Connect with us

Today News

یوم پاکستان اور اس کے تقاضے

Published

on


یومِ پاکستان محض ایک قومی تعطیل یا رسمی تقریب کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور تاریخی شعور کی تجدید کا موقع ہے تاکہ اپنے اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کا علم بھی ہو اور قیام پاکستان کی غرض و غائت بھی پوری طرح واضح اور عیاں ہو جائے۔

یہ دن ہمیں اُس تاریخ ساز جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنی الگ قومی شناخت، اپنے عقائد اور اقدار کے تحفظ اور اپنے سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے کی۔

23 مارچ 1940 کو پیش کی جانے والی قرارداد نے دراصل ایک ایسی سمت کا تعین کیا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو منتشر ہجوم سے ایک باوقار قوم میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کے اندھیروں میں امید کی ایک روشن کرن نے جنم لیا اور ایک ایسا خواب حقیقت کے قریب ہونے لگا جس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔

آج کے عالمی حالات میں پاکستان کو جن ہمہ جہت اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، وہ محض وقتی یا محدود نوعیت کے نہیں بلکہ ایک گہری عالمی تبدیلی کے مظہر ہیں، جن کے اثرات ہماری معیشت، سیاست، سفارت کاری اور سماجی ڈھانچے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی صورت میں، نہ صرف ایک نئے علاقائی بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی براہِ راست تصادم سے خود کو دور رکھتے ہوئے سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور کشیدگی کے خاتمے کی حمایت کرے۔ سفارتی سطح پر حکومت پاکستان کی پالیسی متوازن اور مدبرانہ ہے ، جب کہ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے مسائل اور عالمی سیاسی کشمکش جیسے عوامل نے ہمارے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ 

 درحقیقت یوم پاکستان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم یومِ پاکستان کی روح کو صحیح معنوں میں جان سکیں۔آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ تاریخی پس منظر سمجھنا اور ذہن نشین کرنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی حادثے یا وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم جدوجہد، واضح نظریے اور بے مثال قربانیوں کا حاصل تھا۔

اس جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے مستقبل کو ایک غیر یقینی راستے پر ڈال دیا۔

ان قربانیوں کا تقاضا صرف ایک آزاد ریاست کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل تھا جو انصاف، مساوات، رواداری اور فلاحی اصولوں پر قائم ہو۔

بدقسمتی سے، آزادی کے بعد کے سفر میں ہم ان اصولوں کو پوری طرح عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اگر ہم دیانتداری سے اپنا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ آج بھی ہمارا معاشرہ کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔

کرپشن، ناانصافی، اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات وہ چیلنجز ہیں جو نہ صرف ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ہمارے قومی تشخص کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یہ مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے بانیان کے وژن کو کہیں نہ کہیں نظر انداز کیا ہے۔

یومِ پاکستان کا ایک اہم تقاضا خود احتسابی ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔

کیا ہم نے اپنی ذمے داریوں کو اسی طرح نبھایا ہے جس طرح ہمیں نبھانا چاہیے تھا؟ کیا ہم نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں نہایت ایمانداری سے تلاش کرنے ہوں گے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کا نظریہ دو قومی نظریہ تھا، جس کی بنیاد اس حقیقت پر تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناخت کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں۔

اس نظریے نے ہمیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ہم ایک ایسا نظام قائم کرتے جو اسلامی اصولوں اور جدید تقاضوں کا حسین امتزاج ہوتا۔ افسوس کہ ہم اس توازن کو قائم رکھنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔

تعلیم اس تناظر میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیمی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ہاں تعلیمی نظام کئی مسائل کا شکار ہے۔ نصاب کی فرسودگی، تحقیق کی کمی اور عملی مہارتوں پر عدم توجہ نے ہماری نئی نسل کو وہ صلاحیتیں فراہم نہیں کیں جو موجودہ دور کے لیے ضروری ہیں۔

ہمیں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے کردار سازی، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں۔

معاشی استحکام بھی یومِ پاکستان کے تقاضوں میں شامل ہے۔ ایک مضبوط معیشت کے بغیر کوئی بھی ملک حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس میں ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی ترقی، اور غیر ضروری درآمدات میں کمی شامل ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرنا ہوگا اور خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔

قانون کی بالادستی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔

انصاف کی فوری اور شفاف فراہمی بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف دراصل ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔قومی یکجہتی بھی یومِ پاکستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کا حسین امتزاج ہے۔

یہ تنوع ہماری طاقت ہو سکتا ہے اگر ہم اسے مثبت انداز میں اپنائیں۔ ہمیں لسانی، نسلی اور صوبائی تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اصل شناخت پاکستانی ہونا ہے، اور یہی شناخت ہمیں متحد رکھ سکتی ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس دور میں نہایت اہم ہو چکا ہے۔ یہ ذرائع نہ صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ہمیں ان ذرائع کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا اور جھوٹی خبروں، نفرت انگیز مواد اور بے بنیاد پروپیگنڈے سے بچنا ہوگا۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی ایک پوسٹ یا ایک بیان بھی معاشرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یومِ پاکستان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ایمانداری، محنت، دیانتداری اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے فرائض کو اسی طرح اہمیت دینی ہوگی جس طرح ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمے داری ہے جسے ہر شہری کو سمجھنا ہوگا۔

یومِ پاکستان ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے انتھک جدوجہد جاری رکھنے‘اندرونی اتحاد اور نظم و نسق قائم رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم داخلی طور پر متحد ہوں، پاکستان کے اتحاد اور ترقی کے عمل میں شریک ہونے کے لیے مخلص ہوں اور مسلسل محنت کریں تو ہم ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں۔

ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے حال کو بہتر بنانا ہوگا اور اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو اپنے قیام کے مقاصد کی حقیقی عکاسی کرے، جہاں انصاف ہو، مساوات ہو، اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ یہی یومِ پاکستان کا اصل تقاضا ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔
 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایک ارب ڈالر یورو بانڈ کی ادائیگی، بیرونی معیشت کا امتحان

Published

on



کراچی:

پاکستان کی بیرونی معیشت ایک مرتبہ پھر دباؤکاشکار ہے،کیونکہ عید کے فوراً بعد ایک ارب ڈالر کے یورو بانڈکی ادائیگی متوقع ہے، جس نے زرِمبادلہ ذخائر، قرضوں کے بوجھ اور بیرونی مالیاتی انحصار سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 2026 کے آغاز تک پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر تقریباً 8 سے 9 ارب ڈالرکے درمیان ہیں، جو 2023 کے شدید بحران کے مقابلے میں بہتری توظاہرکرتے ہیں، تاہم یہ اب بھی صرف ڈیڑھ سے دو ماہ کی درآمدات کیلیے کافی ہیں،جو عالمی معیار سے کم ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستان کامجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 125ارب ڈالر سے تجاوزکرچکے ہیں،جبکہ رواں مالی سال کے دوران 25 ارب ڈالرسے زائد بیرونی مالی ضروریات کاسامناہے،صورتحال میں ایک ارب ڈالرکی یورو بانڈ ادائیگی مارکیٹ کے اعتماد کیلیے اہم امتحان سمجھی جارہی ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلیے دوست ممالک سے رول اوور،عالمی مالیاتی اداروں کی معاونت اورمحدودوسائل کاسہارالیاہے۔

عالمی بانڈمارکیٹس تک رسائی کمزورکریڈٹ ریٹنگ اور بلند رسک پریمیم کے باعث تقریباً بند ہو چکی ہے۔آئی ایم ایف پروگرام اس وقت معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار اداکررہاہے،جس کے تحت نہ صرف مالی معاونت مل رہی ہے، بلکہ دیگر عالمی اداروں سے بھی فنڈنگ کے راستے کھل رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط اور اصلاحات بھی جڑی ہوئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو درپیش اصل مسئلہ اس کی کمزور برآمدی بنیادہے، برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالرکے درمیان محدودہیں،جبکہ درآمدات اس سے کہیں زیادہ رہتی ہیں،جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقراررہتاہے،بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر،جو سالانہ تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں، اہم سہارا ہیں، لیکن یہ بھی عالمی حالات کے اثرسے مکمل محفوظ نہیں۔

معاشی ماہرین کاکہناہے کہ قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل مدتی اصلاحات ناگزیر ہیں،جن میں برآمدات کا فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملک بھر میں آج 86 واں یوم پاکستان بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے

Published

on



اسلام آباد:

آج پوری قوم 86 واں یوم پاکستان روایتی جوش و جذبے کیساتھ منا رہی ہے، یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک میں عام تعطیل ہے۔

 یوم پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں 31، صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز کیا گیا، مساجد میں وطن عزیز کی سالمیت اور ترقی وخوشحالی کی دعائیں کی گئیں۔

توپوں کی سلامی دینے کی تقریب میں موجود پاک فوج کے جوانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا، فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، جوانوں اور افسران کی جانب سے ملک کی سلامتی کیلئے خصوصی طور پر دعائیں بھی کی گئیں۔

اس مرتبہ مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کے پیش نظر ملک سطح پر جاری کفایت شعاری کے تحت یوم پاکستان سادگی سے منائی جا رہی ہے، اس دن کی مناسبت سے ہونے والی پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ مرکزی پرچم کشائی کی تقریب بھی سادہ اور پروقار رکھی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی طرح ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات سادگی اور کفایت شعاری کے تحت منعقد کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یوم پاکستان 23 مارچ 1959 کو منایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 سے 1955 تک یہ دن معمول کی طرح تھا۔

 قیام پاکستان کے سات سال بعد صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم چوہدری محمد علی کی قیادت میں 23 مارچ 1956 کو ملک کا اپنا تیارکردہ نیا آئین نافذ ہوا۔

نیا آئین بنا کر نافذ کرنا بہت بڑی کامیابی تھی، لہٰذا حکومت وقت نے اسے ہمیشہ کےلیے یادگار دن قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ اب سالانہ سرکاری سطح پر یہ دن یوم جمہوریہ کے نام سے 23 مارچ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

Published

on


ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending