Today News
گووندا سدھر جائیں تو معاف کردوں گی؛ اہلیہ سنیتا آہوجا
بالی ووڈ کے سپر اسٹار گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں تاہم اس بار سنیتا آہوجا نے رشتہ قائم رکھنے کی بنیادی شرط رکھ دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے حالیہ انٹرویو میں اپنی ازدواجی زندگی اور اس میں آنے والے پیچیدہ موڑ پر کھل کر بات کی ہے۔
سنیتا آہوجا نے کہا ہے کہ اگر گووندا سدھر جائیں، اپنے رویّے میں تبدیلی لائیں اور ایک خاندان کی طرح چلنے کو تیار ہوں تو میں انہیں معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔
سنیتا آہوجا نے کہا کہ میں عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں عورت کو خاص طور پر شوہر اور بچوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو۔
انھوں نے شکوہ کیا کہ گووندا الزامات اور تنازعات کو میڈیا سے گفتگو میں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں مگر ان کے جوابات اکثر سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔
سنیتا آہوجا کے بقول شروع میں ہر معاملات میں نے سنبھالے اور گووندا کو سہارا دیا لیکن اب نئے منیجرز کے آنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ گووندا اب اپنی کم ہوتی ہوئی شہرت اور مقبولیت کو تسلیم کرنے میں بھی مشکل محسوس کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں جب کہ اداکار کا نام ایک کم عمر میراٹھی اداکارہ کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔
Today News
رمضان شریف: موبائل فون کو ایک طرف رکھ دیجئے !
یہ ڈیجیٹل دَور ہے ۔ چاہتے ہُوئے بھی ہم اِس ڈیجیٹائزیشن سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔ اگر ہم ڈیجیٹل دَور سے ہم آہنگ نہیں ہوتے تو قدم قدم پر احساسِ محرومی جان کو اٹک جاتا ہے ۔ ہمارے بچے جس تیزی اور مہارت سے موبائل فون اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں ، اُنہیں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ’’جنریشن گیپ ‘‘ کسے کہتے ہیں ۔
موبائل فون ہماری ڈیجیٹل زندگی کا جزوِ ناگزیر بن چکا ہے ۔ غریب ہو یا امیر،ہر گھر میں جتنے افراد ہیں ، سب کے ہاتھ میں موبائل فون تھما ہے ۔ اچھا لگے یا بُرا، خاتونِ خانہ باورچی خانہ میں ہانڈی بھی پکاتی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ موبائل فون پر رشتہ داروں اور سہیلیوں سے گپ شپ بھی کرتی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں ۔ہاتھ میں فون نہ بھی تھما ہو ، اسے آن کرکے باورچی خانے ہی میں کسی جگہ اٹکا دیا جاتا ہے اور من پسند ڈرامہ دیکھا جاتا ہے ۔ باورچی خانے میں چاہے ہانڈی جَل جائے ، مگر خاتونِ خانہ کی توجہ موبائل فون سے نہیں ہٹتی ۔ یہ تقریباً ہم سب کے گھروں کا ’’مشترکہ کلچرل منظر‘‘ بن چکا ہے ۔
موبائل فون جدید دَور کا لازمہ بن گیاہے ۔ اِس سے شائد کوئی مفر ہی نہیں ۔ ہمارے گھر کے سامنے مسجد ہے ۔ جب بھی اللہ کی توفیق سے باجماعت نماز ادا کرنے مسجد جاتا ہُوں ، کئی بار دورانِ نماز کئی نمازیوں کے موبائل فون کی گھنٹی بجتی سنائی دیتی ہے ۔ نماز میں واضح طور پر خلل بھی پڑتا ہے اور توجہ بھی بَٹ جاتی ہے ۔ کئی بار امام مسجد ، جماعت کھڑی ہونے سے قبل،یہ کہتے ہُوئے سنائی دیے ہیں:’’ مہربانی فرما کر موبائل فون کی گھنٹی بند کر دیجئے ۔‘‘ پہلے پہل امام صاحب یہ کہتے سنائی دیا کرتے تھے :’’ برادران، مسجد میں موبائل فون مت لایا کیجئے ۔‘‘ اب نوبت صرف گھنٹی بند کرنے تک آکر رُک گئی ہے ۔
پھر بھی کئی نمازی گھنٹی بند کرنا بھول جاتے ہیں۔ اِسی سے ا ندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ موبائل فون ہماری جان کو کس طرح چمٹ گیا ہے ۔ ایک بلا کی طرح!بچوں کی زندگیاں تو ویسے بھی اِس ’’بلا‘‘ نے ہلکان کر دی ہیں ۔ اِس کے اثراتِ بَد سے کوئی محفوظ نہیں ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ممالک ( جنھوں نے موبائل فون کی بلا ایجاد کی ہے ) قوانین وضع کرہے ہیں کہ ’’سترہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ کاش، اِس طرح کی قانون سازی ہمارے ہاں بھی کر دی جائے ۔میرا دو سالہ پوتا بھی صبح آنکھ کھولتے ہی، اپنی توتلی زبان یا اشاروں میں، ٹی وی یا موبائل فون دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ۔ کارٹون دیکھنے کے لیے !
اب الحمد للہ ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر رمضان المبارک آ چکا ہے ۔ 2026 کا رمضان شریف۔آج ماشاء اللہ دوسرا روزہ ہے۔ عالمِ اسلام کے ساتھ ساتھ ساری معلوم دُنیا میں ماہِ رمضان المبارک کی گونج اور بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ غیر مسلم بھی روزہ دار مسلمانوں کا احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بڑی حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح پورا مہینہ یہ مسلمان 12سے زائد گھنٹے بغیر کچھ کھائے پیئے گزار دیتے ہیں ۔رمضان شریف کے ایام میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا نیکیوں کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے اور بدیوں سے اجتناب میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اگرچہ روزوں کے دوران اسراف میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔
یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں دُنیا جہان کی ہر مرغن اور لذیذ شئے دسترخوان پر ہونی چاہیے ۔ حالانکہ یہ خواہش اور اہتمام دراصل روزے کی رُوح کے منافی ہے ۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ لاتعداد ایسے روزہ دار ہیں جو روزے کے دوران نماز و نوافل ادا کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے کی بجائے موبائل کی اسکرین پر وقت گزاری کرتے ہیں ۔
اور موبائل فون کی اسکرین پر جو کچھ نمودار ہوتا ہے ، وہ اکثر روزے کی رُوح کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے ؛ چنانچہ رمضان شریف میں کوشش ہونی چاہیے کہ اِس موبائل فون کی ’’لعنت‘‘ سے کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سہی، نجات حاصل کرلیں ۔یہ ’’نجات ‘‘ مگر کیسے حاصل کی جائے ، اِس کی ایک تدبیر مجھے اگلے روز ایک دینی جریدے میں نظر آئی ہے ۔ اِس جریدے کا نام ’’ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ‘‘ ہے ۔لاہور سے شائع ہوتا ہے ۔ اِس جریدے کے فروری2026کے شمارے میں مجھے جناب رضی ولی محمد کا لکھا گیا ایک دلکشا آرٹیکل پڑھنے کو ملا ہے ۔ اِس آرٹیکل کا عنوان ہی ’’ ڈیجیٹل رمضان‘‘ ہے ۔
میں چاہتا ہُوں کہ روزے کو تقویت دینے والے اِس آرٹیکل کے کچھ اقتباسات اپنے معزز و محترم قارئین کے سامنے رکھوں :کہ رمضان شریف میں موبائل فون کو ایک طرف رکھتے ہُوئے ہم کیسے رمضان کی مبارک و مسعود گھڑیوں سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ اِس کے لیے مضمون نگار ( رضی ولی محمد صاحب) نے کچھ تجاویز دی ہیں ، جو یوں ہیں :
’’رمضان میں روزہ رکھ کر جس طرح بارہ سے چودہ گھنٹے ہم اللہ کی خوشنودی کیلیے کھانے پینے، اور جنسی خواہشات سے دُور رہتے ہُوئے روزہ دار کہلاتے ہیں، بالکل اسی طرح ڈیجیٹل روزہ بھی رکھیں اور روزانہ چند گھنٹے موبائل کو مکمل طور پر بند کردیں، گویا کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یاد رکھیے روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے ،بلکہ دراصل روزہ اپنی خواہشاتِ نفس کو ربّ العزت کے احکام کے تابع کرنے کی تربیت و جدوجہد کا نام ہے۔ ضرورت پڑنے پر موبائل کا استعمال صرف مخصوص اوقات میں کریں۔
سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات میں قطعاً اس کے قریب نہیں جائیں، یا اس کو اپنے قریب نہ لائیں۔ ٹیلی وژن کا پورے رمضان روزہ رکھوائیں اور مکمل طور پر بند رکھیں اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار سے تراویح ختم ہونے تک اور پھر سحر میں قطعی نہ کھولیں۔ اس طرح گناہوں کے آگے روزہ جیسی ڈھال معصیت کے سوراخ ہونے سے بچ سکے گی۔
’’اپنے موبائل کو آپ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں معروف کا حکم ہو اور نواہی سے روک ہو۔ موبائل میں قرآن کی تفاسیر اور احادیث کے مجموعوں کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیجیے اور ان سے استفادہ کی کوشش کیجیے۔ موبائل پر آن لائن درُوس سننے کا اہتمام کریں اور خصوصاً تراویح کے خلاصہ کی کوئی آن لائن کلاس جوائن کرلیں یا کم از کم یو ٹیوب پر موجود کسی بھی عالم دین یا مقرر کے خلاصہ تراویح کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام کریں۔ بہتر ہو کہ اس پروگرام میں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر شرکت کریں۔ اس طرح رمضان المبارک میں مکمل قرآن کا پیغام سمجھ سکیں گے۔
اور جب بات سمجھ آجائے تو عمل آسان ہوجاتا ہے۔ تصحیحِ تلاوت کے لیے کسی منتخب قاری کی ترتیل کے ساتھ تلاوت سنیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دُہرائیں۔ اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کے تلفظ کی درستی ہوسکے گی۔ مختصر احادیثِ مبارکہ اور قرآنی و مسنون دُعاؤں اور ان کے ترجمہ و مفہوم سے متعلق کوئی ایپ اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرلیں اور جب بھی موقع ملے اس میں سے دیکھ کر اس حدیث اور دُعا کو چلتے پھرتے حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح رمضان المبارک کے اختتام پر احادیث اور قرآنی و مسنون دُعاؤں کی بڑی تعداد آپ کو یاد ہوجائے گی جو آپ کو تزکیہ نفس اور اصولِ تقویٰ میں ممد و معاون ہوں گی۔
’’ایسی معتبر اسلامی ویب سائٹس وزٹ کریں جن پر اسلامی سوال و جواب کے پروگرامات پیش کیے جاتے ہوں۔ ا س سے آپ کے دینی علم میں اضافہ ہوگا اور کئی اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھیں گی، جو اطمینانِ قلب کا سبب بنے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اہلِ اسلام کو رمضان شریف کی جملہ برکات سمیٹنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔
Today News
بنگلہ دیش،نئی حکومت – ایکسپریس اردو
اگست 2024 میں طلباء کے لائے ہوئے مون سون انقلاب کے بعد عبوری حکومت بنی جس نے 12 فروری 2026کو عام انتخابات کروا دیے۔ ملک کے چیف ایڈوائزر جناب محمد یونس نے کہا کہ نیا بنگلہ دیش وجود میں آ گیا ہے۔ جناب محمد یونس کو انقلابیوں نے حکومت سنبھالنے کی دعوت دی تھی،انھوں نے بہت اچھا کردار نبھایا اور کسی بھی سکینڈل کی زد میں آئے بغیر عام انتخابات کروا دئے۔بنگلہ دیش میں یہ 13 ویں انتخابات تھے۔
انتخابات میں ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا جو بہت اچھا کہا جا سکتا ہے لیکن بنگلہ دیشی روایتی ٹرن آؤٹ سے قدرے کم ہے۔نتائج کے مطابق بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔بی این پی نے 300کے ایوان میں 212نشستیں جیتیں جب کہ اس کے مدِ مقابل جماعتِ اسلامی 77 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔بی این پی کو دو تہائی اکثریت مل جانے سے اسے قانون سازی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوگی۔
البتہ بی این پی نے ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ کوشش کرے گی کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔یہ ایک انتہائی مثبت سوچ ہے جس پر عملدرآمد سے ملی یکجہتی کی راہیں کھلیں گی۔بنگلہ دیش خوش قسمت ہے۔یہاں کوئی صوبہ نہیں،سب ایک زبان بولتے اور ایک کلچر کے پروردہ ہیں۔
بنگلہ دیش انتخابات میں ماضی کی بڑی اور مضبوط جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی تھی۔کیا ہی اچھا ہوتا گر عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جاتا۔نتائج کچھ مختلف نہیں ہونے تھے کیونکہ شیخ حسینہ نے آخری دور میں بے حد ظلم و زیادتی کی،بہت مظالم ڈھائے اور بہت Witch huntingکی جس کی وجہ سے انتخابی ہار عوامی لیگ کے لیے نوشتۂ دیوار تھی۔ہاں عوامی لیگ کو چند نشستیں ضرور مل جانی تھیں لیکن اس سے انتخابات کی Credibilityبہت بڑھ جانی تھی اور پورے ملک میں کہیں بھی محرومی کا احساس نہ ہوتا۔بہر حال انتخابات ہو گئے ہیں اور 17فروری کو جناب طارق رحمٰن نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔
طارق رحمٰن 17سال ملک سے باہر یو کے میں رہے۔ باہر جانے سے پہلے ان کی شہرت گدلائی ہوئی تھی۔ان کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلا اور سزا ہوئی۔ گذشتہ برس جناب محمد یونس کی عبوری حکومت نے ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے اور انھیں بنگلہ دیش واپس آنے اور اپنے والد اور والدہ کی سیاسی پارٹی کو لیڈ کرنے کا موقع فراہم کیا۔جلا وطنی سے واپسی پر وہ بہت بدلے ہوئے نظر آئے۔
ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ عیاںہے۔جناب طارق رحمٰن کو حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔اس کے ساتھ ان کو سیاسی پارٹی چلانے کا بھی تجربہ نہیں لیکن وہ بنگلہ دیش کے آرمی چیف و صدر اور بنگلہ دیش کی سابقہ مرحومہ وزیرِ اعظم کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے گھر میں بہت سیاست اور اقتدار دیکھا ہے،اس لیے اگر وہ ایک بہترین حکومتی سیاسی ٹیم اکٹھی کرلیں تو بہت کامیابی سمیٹیں گے۔
بی این پی کی مرکزی اپوزیشن پارٹی جماعتِ اسلامی نے کل ملا کر 77نشستیں جیتی ہیں۔گذشتہ اسمبلی میں محض چند نشستوں والی اس سیاسی پارٹی نے بظاہر بہت اچھی انتخابی کارکردگی نہیں دکھائی لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس پارٹی نے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیئے کہ ڈھاکہ شہر میں بی این پی نے اکاون فیصد جب کہ جماعت اسلامی نے 49فیصد ووٹ حاصل کیے یوں ڈھاکہ شہر میں دونوں جماعتوں کی سپورٹ قریب قریب برابر ہے۔
جماعتِ اسلامی نے پورے ملک میں 44فیصد ووٹ لیے ہیں جو بری کارکردگی نہیں لیکن یہ کارکردگی ایک ایسی فضا میں ہو رہی ہے جب عوامی لیگ میدان میں نہیں۔نوجوان اور طلباء کی بہت بڑی تعداد بھی جماعتِ اسلامی کی طرف موافقانہ نظر سے دیکھ رہی تھی۔ جماعتِ اسلامی کو جتنا بہتر ماحول اس الیکشن میں ملا،وہ شاید کبھی دوبارہ نہ مل سکے۔جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اگر جیت کر حکومت بنا لیتی تو انڈیا اور عوامی لیگ کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا۔
جناب طارق رحمٰن نے بنگلہ دیش واپسی کے بعد سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے تک شیخ حسینہ یا عوامی لیگ کے خلاف کوئی منفی بیان نہیں دیا۔عوامی لیگ کو اندیشہ تھا کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آ گئی تو عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے لیے بہت برا ہوگا۔ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکن گھروں میں بیٹھے رہنے کے بجائے ووٹ کاسٹ کرنے میں بھرپور انداز میں شریک ہوئے اور مصلحت کے تحت بی این پی کو ووٹ ڈالا تاکہ بی این پی جو کہ بظاہر ایک معتدل لبرل جماعت ہے،وہ جیتے۔اس خیال میں بہت وزن ہے اور شاید یہی ہوا ہو۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت نے بہتMatureاندازِ سیاست اپنایا ہے۔جماعت قیادت نے نتائج تسلیم کیے، جناب طارق رحمٰن کو مبارک باد دی،پھول اور قومی معاملات میں اپنا تعاون پیش کیا۔جماعت نے الیکشن قواعد کے مطابق کوئی 30 نشستوں کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا ہے۔یہ ان کا جمہوری حق ہے،مخالفت برائے مخالفت ہرگز نہیں۔جناب طارق رحمٰن کی بی این پی کو بنگلہ دیش اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ انتخابات جیتنے کے بعد ان کو انڈیا،پاکستان ، کئی دوسرے ممالک اور ان کی قیادت کی طرف سے مبارک باد دی گئی ہے۔جناب شہباز شریف نے تو پاکستان دورے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ بی این پی کی طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ جناب طارق رحمٰن کی حکومت ریجنلConnectivityبڑھانے اور خطے میں امن و آشتی کے ماحول کو پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔اس مقصد کے حصول کے لیے ان کے پاس سارک کا پلیٹ فارم موجود ہے جو اس وقت نان فنکشنل پڑا ہے۔انڈیا چاہتا ہے کہ سارک کا کوئی بھی سربراہی اجلاس پاکستان میں نہ ہو۔یوں ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ انڈیا چاہے گا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات میں موجود سرد مہری ختم ہو۔
Today News
عائزہ خان اور دانش تیمور نے رمضان المبارک کا بابرکت آغاز مکہ مکرمہ میں کیا
رمضان کا آغاز ہوتے ہی ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس بابرکت مہینے کا ایک ایک لمحہ عبادت اور نیکی کمانے میں صرف کریں چنانچہ اکثر سیلیبریٹیز بھی مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔
شوبز کی معروف جوڑی اداکارہ عائزہ خان اور دانش تیمور نے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کا آغاز مکہ مکرمہ میں کیا اور حرم شریف میں عبادت کی۔
دونوں فنکاروں نے ان روحانی لمحات کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جنہیں مداحوں کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔
عائزہ خان نے انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کے دلوں کو آپس میں جوڑ دے اور اس مقدس مہینے کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔
مداحوں نے جوڑے کے اس روحانی سفر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوبصورت، پُرسکون اور محبت کرنے والا مثالی جوڑا قرار دیا۔
کئی صارفین نے تبصروں میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی عبادات قبول فرمائے اور انہیں ہمیشہ خوش رکھے۔
البتہ ان تصاویر میں عائزہ اور دانش کے بچے نظر نہیں آئے کیونکہ دونوں نے کافی عرصے سے اپنے بچوں کو میڈیا سے دور رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech3 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch