Today News
یو این کو تالا لگاکرٹرمپ کا مواخذہ کریں
گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ کیا اس مینٹلٹی کا حامل صدر اپنی دھمکیوں پر عمل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے جہنّم میں جھونک دے گا یا مواخذے کا سامنا کرے گا؟ ایران کب تک تباہی برداشت کرسکے گا؟ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوگی یا اس کی شدّت میں اضافہ ہوگا؟ ہر شخص اپنی زبان پر یہی سوالات لیے پھرتا ہے۔
علامہ اقبال کونسل کی میٹنگز میں کبھی کسی شعبے کے ماہر (expert)کو گفتگو کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے۔ پرسوں ماہانہ میٹنگ تھی جس میں معروف سفارت کار میڈم رفعت مسعود کو مدعو کیا گیا۔ موصوفہ ایران میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں، فارسی روانی سے بولتی ہیں ، ایران اور ایرانی سوسائٹی کو بخوبی سمجھتی ہیں۔
انھوں نے حالیہ جنگ کے عوامل، ایران کی صلاحیّت اور اس خطے اور ملک پر جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سوال وجواب اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ امریکا کو ایران کے راہبر یا ان کی نیوکلیئر صلاحیت سے اتنا مسئلہ نہیں تھا، ان کا اصل ہدف ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جو صدر ٹرمپ کا وطیرہ بن چکا ہے۔
عالمی قبضہ گروپ کا یہ سرغنہ، جہاں کسی کمزور ملک میں انرجی کے ذخائر دیکھتا ہے، اس کی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ کوئی بے بنیاد اور بوگس جواز تراش کر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اِسی طرح امریکا نے صدام حسین پر WMD کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق کو تباہ کیا، صدام حسین کو قتل کردیا اور عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔ یہی کام چنگیز خان اور ہلاکو خان کیا کرتے تھے اور اسی نظرئیے کا جھنڈا اٹھا کر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ بلاشبہ آج کے ہلاکو خان اور ہٹلر ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، اس لیے وہ کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں۔ سفیر صاحبہ نے بتایا کہ ایک بار عمران خان وزیراعظم کی حیثیّت سے ایران آئے تو راہبر سیّد علی خامینائی سے ملنے گئے، سفیر کی حیثیّت سے میں بھی ساتھ تھی۔
عمران خان نے راہبر سے پوچھا کہ ایران پر اس قدر پابندیاں ہیں کہ آپ تیل نہیں بیچ سکتے، بینک کے ذریعے کاروبار نہیں کرسکتے۔ مگر پھر بھی آپ کے ملک کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے۔ یہ حوصلہ اور یہ استقامت آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟ اس پر سید علی خامینائی نے کہا ’’کشورِ اقبالؒ کے وزیراعظم کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ آپ اقبالؒ سے رجوع کریں، آپ کو اقبالؒ کے کلام سے حوصلہ بھی ملے گااور امید بھی، ہم نے بھی وہیں سے لیا ہے۔‘‘
شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ ایران نے جس حوصلے، جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ غیر معمولی اور بے مثال ہے، ان کی پوری قیادت ختم ہوگئی، سیکڑوں کمانڈر اور سائنسدان شہید ہوگئے مگر ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، بے تحاشا قربانیوں اور بے اندازہ نقصانات کے باوجود ایرانی قیادت جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگ رہی، ایران نے کسی ملک سے مدد نہیں مانگی۔ ایران میں اشیائے خوردونوش کی کمی واقع نہیں ہوئی۔ روزمرہ کی اشیاء مہنگی نہیں ہوئیں، دکاندار اور تاجر بے مثال ایثار کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کوئی ایرانی ملک چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ بیرونِ ملک گئے ہوئے ایرانی بھی واپس آکر اپنے ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، یہ سب حقائق ایک بہادر اور حوصلہ مند قوم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ پورے عرب ممالک تو اسرائیل کے آگے لیٹے ہوئے ہی، لیکن اگر کوئی ملک صیہونی عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے تو وہ ایران ہے۔ ایرانی حکمران اگرچہ شیعہ مسلک سے رکھتے ہیں مگر ہمارے ملک کی 95% سنی آبادی کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔
ایران کی جرأت واستقامت سے پاکستان میں سنی شیعہ اختلافات کی شدّت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور دونوں فرقوں کے لوگ بھی اور ان کے علماء بھی ایران کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیّد علی خامینائی سمیت ایران کے مذہبی علماء بہت پڑھے لکھے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر میں اللہ، رسول اللہ اور قرآن کا ہی ذکر کرتے ہیں اور اپنے جلوسوں میں اللہ اکبر کے نعرے لگاکر خالقِ کائنات کی عظمت کا اعلان کرتے اور خالق سے ہی مدد مانگتے ہیں، وہ دین پر مسلک کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور متنازعہ باتیں نہیں کرتے اس لیے یہاں بھی خواص و عام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی اور عقیدت کے جذبات موجزن ہیں۔
اس بات پر سب نے حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی کی مہذّب اور ترقی یافتہ دنیا کے سر پنچ اور چوہدری ریاست ہائے متحدہ امریکا کا منتخب صدر ہزاروں میل دور ایک آزاد اور خودمختار ملک پر بلا جواز اور بلااشتعال حملہ کردیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں، وہ ایران کی سیاسی قیادت اور چوٹی کے سائینسدانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کردیتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا۔ وہ علاقے کے بدمعاش کی طرح اپنے سے کمزور مگر ایک آزاد ملک کے عوام کو گالیاں بھی دے رہا ہے اور ساتھ دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تمہارے ملک میں بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشن تباہ کردوںگا، پل تباہ کردوںگا اور تمہارے ملک کو جہنم بنادوںگا۔مگر پھر بھی اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم عملی طور پر آج بھی بارہویں اور تیرہویں صدی میں رہ رہے ہیں ۔
اس نے بتادیا ہے کہ آج بھی دنیا پرMight is Right ہی کا اصول چلتا ہے، میرے پاس طاقت ہے اس لیے جسے چاہوں قتل کردوں اور جس ملک پر چاہوں قبضہ کرلوں۔ ہے تو تلخ مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ ہر روز ایسے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنگ کے دوران بھی جرائم سمجھے جاتے ہیں اور ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا ہیگ میں واقع ٹریبونل فاروار کریمنلز کے سامنے ٹرائل ہوتا ہے اور بہت سوں کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ مگر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکو بھی وار کرائم ٹریبونل میں پیش کیا جائے گا؟ فی الحال تو اس کے امکانات نظر نہیں آتے۔ مگر کچھ حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا میں کانگریس بھی موجود ہے، ایک طاقتور سینیٹ بھی ہے، سپریم کورٹ بھی ہے، مگر پورے سسٹم میں اتنی جان نہیں، کہ صدر کو تباہی کے راستے سے روک سکے۔
امریکی عوام کی واضح اکثریّت ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کی جانے والی بلاوجہ اور بلا ضرورت جنگ کے خلاف ہے، ملک کے قومی سطح کے قائدین صدر کی ذہنی حالت پر شکوک و شہبات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ دماغی طور پر غیر متوازن معلوم ہوتا ہے، ہمارا صدر اس طرح کے خطرناک بیان دے رہا ہے کہ کانگریس کو ان کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی۔‘‘ سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسٹر کے موقع پر امریکی صدر بے قابو ہوکر چیخ رہا ہے۔‘‘ سینیٹر مرفی نے کہا ہے کہ ’’میں کابینہ میں ہوتا تو ایسٹر کا دن ٹرمپ کو نااہل کروانے کے لیے 25ویں ترمیم پر مشاورت میں گزارتا۔‘‘ سینیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ کی طرف سے ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکیاں اور گالیاں شرمناک اور بچگانہ ہیں۔‘‘ تمام سیاسی لیڈروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس جنگ میں جو چیز ہمیں واضح طور پر نظر آرہی ہے ،وہ کسی منصوبے اور دلیل کا فقدان ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ جھنجھلاہٹ اور فرسٹریشن میں اپنے فوجیوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی ٹچ دینے کی بھی کوشش کررہا ہے ، اسے عیسائیوں اور مسلمانوں کی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، نہ صرف ایران گرا نہیں بلکہ ایران نہ ڈرا ہے اور نہ جھکا ہے۔ امریکا بے پناہ نقصان اُٹھا رہا ہے، اس کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا mylth ٹوٹ چکا ہے۔ تنگ آئے ہوئے اسرائیلی عوام جنگ کے خالف مظاہرے کررہے ہیں، امریکا میں صدر کے مواخدے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یورپی یونین امریکا کو چھوڑ چکی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایک فرسٹریٹڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرتے کرتے پوری دنیا کو جہنم میں نہ جھونک دے۔ اس کا خطرہ پوری طرح موجود ہے۔
یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یو این او سمیت تمام عالمی ادارے حملہ آور کا ہاتھ روکنے اور کمزور ملکوں کی سرحدی خودمختاری کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس لیے تیسری دنیا کے تجزیہ کار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یو این او کو تالا لگا کر اس طرح کے غیر موثر اداروں کو ختم ہی کردیا جائے۔ ہماری میٹنگ میں بھی اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ یو این او سے نکل کر پاکستان ترکی اور چند دیگر ممالک عالمی سطح کی تنظیم بنائیں جس میں چین اور روس کوبھی شامل کیا جائے اور امریکا کے عوام اور ادارے اپنے جنونی صدر کا ہاتھ روکیں اور مواخذے کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔
Today News
دو ہفتے کی جنگ بندی دو طرفہ ہو گی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے پر تیار ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دو طرفہ جنگ بندی قرار دیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی کافی آگے بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ جے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طویل مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔
Today News
ویلفیئر اسٹیٹ کا نعرہ لاپتہ ہوگیا
وزرات پیٹرولیم کے وزیر مملکت علی پرویز ملک نے ایک مشکل تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ اب حکومت عوام کو پیٹرول کی قیمت میں بلینکٹ کور نہیں دے سکتی۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کا خاتمہ نہ ہونے کی بناء پر حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں کا اضافی بوجھ عوام پر ڈال دیا۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے 458 روپے مقرر کی تھی مگر عوام کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے اس کی قیمت پھر 378 روپے کردی، مگر یہ رقم بھی بہت زیادہ ہے۔ ا س کے ساتھ ہی حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا اور یہ بھی کہا گیا کہ سولر پینل کی بجلی پر ریلیف ختم کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت اضافی بجلی سسٹم میں شامل تو ہوجائے گی مگر نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کے تحت بجلی صفر یونٹ تصور کی جائے گی، حکومت اس پر ریلیف فراہم نہیں کرے گی، یوں ویلفیئر اسٹیٹ بنانے کا نعرہ خلیج سے اٹھنے والے دھویں کے بادل میں کھوگیا۔
وفاقی حکومت نے ایران، اسرائیل و امریکا جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دراصل منی بجٹ نافذ کردیا ہے۔ پیٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ پورے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا جب کہ گڈز ٹراسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ جب نئے مالیاتی سال کا بجٹ تیار ہوگا تو وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یوں آئی ایم ایف کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان کی معیشت پر کچھ مثبت اثرات تو پڑیں گے مگر مجموعی طور پر اس فیصلے کے منفی نتائج برآمد ہوںگے۔
گزشتہ دو برسوں سے یہ بیانیہ اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دور ہے۔ پاکستان کا امریکا، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سے معمول کے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کو ہمیشہ ادھار پیٹرول فراہم کرتا رہا ہے۔ ادھر ایران نے پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور سرکاری ذرائع بار بار یہ بات بتاتے ہیں کہ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مسلسل غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں مگر اس صورتحال میں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس جعفری نے گزشتہ دنوں سینیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سستا تیل ایران میں دستیاب ہے۔
ایران سڑک کے راستہ تیل فراہم کرسکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی معقول تجویز ہے مگر پاکستان ایران پر عائد عالمی اور امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل خرید نہیں سکتا۔ اگرچہ دنیا بھر کے 85 کے قریب ممالک تیل کے بحران کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں بھارت بھی شامل ہے ، بھارت کی حکومت نے پیٹرول اور گیس کے سلنڈر کی راشننگ کردی۔ اگرچہ بھارت میں راشننگ کے نظام میں خرابیوں کی بناء پر بھارت کی بعض ریاستوں میں پیٹرول اور گیس کی قلت کا سامنا ہے ، بھارت کے عوام سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں مگر وہاں مہنگائی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔
بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے تھے۔ بھارت میں پنڈت جواہر لعل نہرو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد جیسا اگلی صدی تک دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والا سیاست دان تھا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آزادی کے فورا بعد زرعی اصلاحات کیں۔ سوویت یونین، برطانیہ اور امریکا سے برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے۔ پنڈت جی سوشل ازم سے متاثر تھے تو انھوں نے معیشت کو سوشلسٹ طرز پر استوار کرنے کی پالیسی اختیار کی، یوں بھارت کی معیشت ٹھوس بنیادوں پر کھڑی ہوئی۔ پنڈت نہرو کے بعد ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی نے بھی یہی پالیسی اختیار کی۔ انھوں نے بھی ہر سطح پر سادگی کے کلچر کو تقویت دی۔
80ء کی دہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب شروع ہوچکا تھا۔ اندرا گاندھی کے صاحبزادے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے نچلی سطح تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کی پالیسی کو تقویت دی، ان کے دور میں خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ بھارت کا عالمی بینک اور آئی ایم ایف پر انحصار بڑھ گیا مگر پھر وزیر اعظم نرسیما راؤ کو من موہن سنگھ جیسا وزیر خزانہ مل گیا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھارت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کھول دیا اور ریاستی ڈھانچہ کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ نرسیما راؤ ایک کمزور وزیر اعظم کے طور پر تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں مگر انھوں نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، یوں بھارت میں ایک خوشحال متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔
موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔ ان پر بڑے سرمایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ان پر اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کی سرپرستی کی الزام ہے، مگر وزیر اعظم مودی کی جانب سے غیر ممالک سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کرانے اور توشہ خانہ سے کوئی ذاتی فائدہ نہ لینے کے کسی فیصلے کی ہمارے ملک میں تو ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صرف بھارت کی پارلیمنٹ کی کارروائی پر نظر ڈالی جائے تو کوئی رکن غیر ملکی سوٹ پہنا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے کفایت شعاری کی کئی مثالیں قائم کی تھیں اور 11 ، اگست 1947ء کی آئین ساز اسمبلی کے دوسرے دن کے اجلاس میں کرپشن کے عفریت کو مہلک مرض قرار دیا تھا مگر بعد میں آنے والے حکمرانوں اور ان کے حاشیہ برداروں ، پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کی بیوروکریسی نے ساری توجہ اپنے اثاثے بنانے پر دی۔ 80ء کی دہائی کا جائزہ لیا جائے تو جب بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پہلی ترجیح قرار دی گئی تھی اس وقت جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء، افغانستان کی امریکا نوازشہری اشرافیہ اور افغان جہادی قیادت ، افغانستان کے پروجیکٹ کے لیے امریکا اور اتحادی ممالک سے آنے والے ڈالروں سے مستفید ہورہے تھے۔
کسی بھی حکومت کی ذمے داری عوام کی نگہبانی کرنا ہے، آج پاکستان کی بات کریں تو خلیجی بحران میں حکومت نے عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کے بعض اقدامات ناکافی ہیں۔ سندھ حکومت کو پنجاب کی طرح 500 بسوں کے فریٹ کے ٹکٹ معاف کردینے چاہیے تھے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
ا س بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی لاکھ پاکستانی شہریوں کے یورپی ممالک میں اثاثے ہیں۔ ان پاکستانی شہریوں کے گلف، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں وسیع کاروبار ہیں، یہ لوگ پاکستان سے یہ دولت لے کر گئے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جرات کا مظاہرہ کریں۔ غیر ممالک میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کے لیے قانون سازی کرے، یوں کھربوں ڈالر ملک میں واپس آجائیں تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم، صحت، پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کے علاوہ تمام غیر پیداواری منصوبے بند کیے جائیں۔ حکومت تمام بڑی گاڑیوں پر پابندی لگادے اور ان بڑی گاڑیوں کو پیٹرول فراہم نہ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
وفاق اور صوبوں میں موجود بڑی گاڑیوں کو نیلام کردیا جائے۔ صدر اور وزیر اعظم چھوٹی گاڑیوں پر سفر کریں۔ تمام سرکاری اداروں میں ایئرکنڈیشنز بند کردیے جائیں۔ صدر، وزیر اعظم اور وزراء خود ذاتی طور پر سادگی کے کلچر کو اپنائیں۔ ملک میں تمام بازار سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بند ہونے چاہئیں۔ صرف ریسٹورنٹس اور میڈیکل اسٹورز کو آدھی رات کے بعد کھلا رہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلہ کو فوراً منسوخ کرنا چاہیے، دوسری صورت میں ملک میں ایک بدامنی کا دور آجائے گا۔
Today News
یہ فیصلہ پہلے ہونا چاہیے تھا
ہماری تمام حکومتیں آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر خوش ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ قوم کو قرض ملنے کی مبارک باد دیتے ہیں، جیسے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے پاؤں پڑ کر اور اس کی ہر شرط مان کر بڑا تیر مارا ہو یا بہترین کارکردگی دکھائی ہو جب کہ قرضوں پر مزید قرض لینا باعث ندامت عمل ہوتا ہے مگر قرضے لینے والے موجودہ اور ماضی کے حکمران اعزاز سمجھتے ہیں کہ چلو انھیں موج کرنے، وی وی آئی پی سہولیات لینے، کمیشن کے حصول، اپنوں کو نوازنے اور سرکاری مراعات کے حصول کا مزید موقع ملے گا، مگر انھیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ مزید قرض مانگنا ہی بے عزتی ہوتی ہے اور ملک و قوم مزید مقروض ہوجاتے ہیں۔
قرضے مانگنے والے حکمران قیمتی سوٹ پہن کر جاتے تو ایسے ہیں جیسے وہ کوئی معرکہ سر کرنے جارہے ہوں حالاں کہ یہ ان کے لیے پریشانی کا مقام ہونا چاہیے مگر انھیں اپنے اقتدار کی وجہ سے کوئی شرمندگی محسوس ہی نہیں ہوتی اور قرض دینے والے مسلم یا دوست ممالک اس لیے قرض دے دیتے ہیں کہ انھیں یہ قرضہ بمع سود واپس ملے گا اور قرضہ لینے والے ملک کے حکمران ان کے احسان مند رہیں گے اور ان کی ہر بات ماننے پر مجبور ہوں گے ۔
دوست ممالک ایسی شرائط عائد نہیں کرتے، جیسی آئی ایم ایف کرتا ہے بلکہ اپنے مفاد کے لیے مزید قرض دے دیتے ہیں کہ مقروض ملک ان سے دبا رہے گا۔ قرض دینا مسلم ممالک نے بھی کاروبار بنا رکھا ہے جس پر انھیں سود بھی ملتا ہے اور مقروض ملک ان کی باتیں ماننے سے انکار کی جرات نہیں کرے گا۔
عام آدمی اگر دوست یا عزیز کے پاس کسی مجبوری میں قرض مانگنے جاتا ہے تو مفلوک حالت میں جاتا ہے تاکہ اس کی حالت اور بے بسی دیکھ کر قرض دینے والے کو رحم آجائے اور وہ انکار نہ کرے ۔ عام آدمی اگر مقروض ہوجائے تو کوشش کرتا ہے کہ اسے اسی کے پاس نہ جانا پڑے کیونکہ وہ مزید قرض دینے کی بجائے پہلا قرض نہ واپس مانگ لے، اس لیے وہ کسی اور کے پاس جانے کو ترجیح دیتا ہے مگر قرضے مانگنے کے عادی ہمارے حکمران قیمتی سوٹوں میں اس طرح بن ٹھن کر جاتے ہیں جیسے وہ قرض مانگنے نہیں لوٹانے آئے ہوں۔ قرض دینے والا اپنے قومی لباس اور پیروں میں چپل پہنے ہوئے ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران قرض لینا، اس لیے برا نہیں سمجھتے کہ یہ قرض انھوں نے نہیں بلکہ قوم نے واپس کرنا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لیے قرض نہیں لے رہے بلکہ قرض لے کر ملک و قوم پر احسان کررہے ہیں۔
ہمارے تمام حکمران مجموعی طور پر ملک و قوم کو 81 ہزار ارب روپے کا مقروض کرچکے ہیں اور ہر پاکستانی تقریباً سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے اور یہ قرض کسی شہری نے نہیں لیا بلکہ ان کی تو آنے والی نسل بھی مقروض پیدا ہورہی ہے بلکہ ہر حکمران کی اولادیں ملک سے باہر بھی اربوں روپے کی جائیدادوں کی مالک ہیں، ان کے اثاثے بھی باہر ہیں اور ملک میں بھی وہ عیش و عشرت کی زندگی اپنے بڑوں کی طرح گزار رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے لوگ اپنے کاروبار کے لیے اکثر واپس نہ کرنے کی نیت سے بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کرکے لیے گئے قرضے معاف کرالیتے ہیں جب کہ ان کا ملک قرض پرقرض لے کر اس قدر مقروض ہوچکا ہے کہ سزا عوام بھگت رہے ہیں جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کا غریب آدمی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے کرتے مرجائے گا جب کہ متوسط طبقہ بھی غربت کی سطح سے نیچے جاچکا ہے۔
سینیٹ میں ایک سینیٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قرضے لینا بس کردے کیونکہ ملک و قوم بہت زیادہ مقروض ہوچکے ہیں اور مزید قرض لینا بند کردیا جائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ قرضے لینے کا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں آئی ایم ایف سے قرض لینا بند کردیا گیا تھا۔حکومت اب امارات کا قرضہ بمع سود واپس کرنے جا رہی ہے جو پہلے ہی ادا ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ 32 سال بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب حکومت کو مزید قرضے لینے کی بجائے حکومتی اخراجات کم کرکے کسی بھی طرح باقی قرضے واپس کرنے پر توجہ دے، اسی میں عزت ہے ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports1 week ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News1 week ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو