Connect with us

Today News

گیری کرسٹن کو پاکستان میں کوچنگ کے دوران کن مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا؟

Published

on


پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے ساتھ کام کے دوران انہیں بیرونی دباؤ اور غیر معمولی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک انٹرویو میں اپنے دورِ کوچنگ کے تجربات بیان کرتے ہوئے گیری کرسٹن نے کہا  کہ بیرونی مداخلت اور دباؤ کی وجہ سے مؤثر انداز میں منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کوچ کے لیے واضح سمت متعین کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کسی کوچ کو ذمہ داری دی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے کیونکہ بار بار مداخلت سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، جیسے تادیبی اقدامات، ٹیم کے ماحول کو خراب کرتے ہیں اور عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کوچ کو تبدیل کرنا آسان حل سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ طرزِ عمل طویل المدتی طور پر فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنا مجموعی طور پر ایک اچھا تجربہ رہا اور پاکستانی کھلاڑی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ اگرچہ زبان کا فرق ایک حد تک موجود تھا، مگر کرکٹ ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جو کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان رابطے کو آسان بنا دیتی ہے، جس سے میدان میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پشاور میں نیشنل بینک میں ڈکیتی

Published

on


پشاور میں کوہاٹ روڈ پر واقع نیشنل بینک میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر تھانہ بانا ماڑی میں درج کر لی گئی، واقعے سے متعلق مختلف زاویوں سے تفتیش بھی جاری ہے۔ ڈاکو بینک سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے لے گئے۔

ابتدائی طور پر ڈاکوؤں کی تعداد چار یا اس سے زیادہ معلوم ہوتی ہے، ڈکیتی کے وقت بینک کی سیکیورٹی پر گارڈ موجود نہیں تھا۔ بینک میں تین ایمرجنسی الارم تھے جو پانچ بار بجے۔ قومی بینک نے نہ سیکیورٹی گارڈ تعینات کیا تھا نہ ہی الارم کمپنی نے آپریشن منیجر کو آگاہ کیا۔

نجی کمپنی کے الارم سسٹم آپریٹر کو الارم کا الرٹ ملا مگر کسی کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز نے مقامی پولیس کو اطلاع نہیں دی جبکہ الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز کو شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے۔

ڈاکو پہلے بینک کی بیک سائیڈ کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے، ڈاکو اپنے ساتھ  گیس سلنڈر بھی لائے تھے۔ ڈاکوؤں نے اندر داخل ہو کر تمام سی سی ٹی وی کیمرے بند کیے۔ بینک ڈکیتی کا واقعہ گذشتہ روز پیش آیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

اضافی کرایوں کی مد میں 60 لاکھ سے زائد رقم مسافروں کو واپس

Published

on


موٹر وے پولیس نے اضافی کرایوں کی مد میں 60 لاکھ سے زائد رقم مسافروں کو واپس دلوادی۔

ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق آئی جی موٹروے پولیس سلطان احمد چوہدری کی ہدایت پر زائد کرایوں اور اوورلوڈنگ کے خلاف خصوصی مہم 15 مارچ سے جاری ہے، زائد کرائے کی مد میں وصول کی گئی 60 لاکھ سے زائد رقم مسافروں کو واپس دلوا دی گئی۔

ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ سواری والی گاڑیوں کو اوورلوڈنگ، اوور چارجنگ اور نامکمل سفری دستاویزات کی مد میں بائیس ہزار سے زائد چالان کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ شہری اپنی شکایات براہ راست موٹروے پولیس افسران، ہیلپ لائن 130 یا سوشل میڈیا ہینڈل @NHMPofficial پر درج کروا سکتے ہیں۔

کفایت شعاری و ایندھن کی بچت کے پیش نظر  12 مارچ سے نئی حدِ رفتار کی خلاف ورزی پر اب تک چوبیس ہزار سے زائد گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں۔ موٹروے پولیس کے  افسران ملک بھر کے ٹول پلازوں پر نئی حدِ رفتار اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

سوڈان میں ہسپتال پر ہولناک حملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق

Published

on


عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ سوڈان کے علاقے دارفور میں ایک ہسپتال پر حملے میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 13 بچے بھی شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینام کے مطابق یہ حملہ مشرقی دارفور کے دارالحکومت الڈائن میں واقع ایک تدریسی ہسپتال پر کیا گیا، جس میں مریضوں کے ساتھ ساتھ دو نرسیں اور ایک ڈاکٹر بھی جاں بحق ہوئے۔

حملے میں مزید 89 افراد زخمی ہوئے جن میں طبی عملہ بھی شامل ہے۔ اس واقعے کے بعد ہسپتال کے بچوں، زچگی اور ایمرجنسی وارڈز شدید متاثر ہوئے اور ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان کی جاری جنگ کے دوران صحت کے مراکز پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2023 سے اب تک 213 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر فوج کے ڈرون کے ذریعے کیا گیا، تاہم ڈبلیو ایچ او نے کسی فریق کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی فورس کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں 3 کروڑ سے زائد افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ صحت کے مراکز کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں، انہوں نے فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل بھی کی۔





Source link

Continue Reading

Trending