Connect with us

Today News

ہمالیہ سے الپس تک، ایک لسانی پُل

Published

on


سفارت کاری محض لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ جذبوں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے دورہ آسٹریا کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے اپنی ’’جرمن‘‘ لسانی مہارت کو بروئے کار لا کر ویانا کے سرد ایوانوں میں جو گرم جوشی پیدا کی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ’’ زبان‘‘ ہزاروں میل کے فاصلے مٹا سکتی ہے، اگرچہ یہ ہنر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ہی جرمن زبان بولنے والے ملکوں پر آزمایا جاتا تو آج ہمالیہ اور الپس کے درمیان معاشی شاہراہیں پہلے تعمیر ہو چکی ہوتیں۔ مگر موجودہ پیش رفت خواہ وہ جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت ہو یا سیاحت میں تعاون کی خواہش اور تجارت سرمایہ کاری، آئی ٹی، صحت، انسانی ترقی کے حوالے سے ایم او یوزکو جلد حتمی شکل دینے کی بات ہو۔

وزیر اعظم نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ملک کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلانے کی سمت میں اہم ہے۔ جرمن زبان کی وہ گفتگو دراصل ایک پکار تھی۔ ایک ایسی پکار جس نے ویانا سے لے کر اسلام آباد تک کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ ’’پاکستان اب آپ لوگوں کے کاروبار کے لیے کھلا ہے‘‘ جب جرمن زبان کی مٹھاس کے ساتھ سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہے تھے تو وہاں کے سرمایہ کار، تاجر کس اپنائیت کی نظر سے وزیر اعظم کو دیکھ رہے تھے۔

اب یہ ہماری اپنی اہلیت پر منحصر ہے کہ ہم اس دعوت کو اس یورپی معیار کے مطابق ڈھالیں، جس کا خواب آسٹروی سامعین کو دکھایا گیا ہے، کیونکہ وزیر اعظم کی جرمن گفتگو نے اہل ویانا کے دل جیت لیے ہیں۔ اب اگر ان ایم او یوز کو حقیقی رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے تو ہمارے باصلاحیت طالب علم وہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوں گے۔ آئی ٹی، ہماری کوڈنگ اور آسٹریا کی انجینئرنگ مل کر ایک نیا ڈیجیٹل شاہکار تخلیق کریں گی۔گلگت، سوات، چترال میں جب سیاحت کے شعبے میں ’’آسٹروی‘‘ سرمایہ اور ہنر تجربہ مل کر کام کریں گے تو ان کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں کے پہاڑ ان کے الپس پہاڑ جیسے ہوں گے اور یہاں کا لیڈر ان کی زبان بولنے والا۔

آج کا پاکستان آسٹریا کے ساتھ مل کر تعلیم ، صحت، سیاحت، انسانی وسائل، آئی ٹی، تجارت، سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے جو نیا باب کھولنا چاہ رہا ہے، اس میں جرمن زبان کی چاشنی نے ایک نیا رنگ بکھیر دیا ہے۔ پاکستان اور آسٹریا کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلا جائے۔

حکومت پاکستان نے آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت جوکہ اس وقت بہت ہی کم ہے اسے بڑھانے کے لیے ’’ بزنس ٹو بزنس‘‘ رابطوں کو فعال کرنے اور تجارتی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی، صحت و سیاحت کے ایم او یوز پر جب دستخط ہو جائیں گے تو یہ محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کے مقدر کو بدلنے والا عہد نامہ ہوگا۔

پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام میں ایک سچا ہم سفر ہے۔ آسٹریا کے پاس پہاڑوں کو سنوارنے کا فن ہے اور ہمارے پاس دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، اگر ہم آسٹریا کے ماڈل کو شمالی علاقہ جات میں نافذ کر دیں تو سیاحت کے میدان میں نوبل شاہکار بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی ’’جرمن‘‘ زبان میں گفتگو نے اس سرد مہری کو ختم کر دیا ہے جو اکثر مترجمین کے درمیان کھو جاتی ہے۔ پاکستان اب صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ایک ’’گلوبل بزنس حب‘‘ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر اعظم پاکستان اور آسٹریا کے چانسلر نے دونوں ممالک کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نے سب سے اہم یہ بات کی کہ پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کو آسٹریا میں ملازمتوں تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ وزیر اعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔

انھوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ ایک موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں۔ حکومت ان کی میزبانی اور ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ اب یہ حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کی کاوشیں کرتی ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کریں، یہاں پر ان کو ہر طرح کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ کیونکہ ہمالیہ اور الپس دونوں کے درمیان بہت سی باتیں قدر مشترک ہیں جس میں اگر جرمن زبان کو شامل کر دیا جائے تو ایک لسانی پُل کا کام کرے گا اور پھر فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سندھ اسمبلی میں ایم پی اے کو دھمکی کا ڈراپ سین، ایم کیو ایم اراکین میں صلح بھی ہوگئی

Published

on



ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت نے اجلاس کے دوران ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے تاہم بعد میں دونوں اراکین کے درمیان صلح صفائی ہوگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اورحیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دھمکی انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی اور کہا کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ شوکت راجپوت نے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مجھے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعد میں دوبارہ وکالت شروع کروں گا اور پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔

اس پر ایوان میں بیٹھے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، اسپیکر اسمبلی ہاﺅس کے کسٹوڈین ہے لہذا آپ رولنگ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایس ایچ او کو بھی کال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا۔ اس قسم کی شکایت بہت شرمناک بات ہے ۔

اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلا س ختم ہونے سے پہلے یہ معاملہ حل کریںم بصورت ودیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔

سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ان کی پارٹی گروپنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اگرکسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد بھی نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا بندوبست کرتا ہوںم اگر رانا شوکت کی جان یا مال کو کوئی بھی نقصان  ہوا تو جن کا انہوں نے نام لیا میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔

ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔

قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن ایم کیو ایم کے ایم این اے اقبالُ محسود مسلح افراد کے ساتھ  ان دفتر میں آئے اور تالے توڑے اور آج ہاﺅس میں انہیں پی ایس پی گروپ کے ایم پی اے شارق جمال نے دھمکی دی۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اسپیکر سے کہا کہ میری درخواست ہے کہ بزنس چلا لیں۔ اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ پہلے قوانین پڑھیں پھر بات کریں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ معاملہ حل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میری درخواست ہے کے کہ دھمکی دینے والے رکن کی ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبرشپ معطل کریں۔

شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال  محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے اورآئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔

ایوان میں شور شرابہ کرنے اور اپنے ارکان کو جواب دینے پر اکسانے کی ترغیب دینے پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی۔

اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ انجنیئر عثمان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے۔

اسی اثنا ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے ۔

آخری تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گروپوں میں ہونے والے تنازعے کا تصفیہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے چیمبر میں ہوا اور دونوں اراکین نے ایک دوسرے سے صلح صفائی کرلی۔

ذرائع کے مطابق کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رانا شوکت، شارق جمال کو معاف کردیں گے جبکہ انجینئر عثمان کی معطلی کو بھی کل ختم کردیا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

غزہ امن بورڈ اجلاس، ایران کشیدگی اور خطہ

Published

on


غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن، استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔

غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آیندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔

واشنگٹن میں منعقد ہونے والا غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس ایک ایسے عہد میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی، طاقت کے توازن اور بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کو نہ صرف ایک سفارتی سنگ میل کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی عالمی قیادت کے بیانیے کا مرکزی ستون بنانے کی کوشش بھی کی۔ دنیا بھر سے آئے سفارتی وفود، کیمروں کی چمک دمک، اور اربوں ڈالر کے امدادی وعدے ایک ایسے منظرنامے کی تشکیل کر رہے تھے جس میں امید اور خدشہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اجلاس ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی نیا باب کھولے گا یا پھر یہ بھی ان بے شمار سفارتی تقریبات کی طرح ہوگا جو الفاظ اور اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات رکوا چکے ہیں، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ خطہ ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا، بلکہ کسی حد تک جارحانہ اعتماد سے بھرپور۔ انھوں نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو محض مذاکرات نہیں کرتا بلکہ نتائج لاتا ہے۔

تاہم عالمی سیاست میں دعوؤں اور حقائق کے درمیان فاصلہ اکثر بہت وسیع ہوتا ہے۔ امن کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، مگر امن صرف پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ غزہ کی سرزمین پر دہائیوں سے جاری تنازع، انسانی المیے، سیاسی تقسیم اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ایک ایسی پیچیدہ گتھی ہے جسے کھولنے کے لیے محض سرمایہ کاری کافی نہیں۔

غزہ کی صورتحال بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخی ناانصافیوں، علاقائی رقابتوں اور بین الاقوامی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ وہاں کی آبادی کئی دہائیوں سے محاصرے، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل عسکری کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر سیاسی نمائندگی، خود مختاری اور مقامی قیادت کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو یہ وسائل وقتی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی منصوبے شروع ہوئے جنہوں نے ابتدا میں امید پیدا کی مگر چند برسوں بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔

صدر ٹرمپ نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک معاہدے کے تحت عسکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی مزاحمتی یا سیاسی گروہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک تنازع کے تمام فریقوں کو کسی نہ کسی شکل میں سیاسی عمل میں شامل نہ کیا جائے، امن کا ڈھانچہ کمزور رہتا ہے۔ غزہ کے مسئلے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اگر امن بورڈ واقعی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے شمولیت اور مکالمے کی راہ اپنانا ہوگی۔

 اس پورے منظر نامے کا دوسرا اہم پہلو ایران سے متعلق امریکی پالیسی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی تنبیہات، ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک دہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، دوسری طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہ بیانیہ خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہرکرتا ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔

آبنائے ہرمز میں کسی بھی عسکری تناؤ کا مطلب عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور معیشتوں میں ہلچل ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجزکا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک اور بڑی جنگ اسے مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر کشیدگی میں اضافے کی حامی نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ ایک ایسے ماحول کی خواہاں ہیں جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری جاری رہ سکے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کو فوقیت دیتی رہیں تو علاقائی امن کی خواہش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

روس کی جانب سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف انتباہ بھی اس پیچیدہ بساط کا حصہ ہے۔ عالمی سیاست اب دو یا تین واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ہر طاقت اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اگر ایران کے معاملے پر بھی براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی بڑھتی ہے تو عالمی نظام مزید قطبیت کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرد جنگ کے کسی نئے ورژن کی یاد دلاتی ہے، جہاں علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی مقابلے کا میدان بن جاتے تھے۔

ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی جغرافیہ پاکستان کو ایک حساس پوزیشن میں رکھتے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بنے بغیر توازن قائم رکھ سکے۔ٹرمپ کا انداز سیاست طاقت اور معاہدے کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف سخت بیانات دیتے ہیں، دوسری طرف مالی امداد اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بعض اوقات فوری نتائج دے سکتی ہے، مگر طویل المدتی امن کے لیے ایک مستقل اور قابل پیش گوئی پالیسی ضروری ہوتی ہے، اگر ہر چند برس بعد پالیسی میں بنیادی تبدیلی آ جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں تسلسل اور سنجیدگی بنیادی تقاضے ہیں۔

موجودہ عالمی ماحول میں اطلاعات کی رفتار اور بیانیوں کی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر اعلان فوری طور پر عالمی میڈیا کا حصہ بن جاتا ہے اور مالی منڈیوں سے لے کر عوامی رائے تک سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ذمے دارانہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جذباتی یا جلد بازی میں دیے گئے بیانات کبھی کبھار غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔

اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام پیش رفت عالمی نظام کے ایک عبوری مرحلے کی علامت ہے۔ امریکا اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، روس اور چین متبادل اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے نئی صف بندیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اس پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس ایک علامتی اور عملی دونوں حیثیت رکھتا ہے۔

یہ یا تو ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کا ایک اور باب۔ امن کبھی یکطرفہ فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے، اگر عالمی قیادت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اعتماد سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ غزہ کے عوام، ایران کے شہری اور پورے خطے کے باشندے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی سکون چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کے اس اجلاس نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، مگر اس دروازے سے گزر کر منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور وسیع تر شمولیت کی ضرورت ہوگی۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا ایک اور ادھوری کوشش کے طور پر۔





Source link

Continue Reading

Today News

لینن، مارکس، میڈیا اور صہیونی اسرائیل!

Published

on


لینن کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں چھاپے خانے اورکاغذ کے ذخیرے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں وہاں آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو اپنے نظام کے حق میں پروپیگنڈے کی آزادی ہے۔ جہاں تک غریبوں، مزدوروں اورکسانوں کا تعلق ہے وہ اپنی آواز دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ چھاپے خانے ہیں، نہ کاغذ کے ذخیرے اور نہ اتنا پیسہ موجود ہے کہ یہ چیزیں سرمایہ داروں سے خرید سکیں۔

کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات  ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔

کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔

اسی طرح Therodore adnono  اور  Max Horkheimer  کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔

یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔

غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔

چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔

امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘

درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔

ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔

ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending