Connect with us

Today News

11 مارچ کو تمام اسکول بند رہیں گے، حکومت کا اعلان

Published

on



سندھ حکومت نے 11 مارچ کو تمام اسکولوں میں تعطیل کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

وزارت تعلیم کے جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق 11 مارچ کو تمام سرکاری اور نجی اسکول بند رہیں گے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق یوم علی کی مناسبت سے نجی و سرکاری اسکولوں میں تعطیل ہوگی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مفاہمت ہی واحد آپشن – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ایک طرف داخلی مسائل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل ہیں تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ جنگ ہے ،امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ اور خلیجی ممالک تک اس جنگ کا پھیلاؤ ہے جو ہمارے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔یہ حالات فوری طور پر بہتر نہیں ہوں گے اور ان کے براہ راست اثرات ہم پر مرتب ہوں گے۔ایسے میں پاکستان کی قیادت کو زیادہ تدبر کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیںغیر معمولی فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے بھی موجودہ صورتحال پر نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بقول قومی سیاست میں مفاہمت، مصالحت اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور یہ ہی استحکام نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

ان کے بقول تمام فریقین کو مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کریں ۔یہ جو بھارت ، اسرائیل اور افغانستان پر مبنی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے، ایسے میں ہمیں زیادہ حکمت کے ساتھ اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا جس میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور متفقہ طور پر حالات کا مقابلہ کریں ۔جنرل )ر(ناصر جنجوعہ نے جو باتیں کی ہیں اس میں فہم اور تدبر کی جھلک ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ قومی مفاہمت کا عمل کیسے شروع ہوگا اور کیسے مکمل ہوگا؟

 ادھر پی ٹی آئی کی کوٹ لکھپت جیل میں موجود قیادت نے بھی ایک خط کے ذریعے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی کے بانی سے ان کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم بات چیت کی مدد سے سیاسی راستہ نکال سکتے ہیں لیکن اس خط کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔

اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی قیادت مطمئن ہے کہ موجودہ حالات میں بھی ملک بہتر چل رہا ہے اور بعض وفاقی وزرا کے بقول نہ تو ملک کی سطح پر کوئی سیاسی تقسیم ہے اور نہ سیاسی محاذآرائی یا سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔ ان کی سوچ اپنی جگہ ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات نے پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس کا درست ادراک نہیں ہے۔اس حکومت نے حالات کی بہتری کے لیے جتنے بھی بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، وہ تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ جنگی ماحول نے معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں ۔

مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب سیاسی لچک پیدا کرکے درمیانی راستہ پیدا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے حالات جلد نارمل ہوجائیں گے تو یہ اندازہ درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کھیل جاری ہے یہ محض طاقت کی حکمت عملی، ڈکٹیشن یا مسلط کردہ ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل ہے جو امریکا ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے تیار کیا ہے۔ ہم یہ مشق پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز عراق ، یمن ، لیبیا، شام اور غزہ سے ہوا تھا اور یہ ایران تک پہنچ گیا ہے مگر ہم اب تک سوائے خاموش تماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکے ۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیںمگر حکومت کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس کا جائزہ کون لے گا۔کیونکہ حکومت اندرونی طور پر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ علاقائی ماحول ٹھنڈا ہوا ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور ہم مجموعی طور پر اسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

 حکمران طبقات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ مشیروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں توان کو سب اچھا لگتا ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار کافی مضبوط ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اقتدار پر گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہے اور ان کے اپنے اندر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے ، معیشت جو پہلے بھی زیادہ اچھی نہیں تھی مزید کمزور ہو رہی ہے۔اب تھوڑا سا ملک کی سیاست پر بات ہوجائے۔حکومت کے اہم راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول بانی پی ٹی آئی کو سیاسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ممکن ہو ایسا ہی ہو تاہم انھوں نے اپنی بات کی تردید بھی کردی ہے کہ کسی کو کوئی آفر نہیں کی گئی ، مفروضے کی حد تک یہ سوال بنتا ہے اگر کوئی آفرہوئی بھی تھی تو اس کا ایجنڈا اور نکات کیا تھے ؟تاکہ سب ہی جان سکیں کہ مفاہمت کے کھیل میںکس فریق کا کیا ایجنڈا ہے ۔

لیکن اب اس پر بات کرنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہے کہ مبینہ ڈیل آفر کو کوئی فریق تسلیم نہیں کررہا ہے۔ بہرحال مسئلہ محض حکومت اور پی ٹی آئی کا نہیں ہے جیسے سابق لیفٹیننٹ جنرل)ر( اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور معاشی سطح کا استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ملک کے داخلی سیاسی حالات مستحکم ہوں گے۔ کیونکہ معیشت کی ترقی براہ راست سیاسی استحکام ہی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ حالات کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں بلکہ ان حالات میں ہمارے لیے سیکیورٹی اور دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

غزوۂ بدر – ایکسپریس اردو

Published

on


نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ بدر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بستی بدر بن حارث سے منسوب ہے جس نے یہاں کنواں کھودا تھا یا بدر بن مخلد بن نصر بن کنانہ سے منسوب و مشہور ہے جس نے اِس جگہ پڑاؤ کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص مدتوں سے رہتا تھا جس کا نام بدر تھا اِس بنا پر اِس بستی کو اِسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ قریش کا ایک قافلہ جو مکے سے شام کی طرف جاتے ہوئے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گرفت سے بچ نکلا تھا، یہی قافلہ جب مکہ واپس آنے لگا تو رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبیداللّہ اور سعید بن زید رضی اللّہ عنہما کو اس کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ دونوں حضرات مقام حورا تک جا پہنچے اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کو قافلے کی اطلاع دی۔ قریش کے اس قافلے میں بہت زیادہ سازوسامان تھا۔ ایک ہزار اونٹ تھے، جن پر کم از کم پچاس ہزار دینار تھے لیکن اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس افراد تھے۔ یہ اہلِ مدینہ کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ مالِ غنیمت حاصل کرلیا جائے۔ چناںچہ صحابہ کرامؓؓ کو نکلنے کا حکم دیا گیا لیکن کسی پر پابندی عائد نہیں کی گئی، کیونکہ بہت بڑی جنگ کا ارادہ نہ تھا۔

 مسلمانوں کی تعداد 313  تھی جن میں ستتر (77)  مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس (236)  انصار تھے۔ اِن تین سو تیرہ (313)  میں سے آٹھ صحابہ کرام وہ تھے جو کسی عذر کی بنا پر میدانِ بدر میں حاضر نہ ہوسکے مگر اموالِ غنیمت میں ان کو حصہ عطا فرمایا گیا۔ ان میں سے تین مہاجرین تھے ایک امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ تھے جو حضورصلی اللّہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ بی بی رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے تیمار داری میں رکے تھے۔ دوسرے حضرت سیدنا طلحہؓ اور حضرت سیدنا سعید بن زید ؓتھے جو مشرکین مکہ کے قافلے کی جستجو میں گئے تھے۔ اِن کے علاوہ پانچ انصار تھے۔ اِس غزوہ میں مسلمانوں کے پاس صرف 2 گھوڑے، 70 اونٹ 6  زرہیں اور8  شمشیریں تھیں۔ گھوڑے حضرت زبیرؓ بن عوام اور حضرت اسود کندی ؓ کے پاس موجود تھے۔ ایک ایک اونٹ پر تین تین افراد کو سوار کیا گیا جو باری باری بیٹھتے تھے۔ چناںچہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت سیدنا علیؓ اور حضرت مرثد غنوی ایک اونٹ پر اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمروؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔

 ؎تھے ان کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں

پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں

نہ تیغ و تیر پہ تکیہ، نہ خنجر پر نہ بھالے پر

بھروسا تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر

(حفیظ جالندھری)

 قافلہ کفار کی صورتِ حال یہ تھی کہ ابوسفیان (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لے آئے اور صحابیؓ کے درجے پر فائز ہوئے) جو کہ حد درجہ محتاط تھا۔ قدم قدم پر وہ خبریں وصول کرتا اور پیش قدمی کرتا رہا۔ ابوسفیان نے ایک قاصد مکے کی جانب بھیجا، جس نے مکے والوں کو مدد کے لیے پکارا۔ چوں کہ قافلے میں سب کا کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا تو اس لیے مدد کے لیے ہر گھر سے کوئی نہ کوئی نکلا۔ سوائے ابولہب کے جس نے اپنے مقروض کو جنگ میں بھیجا، تقریباً سبھی بڑے بڑے سردار اس میں شامل تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں یہ خبر بھیجی کے قافلہ بچ نکلا ہے اور مدد کے لیے نہ آئیں۔ لیکن ابوجہل ایک متکبر شخص تھا، اس نے کہا آج ہم مسلمانوں کو سبق سکھا دیں گے۔ قریش مکمل تیاری کے ساتھ نکلے تھے۔ ابتدا میں تعداد تیرہ سو تھی۔ ایک ہزار گھوڑے تھے اور اونٹ کثیر تعداد میں موجود تھے، اس لیے ان کی تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ قریش کی بنو بکر سے دشمنی چل رہی تھی۔ انھیں مکے پہ حملے کا خدشہ محسوس ہوا۔ لیکن شیطان مردود، سردارِ کنانہ سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا اور کہا: میں بھی تمہارا رفیق کار ہوں، اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے خلاف کوئی بھی ناگوار کام نہ کریں گے۔ یہ سن کے مکہ والوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ ابوجہل کی قیادت میں جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔

ادھر رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حالات کا بغور مشاہدہ کیا تو یہ محسوس کیا کہ اب ایک عظیم الشان ٹکر ہونے والی ہے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مجلس شوری بلائی اور عام آدمیوں اور کمانڈروں کے ساتھ اظہارِخیال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمررضی اللّہ عنھما نے نہایت اچھی بات کہی۔ حضرت مقداد بن عمرو ؓکچھ اس طرح گویا ہوئے:’’خدا کی قسم! ہم آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘ چوں کہ یہ سب مہاجر تھے تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ انصار بھی کچھ کہیں، تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔ حضرت سعد بن معاذؓؓ نے یہ بات بھانپ لی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم نے تو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آپ جو کچھ لائے ہیں سچ ہے اور ہم نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے، لہٰذا یارسول اللّہ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کی طرف پیش قدمی جاری رکھیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے ساتھ سمندر میں بھی کود جانا پڑا تو کود جائیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ پر نشاط طاری ہوگئی۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو اور خوشی خوشی چلو۔

لشکرِاسلام نے بدر کے نزدیک ایک چشمے پر پڑاؤ ڈالا۔ رات کو اللّہ تعالی نے بارانِ رحمت کا نزول فرمایا، جو کافروں پر موسلا دھار برسی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر برسی اور انہیں پاک کردیا۔

 ریت پر قدم جمنے کے قابل ہوگئے۔ لشکراسلام نے بدر کے قریب ترین چشمے پر قدم جمالیے اور باقی سارے چشمے بند کردیے۔ اس کے بعد حضرت سعد ؓکے مشورے پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر تعمیر کیا گیا۔ اس پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور فرماتے رہے کہ یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی۔

17رمضان المبارک 2 ہجری کا دن تھا۔ لشکر اسلام اور لشکر کفار آمنے سامنے ہوئے۔ ایک طرف ایک ہزار کا لشکر اور سازوسامان سے بھرپور اور دوسری طرف 313 اور صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ۔

صحابہ کرامؓؓ کا ایمانی جذبہ تھا کہ تعداد میں کمی کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایمان کی حرارت کو دیکھا ۔ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ میں صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست ہوچکیں تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ تب تک شروع نہ کرنا جب تک آخری ااحکام موصول نہ ہوجائیں۔

 اس معرکے کا پہلا شکار اسودبن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ بڑا اڑیل اور طاقت ور تھا، یہ کہتا ہوا نکلا کہ اللہ کی قسم! میں ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا، یا اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔

سید الشہداء حضرت حمزہ ؓنے اسے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اس سے جنگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد قریش کے تین بڑے سردار عتبہ، شیبہ اور ولید نکلے۔ انہوں نے مسلمانوں کو للکارا تو مقابلے میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارثؓ ، حضرت حمزہؓ اور حضرت علی ؓ کو بھیجا۔ حضرت حمزہ ؓاور حضرت علی ؓ نے فورا اپنے شکار کو ختم کر دیا لیکن حضرت عبیدہؓ کے ساتھ بھر پور مقابلہ ہوا۔ دونوں اپنے شکار سے فارغ ہوکر حضرت عبیدہ ؓکے شکار کی جانب لپکے اور اسے بھی قتل کردیا۔ حضرت عبیدہ ؓکو زخم آئے اور آواز بند ہوگئی، بعد میں اسی زخم سے واپسی پر آپ کی شہادت ہوئی۔

فضائے بدر کو اک آپ بیتی یاد ہے اب تک

یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک

اس کے بعد کفار نے یک بارگی حملہ کردیا ان کے حواس کھو چکے تھے کیوںکہ ان کے تین بڑے سردار مارے جا چکے تھے۔ دوسری طرف مسلمان اللّہ تعالٰی کی مدد و نصرت سے پر سکون تھے۔

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: یااللّہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ یااللّہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں۔

اللّہ تعالٰی نے ایک ہزار فرشتے مدد کے لیے نازل فرمائے۔ صحابہ کرام ؓفرماتے ہیںکہ ہماری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کفار کی گردن کٹ چکی ہوتی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قتل کسی اور نے کیا ہے۔ جنگ میں کفار کا لشکر تتر بتر ہوگیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے اردگرد دو نو عمر سپاہی تھے۔ ایک کا نام معاذ اور دوسرے کا معوذ تھا، انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کو چھپاتے ہوئے ایک ہی بات پوچھی کہ چچا ابوجہل کدھر ہے؟ میں نے ابوجہل کی طرف اشارہ کردیا۔ دونوں اس کی طرف لپکے اور ابوجہل کو قتل کردیا۔ حضرت معوذ اسی معرکے میں شہید ہوئے۔

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے جنگ کے اختتام پر فرمایا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ صحابہؓ ابوجہل کو ڈھونڈنے نکلے۔ حضرت عبداللّہ ابن مسعود ؓنے دیکھا کہ ابوجہل کی سانسیں ابھی چل رہی ہیں۔ آپ نے ابوجہل کا سر کاٹا اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے نعش دکھاؤ، نعش دیکھ کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ میری امت کا فرعون ہے۔‘‘

جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ کفار کے ستر افراد قتل اور ستر قید ہوئے۔ 14صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔

ہمیں اس معرکے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے آج ہمارے پاس سب کچھ ہے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن اگر نہیں ہے تو بس وہ 313 جیسا لشکر و ایمان نہیں ہے۔

 ؎ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن

وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا

 اگر ایمان بدر والوں جیسا ہوتو فرشتے اب بھی مدد ونصرت کو آسکتے ہیں

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ کے اہداف! – ایکسپریس اردو

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت کے بعد ’’رجیم چینج‘‘ کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ نہ ہی ٹرمپ کے مطالبے پر ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضے کا ٹرمپ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرانی عوام اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔

گزشتہ دس روز سے جاری جنگ کے دوران امریکا و اسرائیل نے ایران پر شدید بمباری کرکے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کا دفاعی نظام تباہ کر دیا ہے، سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور جلد ایران یہ جنگ ہار جائے گا، لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیوں کہ ایرانی میزائل نظام اب بھی پوری سرعت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ایران نے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملے کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا اس کی میزائل قوت کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی فوجی ماہرین کے مطابق ایران کے ہائپر سونک میزائل 9,000 سے 11,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جا سکتا اور یہ میزائل ٹرکوں سے داغے جاتے ہیں۔ امریکی ماہرین اس جنگ کو مشکل قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔

امریکا نے گزشتہ ربع صدی کے دوران افغانستان سے لے کر عراق تک اور لیبیا سے لے کر شام تک غیر ضروری جنگوں کا آغاز کیا۔ صدر ٹرمپ اپنے مختلف انٹرویوز میں خود ان جنگوں کو امریکی صدور کے غلط فیصلے اور پاگل پن قرار دے چکے ہیں۔ 2001 ء میں سانحہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر عالمی جنگ میں ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘ بننے پر مجبور کیا۔

یہ جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ 20 سال جاری رہنے والی اس جنگ میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور امریکا کو ڈھائی کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی، اس کے باوجود امریکا کو افغانستان سے پسپا ہو کر عالمی رسوائی و بدنامی کا داغ لیے نکلنا پڑا۔ صدر بش نے 2003 میں عراق میں صدام حسین پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے عراق پر حملہ کر دیا جس میں تین لاکھ کے لگ بھگ لوگ مارے گئے، صدام حسین کو معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ امریکا نے لیبیا میں مداخلت کرکے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کیا اور شام میں مداخلت کرکے اسد حکومت کا خاتمہ کیا۔ اب ایران کو تختہ مشق بنا لیا ہے۔امریکا اور اس کے بغل بچہ ملک اسرائیل کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ملکوں میں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ان کے تیل کی ذخائر پر قابض ہو جائیں اور عرب ممالک کے حکمران ان کے مطیع و فرماں بردار بن کر ان کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔

ٹرمپ کا فلسطین کے حوالے سے امن بورڈ اسی صیہونی منصوبے کی کڑی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پر ابووو نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امن بورڈ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے پیچھے ہٹا تو امن بورڈ سے نکل جائیں گے۔ اس ضمن میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے ابھی اپنا پالیسی موقف واضح نہیں کیا تاہم صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ پاکستان اور دیگر عرب ممالک بطور احتجاج ٹرمپ کے امن بورڈ سے نکل جائیں۔ بالخصوص ٹرمپ کو امن بورڈ دینے کی سفارش کا کوئی جواز نہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد اب کیوبا کو اپنا اگلا ہدف بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا وہ اپنے دعوے کے مطابق دنیا میں جنگیں رکوانے کی بجائے نئی جنگوں کا آغاز کر رہے ہیں اور اس کا اتحادی اسرائیل قدم قدم پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔

ایران کے بعد اسرائیل نے اب لبنان پر حملے شروع کر دیے ہیں جو اس امر کا عکاس ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے دائرہ کو وسیع کر رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئی ہیں۔ ایران نے دنیا کو 40 فی صد تیل فراہم کرنے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ قطر نے ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے۔ خلیجی ممالک کی قومی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک امریکا سے اپنے تجارتی معاہدے ختم کرنے اور سرمایہ نکالنے پر غور کر رہے ہیں جس کے باعث امریکا میں تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پاکستان پر بھی جنگ کے منفی اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور ملک میں توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ حکومت نے فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے اور ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی پاکستان کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئی تھیں اور امریکا ایران جنگ رک گئی تھی، لیکن اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ بقول صدر ٹرمپ کچھ ممالک اگرچہ ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں تاہم جنگ میں ایران کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، ایران غیر مشروط ہتھیار ڈال دے تو معاہدہ ہوگا ورنہ نہیں۔ ٹرمپ ایران میں اپنی مرضی کی قیادت لانا چاہتے ہیں، انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای کسی صورت قبول نہیں۔ ایران کو اپنے نئے رہنما کے انتخاب میں مجھے شامل کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ کشیدگی کو ہوا اور جنگ کو طول دے گا جس کے باعث پوری دنیا کو نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی، چین، روس، برطانیہ، فرانس، پاکستان اور دیگر عالمی برادری کو سفارتی سطح پر مشترکہ اور عملی طور پر جوہری کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا پر پوری قوت کے ساتھ ایران کے خلاف کشیدگی کے خاتمے اور جنگ رکوانے کے لیے سخت دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بصورت دیگر مشرق وسطیٰ کا امن برباد اور ٹرمپ کے قدم اپنے اگلے اہداف کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending