Connect with us

Today News

ہری پور: شادی سے انکار پر فائرنگ سے خاتون قتل، ملزم کی خودکشی کی کوشش

Published

on



ہزارہ موٹر وے پر دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک شادی شدہ مرد نے خاتون کی جانب سے شادی سے انکار پر کار کے اندر فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا، بعد ازاں ملزم نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ کی حدود میں پیش آیا، جہاں اسلام آباد سے ایبٹ آباد واپسی کے دوران گاڑی میں ملزم نے خاتون کو نشانہ بنایا۔ مقتولہ کی شناخت 25 سالہ انیلہ کے نام سے ہوئی ہے جو ایبٹ آباد کی رہائشی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مانسہرہ کے رہائشی ملزم شہزاد نے خاتون کے شادی سے انکار پر طیش میں آ کر کار کے اندر فائرنگ کی۔ واقعے کے وقت مقتولہ کی والدہ بھی گاڑی میں موجود تھیں تاہم وہ محفوظ رہیں۔ والدہ کے بیان کے مطابق ملزم نے انیلہ کو قریب سے گولیاں ماریں۔

واقعے کے بعد ملزم شہزاد نے اپنے گلے میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر ٹراما سنٹر منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت میں ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

موٹر وے پولیس نے مقتولہ کی لاش کو آر ایچ سی منتقل کر دیا جبکہ تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دانشمندی بھی ضروری ہے – ایکسپریس اردو

Published

on


ایک ماہ کی جنگ میں ایران کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ایرانی حملوں میں خلیجی ریاستیں بھی اسرائیل سے زیادہ متاثر ہوئیں جب کہ اسرائیل کا بھی جانی سے زیادہ مالی نقصان ہوا جو وہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا جس کا ایران سے کوئی جھگڑا ہی نہیں تھا کا سب سے کم نقصان ہوا جو وہ اپنے وسائل سے پورا کرنے کی بجائے ان خلیجی ممالک کے ذریعے ہی پورا کرے گا جن کی حفاظت کے لیے وہ ان سے اربوں ڈالر وصول کرچکا ہے مگر اس نے جان بوجھ کر ان کی حفاظت نہیں کی اور انھیں ایرانی حملوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ امریکا ایران سے بہت دور واقع ہے جس کا نقصان ایران نے خلیجی ممالک میں ان امریکی اڈوں کو پہنچاکرلیا تو ہے مگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے بے شمار شہروں کو تباہ و برباد بھی کرالیا ہے اور ایران کے ہزاروں لوگوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جو سب سے زیادہ ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ایران ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے گا۔

سپرپاور ہونے کے دعوے دار امریکا نے اسرائیلی شیطان کے کہنے پر ایران پر اس وقت حملے کیے جب کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور ایران کے مثبت روئیے کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کا اسرائیل کو خوف تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی صدر کو گمراہ کن رپورٹ کی بنیاد پر امریکا کو ایران پر اچانک حملوں کے لیے آمادہ کیا اور خود بھی ایران پر حملوں میں امریکا کے ساتھ شامل ہوگیا۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا تاکہ ایران میں رجیم تبدیل ہوجائے، مگر اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانیوں نے امریکی صدر کی خواہش کے بالکل برعکس ردعمل دیا جس کی امریکا کو قطعی طور پر توقع نہیں تھی۔

ایران کے عوام نے اپنے اس سب سے بڑے نقصان پر اپنے ملک کی حفاظت کے لیے امریکی و اسرائیلی جارحیت کو اپنی غیرت پر حملہ سمجھا اور حملوں کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر حکومت کی حمایت میں نکل آئے اور ایرانی رجیم تبدیلی کا اپنے دشمنوں کا خواب خاک میں ملادیا اور کہیں رجیم تبدیلی کے حامی باہر نہیں نکلے اور انھوں نے متحد ہوکر اپنے سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے دنیا کو اور خاص کر امریکا و اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کا رویہ دیکھ کر بھی حقائق کا ادراک نہیں کیا اور ایران کے مزید اہم رہنماؤں کو بھی شہید کردیا جب کہ ایرانی صدر جان بچانے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ باہر آکر اپنے عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے جنھیں اپنے درمیان دیکھ کر ایرانی عوام کا حوصلہ مزید بڑھا اور عوام اور ایرانی حکومت نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم سب ایک، متحد اور اپنے دشمنوں کے خلاف کھڑے ہیں ۔

امریکا کا اس کے اتحادی ممالک اور نیٹو تک نے ساتھ نہیں دیا۔ نہ برطانیہ نے اپنی فوج ایران بھیجی جس پر امریکی صدر سخت برہم ہوکر دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور دنیا اس سے پوچھ رہی ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی اور امریکا کے مقاصد کیا تھے جس کے جواب میں امریکی صدر مختلف اعلان پر مجبور ہوا مگر اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں بلکہ جھوٹے وعدے کررہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ اور اس کی جنگی صلاحیت ختم کردی اور رجیم چینج کے اپنے مقاصد بھی حاصل کر لیے ہیں جب کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد ہوچکے ۔ ایرانی صدر بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں تو رجیم کہاں تبدیل ہوئی ہے۔

ایک ماہ کی جنگ سے ایران پسپا ہوا نہ ہی جنگ بندی مان رہا ہے اور امریکی صدر خود بار بار عارضی جنگ بندی کا اعلان کررہے ہیں مگر ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر مسلسل حملے کررہا ہے۔ امریکا یہ بھی واضح کررہا ہے کہ ہماری سعودیہ اور خلیج کے اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

ایران اپنا دفاع کرنے کے ساتھ اسرائیل کو منہ توڑ جواب بھی دے رہا ہے اور خلیج کے اپنے مسلم پڑوسیوں کو کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے امریکی فوج نکالیں اور وہ امریکی اڈے ختم کریں جہاں سے امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔اس جنگ میں ایران میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری و نجی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جو ایران کا بڑا مالی نقصان ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک ایرانی حملوں پر سخت برہم ہیں اور اپنا دفاع کررہے ہیں مگر ایران پر جوابی حملے نا کرکے برد باری کا مظاہرہ کررہے ہیں جب کہ امریکا و اسرائیل چاہتا ہے کہ ایرانی حملوں سے متاثرہ ممالک جوابی حملہ کریں تاکہ مسلم ممالک آپس میں جنگ شروع کردیں۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں بہت بڑی تباہی پر اب ایران کو دانشمندی دکھانا چاہیے وہ اپنی طاقت تو دکھاچکا مگر موجودہ جنگ کا حل صرف مذاکرات ہیں جس پر اسلام آباد آنے والے وزرائے خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ جنگ کی مزید طوالت دانشمندی نہیں ہے۔ اب ایران مصالحت کے لیے مذاکرات پر راضی ہوجائے کیوں کہ ماضی میں ہندوستان کی ریاست میسور نے بھی جنگ کو ترجیحدی تھی جس سے ٹیپو سلطان کا مشہور اعلان کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے تو زندہ ہے اس کی ریاست میسور تباہ ہوکر ختم ہوچکی جس کا وجود بھی باقی نہیں۔ حالات بدل چکے اب جذبات نہیں دانشمندی سے فیصلوں کا وقت ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی کنگز میں ڈیوڈ وارنر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے، سلمان علی آغا

Published

on



سلمان علی آغا بطور عام کھلاڑی پی ایس ایل میں شرکت سے لطف اندوز ہونے لگے، ان کے مطابق کراچی کنگز میں ڈیوڈ وارنر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

’’ایکسپریس ڈیجیٹل‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ بطور کپتان کھیلتے ہوئے جو اضافی ذمہ داری ہوتی ہے وہ پی ایس ایل میں نہیں ہے،ایسے میں آپ کو بہت کچھ ایسا کرنے کا موقع ملتا ہے جو کپتان کی حیثیت سے نہیں کر پاتے، میں اس سے  انجوائے کر رہا ہوں۔

کراچی کنگز کے قائد ڈیوڈ وارنر کے بارے میں سلمان علی آغا نے کہا کہ انھوں نے انٹرنیشنل اور پھر فرنچائز کرکٹ میں بہت اچھا پرفارم کیا ،وہ لیجنڈ ہیں، ان سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا بھی موقع مل رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کنگز کا ٹورنامنٹ میں بہت جلدی اچھا کمبی نیشن بن گیا، یہ کسی بھی ٹیم کیلیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، ہم تو پہلے میچ سے ہی عمدہ پرفارم کر رہے ہیں، کوشش کریں گے اس سلسلے کو برقرار رکھیں۔

 ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ لاہور قلندرز سے سنسنی خیز میچ میں مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ ہم ہدف حاصل نہیں کر پائیں گے،ہمارے پاس مضبوط بیٹنگ لائن موجود اور کئی ہارڈ ہٹرز کا ساتھ حاصل ہے، اسی لیے مقابلہ جیت بھی لیا۔

اپنی کارکردگی کے حوالے سے سلمان علی آغا نے کہا کہ میں نے پی ایس ایل کے پہلے میچ میں اچھا آغاز کیا لیکن اسے بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کر پایا، ابھی تو ٹورنامنٹ ابتدائی مراحل میں ہے،میری فارم ٹھیک ہے لیکن بڑی اننگز نہیں کھیل پا رہا، کوشش کروں گا اگلے میچز میں زیادہ بہتر پرفارم کروں۔

انھوں نے کہا کہ آپ جس طرز کے قومی کپتان ہوں  تو اسی کے میچز ہونے پر ضرور دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نظر ہوتی ہے، میں جب بھی پی ایس ایل کے میچز دیکھوں تو چاہے بولر ہو یا بیٹر  ہر کھلاڑی کی اچھی کارکردگی یا رویہ ضرور نظروں میں آتا ہے ۔



Source link

Continue Reading

Today News

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دائمی میراث

Published

on


ریاستی قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ ایک بہتر اور محفوظ دنیا کا خواب دیکھنے کی بصیرت ہو، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جرات، استقامت اور صبر موجود ہو۔یہ فکر انگیز قول دراصل قیادت کے حقیقی جوہر کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت محض اقتدار کے حصول یا اس کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ ایک بلند وژن رکھنے، حالات کے جبر کا مقابلہ کرنے، اور وقت کی سخت آزمائشوں کے باوجود اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رہنما دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو وقتی حالات کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو اپنے عزم، بصیرت اور جرأت سے نہ صرف حالات کا رخ موڑتے ہیں بلکہ قوموں کے خوابوں کی تعبیر بھی رقم کرتے ہیں۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق مؤخر الذکر طبقے سے تھا۔شہید بھٹو نے اپنے عہد کی آمرانہ اور گھٹن زدہ سماجی و سیاسی فضا کو چیلنج کیا اور انسانی حقوق، انسانیت کے وقار ، مساوات اور انصاف کے اصولوں سے جڑے ایک نئے سیاسی شعور کی بنیاد رکھی۔

انھوں نے مطلق العنانیت کی دباؤ ڈالنے والی آوازوں کو رد کرتے ہوئے ایک جراتمندانہ راستہ اختیار کیا۔ اسی لیے، جب ان کی برسی مناتے ہیں، تو میں نہ صرف ایک عوامی رہنما اور عظیم مدبر کو یاد کرتا ہوں جنھیں قریب سے جاننے کا مجھے اعزاز حاصل رہا، بلکہ اس گہرے نقش کو بھی محسوس کرتا ہوں جو انھوں نے پاکستان کی روح پر چھوڑا۔ ان کی زندگی اس یقین کی مظہر تھی کہ سیاست، اپنی اعلیٰ ترین صورت میں، عوام کی خدمت کا مقدس فریضہ ہے۔

ان کے انتقال کے طویل عرصے بعد بھی ان کی روشنی مدھم نہیں ہوئی، ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی، اور ایک جامع، منصفانہ، متحد، خوشحال، مضبوط اور باوقار پاکستان کا ان کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔مجھے فخر ہے کہ میرا اپنا سیاسی سفر قائدِ عوام کے نظریات کی روشنی میں پروان چڑھا۔ قائد عوام نے ہی بے آوازوں کو آواز دی اور عوام کو یہ شعور دیا کہ وہ محکوم بننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تقدیر کے خود مالک بننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔

ان کا یہ یقین کہ اقتدار عوام کا حق ہے، میری سیاسی زندگی کے ہر مرحلے میں میرے لیے مشعلِ راہ رہا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سے لے کر وزیر اعظم اور اب چیئرمین سینیٹ تک۔ آج جب میں سینیٹ کی صدارت کر رہا ہوں، تو مجھے ان کا وژن اس آئین میں نظر آتا ہے جو انھوں نے ہمیں دیا، اور اس ادارے میں جو انھوں نے وفاق کے تحفظ کے لیے قائم کیا۔

شہید بھٹو کی قیادت کا سفر ابتدائی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم شخصیت سے متاثر ہوا۔ صرف سترہ برس کی عمر میں انھوں نے قائداعظم کو خط لکھا کہ وہ ایک دن پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کریں گے اور انھوں نے اپریل 1979 میں اپنی شہادت کے ذریعے اس وعدے کو پورا کیا۔ قائداعظم نے انھیں جواب میں نصیحت کی کہ سیاست کا گہرا مطالعہ کریں مگر تعلیم کو نظرانداز نہ کریں۔ یہی تعلق ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد بنا۔

برکلے اور آکسفورڈ جیسی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد، جہاں انھوں نے محض دو سال میں قانون کی ڈگری مکمل کی، بھٹو صاحب وطن واپس آئے۔ جلد ہی وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے لگے، اور 1958 میں صرف تیس برس کی عمر میں ملکی تاریخ کے کم عمر ترین وزیر بنے۔

ان کی سفارتی صلاحیتیں ابتدا ہی سے نمایاں تھیں۔ 1963 میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے ملاقات کے دوران، کینیڈی نے کہا کہ اگر بھٹو امریکی ہوتے تو ان کی کابینہ کا حصہ ہوتے۔ بھٹو کا جواب ان کی حاضر جوابی کا مظہر تھا: “احتیاط کیجیے، جناب صدر، اگر میں امریکی ہوتا تو آپ کی جگہ پر ہوتا۔”

تیز ذہانت، غیر معمولی فہم اور پاکستان کی خودمختاری سے غیر متزلزل وابستگی نے انھیں عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما بنایا۔ بطور وزیر خارجہ، انھوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کیا، چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا اور ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔

تاہم، ان کی اصل عظمت 1971 کی جنگ کے بعد ابھر کر سامنے آئی۔ اس وقت پاکستان شدید بحران کا شکار تھا، مگر بھٹو نے اپنی غیر معمولی سفارتی مہارت سے قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی کو ممکن بنایا۔ شملہ معاہدہ ان کی دور اندیشی کا ثبوت تھا۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا آئین تھا، جس نے پہلی بار عوامی مرضی سے تشکیل پانے والا جمہوری نظام فراہم کیا۔ انھوں نے سینیٹ قائم کی تاکہ ہر صوبے کو مساوی نمائندگی مل سکے۔

ان کی داخلی اصلاحات بھی بے حد اہم تھیں۔ زمینوں کی تقسیم، پاکستان اسٹیل ملز کا قیام، پورٹ قاسم کی تعمیر، قائداعظم یونیورسٹی کی بنیاد، اور تعلیم کو میٹرک تک مفت کرنا،یہ سب ایک منظم وژن کا حصہ تھے، جس کا نعرہ تھا “روٹی، کپڑا اور مکان”۔

یہی وژن بعد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آیا، جسے شروع کرنے کا مجھے وزیر اعظم کی حیثیت سے اعزاز حاصل ہوا۔

شہید بھٹو عوام کے جذبات سے ہمیشہ جڑے رہے۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر کے انھوں نے مسلم دنیا کو یکجا کیا۔

پاکستان کے دفاع کے لیے ان کا عزم بھی غیر متزلزل تھا۔ انھوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جو آج پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

تاہم، جولائی 1977 میں ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، اور ایک متنازع عدالتی عمل کے بعد 4 اپریل 1979 کو انھیں پھانسی دے دی گئی، جسے دنیا نے “عدالتی قتل” قرار دیا۔

بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ شہید بھٹو، ان کے بیٹے شاہنواز اور مرتضیٰ، اور ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، سب نے عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

میری اپنی سیاسی جدوجہد میں، میں نے ہمیشہ اس وژن کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم، جو میرے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں منظور ہوئی، صوبائی خودمختاری کی طرف ایک تاریخی قدم تھا۔

شہید بھٹو نے کہا تھا: “ہم صرف ایک جماعت کے وارث نہیں، بلکہ ایک وژن کے امین ہیں۔” یہ وژن ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں غریب نظرانداز نہ ہوں، صوبوں کی آواز دبائی نہ جائے، اور جمہوریت ایک طرزِ زندگی ہو۔

آج جب ہم انھیں یاد کرتے ہیں، تو ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔ ان کی روشنی آج بھی ہماری رہنمائی کر رہی ہے، اور ان کی میراث ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس سفر کو جاری رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ان کا وژن آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتا رہے۔

جیے بھٹو۔

جیے پاکستان۔





Source link

Continue Reading

Trending