Connect with us

Today News

یتامی ٰ کفالت کی فضیلت

Published

on


یتیم کے حقوق پر دین اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ آیت قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی دیکھ بھال کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعیدات بیان کی گئی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)

افسوس! لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘ (النساء)

اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’اور یہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ بد نیّت اور نیک نیّت ہر ایک کو خوب جانتا ہے، اوراگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے۔ اَحادیث مبارکہ میں یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامْ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘ (مسلم شریف)

امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔ بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اﷲ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میرا ساتھ اس طرح میسر ہوگا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ (مسند احمد)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)

ہمارے نبی کریم ﷺ کو عام بچوں سے بھی پیار تھا لیکن یتیموں کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپؐ نے خود دور یتیمی دیکھا تھا اس لیے آپ ﷺ یتیم کو زیادہ توجہ دیتے اور دلاتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یتیم بچوں کے بے سہارا ہونے کی وجہ سے دین اسلام ان کی محبت، دیکھ بھال اور انھیں خوش رکھنے کی زیادہ تاکید کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خفیہ جیل میں گزرے آٹھ رمضان المبارک

Published

on


میرے سامنے ایک ایسی نئی کتاب پڑی ہے جسے دلکشا بھی کہا جا سکتا ہے ، دل افروز بھی اور ایمان پروربھی ۔ اِس نئی تصنیف کا عنوان ہے : اندھیری جیل کا قیدی !کتاب کا اشاعتی جمال بھی قابلِ دید ہے اور باطنی مواد بھی ۔ اِس کے مصنف بنگلہ دیش کے ممتاز اور نوجوان قانون دان، چالیس سالہ جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، ہیں ۔ مجھے یہ کتاب جماعتِ اسلامی کے معروف مصنف ، صحافی اور دانشور ،برادرم سلیم منصور خالد صاحب، نے تحفتاً بھیجی ہے ۔ پروفیسرسلیم منصور خالد صاحب چونکہ خود بھی کئی وقیع کتابوں کے مصنف ہیں اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے ترجمان جریدے ’’ماہنامہ عالمی ترجمان قرآن ‘‘ کے مدیر بھی ، اس لیے اُن کے دل میں کتاب اور حرفِ مطبوعہ کا احترام اور ذوق و شوق فراواں پایا جاتا ہے۔وہ کئی کتابوں کے مرتّب کنندہ بھی ہیں اور فنِ اشاعت کی باریکیوں سے بھی خوب آشنا۔

بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی تصنیف کردہ زیر نظر کتاب ( جو تقریباً تین سو صفحات کو محیط ہے) بھی جناب سلیم منصور خالد کی ترجمہ و ترتیب کردہ ہے۔ اِس تازہ بہ تازہ ،شاندار اور تاریخ ساز کتاب کی اہمیت و حیثیت یہ بھی ہے کہ مصنف بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کے ایک معروف و سابق رہنما، میر قاسم علی مرحوم، کے بلند قامت صاحبزادے ہیں ۔ اُن کے والدِ گرامی ( میر قاسم علی) کو بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم (اور اب بھارت میں مفرور) ، شیخ حسینہ واجد، کی پندرہ سالہ استبدادی حکومت میں ایک جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں پھانسی کی سزا دے کر شہید کر دیا گیا تھا۔

میر قاسم علی شہید بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے اُن6 ممتاز اور اولو العزم رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہیں حسینہ واجد نے ذاتی و نظریاتی دشمن جان کر تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ انگلستان اور مصر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کو اپنے والد صاحب کی پھانسی دیے جانے سے25روز قبل بنگلہ دیشی وزیر اعظم، حسینہ واجد، کے حکم پر بنگلہ دیشی سیکیورٹی فورسز نے زبردستی اغوا کیا اور پھر پورے 8برس اُنہیں قیدِ تنہائی میں رکھا ۔ اُن پر بے پناہ تشدد بھی کیا گیا اور اُن کے خاندان ، احباب اور عالمی میڈیا سے حسینہ واجد کی حکومت یہ کہہ کر مسلسل کذب بیانی کرتی رہی کہ’’ وہ نہیں جانتے کی احمد بن قاسم کو کس نے اغوا کیا ہے ۔‘‘اِس عرصے میں اُن کے خاندان پر کیا گزری ہوگی، اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

اِس کتاب ( ’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘) کے مصنف مغوی حالت میں جیل ہی میں تھے کہ اُن کے والد صاحب کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا ۔ وہ اپنے والد سے آخری ملاقات سے بھی جبریہ محروم رکھے گئے ۔ اگست2024ء کو بنگلہ دیش میں زبردست طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہُوا، تب نئی حکومت ( جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس تھے) نے مصنف کو عذابناک قیدِ تنہائی سے نجات دلائی ۔چونکہ یہ رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ ہے ، اس لیے محترم بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی لکھی گئی کتاب ’’ اندھیری جیل کا قیدی‘‘ کا وہ باب (خفیہ جیل میں پہلا رمضان) خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے۔

اِس باب میں اُنھوں نے جیل میں گزرے آٹھ سال کے دوران اپنے اوّلین ماہِ رمضان کی ایسی ایمان افروز رُوداد لکھی ہے جسے پڑھ کر آدمی کا ایمان بھی تازہ ہوتا ہے، دینِ اسلام پر یقینِ محکم بھی قوی تر ہو جاتا ہے اور قرآنِ مجید سے محبت و عقیدت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ عقوبتوں ،اذیتوں اور زندانوں میں رہ کر بھی مومن رمضان المبارک کی سعادتوں اور برکات سے کس طرح مستفید ہونے کی سعی کرتا ہے ۔ مصنف نے خفیہ جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں آٹھ رمضان پامردی اور صبر سے گزار ے ۔

 بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان نے زیر نظر کتاب میں بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم (شیخ حسینہ واجد) کی استبدادی حکومت کے دوران جیل میں گزرنے والے آٹھ برسوں میں اپنے پہلے رمضان المبارک کا ذکر اِن الفاظ میں کیا ہے :’’قید میں پہلے رمضان کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ میرے پاس قرآن نہیں تھا۔ مَیں اِس کی تلاوت سے سکون حاصل کرنے کے لیے ترس رہا تھا، لیکن یہ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم کے ایک نسخے کے لیے مَیں مسلسل دُعا کرتا رہا ، لیکن وہ کبھی نہ آیا‘‘۔ پھر لکھتے ہیں: ’’ سحری کے لیے مجھے جو کھانا ملتا تھا، وہ باہر کھڑے گارڈز کو ملنے والے کھانے کا بھی نصف ہوتا تھا۔ چونکہ ہمارے پاس گھڑی نہیں تھی ، اسلیے ظہر اور عصر کی نمازوں کے اوقات کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ باہر کھڑے گارڈز سے گزارش کی جاتی : بھئی، خدا کے لیے نمازوں کے اوقات ہی بتا دیا کرو ۔ وہ کبھی کبھار اشاروں میں بتا دیتے ۔ پہلی افطاری کے دن جو کھانا دیا گیا، اُس میں تین چار چمچ چنے ، ایک پکوڑا، اور ایک کھجور تھی ۔اِس پہلے افطار پر فیملی کی یاد نے میرے دل کو مزید بوجھل کر دیا۔ خاص طور پر میری دو معصوم بیٹیوں کی یاد ۔‘‘یہ منظر پڑھنے والے کو یقیناً اشکبار کر دیتا ہے۔

زیر نظر کتاب میں ایسے کئی مناظر ہمیں پڑھتے ہُوئے ملتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران ،بنگلہ دیش کی جیلوں میں مذہب پسند قیدیوں کی نگرانی کے لیے ’’پڑوسی ملک‘‘ کے گارڈز بھی تعینات کیے جاتے تھے ۔ یہ اشارہ غالباً بھارت کی طرف ہے ۔ اِسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سال استبدادی حکومتی دَور میں بھارت کہاں تک اور کس حد تک بنگلہ دیشی معاملات میں دخیل ہو چکا تھا۔ اِسی کا ردِ عمل ہُوا تو اگست2024ء میں حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا تھا۔ یہ کتاب بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کے آٹھ سال کی محض ایک سادہ سی کہانی اور کتھا نہیں ہے،بلکہ ذاتی تلخ ترین تجربات پر مشتمل یہ تصنیف دراصل حسینہ واجد کے دَور کی ایک مکمل تصویر ہے ۔ اِس تصویر میں ہم حسینہ واجد کی ایک ایسی بھیانک شکل ملاحظہ کر سکتے ہیں جو سوویت یونین کے زمانے میں متشدد رُوسی حکمرانوں کی جیلوں سے مشابہ ہیں ۔اُس دَور میں رُوسی حکمران اپنے سیاسی مخالفین کو سائبیریا کے برف زاروں میں بنائی گئی خوفناک جیلوں میں بھیج کر ظلم کی نت نئی کہانیاں مرتب کرتے تھے ۔

خدا کا شکر ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کی وارداتیں بھی تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ گئیں ۔ اب بنگلہ دیش میں (12 فروری2026ء کے انتخابات کے بعد) ایک نیا سورج طلوع ہُوا ہے ۔ جناب طارق رحمن کی وزارتِ عظمیٰ کے تحت نئی حکومت بن چکی ہے ۔اور امیرِ جماعتِ اسلامی ، ڈاکٹر شفیق الرحمن، کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش(77سیٹوں کے ساتھ) پارلیمنٹ میں طاقتور حزبِ اختلاف بن چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیر نظر کتاب ( اندھیری جیل کا قیدی) کے مصنف، جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان ،بھی ڈھاکہ سے جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم اور ’’ترازو‘‘ کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ کے رکن بن چکے ہیں ۔ اُن کے ووٹروں نے اُنہیں اُن کی کمٹمنٹ اور جماعت سے وابستگی کا خوب صلہ دیا ہے ۔

زیر نظر کتاب ’’بنگلہ دیش میں گمشدگی کے آٹھ سال: اندھیری جیل کا قیدی‘‘کی قیمت750روپے ہے۔ اِسے ’’منشورات‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ تصنیف ضرور مطالعہ کرنی چاہیے ۔ یہ کتاب مطالعہ کے دوران ہمیں بار بار یہ باور کرواتی اور احساس دلاتی ہے کہ جب تشدد کا منظم ریاستی ڈھانچہ معرضِ عمل میں آتا ہے تو مجبورِ محض قیدیوں اور لاپتہ ہونے والوں کے لیے ملکی قوانین اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ اِس کے باوجود باہمت قیدی(اور اُن کے جملہ لواحقین) مایوس ہوتے ہیں نہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی سعی کرتے ہیں ۔ بلکہ قانون کے تمام معلوم دروازوں پر دستک دیتے رہتے ہیں ، تاآنکہ قدرت کوئی نہ کوئی دروازہ کھول ہی دیتی ہے ۔ جیسا کہ اگست2024ء میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی متشدد حکومت ختم ہُوئی تو کئی بے گناہ زندانیوں پر نجات کے دروازے بھی کھل گئے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

میگا کرپشن کی تصدیق ہو گئی

Published

on


پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام بھی اتنی بھولی ہے کہ ہر جماعت سے یہ امید باندھ لیتی ہے کہ وہ واقعی ملک و قوم کی جڑوں میں سرایت کر جانے والے کرپشن کے زہر کا تریاق کرے گی لیکن کچھ عرصہ بعد علم ہوتا ہے کہ ’’کرپشن مکاؤ‘‘ کا دعوی کرنے والی حکومت میں ہی سب سے زیادہ’’مک مکاؤ‘‘ ہوا ہے،پاکستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارا سیاست دان اخلاقی اور مالی کرپشن کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں تو یہ رواج بن گیا ہے کہ کرپشن کرنے کو ’’حق‘‘ سمجھا جانے لگا ہے ،کسی دور میں صرف سفارش پر کام ہوجاتا تھا اب سفارش کروانا الٹا گلے پڑجاتا ہے اور آخر کار ڈبل رشوت دے کر کام کروانا پڑتا ہے۔ویسے تو ہر سرکاری محکمے میں کرپشن موجود ہے لیکن چند محکمے ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم سب نے یہ تسلیم کر رکھا ہے کہ کرپشن میں ان کا مدمقابل کوئی دوسرا نہیں۔محکمہ خوراک پنجاب کا شمار بھی کچھ عرصہ قبل تک انھی خاص محکموں میں ہوتا تھا لیکن گزشتہ دو برس میں اس محکمے میں ہونے والی انقلابی اصلاحات اور سبسڈی میں انتہائی کمی نے کرپشن کے چور دروازوں کو بند کرنا شروع کر رکھا ہے۔

کئی دہائیوں تک عوام کو سبسڈائزڈ آٹا فراہم کرنے کے لیے کسانوں سے گندم خرید کر اسے انتہائی سستے داموں فلورملز کو فراہم کرتا تھا اور افسوس یہ کہ ’’کوٹہ سسٹم‘‘ کی وجہ سے چور فلورملز بھی اتنی ہی سرکاری گندم لینے کی اہل تھیں جتنی کارکردگی والی ملز کو ملتی تھی ۔عجب تماشہ تھا کہ کوٹہ چور فلورملز محکمہ خوراک کے گودام سے سرکاری گندم سے لدی گاڑی کسی فعال مل کی جانب بھیج کر بنا فلورمل چلائے، آٹا بنائے روزانہ لاکھوں روپے کا ’’خالص‘‘ منافع کماتی تھیں۔ اوپن مارکیٹ کی قیمت اور سرکاری گندم کی ریلیز پرائس میں پایا جانے والا غیر معمولی فرق اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ نہ صرف محکمہ خوراک بلکہ گندم آٹا سے منسلک ہر محکمہ، انتظامیہ اپنا حصہ لے کر اس کوٹہ نظام کے سہولت کار بن جاتے تھے۔

گزشتہ پانچ چھ سالوں میں سرکاری گندم کوٹہ نظام کے خلاف مضبوط آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس نظام سے مستفید ہونے والے اس قدر با اثر اور منظم تھے کہ اس کے خاتمہ میں مضبوط رکاوٹ تھے۔ اہم ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ ساز بیوروکریٹس، کابینہ ارکان بھی چونکہ اپنا حصہ لیتے تھے اس لیے کوٹہ مافیا جب چاہتا انھیں بلیک میل کر کے اپنی بات منوا لیتا تھا ،کبھی ریاستی اداروں کو گندم آٹا کے ممکنہ بحران کی غیر حقیقی صورتحال سے ڈرا کر ان کے ذریعے حکومت اور محکموں کو دباؤ میں لایا جاتا تھا ۔نگران دور حکومت میں جب اسٹیبلشمنٹ نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا اور اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں سے رابطے کیے تو جن چند معاملات کو’’میگا کرپشن ‘‘ کا ذریعہ قرار دیا گیا ان میں سے ایک سرکاری گندم آٹا کا سبسڈائزڈ کوٹہ نظام بھی شامل تھا۔نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے سب سے پہلے سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی گندم قیمت کے درمیان فرق کو ختم کیا اور پھر محترمہ مریم نواز شریف نے وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد گندم آٹا سیکٹر میں اصلاحات کا آغاز کیا۔

محترمہ مریم نواز درجنوں بار کہہ چکی ہیں کہ سرکاری گندم خریدو فروخت اور کوٹہ سسٹم ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کا سبب تھے ،بہت سے لوگوں نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا لیکن اب ایسے مصدقہ اعداد وشمار سامنے آ چکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ وزیر اعلی مریم نواز نے گندم آٹا بارے جو کہا وہ درست ہے۔پنجاب میں سرکاری گندم کے اجراء کا جائزہ لیں تو گزشتہ10 برس میں اوسطاً 35 لاکھ ٹن گندم ہر برس فلورملز کو سستے داموں فروخت کی جاتی رہی ہے ، گندم ریلیز کے چند اعداد و شمار انتہائی غیر معمولی ہیں،2018 میں محکمہ نے56 لاکھ ٹن،2019 میں45 لاکھ ٹن، 2020 میں51 لاکھ80 ہزار ٹن جب کہ2022 میں54 لاکھ ٹن گندم بھی ریلیز کی ۔پنجاب حکومت پچھلے پندرہ برس میں سرکاری گندم کی فلورملز کو سستے داموں فروخت پر750 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی کا بوجھ اٹھا چکی ہے۔

2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد محترمہ مریم نواز نے گندم کی سرکاری خریداری ختم کی تو انھیں انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ گندم مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور کسان کو کھیت میں 2ہزار سے2200 روپے فی من تک قیمت ملی جو اس کی لاگت کاشت کو بھی بمشکل پورا کرسکی۔نجی شعبہ نے لاکھوں ٹن گندم سستے داموں خرید کر اس امید پر اسٹاک کی کہ چند مہینوں بعد ڈبل یا ٹرپل قیمت پر فروخت کریں گے۔2024/25 میں وزیر اعلی نے کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نجی شعبہ کو آگے لانے کے لیے ایک نظام بنانے کی ہدایت کی جسے ’’ای ڈبلیو آر‘‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن اس وقت کی بیوروکریسی مختلف وجوہات کی وجہ سے ناکام رہی اور ان حالات میں گندم آٹا بحران جنم لیتے رہے۔گزشتہ برس وزیر اعلی نے پنجاب میں گندم آٹا خرابیوں کو دور کرنے اور کسان صارف دوست اصلاحات کے نفاذ کے لیے اپنے انتہائی قابل اعتماد افسر اور اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ امجد حفیظ کو ڈی جی فوڈ پنجاب تعینات کیا تھا جنھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نجی شعبے نے جو سستی گندم خرید کر بنا سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے اسٹاک کی ہوئی تھی اسے سرکاری نگرانی میں لیا ۔

اس کے بعد انھوں نے فعال اور غیر فعال فلورملز کو الگ کیا اور پھر قابل تصدیق فارمولا بناکر فعال فلورملز کو نجی گندم کی فروخت شروع کروائی۔اس موقع پر کوٹہ والی فلورملز نے شدید احتجاج کیا، لابنگ، الزام تراشی، دباؤ سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کسی طرح سرکاری گندم کی مساویانہ ریلیز شروع ہو سکے مگر وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہیں آئے۔وزیر اعلیٰ نے صوبے کی گندم مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پاسکو سے بھی تین لاکھ ٹن خرید لی اور آج یہ صورتحال ہے کہ آیندہ ماہ کے وسط میں جب ریلیز ختم ہوگی تو محکمہ مجموعی پر18 لاکھ ٹن گندم فروخت پر سیزن اختتام کرے گا جس میں سے سرکاری گندم محض10 لاکھ ٹن ہوگی باقی کی8 لاکھ ٹن تو پکڑی گئی نجی گندم ہے۔

ماضی کی سالانہ اوسط ریلیز35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 18 لاکھ ٹن ریلیز کے ساتھ بنا کسی بحران کے آٹا کی وافر سپلائی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس وژن پر تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے کہ سرکاری گندم کوٹہ نظام ،میگا کرپشن تھی ۔وزیر اعلیٰ نے اپنی فوڈ ٹیم کے ساتھ آٹا دستیابی کا نظام تو درست کر لیا ہے لیکن اب ان کا اگلا چیلنج نجی شعبے کے ذریعے پنجاب کے کسانوں سے گندم خریداری کے نئے نظام کو کامیاب بنانا ہے۔ ڈی جی فوڈ امجد حفیظ نے دانشمندانہ مشاورت کے بعد یہ نظام وضع کیا ہے،پری کوالیفائی کی گئی35 کمپنیاں، فلورملز اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والا ادارہ’’گرین پاکستان انیشی ایٹو‘‘ کسانوں سے 3500 روپے فی من قیمت پر 30 لاکھ ٹن گندم خریدے گا ،اس خریداری کا مقصد گندم مارکیٹ میں قیمت کو مستحکم بنانا اور صوبائی حکومت کے لیے گندم کے اسٹریٹجیک اور بفر اسٹاکس تعمیر کرنا ہے۔کسان کو اگر کھیت میں کم ازکم 3200/3300 روپے فی من قیمت بھی مل گئی تو یہ حکومت اور نئے نظام کی بڑی کامیابی ہو گی اور کوٹہ بہاریں لوٹنے کے منتظر مافیاز کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان و ایس آر اے کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

Published

on



حیدرآباد:

حیدرآباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان اور سندھ رویولیشن آرمی (ایس آر اے) سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق قاسم آباد کے علاقے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ملزم کو حراست میں لیا گیا۔

کارروائی کے دوران علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تاکہ کسی ممکنہ ساتھی کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ، جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں تکنیکی سامان برآمد ہوا ہے، جسے مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق موقع پر موجود بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ برآمد ہونے والے دھماکا خیز مواد اور سامان کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا جا سکے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے تفتیش جاری ہے اور اس سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending