Today News
یہودی ہو تو بری ، فلسطینی ہو تو پھانسی
دو ہزار بائیس میں اسرائیلی تاریخ کی سب سے متشدد ، نسل پرست ، توسیع پسند مخلوط حکومت کی تشکیل کی سودے بازی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے یہودی آبادکار اتمار بن گویر کی جماعت جیوش پاور ( اوتزما یہودت ) نے نیتن یاہو کے سامنے جو شرائط رکھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’ فلسطینی دھشت گردوں ‘‘ کو سزاِ موت دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
انیس سو باسٹھ میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمین کی پھانسی کے بعد سے اب تک اسرائیل میں کسی کو تختہِ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔آئخمین سے قبل انیس سو اڑتالیس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر مائر توبیانسکی کو غداری کے جرم میں فوجی عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی دی گئی۔تاہم بعد از موت مقدمے کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے مائر توبیانسکی کو عدالتی ریکارڈ میں بے گناہ لکھا گیا۔
انیس سو چون میں سپریم کورٹ نے عام قتل کے لیے سزاِ موت کو پینل کوڈ سے خارج کردیا اور صرف غداری اور نازی جنگی مجرموں کے لیے ہی موت کی سزا برقرار رکھی گئی۔انیس سو اٹھاسی میں نازی مجرم جان دیمانک کو سزاِ موت سنائی گئی تاہم انیس سو ترانوے میں سپریم کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک نوے فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ، ٹارچر یا علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی بھلے جیل میں ہوں یا جیل سے باہر۔ان کی زندگی ویسے بھی ارزاں ہے۔سزاِ موت کے قانون کے نفاذ سے بس اتنا ہو گا کہ فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو ’’ قانونی ‘‘ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
اس قانون کی منظوری سے کئی ماہ پہلے ہی بدنامِ زمانہ اوفر جیل میں پھانسی گھاٹ تعمیر کر دی گئی۔قومی سلامتی کے وزیرِ بن گویر جب بھی اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرتے تو اپنے گلے کے گرد دونوں ہاتھوں سے حلقہ بنا کر فلسطینی قیدیوں کو جتاتے کہ تم سب پھانسی کے حقدار ہو۔
اتمار بن گویر کتنا بڑا ذہنی مریض ہے ؟ ایک قصہ سن لیجیے۔ولید دقا فلسطینی ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ولید کو ’’ دہشت گردی ‘‘ کے الزامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک فوجی عدالت نے انیس سو اسی کے عشرے میں اڑتیس برس قید کی سزا سنائی۔دو ہزار تئیس میں ولید نے اپنی سزا مکمل کر لی مگر رہا کرنے کے بجائے دیگر قیدیوں کی اہلِ خانہ سے رابطہ کاری میں ’’ مدد ‘‘ کے جرم میں ولید کی سزا میں مزید دو برس کی توسیع ہو گئی۔اپریل دو ہزار چوبیس میں ولید کا قید خانے میں ہی باسٹھ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔انھیں کینسر تھا۔
اتمار بن گویر نے اپنے دکھ کا اظہار کچھ یوں کیا ’’ مجھے ولید کی طبعی موت کا بہت افسوس ہے۔میرا بس چلتا تو اپنے ہاتھ سے پھانسی دیتا ‘‘۔( ولید کی لاش آج تک اسرائیلی سرد خانے میں قید ہے )۔
تیس مارچ کو پارلیمنٹ میں اس قانون کے لیے فائنل ووٹنگ ہوئی۔اجلاس کی خاتون صدر منظوری کا اعلان کرتے ہوئے مارے خوشی کے رو پڑیں۔ نیتن یاہو کے ووٹ سمیت بل کے حق میں باسٹھ اور مخالفت میں سینتالیس ووٹ آئے۔بن گویر نے اسمبلی فلور پر شیمپین کی بوتل کھولتے ہوئے کہا کہ ’’ اب ہم مجرموں کو ایک ایک کر کے گنیں گے اور آگے بھیجیں گے ‘‘ ( یعنی تختہِ دار پر لٹکائیں گے )۔
یہ غالباً دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے جس کے تحت اگر کسی فلسطینی پر کسی یہودی کی جان لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو اسے لازماً نوے دن کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔فوجی عدالت سادہ اکثریت سے بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ جب کہ کوئی یہودی اگر غیر یہودی ( فلسطینی ) کو قتل کر دے تو اسے زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس قانون کا اطلاق محض اسرائیل کی حدود میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر بھی ہوگا جہاں گذشتہ انسٹھ برس سے مارشل لا نافذ ہے اور آج فلسطینی کسی بھی جرم میں حراست میں لیے جائیں ان میں سے ننانوے اعشاریہ چوہتر فیصد کو کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی سزا سنائی جاتی ہے۔جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد یہودیوں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں اور ان کو ملنے والی عدالتی سزاؤں کا تناسب ( کنوکشن ریٹ ) محض ڈھائی فیصد ہے۔یعنی سو میں سے ستانوے یا اٹھانوے ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔
ان بری ہونے والوں میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے دیہاتوں سے چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بندوق کی نوک پر بے دخل کرنے ، زمینوں اور باغات پر قبضہ کرنے کے لیے قتل ، ریپ اور اغوا کی ساڑھے سات ہزار وارداتوں میں ملوث وہ سیکڑوں مسلح یہودی آباد کار بھی شامل ہیں جن کے خلاف فردِ جرم عموماً دو پیشیوں کے بعد داخلِ دفتر ہو جاتی ہے۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تین سو ساٹھ بچوں اور تہتر خواتین سمیت ساڑھے نو ہزار سے اوپر فلسطینی قید ہیں۔ان میں سے محض ایک ہزار پر باقاعدہِ فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔باقی قیدیوں کو کئی کئی برس سے انتظامی نظر بندی کے مبہم قانون کے تحت رکھا جا رہا ہے۔ان کی قید میں ہر چھ ماہ بعد توسیع کر دی جاتی ہے۔
عالمی عدالتِ انصاف کی رولنگ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں مغربی کنارہ ، غزہ اور گولان کا علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل ایک قابض ریاست ہے چنانچہ اسرائیلی پارلیمنٹ مقبوضہ علاقے کے لیے قانون سازی کی مجاز نہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر والکر ترک نے اس قانون کے مقبوضہ علاقے میں نفاذ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔اسی بنیاد پر اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس اور پارلیمنٹ کے دو ارکان نے نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
یورپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، متعدد عرب اور غیر ممالک نے اس قانون کو بین الاقوامی نظائر کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں۔مگر اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح تمام ردِ عمل کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔امریکی کانگریس اور سینیٹ میں تو اس بابت کسی قرار داد ِ مذمت کے منظور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فلسطینیوں کو سزاِ موت دینے کا قانون اس فیصلے کے ایک ماہ بعد نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت سدی تمیم کے بدنامِ زمانہ فوجی کیمپ میں فلسطینی قیدیوں کے اجتماعی ریپ کے مجرم تمام فوجیوں کے خلاف حکومت نے فردِ جرم واپس لے لی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
جنگی طیارے کی تباہی سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال جنگی نوعیت کی ہے اور ایسے حالات میں اس طرح کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتا عملے کے رکن کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا کے تین جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان طیاروں کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عملہ زخمی ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق امریکا کے جدید ایف 35 طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے 10 طیارہ بھی تباہ کیا گیا، قیشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو امریکی لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
Source link
Today News
غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں
برطانیہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ پہلی دفعہ متوسط اور مزدور طبقہ وجود میں آیا۔ کسانوں نے اپنے آبائی پیشہ ، چھوڑ کر شہروں کا رخ کیا۔ نئے شہر آباد ہوئے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ سیاسی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مزدور اور کسان تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دانشوروں کے ایسے گروہ معاشرے میں نظر آنے لگے جو فرد کی آزادی اور ریاست کی تنظیم نو کے بارے میں نئے خیالات پیش کرتے تھے۔ اخبارات نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینی شروع کی۔
اس صورتحال کے منطقی نتیجے میں برطانیہ میں بادشاہ اور چرچ کا کردار زیرِ بحث آنے لگا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ، بادشاہ اور چرچ کے درمیان تصادم ہوا۔ متوسط اور مزدور طبقہ کی سیاسی جماعتوں اور آزادی کا پرچار کرنے والے دانشوروں نے اس لڑائی میں پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میگنا کارٹا معاہدے کے ذریعے محدود ہوئے۔ چرچ کی ریاست کے امور میں مداخلت ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ نے Bill of Right کی منظوری دی۔ اسی طرح ریاست کی تنظیم نو کا آغاز ہوا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں عوام کی ریاست پر بالادستی قائم ہونا شروع ہوئی۔ خواتین کی انجمنوں نے ووٹ دینے کے حق کے لیے ایک تاریخی جدوجہد کی۔ مزدور تنظیمیں کارل مارکس کے سوشل ازم کے نظریے کی علم بردار بن گئیں۔ اسی دوران سول سوسائٹی مستحکم ہونا شروع ہوئی۔ سول سوسائٹی کی تعریف یوں کی گئی :
“Civil society is like the backbone of a democracy, yaar! It’s the glue that holds the system together, making sure the government stays accountable to the people.In Pakistan, civil society plays a crucial role in:- Promoting transparency and accountability- Advocating for human rights and social justice- Providing a platform for marginalized voices- Encouraging civic engagement and participation.”
برطانیہ اور یورپی ممالک میں سول سوسائٹی جمہوری نظام کے استحکام میں بنیادی ستون بن کر سامنے آئی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے تحفظ، آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے لیے ماحول کو سازگار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سول سوسائٹی کی کوششوں سے غلامی کا ادارہ ختم ہوا۔ معاشرے کے پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے لیے سول سوسائٹی نے رائے عامہ ہموار کی۔ ریاست کے نظام کو شفاف انداز میں چلانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کے جاننے کے حق (Right to know) کو تسلیم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا۔
سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سول سوسائٹی کے ایجنڈا کو اپنایا، یوں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پسماندہ طبقات کی بہبود اور بنیادی شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔ بھارت میں سیکولر جمہوریت کے استحکام، مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ۔یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تاریخ کے اہم موضوع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکا کا اتحادی بن گیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونا شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر کمزور ہوا اور سیاسی جماعتیں عوام سے دور ہونے لگیں۔ اگرچہ وکلاء ،صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں کی تنظیموں نے سیاسی عمل کے خاتمے پر ایک احتجاج شروع کیا مگر فوری طور پر اس احتجاج کے اثرات سامنے نہیں آئے، البتہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی عمل کو پیچھے دھکیل دیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سول سوسائٹی کا ادارہ جو پہلے ہی کمزور تھا مزید کمزور ہوگیا۔ وکلاء کی تنظیموں نے اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود بنیادی شہری حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ صحافیوں کی نمایندہ تنظیم پی ایف یو جے نے آزادئ صحافت کو درپیش مسائل کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پسماندہ طبقات کی آوازوں کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مزدور تحریک مشکلات کا شکار ہوگئی۔ فری مارکیٹ کے نظریے کے تحت استحصال کے نئے طریقے راج ہوگئے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طوفان نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران پاکستان میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقتور آواز بن کر سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دوراب پٹیل ، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں غیر قانونی قرار دینے کے لیے متحرک وکیل عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں سول سوسائٹی میں نیا کردار ابھر کر سامنے آیا۔
انسانی حقوق کمیشن نے مزدوروں کے حقوق ، بائنڈڈ لیبر کے خاتمے اور پسند کی شادی جیسے اہم مسائل پر مختلف نوعیت کی تحقیق کی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے عدالتوں میں لڑائیاں لڑیں۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی ریاست کے تمام ستونوں پر بالادستی، آئین میں کی گئی غیر جمہوری ترامیم کے خاتمہ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے ایچ آر سی پی نے تاریخی مہمیں چلائیں۔ اسی طرح خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان طبقات کے حقوق کے لیے قانون سازی کے لیے ایچ آر سی پی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔
انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن وغیرہ کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان رہنماؤں کو عالمی اعزازات دیے گئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے دور میں غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف ایک نہ نظر آنے والا آپریشن شروع ہوا۔ ان کے دور میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی روک تھام کی ٹاسک فورس (Financial Action Task Force – FATF) نے انتہاپسند مذہبی تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کیں، ان پابندیوں کا اطلاق انسانی حقوق اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں پر بھی کیا گیا، یوں یہ ڈیولپمنٹ سیکٹر سکڑنے لگا۔ جب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تنقید ہوئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔
گزشتہ حکومت کے دور اقتدار میں حالات مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں Regulation or Restriction کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ این جی اوز (N.G.Os) کو ہر صورت حکومت پاکستان کے Economic Affairs Division سے ایم او یو (مفاہمی یادداشت) پر دستخط کرنا ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع کی سطح پر نئی این جی او کے رجسٹریشن کے لیے این او سی کا حصول لازمی کردیا گیا۔ اس طرح Provincial Charities Commission سے رجسٹریشن کو لازمی کردیا گیا۔
اب کسی این جی او کے بینک اکاؤنٹ سیل کرنے سے لے کر اس کے دفتر کو سیل کرنے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکاء نے متفقہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ یہ پابندیاں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں تنظیموں پر حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ذیشان نے کہا کہ این جی او پر اس طرح کی پابندیوں سے صرف مظلوم طبقات ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ جمہوری نظام بھی متاثر ہوگا۔ ایک اور دانشور نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے معاشرے کی دانش وارانہ روایت کمزور ہوجائے گی۔
ایک وکیل ثاقب جیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پالیسی کو جو انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ہے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک رہنما نیلم حسن کا یہ موقف تھا کہ ہر صورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک اور سماجی کارکن بشرہ خالق نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے طریقہ کار سے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد کو اقوام متحدہ نے بھی سراہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی موقع ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور کریں۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئرمین راجہ اشرف نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بنیادی حقوق کو ایک منصوبے کے تحت واپس لیا جارہا ہے۔ اس سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے سویلین اسپیس کم کررہی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرداں این جی اوز کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے انسانی حقوق کی پاسداری کرکے ایک طرف عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ ابھر کر سامنے آیا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا ۔
Today News
اسلام آباد میں ایران-امریکا ‘بریک تھرو’ مذاکرات ہوتے ہوتے رہ گئے
پاکستان نے خلیجی جنگ روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بھرپور خاموش سفارتی کوشش کی اور دو مرتبہ یہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا۔
حکومت کے پس منظر میں ہونے والی سفارت کاری سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد حال ہی میں دو مختلف اوقات میں ایرانی عہدیداروں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے دورے کے لیے تیار ہوئے تھے۔
جے ڈی وینس کی دونوں دفعہ اسلام آباد کے دورے کی کوششیں عین وقت پر تہران کی جانب سے اندرونی مشاورت اور بالآخر شرکت کے خلاف فیصلے کے بعد ناکام ہوئیں۔
حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی وفد اپنے نائب صدر کی سربراہی میں گزشتہ چند روز میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو تیار تھا، ہم بہت قریب تھے، گزشتہ 10 روز کے دوران دو مرتبہ ہم انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار تھے بدقسمتی سے دونوں مواقع پر ایران نے نظرثانی کی اور اپنی ٹیم نہیں بھیجی۔
پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے غیرجانب دار کردار کی پوزیشن سرگرم انداز میں برقرار رکھی ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر پیش کش بھی کیا ہے۔
یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کی علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر کوششیں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کے پیش نظر کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
وفاقی حکومت کے عہدیدار نے نشان دہی کی کہ امریکا نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی جبکہ ایران موجودہ حالات کے تحت مذاکرات میں شمولیت کے خطرات کا زیادہ محتاظ انداز میں جائزہ لے رہا تھا، ‘مجھے کہنے دیجیے ہم ایرانی جواب سے کسی حد تک مایوس بھی ہوئے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘امریکا کے حوالے سے ان کے تحفظات حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت قابل فہم ہیں لیکن سفارت کاری کو ہمیشہ موقع دینا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے نازک موقع پر’۔
حکومتی عہدیدار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوشش کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ تہران میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مذاکرات کے لیے دورے کی تیاری کرلی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ طے شدہ دورہ سیکیورتی خدشات کے باعث نہیں ہوسکا اور ایرانی حکام کی جانب سے آگاہ کردیا گیا کہ موجودہ حالت کے پیش نظر سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوگی جس کے باعث پاکستان کو اپنا دورہ مؤخر کرنا پڑا۔
حکومتی عہدیدار کے بیانات خطے میں جاری پس پردہ ہونے والی فعال سفارتی سرگرمیوں کی ایک بڑی جھلک کا عکاس ہیں، یہ ایسی کوششیں ہیں، جو عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
پاکستان کا کردار یہاں ثالثی تک محدود نہیں رہا، اس کا سفارتی عمل اور خاص طور پر اسرائیل پر تنقید کو خلیج کے مخصوص ممالک میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا جس کا عکس 19 مارچ کو ریاض میں منعقدہ 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا جہاں یہ ممالک خطے کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔
عہدیدار کے مطابق اجلاس سے چند لمحے قبل ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا بعد میں اسحاق ڈار بھی اس فون کال میں شامل ہوئے، اس دوران عباس عراقچی نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ اجلاس کا مشترکہ بیان یک طرفہ یا ایران پر غیرمتناسب تنقید کے ساتھ نہیں ہو۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوا تھا جب پورے ریاض میں ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن بج رہے تھے۔
پاکستانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے دوران بیان کا ایک ڈرافٹ دیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر ایران کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، پاکستان نے ڈرافٹ کی زبان پر سخت اعتراض کیا اور مؤف دیا کہ اس میں بحران کی بنیادی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے زور دیا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور بنیادی مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں’ اور کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد پاکستان کو ڈارفٹ میں اہم ترامیم، غیرجانب داری یقینی بنانے اور الزامات میں کمی لانے میں کامیابی ملی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا یہ سخت مؤقف تمام شریک کاروں کو اچھا نہیں لگا، چند ممالک اسلام آباد کی پوزیشن پر ناخوش نظر آئے اور اس کو ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردانہ طور پر دیکھا گیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ کسی ایسے فوجی یا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے محتاط بھی رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں کثیرالملکی ٹاسک فورس کی ممکنہ تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی ہے، ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدام کو بعض لوگ ممکنہ طور پر اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔
یہ محتاط حکمت عملی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی، جس کا مقصد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا، اسلام آباد نے دعوت مسترد کر دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اقدام پاکستان کے کشیدگی کم کرنے اور غیر جانب داری کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
Source link
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports7 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines7 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Today News2 weeks ago
رمضان کے بعد ضبطِ نفس کا امتحان