Today News
یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے
محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔آخری برسوں میں وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر تک محدود کر دیے گئے اور چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔
احمدی نژاد اسرائیل کے کھلے نظریاتی دشمن تھے۔دو ہزار پانچ میں انھوں نے اپنے اس بیان سے بین الاقوامی شہرت پائی کہ اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔وہ نازی ہالوکاسٹ ( یہودی نسل کشی ) کو ایک صیہونی ڈرامہ قرار دیتے تھے جس کے ذریعے اسرائیل برس ہا برس سے دنیا کو بلیک میل کرتا آیا ہے۔
دو ہزار نو میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو ایک نسل پرست عالمی ناسور قرار دیا۔چنانچہ اسرائیل کے حامی کئی ممالک اس اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔
اکتوبر دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو زوم پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی اداروں میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور قلع قمع کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔ان میں سے بہت سے دو ہزار اکیس میں بھانڈا پھوٹنے کے بعد فرار ہو گئے اور اسرائیل نے انھیں پناہ دے دی۔
ان ایجنٹوں نے اسرائیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حساس ترین معلومات پہنچائیں۔بالخصوص دو ہزار اٹھارہ میں موساد جوہری پروگرام سے متعلق سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب رہی۔اس ڈیٹا کو صدر ٹرمپ نے دو ہزار پندرہ میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا بہانہ بنایا اور حساس مواد کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بطور حوالہ شامل کیا۔
نومبر دو ہزار بیس میں موساد ایجنٹوں نے ایران کے اعلی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک کمپیوٹرائزڈ مشین گن کے ذریعے قتل کیا۔اس کے بعد اس مشین گن کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کر دیا گیا۔
جولائی دو ہزار چوبیس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔انھیں جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا اسے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس واردات میں سوائے اپارٹمنٹ کے باقی عمارت محفوظ رہی۔یہ عمارت پاسدارانِ انقلاب کا ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاؤس تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے عملے سمیت درجنوں انٹیلی جینس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ستمبر دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو شدید بمباری کر کے قتل کیا۔اس واردات کے بعد فرانسیسی اخبار ’’ لا پیریسیاں ‘‘ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ حسن نصراللہ کی اس مقام پر موجودی کی رئیل ٹائم انفارمیشن اسرائیل کو بیروت میں ایک ایرانی ذریعے نے فراہم کی تھی۔
جون دو ہزار پچیس میں بارہ روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے دس جوہری ماہرین اور فوج کی اعلی قیادت صاف ہو گئی۔جنگ کے بعد سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔متعدد افغان پناہ گزین پکڑے گئے چنانچہ لاکھوں پناہ گزینوں کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔مگر موساد اور سی آئی اے کا جال پھر بھی نہ ٹوٹ سکا۔
اس کا ثبوت رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی رحلت سمیت وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادے ، فوجی کونسل کے سربراہ علی شمخانی ، ڈپٹی انٹیلی جینس منسٹر محمد شیرازی ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور پاسداران کے فضائی ونگ کے سربراہ ماجد موسوی سمیت ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے چالیس سے زیادہ اعلی اہلکاروں کا خاتمہ ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق اصولی طور پر اسرائیل اور امریکا نے دسمبر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل نظام بھی ختم کرنا ہے۔فروری میں جب ایران میں سرکار مخالف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں پرتشدد انداز میں دبایا گیا تو ’’ رجیم چینج ‘‘ کی کوشش بھی منصوبے کا حصہ بن گئی۔چنانچہ امریکا نے دو طیارہ بردار اسٹرائیک فورسز کو علاقے میں پہنچنے کا حکم دیا۔
ایران میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد اسرائیل اور امریکا کے اعلی فوجی و سیاسی منصوبہ سازوں کی تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ایران مذاکرات کی میز پر لایا گیا مگر اس کے سامنے ایسی شرائط رکھی گئیں جنھیں وہ یکسر مسترد کر دے۔یعنی مذاکرات کا مقصد مطلوبہ فوجی قوت کے اجتماع اور منصوبہ بندی مکمل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔
ایرانیوں کو اچھے سے معلوم تھا کہ ان کے اعلی ترین اہلکاروں کی نقل و حرکت کی زمین ، فضا اور خلا سے پل پل کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسی طرح کی کارروائی ہو سکتی ہے جس طرح اچانک بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ فرض کر لیا گیا کہ کم ازکم ایران کی اعلی ترین سیاسی قیادت کو دن دہاڑے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔کیونکہ آج تک دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا لہذا اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔
شائد اسی سوچ کے تحت علی خامنہ ای صاحب کو کسی محفوظ بینکر میں منتقل نہیں کیا گیا اور سنیچر کی صبح انھی کے دفتر میں اعلی قیادت کا اجلاس رکھ لیا گیا۔جیسے ہی یہ اطلاع تل ابیب پہنچی۔اس نے واشنگٹن سے رابطہ کیا کہ ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔چنانچہ باہمی رضامندی سے حملے کے پلان میں ہنگامی تبدیلی کی گئی اور اسرائیلی فضائیہ اور خلیجِ اومان میں موجود ایر کرافٹ کیریر کے جہازوں کو اڑان بھرنے کا اذن دے دیا گیا۔اور پھر رہبرِ اعلی کے کمپاؤنڈ میں ان تین مرکزی کمروں پر دو دو ہزار پاؤنڈ کے بینکر بسٹر میزائل داغے گئے جہاں ایران کی اعلی قیادت کو بیٹھ کر اگلا ’’ مذاکراتی ‘‘ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
ہمارا مشن ہے کہ ایران کی بیلسٹنگ میزائل صلاحیت کو تباہ کریں، امریکی وزیر خارجہ
واشنگٹن:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی بلکہ غیر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت بھی آ گئی تو وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور “گینگ آف ایٹ” گروپ کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔
ایک اور سخت بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ ایرانی رجیم عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اور امریکہ ایک ایسے ایران سے محبت کرتا ہے جس پر موجودہ حکومت مسلط نہ ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی عوام کو امریکہ کی مدد درکار ہو تو واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔
Today News
قطر کا ایران کے 2 لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ
قطر کی فضائیہ نے نے دعویٰ کیا ہے کہ انتباہ کے باوجود سرحدی خلاف ورزی کرنے پر اپنے دفاع میں ایران کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق قطر کی وزارت دفاع نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ فضائیہ نے ایرانی ساختہ سوکھوئی ایس یو-24 جنگی طیاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ قطری فضائی حدود کی جانب بڑھ رہے تھے۔
قطری وزارت دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے سات بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرون بھی بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیے گئے اور کوئی میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
قطر نے ایران کی سرحدی خلاف ورزی کو غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ سمیت اعلیٰ ملٹری قیادت شہید ہوگئی۔
جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے۔
Today News
برطانیہ فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک میں رجیم چینج پر یقین نہیں رکھتا؛ وزیراعظم
برطانو وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کسی ملک پر فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) کے نظریے پر یقین نہیں رکھتا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں براہِ راست حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
برطانوی وزیرِاعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتی جس میں فضائی حملوں کے ذریعے کسی ملک کی حکومت گرانے کی کوشش کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ برطانیہ کی کسی بھی کارروائی کے لیے واضح قانونی جواز موجود ہو۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وہ برطانوی فوجیوں کو کسی فوجی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں کریں گے جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔
تاہم برطانوی حکومت نے امریکا کی درخواست پر اپنے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کے مطابق امریکی افواج کو برطانوی اڈوں سے ایران کے میزائل مقامات کے خلاف دفاعی نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ امریکی جنگ میں شامل نہ ہونے کے ابتدائی اعلان کو سراہا البتہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت پر تنقید کی۔
یاد رہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر امریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی وزیراعظم کا رویہ مایوس کن ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا