Today News
گہری نیند! – ایکسپریس اردو
ہمارے جیسے ملکوں میں میرٹ کی ایک یقینی تعریف موجود ہے یعنی جو طاقتور کہے گا یا حکم صادر کرے گا، وہی میرٹ کہلائے گا۔ یہ ہماری بدقسمتی کا وہ نوحہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے پا رہا۔ سات دہائیاں گزر گئیں مگر ہم لوگ‘ صرف دو طبقوں میں تقسم ہو کر لڑ مر رہے ہیں۔ طاقتور یا زور آور لوگ، اور دوسرا‘ کمزور افراد ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ شواہد یہی ہیں کہ یہ تفریق جاری و ساری رہے گی۔
یہ معاملہ صرف تین چار برس کی کہانی نہیں ہے بلکہ ساڑھے چار ہزار برس پر محیط طویل داستان ہے جو اب اس خطے کا مقدر بن چکی ہے۔امیر طبقہ ہی حکومت کرے گا۔ اسی کی آل اولاد پھلے پھولے گی‘ اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ ہی نوازے جائینگے۔ یہ اب کوئی اصول نہیں بلکہ سماجی‘ سیاسی اور اقتصادی قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس سے کوئی مفر حاصل نہیں ہے۔
کمزور طبقہ جسے عوام کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، صدیوں سے بے معنی ہیں۔ ان کی سرے سے کوئی اہمیت ہے ہی نہیں۔ سچ صرف یہی ہے جو ہمارے ملک میں دوام حاصل کر چکا ہے۔ ملک بننے یا بنانے سے لے کر آج تک‘ ہماری مقتدرہ نے کوئی ایسی معمولی سی بھی حرکت نہیں کی جس سے ہم جدت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ ہاں‘ ہم اپنے حکمران طبقے کی دولت میں اضافے کو ترقی کہہ سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس کا عوام کی زبوں حالی یا پیہم غربت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت پسندی یہی ہے کہ ہم اس تقسیم کو قطعی طور پر مان لیں اور اسے اپنی قسمت قرار دے ڈالیں۔ مذہبی طبقہ تو بڑے اہتمام سے اس مصنوعی اور بے اصولی کو ذاتی مقدر کے فلسفے میں دفن کر چکا ہے اور وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں۔ عوام میں غربت کو ’’ امتحان‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ سمجھایا جا رہا ہے کہ آپ کو زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر نعمت‘ مرنے کے بعد نصیب ہو گی۔
ایک اور مسئلہ بھی ہے، ملکوں میں دائیں اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے ان گنت لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی عملی اور ذہنی جدوجہد بھی ہوتی ہے۔ برصغیر میں تقسیم سے پہلے‘ دونوں اطراف کی سوچ موجود تھی۔ پاکستان بننے کے ابتدائی دور میں بھی یہ تفریق موجود تھی۔ ایسی کامیاب سیاسی جماعتیں بھی تھیں جو جوہری لحاظ سے عوام کی بھلائی کو متضاد طرز سے دیکھتی تھیں۔
جیسے ماضی کی پیپلز پارٹی‘ ایک بائیں بازو کے طرز فکر کی سیاسی جماعت تھی۔ روایتی سیاسی جماعتیں اورمذہبی جماعتیں سوچ کے حوالے سے دائیں طرف کھڑی نظر آتی تھیں مگر موجودہ حالات میں یہ تقسیم مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ لفاظی اور تقریری حد تک اب بھی فرق نظر آتا ہے مگر عملی طور پر‘ دونوں اطراف‘ اب ملکی وسائل پر قبضہ کر کے حکومت کرنے کو اپنا مقصد بتاتی ہیں۔ عوام کی فلاح کے لیے کوئی عملی کام نظر نہیں آتا۔ سچ یہ بھی ہے کہ چند مذہبی گروپ ‘ سماجی فلاح میں پھر بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
جیسے زلزلہ‘ سیلاب یا دیگر قدرتی آفات میں، بہر حال ان کی خدمات کی قدر کی جانی چاہیے مگر اپنے آپ کو لبرل یا پروگریسو گرداننے والے لوگ، انجمنیں یا سیاسی گروہ‘ کسی بھی قدرتی آفت میں مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے۔ یہ لوگ صرف اور صرف میلے اور لگثرری ہوٹلز اور دیگر وینیوز میںنمائشی پروگراموں میں تقاریر کرتے نظر آتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ لبرل افراد‘ ان ثقافتی یا سماجی میلوں یا پروگرامز سے بھی اقتصادی فوائد حاصل کرنا مقصود اول سمجھتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت امیر لوگوں کی ہے‘ جو نمائشی طور پر ‘ عوامی جدوجہد کو سلام کرتے ہیں۔ اگر عوامی سطح پر معمولی سی بھی خدمت کا اعتراف کرنا ہو تو دائیں بازوں کے لوگوں کے کام کو نہ سراہنا نا انصافی ہو گی۔ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جس نے دنیا میں موجود اکثر فلسفوں کو ادھیڑ کر رکھ ڈالا ہے۔ تقسیم امیر یا غریب کی نہیں بلکہ طاقتور اور کمزور کی ہے۔ مقتدر طبقہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نحیف افراد کو بحیثیت ایک طبقہ ہر طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔ یہی سچ ہے اور ہمارے سماج میں اسی تفریق کی بنیاد پر زندگی معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔
تقسیم ہند کو ذرا غور سے دیکھئے۔ دونوں اطراف کے امراء انتہائی محفوظ طریقے سے ہجرت کرے کے اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے تھے۔ کوئی خاندان‘ ہوائی جہاز سے اپنی پسندیدہ منزل یا شہر میں پہنچا اور کوئی بڑے سکون سے سیکیورٹی خرید کر اپنے نئے ماسکن میں جا پہنچا۔ یہ بھی درست ہے کہ حادثانی طور پر طاقتور طبقے کا بہت تھوڑا سا عنصر‘ قتل و غارت کے عذاب کا شکار ضرور ہوا مگر اکثریت کو خراش تک نہیں آئی۔ اس میں ہندو ، مسلمان اور سکھ ‘ مذاہب کے مراعات یافتہ افراد شامل تھے۔ ہندوستان میں پھر بھی سیاسی پختگی رکھنے والے افراد موجود تھے مگر ہمارے خطے میں تو جناح صاحب کے بعد‘ سیاسی بصیریت تقریباً مفقود نظر آتی ہے۔ اپنی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں۔ کیا غلام محمد اور اسکندر مرزا کی بداعمالیوں اور کوتاہیوں نے ایوب خان کو سوچنے پر مجبور نہیں کر دیا تھا کہ نظام حکومت سازشی بونوں کی ریشہ دوانیوں کے حوالے کرنے سے بہتر ہے کہ فوج براہ راست اقتدار پر قبضہ کر لے۔ ایوب خان نے جب کیبنٹ میٹنگز کے دگرگوں حالات دیکھے تو بطور وزیردفاع ‘ اسے یہ جانچنے کا موقع مل گیا کہ وہ اور اس کے ساتھی بہتر طریقے سے حکومتی معاملات کو چلا سکتے ہیں اور شاید یہ سوچ آج بھی موجود ہے۔ ماضی میں ایوب خان کو ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاست دانوں کی کھیپ مل گئی، ضیاء اور مشرف کو سیاستدان میسر رہے اور آج بھی ایسا ہی چل رہا ہے۔
مگر ہماری حد درجہ مشکل صورت حال کے برعکس بھی ایک تصویر موجود ہے۔ یورپ اور امریکا میں ایک ذہنی انقلاب برپا ہوا تھا جس کی اصل بنیاد صنعتی انقلاب تھی۔ سائنسی ترقی نے ان اقدام کو موقع دیا کہ وہ سوچیں کہ ا نسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے معاشرے کے کس طبقے کو حکومت کرنے کا حق دیا جائے۔ پھر ان کو کس طرح غیرمبہم قوانین میں باندھا جائے تاکہ وہ اپنے اختیارات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ کر پائے۔ یہ بھلائی‘ یورپ اور امریکا میں ایک طویل جدوجہد کے بعد برپا ہوئی تھی۔ انسان کا برابر کا کلیہ صرف اور صرف اقتصادی اور ذہنی تبدیلی سے وقوع پذیر ہوا تھا۔ اس میں کسی بھی مذہبی گروہ کا نمایاں ہاتھ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر غلام بیچنے کی قبیح رسم کو امریکی صدر ابراہم لنکن نے بزور شمشیر ختم کیا تھا۔
ذہن میں یہ بھی رہنا چاہیے کہ غلاموں کی تجارت اس وقت سب سے فائدہ مند کاروبار تھا۔ اس تجارت میں ملوث تاجروں کے پاس ذاتی فوج تک تھی مگر تاریخ میں ابراہام لنکن‘ وہ واحد حکمران ہے جس نے ریاستی طاقت کو اس ظالمانہ کاروبار کے خلاف استعمال کیا۔ ایک باقاعدہ جنگ ہوئی ۔ اس کے نتیجے میں غلاموں کی خرید و فروخت پرمبنی منافع بخش کاروبار برباد ہوگیا۔ یورپ پہلے ایک فکری تغیر سے گزرا۔ صنعتی انقلاب کی ابتدا وہیں سے ہوئی۔ جنگ عظیم اول اور دوم نے‘ دراصل یورپ کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جمہوریت ‘ انسانی حقوق‘ قانون کی حکمرانی جیسے عظیم اصول‘ فرانس اور برطانیہ کے فلسفیوں کے ذہنوں میں کشید ہوئے اور ہاں! وہاں سائنس اور اس کے اصولوں کی بالادستی کو قبول کرایا گیا۔ چرچ کی بے پناہ قوت کو ذاتیات تک محدود کر دیا گیا۔ اس کارنامے کے لیے‘ عام لوگوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔
مگر ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ تقسیم برصغیر کے بعد‘ ہم کسی فکری‘ صنعتی یا سائنسی انقلاب کا حصہ نہیں بن سکے۔ اگر آپ برا نہ منائیں تو عرض کروں گا کہ عمومی طور پر ہمارا خمیر‘ اس قابل ہی نہیں تھا کہ ہم کسی بڑی تبدیلی کے حامل ہو سکتے۔ مقتدر طبقہ نے اس سلسلہ میں‘ بھرپور تقلید کا وہ ڈول ڈالا جو آج تک قائم و دائم ہے۔ بحیثیت قوم سوچ کی قدامت پسندی کی طرف گامزن ہو گئے بلکہ ہم لوگ دنیا سے متضاد ڈگر پر چل پڑے۔ ہمارے طاقتور طبقے کو یہ طرزعمل حددرجہ مناسب لگا کیونکہ اس میں ان کا لامحدود مالی و سیاسی فائدہ چھپا تھا۔ انھوںنے باقائدہ ‘ جدت پسندی کو گناہ و ثواب کے پلڑے میں ڈلوا دیا ۔ چند مذہبی رہنماؤں نے اس کھیل میں ان کا ساتھ دیا اور وہ بھی کھل کر فوائد حاصل کرتے رہے۔ ضیاء الحق ایک شاطر حکمران تھا ۔
اس نے مذہب کو اپنی حکمرانی کے لیے استعمال کیا۔ ایک نئے امیر طبقے کو جنم دلایا جس نے سیاست پر بھی غلبہ حاصل کر لیا۔ جو ہری طریقہ سے پرکھا جائے تو تقریبا چالیس یا پچاس خاندان‘ پورے ملک کے مالی وسائل پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ حکومت، سیاست اور معیشت سب کچھ ان کے زیر اثر ہے۔ وہ جو فرمائیں، وہ عام آدمی کے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ حکم عدولی کے لیے مختلف قسم کی سزائیں ، جرمانے اور جیلیں موجود ہیں۔ پچیس کروڑ لوگ‘ صرف اور صرف پلاسٹک کے وہ شناختی کارڈ ہیں جس کی شریانوں سے لہو کشید کر کے نظام کے چہرے کی لالی کو نمایاں کر دیا گیا ہے۔ جب تک ہم تقلید کو چھوڑ کر جدت پسندی‘ سائنسی اصولوں اور جمہور کی اساس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ہمارے اگلے سیکڑوں برس بھی‘ اسی جمود میں گزر جائیں گے۔ ہمیں نظریاتی لوریاں سنا سنا کر مزید گہری نیند سلا دیا جائے گا!
Today News
بھارت سے شکست کے باوجود قومی ٹیم کی بیٹنگ میں ریکارڈ شراکت
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھائی تاہم بیٹنگ میں آخری وکٹ میں شراکت کا ریکارڈ توڑ دیا۔
کولمبو میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو بھارت کے ایشان کشن نے شان دار بیٹنگ کی اور پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔
پاکستانی بیٹرز نے ناقص کارکردگی دکھائی اور صاحبزادہ فرحان کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد دیگر بیٹرز بھی مسلسل آؤٹ ہوتے رہے تاہم عثمان خان نے ٹیم کو 100 کا ہندسہ عبور کرنے کا موقع فراہم کیا۔
پاکستان کے 7 بیٹرز دہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکے اور 3 بیٹرز صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان نے سب سے زیادہ 44 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، شاداب خان نے 15 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 14 رنز بنائے۔
بھارت کے 175 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہوئی، جس میں آخری وکٹ کی شراکت میں شاہین شاہ آفریدی اور عثمان طارق نے 17 رنز کی شراکت کی جو ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ ہے، عثمان طارق کے صفر پر آؤٹ ہونے کے باوجود شراکت کا ریکارڈ بن گیا ہے۔
ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے دسویں وکٹ میں محمد آصف اور سعید اجمل نے 6 مئی 2010 کو انگلینڈ کے خلاف 15 رنز بنا کر آخری وکٹ میں بڑی شراکت کا ریکارڈ بنایا تھا۔
بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے اس میچ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت شاداب خان اور عثمان خان نے 35 گیندوں پر 39 رنز کی شراکت بنائی تھی، جس میں عثمان کے 22 گیندوں پر 26 اور شاداب خان کے 13 گیندوں پر 13 رنز شامل تھے۔
بابراعظم اور شاداب خان نے 21 جبکہ فہیم اشرف اور شاہین شاہ آفریدی نے 19 رنز کی شراکت بنائی تھی۔
ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ محمد رضوان اور بابراعظم کا انگلینڈ کے خلاف پہلی وکٹ میں ناقابل شکست 203 رنز ہے اور سرفہرست پانچ بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی انہی دونوں بیٹرز کے پاس ہے۔
بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابراعظم نے 24 اکتوبر 2021 کو دبئی میں 152 رنز بنا کر سب سے بڑی شراکت قائم کی تھی۔
Source link
Today News
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا
حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔
Source link
Today News
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔
Wheels down 🛬 in Vienna, a city of history, culture and global diplomacy.
I look forward to my meeting with Chancellor Christian Stocker @_CStocker to further strengthen the bonds of friendship between Pakistan and Austria. Our focus shall be on Trade, investment and economic…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) February 15, 2026
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ ویانا پہنچے ہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر ویانا پہنچ گئے ہیں اور ویانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آسٹریا کی مسلح افواج کے دستے نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو سلامی پیش کی۔
وزیرِ اعظم آسٹرین چانسلر کرسچئین اسٹاکر سے دو طرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے، وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے چانسلر دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے معروف کاروباری افراد کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔
وزیرِاعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت اور خطاب کریں گے، وزیرِاعظم ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ “پائیدار ترقی، عالمی امن و خوش حالی کا راستہ” کے موضوع پر خصوصی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔
علاوہ ازیں وزیرِاعظم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹرجنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech1 week ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Tech1 week ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech2 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Business2 weeks ago
Bulls remain in control as KSE-100 closes in the green at 186,900.73 points