی سماج میں عورت کو عزت اور برابری حاصل نہیں ہوتی تو وہ سماج حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ عورت کی آزادی دراصل انسان کی آزادی ہے اور عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔
آٹھ مارچ کو اگر واقعی بامعنی بنانا ہے تو اسے صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے جہاں عورت کو خوف کے بغیر جینے کا حق حاصل ہو جہاں اس کی تعلیم اور اس کے خواب محفوظ ہوں اور جہاں اس کی آواز کو برابری کی اہمیت دی جائے۔جب تک دنیا کی ہر بچی محفوظ نہیں ہو جاتی جب تک ہر عورت کو انصاف اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی تب تک آٹھ مارچ کی اصل معنویت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس دن کو ایک عہد کے دن کے طور پر دیکھنا ہوگا، ایسا عہد کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے اپنی ذمے داری ادا کریں گے۔
آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں ہر باشعور انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہو،کیونکہ جب تک دنیا کی آدھی آبادی کو مکمل عزت اور آزادی حاصل نہیں ہوگی، تب تک انسانیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔
Today News
غیر اخلاقی، غیر اصولی جارحیت
غزہ پر بے اصولی جنگ مسلط کر کے اسرائیل دنیا میں اپنی بے حسی، غیر اخلاقی جارحیت و بربریت کا نیا ریکارڈ بنا ہی چکا تھا مگر اب سپرپاور امریکا نے بھی ایران پر جنگ مسلط کرکے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ طاقتور جو چاہے کرسکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈرکی مجوزہ تقرری میں کے حوالے سے کہا ہے کہ نئی تقرری میں میرا کردار ہونا چاہیے، ورنہ میں نئے سپریم لیڈر کی تقرری قبول نہیں کروں گا۔ ایسا کہنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے،ایسی بات تو اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی نہیں کہی۔ اصولاً ایران میں نئے لیڈر کی تقرری سے دونوں کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا سپریم لیڈر منتخب کرے۔ لیکن ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شہید رہبر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔
ایرانیوں نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر جس اتحاد اور محبت کا ثبوت دیا، اس کو دیکھ کر امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی عوام امریکی صدر کے نہیں بلکہ اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ ہیں اور انھوں نے امریکی خواہش کے برعکس اپنے اتحاد کا فقید المثال ثبوت دے دیا ہے اور گزشتہ سال ایران میں امریکی حمایت سے جو احتجاج ہوئے تھے وہ بھی سپریم لیڈر کی شہادت سے ختم ہو گئے اور عوام نے اپنے ملک اور اپنے مذہبی رہنما سے محبت کا ثبوت دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سب ایک ہیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت انھیں اپنی قیادت کے خلاف نہ کر سکی کیونکہ امریکا و اسرائیل کا خیال تھا کہ ایرانی عوام اپنے مذہبی رہنما اور ایرانی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے تسلط میں ہیں اور وہ اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کو اپنی آزادی سمجھ کر سڑکوں پر آ جائیں گے جس سے ایران دشمنوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری ہو جائے گی مگر ایرانی عوام نے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کیا اور امریکی جارحیت سے مرعوب ہوئے بغیر لاکھوں کی تعداد میں امریکا و اسرائیل کے خلاف کسی خوف کے بغیر سڑکوں پر نکل کر امریکی سازش ناکام بنائی۔
غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کرکے اپنی بربریت کا دنیا میں نیا ریکارڈ بنایا تھا اور نوزائیدہ بچوں تک کو نہیں بخشا تھا اور اب امریکا نے ایران میں اسکول پر بم گرائے جس سے بیسیوں معصوم بچے شہید ہوئے جن کی تدفین کے مناظر دنیا نے بھی دیکھے کہ کس طرح لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا خوف کیے بغیر اپنے بچوں کی ہمت و حوصلے سے تدفین کی اور گھروں سے باہر آ کر امریکی بربریت کی سخت مذمت کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
ہندوستان کے مشہور مسلمان شاعر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن عمران پرتاب گڑھی نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی شہادت پر غم زدہ ہو کر اپنی دکھ بھری نظم میں کہا تھا کہ دنیا میں جنگ کے موقع پر بھی کچھ عالمی آداب اور اصول ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل نے غزہ میں سارے عالمی اصول پامال کر دیے۔ اسرائیل کے بعد امریکا نے بھی انسانی آداب بھلا دیے۔
دنیا کو پتا ہے کہ ایران کے امریکا سے مذاکرات چل رہے تھے جو کامیابی کے قریب تھے مگر امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر خود ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا اور معاہدے سے قبل ہی ایران پر امریکا اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے ایران کی کمر توڑنے کی کوشش کی مگر ایران اس عظیم شہادت کے بعد بھی نہیں جھکا بلکہ ایران نے مذاکرات تو کیا اپنے امریکی اہداف پر حملے روکنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور جنگ بندی نہیں کی۔
امریکا اور اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران پر حملے میں وہ کچھ کر دکھایا جو مہذب دنیا میں نہیں ہوتا۔ شہری آبادی، تعلیمی اداروں، اسپتالوں کو جنگوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے مگر اسرائیلی بربریت و جارحیت میں غزہ میں خوراک کی فراہمی اور طبی امداد تک فراہم کرنے نہیں دی تھی اور اب امریکا نے بھی ایران میں عالمی اقدار اور اخلاقیات تک فراموش کر دیں مگر ایرانیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا ۔
Today News
کراچی، پولیس افسر کا بائیک رائڈر پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر معطل
کراچی:
شہر کے علاقے کھارادر میں ایک پولیس افسر کی جانب سے بائیک رائڈر پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عاصم کو معطل کر دیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اے ایس آئی پٹرول پمپ پر موٹرسائیکل پر بیٹھے بائیک رائڈر پر تشدد کر رہا ہے۔
معطل سب انسپکٹر عاصم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے بائیک رائڈر کو پٹرول پمپ پر گٹکا کھاتے دیکھا تھا، جب اس سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus