Today News
ہنری کسنجر بمقابلہ پروفیسر جیانگ
حالیہ مشرق وسطی جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ہنری کسنجر اور چینی پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے۔
دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں لیکن تیسری پیش گوئی دونوں کی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے اور اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دونوں میں سے کون درست ثابت ہوتا ہے۔
ہم پہلے ہنری کسنجرکی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اگر آپ کے کان تیسری عالمی جنگ کے نقارے نہیں سن رہے تو آپ بہرے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے۔
یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی اور ایران اس کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اب مشرق وسطیٰ سے جنگ تو شروع ہوچکی ہے اور اس کا آغاز بھی ایران سے ہوا ہے لیکن یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
مشرق وسطی کے حالیہ فدویانہ بلکہ غلامانہ کردار کے بعد امید نہیں تھی کہ جنگ کا آغاز مشرق وسطیٰ سے ہوگا۔ ویسے تو اسرائیل کے قیام کے بعد جنگ کبھی بھی مشرق وسطی سے کی ہی نہیں تھی لیکن ایک ایسی جنگ کہ جس میں تقریباً پورا مشرق وسطیٰ جلنے لگے، اس کے آغازکی بھی امید نہیں تھی ویسے تو امن کو جنگوں کے درمیان وقفہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور لگتا ہے کہ ’’ تجارتی وقفہ‘‘ اب ختم ہوگیا ہے۔
اندازے تو یہ بھی تھے کہ امریکا کبھی بھی ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور ہنری کسنجر نے ان دو پیش گوئیوں میں جو کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا۔ ہنری کسنجر نے اپنی پیش گوئی میں آگے یہ بھی کہا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوجائے گا۔
اب ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی پیش گوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگا؟ یا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟اب ہم پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کی طرف آتے ہیں۔ یہ پروفیسر جیانگ وہی ہے کہ جنھوں نے پچھلے امریکی چناؤ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ پوری دنیا کو امید تھی کہ کملا دیوی ہیرس جیتے گی۔
پروفیسر جیانگ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چناؤ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہاں تک تو ان کی بھی دو پیش گوئیاں درست ہوچکی ہیں لیکن مستقبل قریب کی صورتحال پیچیدہ ہے۔
پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور پیٹرو ڈالر معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہنری کسنجر نے اس جنگ میں عربوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور اسرائیل کی بڑے حصے پر قبضے کی پیش گوئی کی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ میری ذاتی رائے میں ہنری کسنجر اپنی آخری پیش گوئی میں یہودی مدبر سے صرف یہودی ہوگئے تھے اور ان کی پیش گوئی کے اس حصے کو آپ ان کی پیش گوئی سے زیادہ ان کی خواہش سمجھ سکتے ہیں۔
میرے خیال سے دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ آپ موجودہ جنگ کو تیسری عالمی جنگ سے پہلے آخری بڑی جنگ قرار دے سکتے ہے۔
چین دنیا کا سپر پاور بننا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا ایشیا اس کے لیے چھوڑ دے لیکن امریکا کو بھی پتہ ہے کہ اس کی ساری عیاشی عربوں کی مرہون منت اور عربوں کو ڈرانے کے لیے پہلے وہ اسرائیل کا استعمال کرتا رہا ہے اور بعد میں اس نے ایران کو بھی استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوا۔
ہم دوبارہ چین کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین اپنے اہداف تیسری عالمی جنگ کے بغیر زیادہ بہتر اور سرعت انداز میں حاصل کر رہا ہے تو اس کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ تیسری عالمی جنگ کے جھمیلے میں پڑے۔
چین کا مقصد امریکا کو معاشی اور عسکری طور پرکمزورکرنا ہے تاکہ اس کو نہ صرف ایشیا چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ اس پر بھی آمادہ کیا جاسکے کہ وہ چین کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے اس کے لیے جگہ چھوڑے اور وہ یہ سب جنگ کے بغیر ہی حاصل کر رہا ہے اور زیادہ بہتر انداز سے حاصل کررہا ہے۔
یہ تو دنیا جانتی ہے کہ امریکا یہ بات آسانی سے مانے گا نہیں تو خطرہ امریکا سے ہے کہ کہیں وہ اپنی حماقت یا بے صبری میں ایسا کچھ کرسکتا ہے کہ جو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔
اس کے لیے چین، شمالی کوریا یا روس کے کسی شہر پر پرل ہاربر جیسا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ کون کرسکتا ہے، یہ میں آپ کے قیاس پر چھوڑتا ہوں۔ ویسے چین پر حملے والا کام اسرائیل اور ہمارا پڑوسی مل کر بھی کرسکتے ہیں، اگر ہمارے پڑوسی کو اس کی مناسب قیمت دی جائے اور قیمت پاکستان کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔
اس صورتحال میں تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز یقینی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نہیں نظر آرہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟
ایک بات تو طے ہے کہ امریکا نے نہ صرف اس جنگ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا اور وہ اب تک اپنے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس کے اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔
اب تک ایران بہت ہی موثر انداز میں یہ جنگ روسی انٹیلیجنس، چینی اورکورین میزائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑرہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ جنگ میں شمالی کوریا کو شامل کرنے کے لیے امریکا کے قومی سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے الزام لگایا ہے کہ ایران شمالی کوریا سے جوہری اسلحہ یا جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔
جنگ میں اسلحہ کس ملک کا ہوتا ہے یہ تو جنگ کے بعد پتا چلتا ہے۔ ہم دوبارہ جنگ کی طرف آتے ہیں۔ امریکا نے پہلے اسے دنوں کی جنگ قرار دیا پھر ہفتوں اور اب وہ مہینوں پرآگیا ہے۔ ان حالات میں اب امریکا ایران سے نکلنا چاہے گا اور وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی فتح کو اپنی فتح قرار دیکر یہاں سے نکل سکتا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو توڑ کرکسی حصے پر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر بھاگ جائے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ چاہے گا کہ ایران کو غیر مستحکم اور افراتفری کے ماحول میں چھوڑکر بھاگ جائے لیکن روس، چین اور ایرانی قوم ایسا ہونے نہیں دیں گی کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔
مشرق وسطیٰ کا مستقبل یقینی طور پر تاریک ہے اور اس جنگ کے بعد بھی مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں بن سکے گا۔ عربوں کی باہمی چپقلش آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوگی اور عربوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو مشرق وسطی کی حکومتوں کے غیر حقیقت پسندانہ عزائم کی قیمت چکانا ہوگی۔
جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور وہ کیا ہوگا؟ پروفیسر جیانگ نے تو بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں پیش گوئی بھی کی ہے لیکن حقیقت میں کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
پاکستان کے لیے آنے والے دن ہر لحاظ سے بہت مشکل ہیں کیونکہ ہم نے ڈالروں کے لیے کچھ ایسے معاہدے کیے ہوئے ہیں جو ہماری سالمیت اور بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ہر مشکل صورتحال کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لیے مواقع بھی ہے لیکن ہماری اشرافیہ ابھی تک ٹینکر بیچنے اور سڑکوں کی تعمیر میں کمیشن سے آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ دنیا کو اس وقت ایک محفوظ اور مضبوط سرمایہ کاری کے خطے کی ضرورت ہے اور پاکستان یہ کردار بآسانی اور بخوبی ادا کرسکتا ہے۔
اگر ہماری قیادت اس فراست اور تدبرکا مظاہرہ کریں جو اس کا متقاضی ہے۔ اب ہماری قیادت اس کی اہل ہے یا نہیں؟ یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آنے والے دن سب کے لیے بہت مشکل ہے، مہنگائی کا جن بے قابو رہے گا۔
مشرق وسطیٰ کے حالات کے بعد ہوسکتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوجائے کہ جس کے نتیجے امن و امان کی مخدوش صورتحال مزید مخدوش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)
Today News
ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں
جب بھی اس ملک میں کوئی نیا غلغلہ ہوتا ہے، کوئی نیا ’’گینگ‘‘ غالب آتا ہے، کوئی نیا ’’دادا‘‘ نئے ہتھیاروں سے لیس ہوکر آتا ہے اور اس کی برکت سے ہمارے گاؤں، محلے میں نئے نئے ’’کامیاب‘‘ سامنے آتے ہیں تو ہماری بھی شامت آجاتی ہے۔
ہماری آل اولاد، اس ’’کامیاب‘‘ کا نام لے اس کی تیز رفتار ترقی کا ذکر شروع کرتے ہیں، روڈ پتی سے کروڑ پتی ہوگیا، چھابڑی فروشی سے عمارت فروشی، سڑک فروشی، ملازمت فروشی پر آگیا ہے، سائیکل کی جگہ لینڈ کروزر میں پھرتا ہے۔
جھونپڑی سے لگژری بنگلے میں منتقل ہو گیا۔ پھر بات کو ایک خوبصورت بلکہ بدصورت موڑ دے کر اور تشبیب سے گریز کرکے، طعنوں کے پانی میں ’’تعریف‘‘ کے جوتے بگھو کر مارے جاتے ہیں۔
چھوڑو بے ایمان آدمی ہے، اگر ہمارے والد ایسے ہوتے تو ہم بھی آج’’ یہ یہ‘‘ ہوتے لیکن ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں، ہمارے’’ بابا‘‘ خودار، ایماندار ہیں۔ دولت کی جگہ ’’عزت‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں ورنہ ہمارے ’’بابا ‘‘کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
فلاں وہ تو کرپٹ آدمی ہے، چاپلوس ہے، مطلبی، موقع پرست ہے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔ ہمارے بابا کسی کی خوشامد نہیں کرتے، کسی کے آگے جھکتے نہیں، جھولی نہیں پھیلاتے ورنہ کیا کیا نہیں کرسکتے تھے لیکن ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں۔
ٹھیک ہے انھوں نے، کرپٹ لوگوں کی طرح پیسہ نہیں کمایا ہے لیکن عزت کمائی ہے، نام کمایا ہے، مقام کمایا ہے۔ ہمارے ’’بابا‘‘ ایسے نہیں ہیں۔
یہ تعریف میں لپٹے ہوئے الفاظ تما جوتے ہمیں کافی دیر تک مارے جاتے ہیں، جب بھی ایسا کوئی انقلاب آتا ہے، نئے انقلابیوں کو ساتھ لے کر بلکہ ملک پر ’’چھوڑکر‘‘ تو ہماری یہ درگت بنتی ہے۔
قائد عوام فخر ایشیا کے دور میں بھی ایسا ہوتا رہا، مردحق ضیاالحق کے دور میں بھی ہوتا رہا، جنرل مشرف کے دور میں بھی ہوا ،پھر چاروں صوبوں کی زنجیر، سب پر بھاری اور قرض اتارو ملک سنوارو میں بھی اور اب بانی اور وژن کے بابرکت زمانے میں بھی جاری ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ ہماری ناکامیوں میں ہماری اپنی بزدلی، نالائقی اور نااہلی کا ہاتھ ہے۔ لیکن اس میں کچھ بلکہ بہت’’شائبہ خوبی تقدیر‘‘ بھی ہمارے ساتھ برابر کی شریک رہا ہے۔
جب بھی ہم نے کسی’’بام‘‘ پر کمند ڈالنے کی کوشش کی توجب دو چار ہاتھ رہ گئے ، کہیں نہ کہیں سے کوئی درانتی آکر کمند کاٹ دیتی ہے اور ہم دھڑام سے وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں کا ہمارا خمیر ہے۔ بہت کوششیں کیں، کمندیں ڈالیں لیکن بام تک نہیں پہنچ پائے۔
تو امبر کی آنکھ کا تارا میرے چھوٹے ہاتھ
سجن میں بھول گئی یہ بات
بے شک ہمارے ہاتھ چھوٹے تھے اور ہم یہ بھولتے بھی نہیں تھے لیکن کبھی چاند ستارے مانگے بھی نہیں تھے اور کسی چھوٹے سے ستارے پر بھی قانع ہوجاتے لیکن…ویسے تو ’’لب بام‘‘کمند ٹوٹنے کے واقعات بہت ہیں لیکن
درد میں ڈوبے ہوئے نغمے ہزاروں ہیں مگر
ساز دل ٹوٹ گیا ہو تو سنائیں کیسے
بانگ حرم میں ہم سب ایڈیٹر سے چیف ایڈیٹر بننے والے تھے کہ یحییٰ خان خان نے کلہاڑا چلایا اور ہمارے اخبار کو بند کردیا۔ کچھ دوستوں کی مدد سے ریڈیو پاکستان پشاور پہنچے۔
وہاں بھی کچے سے پکے اسٹاف آرٹسٹ ہونے والے تھے کہ مولانا کوثر نیازی نے تلوار چلائی اور ہم پر بین لگ گیا۔ پشاور میں پی ٹی وی سینٹر کھلا تو اسکرپٹ پروڈیوسرکا پوسٹ ہمارے سامنے تقریباً پلیٹ میں سجا تھا لیکن نتیجہ نکلا تو ایک ایسے آدمی کا تقرر ہوا تھا جسے شعروادب کے ہیجے بھی نہیں آتے تھے البتہ مھکن بازی میں یدطولیٰ رکھتا تھا، اس کا یدطولیٹاپ تک پہنچ گیا تھا۔
ہماری ایک غزل سپرہٹ ہوئی، ریڈیو، ٹی وی اور فنکاروں میں بیسٹ سیلر بن گئی تو ایک فلمساز نے اسے اپنی پشتو فلم میں شامل کرلیا۔ کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آکر ہم نے اسے عدالتی نوٹس بھجوایا، ایک وکیل کے ذریعے دس ہزار سکہ رائج دے کر۔
اس طرف سے جرگے شروع ہوگئے۔ آخر اس غزل کے گائیک خیال محمدکی درخواست پر راضی ہوگئے، کہا صرف وکیل والے دس ہزار دے دیں۔
لیکن ابھی خیال محمد نے اس کے پاس یہ خوش خبری پہنچائی بھی نہیں تھی کہ اس کے ہارٹ اٹیک میں انتقال پرملال اور وفات حسرت کی خبر آگئی۔
یہ کمند بھی ٹوٹ گئی۔ ٹی وی پر ہمارا ایک مقبول مزاحیہ پروگرام چل رہا تھا، ایک سہ ماہی کے لیے منظور ہوا تھا لیکن لوگوں کی پسندیدگی کی وجہ سے اڑھائی سال تک چلا۔ پروگرام کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ سیکریٹریٹ میں ایک ڈپٹی سیکریٹری سے ملو۔
ہم ڈرتے ڈرتے پہنچے کیونکہ اس پروگرام میں ہم سرکاری محکموں کو بھی نشانہ بناتے تھے لیکن وہاں جاکر پتہ چلا کہ گورنر فضل حق ہمارے پروگرام کے فین اور بلاناغہ دیکھنے والے ہیں اور انھوں نے ہدایت کی ہے کہ ہمارا نام سول ایوارڈ کے لیے بھیجا جائے۔
اسی وقت بائیو ڈیٹا گھسیٹ کر دے دیا اور’’امید‘‘ سے ہوگئے لیکن جب ایوارڈز کا اعلان ہوا توا س میں ہمارا نام نہیں تھا، امید کا مس کیرح ہوگیا، پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارا نام فائنل ہوچکا تھا، پرائڈ آف پرفارمنس کے لیے لیکن آخری وقت یعنی عین لب بام ایک اور نے یہ درانتی چلائی کہ یہ شخص افغانستان آتا جاتا رہتا ہے، مجاہدین کا طوطی بولتا تھا، اس وقت صدر ضیاالحق تھا اور ایوارڈ صدر کے ہاتھوں دلوایا جاتا تھا۔
اب تہیہ کرلیا کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اب نہ امید سے ہوں گے نہ کسی بام کی ہوس پالیں گے، جب ہم زمین کے باسی ہیں تو خوامخوا اچھلنے سے کیا فائدہ؟ کافی عرصہ بعد اچانک ہمارے نام تمغہ امتیاز کا اعلان ہوگیا حالانکہ ہم نے کوئی درخواست، کوئی بائیوڈیٹا نہیں بھیجا تھا۔
یکن پتہ چلایا کہ یہ کام ہمارے دوست راج ولی شاہ خٹک ڈائریکٹر پشتو اکیڈیمی نے کیا تھا جب منہ میں دانت نہیں رہے تھے تو دانے لے کر کیا کرتے لہذا رد کردیا اور ’’صابرین شاکرین‘‘ میں ہوگئے کہ اگلے جہان میں اس جہان کے محروموں کے لیے بہت سارے ایوارڈز کا وعدہ ہے ۔
ویسے رد کرکے اچھا کیا، کیونکہ ہم قسمت کے ایسے ’’دھنی‘‘ ہیں کہ، بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے لیے کوئی خاص ایوارڈ شاید کمال فن یا اس طرح کا کوئی نام تھا فائنل ہوگیا تھا لیکن پھر ایک مجبوراور مفلوج ادیب کو ترجیحی بنیادوں پر دے دیا گیا۔
ایک اور سلسلہ کتابوں کا ہے، جب کوئی ہمارا فین پیش کش کرتا ہے کہ غیرمطبوعہ کتاب ہمیں دو، ہم چھپوادیتے ہیں تو اس بیچارے کو یا تو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے یا کینسر یا گردے فیل ہوجاتے ہیں یعنی یہ جا وہ جا۔ چنانچہ اس طرف سے بھی صبر کرلیا ہے، خوامخوا اپنے دوستوں کی جاں لینے سے کیا فائدہ۔ ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ ہمارے بابا ایسے نہیں ہیں، ویسے ہیں۔
Today News
اسپین کا مثبت موقف – ایکسپریس اردو
عالمی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر سفارتی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک وسیع سیاسی پیغام بھی رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یورپی ملک اسپین نے ایسا ہی ایک قدم اٹھایا ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔
اسپین نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو باضابطہ طور پر واپس بلا لیا ہے اور اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً غزہ کی صورتحال اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کا اپنے سفیرکو واپس بلانا سفارتی زبان میں تعلقات کی سنگینی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو صرف ایک معمولی سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسپین کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ دراصل اچانک نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں سے جاری سفارتی کشیدگی موجود تھی۔ گزشتہ برس جب غزہ میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا گیا تو اسپین کی حکومت نے اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متعدد مواقع پر کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے بیانات نے نہ صرف یورپ میں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسپین یورپ کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جو فلسطینی مسئلے کے حوالے سے نسبتاً واضح مؤقف رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس اسپین نے باقاعدہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں تھا بلکہ اس نے یورپی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات میں واضح سرد مہری پیدا ہو گئی تھی۔
اسرائیل نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر ذمے دارانہ قرار دیا جب کہ اسپین نے اسے انصاف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قدم قرار دیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ نے اس تنازع کو مزید گہرا کردیا۔ جب 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تو اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے بارہا اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسپین کی حکومت بھی ان ممالک میں شامل تھی جنھوں نے کھل کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کئی بار اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن اس کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ۔ حالیہ مہینوں میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور خطے میں جنگ کے امکانات کی باتیں ہونے لگیں تو اسپین نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ کسی بھی نئی جنگ کے حق میں نہیں۔
اسپین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے اور اگر ایک اور بڑی جنگ شروع ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں اسپین نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی اڈوں کو کسی ایسے حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو ایران کے خلاف ہو۔
یہ موقف دراصل اسپین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ یورپی سیاست کے اندر بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یورپ کے اندر اس وقت دو مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار رکھنے کے حامی ہیں جب کہ کچھ ممالک اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرکے ایک الگ راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ اختلافات یورپین یونین کے اندر بھی نظر آ رہے ہیں۔ یورپی یونین ایک مشترکہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش ضرورکرتی ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک مختلف حکمت عملی اختیارکر رہے ہیں۔
اسپین کے سفیرکی واپسی کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات مزید کمزور ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے بھی اس سے پہلے اسپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔
اس طرح دونوں ممالک کے درمیان سفارتی نمائندگی پہلے ہی کم سطح پر آ چکی تھی اور اب اسپین کے حالیہ اقدام نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس طرح کے سفارتی اقدامات واقعی کسی بڑے سیاسی حل کی طرف لے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات عالمی دباؤ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ایک کے بعد ایک ممالک کسی پالیسی پر اعتراض اٹھاتے ہیں تو اس سے بین الاقوامی سطح پر بحث شروع ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں پالیسیوں میں تبدیلی بھی آئے۔
دوسری جانب بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ سفیروں کو واپس بلانے جیسے اقدامات سے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن اسپین کی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا مقصد تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام دینا ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے اسپین نے دراصل یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون اس کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔ اگرچہ عالمی سیاست میں اکثر ممالک اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب اخلاقی مؤقف اختیار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے مہینے عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ غزہ میں جاری بحران اور عالمی طاقتوں کی مختلف حکمت عملی اس خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔
ایسے ماحول میں اسپین جیسے ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں ایک نئے سیاسی رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید یورپی ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات پر غورکریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر عالمی موقف میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسپین کے اس اقدام کے فوری نتائج کیا نکلیں گے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس فیصلے نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے۔
یہ بحث اس بات کے گرد گھوم رہی ہے کہ کیا عالمی برادری انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو واقعی اہمیت دیتی ہے یا پھر یہ اصول صرف بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔
اسپین کے اس فیصلے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کیا اور یورپی ممالک بھی آنے والے دنوں میں ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اسپین نے ایک بڑا مثبت قدم اٹھایا ہے اور وہ کام کیا ہے جو تاریخ یاد رکھے گی۔
جب ظلم ہورہا ہو تب آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے، اس سے ہی ایک قوم کے کردارکی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے۔
Today News
ٹرمپ دلدل میں پھنس گئے؟
اسرائیلی حکمران سابق امریکی صدورکو ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں مگر کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے جھوٹے بیانیے پرکان نہیں دھرے۔
اب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایران مخالف بیانیے کو نہ صرف مان لیا ہے بلکہ ایران پر حملہ آور بھی ہو چکے ہیں۔ یہ شاید اس لیے کہ وہ شروع سے ہی ایران مخالف رویہ رکھتے تھے،کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی ایٹمی صلاحیت اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جب وہ 2016 میں پہلی دفعہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے انھوں نے اپنے سے پہلے صدر اوباما کے ایران کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کو فوراً ختم کر دیا تھا اور ایران کو پہلے کی طرح امریکی ہٹ لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔
وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر 2020 میں وہ بائیڈن کے مقابلے میں صدارتی الیکشن ہار گئے اور اس طرح وہ ایران کے خلاف اپنی پالیسی پر عمل نہیں کر سکے۔
البتہ انھوں نے اپنی صدارت کے زمانے میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی زبردست مہم چلائی جس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا وہ تو تمام عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرا لیتے مگر انھیں اس کے لیے وقت نہیں ملا کیونکہ ان کی پہلی صدارت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
اب جب سے وہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوئے ہیں ایران کی جوہری صلاحیت انھیں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے گو کہ ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ اسے اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے یعنی کہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
وہ ایران کے سخت مخالف ضرور ہیں مگر ابھی تک انھوں نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ امریکی اخبار لکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو وہ واحد اسرائیلی وزیر اعظم ہے جس نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر گزشتہ سال کے آخر میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے مگر اب اس نئے سال کی 28 فروری کو ایران پر بھرپور حملہ کر دیا اور اسرائیل کو اس جنگ میں شامل رکھا ہے۔
امریکا کا ایران پر یہ حملہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ اگر اسرائیل کی جوہری تنصیبات ان کا اصل ٹارگٹ ہیں تو انھیں تو وہ پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی ایٹمی صلاحیت کی آڑ میں وہ ایرانی حکومت کو ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے پہلے سابق امریکی صدر جونیئر بش بھی نائن الیون کے وقت عراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے غلط بیانیے کے ساتھ عراق پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔
صدر ٹرمپ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ظاہری طور پر ضرور ایک آزاد خیال انسان نظر آتے ہیں مگر اندر سے وہ بھی کٹر مذہبی شخص ہیں جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں وہائٹ ہاؤس میں نظر آئی جب پادریوں کے ایک وفد نے صدر ٹرمپ کے سر اور بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
اس دوران ٹرمپ اپنی کرسی پر سر جھکائے بڑی سعادت مندی سے بیٹھے رہے اور اپنے اوپر جھاڑ پھونک کرواتے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایران سے دشمنی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، اگر امریکا کو ایران سے واقعی کوئی خطرہ ہوتا تو امریکی عوام اور حزب اختلاف ضرور ان کا ساتھ دیتے مگر عوام اور پوری ڈیموکریٹ پارٹی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگجویانہ مہم سے بے زار ہیں۔
جس کی مثال حال ہی میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دھمکی دی گئی ہے کہ جب تک وہ ایران پر امریکی حملے کی وجہ نہیں بتاتے وہ سینیٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیں گے۔
اب ٹرمپ ایران پر حملہ آور ہونے کی اصل وجہ بتا نہیں سکتے کیونکہ ایران پر حملے کی وجہ ان کا اپنا مائنڈ سیٹ اور دولت مند یہودیوں سے ان کے کاروباری معاملات ہیں۔
بہرحال ایران پر ٹرمپ کے حملے کو امریکی نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ جنگ امریکا کے مفاد میں نہیں بلکہ سراسر اسرائیلی مفاد میں ہے۔
اس جنگ میں امریکا کا کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس جنگ نے امریکا کو ایکجارح اسٹیٹ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ملک پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پہلے امریکا اگر کسی حکومت کو اپنے لیے ناپسندیدہ سمجھتا تھا تو اسے سی آئی اے کے ذریعے گرا دیا جاتا تھا مگر اب تو ٹرمپ بحیثیت امریکی صدر اپنے ناپسندیدہ ملک کی حکومت کو گرانے کے لیے خود کارروائی کر رہے ہیں۔
وینزویلا کے بعد اب ایران پر ان کے حملے نے پوری دنیا میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جس سے امریکا کے طاقتور دشمنوں کی ہمت افزائی ہو رہی ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق طاقت کے زور پر اپنے مفادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی نئی صدارت کا حلف اٹھاتے ہی دھونس اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ وہ کسی ملک پر پابندیاں لگانے لگے تو کسی پر قبضہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔
گویا وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے اور اقوام متحدہ کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رہی، ان کی اس انتہا پسندانہ پالیسی نے صرف دنیا کو ہی خوفزدہ نہیں کیا بلکہ امریکی عوام میں بھی ان کی مقبولیت میں کمی آنے لگی۔
اب ایک تجزیے کے مطابق امریکی عوام میں ان کی مقبولیت 30 سے 40 فی صد ہی باقی رہ گئی ہے اور اگر یہی حال رہا تو آگے چل کر ان کی حکومت خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایران پر حملہ کرتے وقت وہ بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ایران پر ان کے حملے کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج کا ہونا لازمی ہے کیونکہ وہاں کے عوام حکومت کے سخت خلاف ہیں اور وہ حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔
ایرانی حکومت اب بھی قائم و دائم ہے اور انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔
ٹرمپ دراصل اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کا شکار ہوگئے ہیں، انھوں نے ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کردوں کو بھی ورغلایا تھا مگر انھوں نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔
گوکہ امریکا نے اسرائیل کی محبت میں ایران پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود ایرانی حکومت کا وجود قائم ہے۔
اب ٹرمپ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور وہ اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب ایران انھیں جنگ سے نکلنے نہیں دے رہا ہے کیونکہ وہ برابر اب بھی امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر بھیانک حملے کر رہا ہے۔
اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ خود ہی تباہی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اب اس سے نجات کے لیے اپنے پرانے دشمن روس سے مدد مانگ رہے ہیں جس سے یقینا ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper