Connect with us

Today News

گیس سیکٹر کے 1500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کا منصوبہ تیار

Published

on



حکومتِ پاکستان نے گیس سیکٹرکے تقریباً 1500 ارب روپے کے سرکلرڈیٹ کو تین سال کے اندر ختم کرنے کے لیے منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف سے منظوری طلب کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ حال ہی میں سات ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کے دوران ہونیوالے مذاکرات میں زیرِغور آیا، تاہم آئی ایم ایف نے تاحال اس پر حتمی فیصلہ نہیں دیا، حکومت جون سے قبل آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرناچاہتی ہے تاکہ آئندہ بجٹ میں کل واجب الادارقم کے ایک تہائی حصے کی ادائیگی کے لیے رقم مختص کی جاسکے۔

سرکاری حکام کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 3400 ارب روپے سے تجاوز کر چکاہے جس میں تقریباً 1800 ارب  روپے اصل رقم شامل ہے، حکومت کا ارادہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 1500 ارب روپے اداکیے جائیں جبکہ باقی رقم ٹیکس ریفنڈز اور عدالتی مقدمات میں پھنسی ہوئی ہے۔ منصوبے کے تحت تیل اور گیس کمپنیوں کو ادائیگی اس شرط پر کی جائیگی کہ وہ تاخیر سے ادائیگی پر عائد ہونیوالے تقریباً 1600 ارب روپے کے سرچارجز معاف کردیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اس مقصد کے لیے پیٹرول اورڈیزل پرفی لیٹر 5 روپے لیوی عائدکرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس وقت بھی پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر لیوی شامل کیے جاچکاہے،ماہانہ تقریباً 12ارب روپے وصول کیے جارہے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اورگورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈسے منافع اور اضافی منافع کی مد میں تقریباً 850 ارب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،جبکہ ایل این جی کی بچت سے تقریباً 400 ارب حاصل کرنے کی بھی تجویز ہے، تاہم آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ ان کمپنیوں سے اتنی بڑی رقم نکالنے سے ان کی مالی صحت اور مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔

 حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں سرکلر ڈیٹ کے دوبارہ اضافے سے بچنے کے لیے گیس قیمتوں کا جائزہ ہر سال لیاجائےگا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کینیا؛ ٹیسٹ ٹیوبز میں 2 ہزار سے زائد ’ملکہ چیونٹیوں‘ کی اسمگلنگ؛ چینی شہری گرفتار

Published

on


کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک چینی شہری کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کے سامان سے دو ہزار سے زائد زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت ژانگ کیکون کے نام سے ہوئی جس کے سامان سے 1948 چونیٹیاں ملی تھیں۔ 

ان میں 300 سے زائد چونٹیاں زندہ تھیں جنھیں ٹشو پیپرز میں اس طرح رکھا گیا تھا کہ سفر کے دوران وہ زندہ رہیں اور انھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔

بقیہ چونٹیاں مردہ تھیں اور انھیں ٹیسٹ ٹیوب میں چھپایا گیا تھا۔ حیران کن طور پر تمام 1948 چونٹیاں عام نہیں بلکہ ملکہ چونٹیاں ہیں۔

کینیا کی وائلڈ لائف کے مطابق برآمد ہونے والی چیونٹیاں سائنسی طور پر میسور سیفالوٹس کہلاتی ہیں اور یہ افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں مٹی کی زرخیزی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان چونٹیوں کی تجارت بین الاقوامی حیاتیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت سختی سے کنٹرول کی جاتی ہے اور یہ قابل گرفت جرم ہے۔

سرکاری وکیل ایلن ملاما نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا تعلق چیونٹیوں کی اسمگلنگ کے ایک ایسے نیٹ ورک سے ہونے کا شبہ ہے جس کے خلاف گزشتہ سال کارروائی کی گئی تھی۔

استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ کی اجازت دی جائے تاکہ اس ممکنہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچا جا سکے۔

وائلڈ لائف سروس کے ایک سینئر اہلکار ڈنکن کے مطابق تفتیش کار اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع کر رہے ہیں اور تحقیقات کو کینیا کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے جہاں سے ممکنہ طور پر چیونٹیاں اکٹھی کی جاتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں پالتو حشرات رکھنے کے شوقین افراد میں ان چیونٹیوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ملکہ چیونٹیوں کی خاص اہمیت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ نئی کالونیاں بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

گزشتہ سال بھی کینیا کی ایک عدالت نے ہزاروں زندہ ملکہ چیونٹیوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر چار افراد کو ایک سال قید اور تقریباً 7700 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پانچ دن کے ریمانڈ پر رکھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی بین الاقوامی سمگلنگ نیٹ ورک تو نہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

US B-2 bombers begin mission for more strikes on Iran

Published

on


امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے بھی حملوں کے لیے اپنا مشن شروع کر دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل تہران، شیراز اور اہواز سمیت مختلف شہروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو سو سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق لڑاکا طیاروں نے بڑے پیمانے پر بیس فضائی حملے کیے جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، اسلحہ کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے والے مقامات کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی نظام “تھاڈ”  کو اسرائیل منتقل کر دیا تاکہ اسرائیل کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیاکہ ایرانی رجیم کے رہنما زیر زمین جا چکے ہیں کیونکہ آج سب سے سخت حملے ہوں گے، ہم نہیں رکیں گے، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کی مدد روس کر رہا ہے، ایرانی حکومت جلد گر جائے گی؛ ٹرمپ کی دھمکی

Published

on


 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیکر کہا ہے کہ مجھے لگتا روس ایران کی تھوڑی بہت مدد کر رہا ہے۔

فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر پوٹن ایران کی مدد کر رہے ہیں۔

جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے شاید وہ تھوڑی مدد کر رہا ہو کیوں کہ روس سمجھتا ہے کہ امریکا وہاں یوکرین کی مدد کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہاں ہم بھی یوکرین کی مدد کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح چین بھی یہی کہے گا۔ بات سیدھی سی ہے۔ وہ کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں۔ انصاف کی بات یہی ہے کہ وہ کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سی این این نے دعویٰ کیا تھا کہ روس ایران کو امریکی فوجی، جہاز اور طیاروں کی مواقع اور حرکات سے متعلق انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔ جس کی تصدیق کئی امریکی انٹیلیجنس ذرائع نے کی۔

تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں روس اور چین حقیقی طور پر اہم عنصر نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی حکومت گر سکتی ہے لیکن فوراً نہیں، اس میں کچھ لگے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ایران کے عوام بالاخر موجودہ حکومت کو تبدیل کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران میں ابھی تک بڑے پیمانے پر احتجاج یا حکومتی اداروں سے کسی بڑے انخلا کے آثار نہیں دکھائی دے رہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending