Today News
2 سالہ بچی کو 10 کروڑ تاوان کیلیے اغوا کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
لاہور:
2 سالہ بچی کو 10 کروڑ روپے تاوان کے لیے اغوا کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
سی سی ڈی چوہنگ پولیس اور بچی کو کروڑوں روپے تاوان کی خاطر اغوا کرنے والے ملزم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دو طرفہ فائرنگ کے دوران اغوا کار ہلاک ہوگیا۔ ملزم کی شناخت رانا واجد کے نام سے ہوئی ہے۔
ملزم واجد نے سندر کے علاقے سے 2 سالہ بچی حرم کو اغوا کیا تھا اور اس کی رہائی کے بدلے بچی کے والدین سے 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا جو بعد میں 5 کروڑ اور پھر 2 کروڑ پر فائنل کیا گیا۔
مغوی بچی سے موبائل فون پر والدین کی بات کروانے کے لیے بھی 3 لاکھ روپے ٹرانسفر کروائے گئے۔
ملزم کے خلاف بچی کے اغوا کا مقدمہ تھانہ سندر میں درج کیا گیا تھا جب کہ اغوا برائے تاوان کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے بچی کی بازیابی کے لیے احکامات جاری کیے تھے۔
اغوا کے ملزم کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کردی گئی ہے جب کہ بچی کو بحفاظت بازیاب کروا کر والدین کے حوالے کردیا گیا ہے۔
Today News
قومی اسمبلی میں بلز کی منظوری، حکومتی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ایوان نے متعدد اہم قانون سازی کی منظوری دے دی۔
اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے مجموعہ فوجداری ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا جبکہ پاکستان کے نام نشانات کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025 بھی ایوان سے منظور کرلیا گیا۔ اسی طرح قومی اسمبلی نے لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 بھی منظور کرلیا۔
لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 کے متن کے مطابق شادی سے پہلے میاں بیوی کے لیے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ نکاح خواں اگر تھیلیسمیا ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹرڈ کرے گا تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔
یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا جبکہ جے یو آئی کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔
اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے سول ملازمین ترمیمی بل 2024 بھی منظور کرلیا جو پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے جے یو آئی پر حکومت سے مک مکا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے حکومتی بلز پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ ارکان کے نجی بلز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
اس پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اپنے بلز پر حکومت پر مک مکا کرتی ہے تو اس وقت کہاں ہوتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے سول ملازمین بل کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی کوٹہ سسٹم نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے اور اس میں مزید اقلیتیوں اور دیگر کے کوٹے شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ بل میں خواتین کے کوٹے بھی ڈالے جا رہے ہیں۔
بعد ازاں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تجویز پر بل کو منظوری کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔
قومی اسمبلی نے نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کی وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کرلیا۔
اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتیں بھی آمنے سامنے آ گئیں جب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ایک بل کی مخالفت کر دی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے خواجہ اظہار الحسن کے بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور نہ کیا جائے اور اس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے، اسے منظور کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے بل مؤخر کرنے کی تجویز دی جس کی وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔
خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف پیش کیا کہ دوران ڈکیتی اور سنیچنگ قتل کے مقدمات انسداد دہشتگردی عدالت میں چلائے جائیں، تاہم نوید قمر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قتل کسی بھی نوعیت کا ہو اسے سول یا سیشن جج کو دیکھنا چاہیے کیونکہ انسداد دہشتگردی عدالتیں خاص مقاصد کے لیے بنائی گئی ہیں اور اس سے ان عدالتوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ پھر کہیں انسداد دہشتگردی کے کیسز فوجی عدالتوں کو بھی نہ بھیج دیے جائیں۔
بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
دوارنِ اجلاس اپوزیشن رکن جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم پر مسلط حکومت نے بورڈ آف پیس میں جانے کے وقت اس پارلیمان سے نہیں پوچھا ۔ حکومت نے ایران کے مسئلے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ امریکہ کے ایما پر کیا گیا ہے۔ لگ رہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر ہمیں ایک اور جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے ۔ جب حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی نہیں ہے تو عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ ڈی آئی خان کے مسائل کو دیکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو ایوان میں بھوک ہڑتال کروں گا ۔ ہر بار حکومت بجٹ اس علاقے کے نمائندوں کو پوچھے بغیر بنا دیتی ہے ۔ دریائے سندھ ہر سال زرعی زمین بہالے جاتا ہے ۔ سال 2022میں وزیر اعظم نے ڈیرہ کے سیلاب زدگان کے لیے اعلانات کیے، مگر عمل نہیں ہوا ۔ل پی پی سے زیادتی ہوتی رہی تو میں اس پارلیمان کے باہر بھوک ہڑتال کروں گا۔
Today News
سونے کی قیمتوں میں ایک دن کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
کراچی:
سونے کی عالمی ومقامی مارکیٹوں میں ایک دن کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ ریکارد ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 62ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 5ہزار 168ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔
دریں اثنا مقامی سطح پر 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں آج 6ہزار 200روپے کے اضافے سے نئی قیمت 5لاکھ 39ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 316روپے بڑھ کر 4لاکھ 62ہزار 587روپے کی سطح پر آگئی۔
دریں اثنا ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 460 روپے کے اضافے سے 9ہزار 354 روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 394روپے کے اضافے سے 8ہزار 019روپے کی سطح پر آگئی۔
Today News
وزارت خارجہ کی اوورسیز پاکستانیوں کی موجودہ صورتحال اور واپسی سے متعلق بریفنگ
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید رفیع اللہ کی صدارت میں ہوا، جس میں وزارت خارجہ نے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی شہریوں کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آذربائیجان میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، 113 پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ 58 پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانیوں سے رابطہ اور معاونت کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح قطر میں تقریباً ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، وہاں صورتحال مستحکم ہے مگر کچھ خدشات برقرار ہیں ۔ ممکنہ انخلا کے لیے 10 ہزار 188 پاکستانی رجسٹرڈ ہیں۔ 215 پاکستانی پھنس گئے تھے جن میں سے 97 وطن واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی کی 11 مارچ کو روانگی متوقع ہے۔
قطری حکومت کی جانب سے پھنسے پاکستانیوں کو رہائش، خوراک اور ویزا سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، تاہم وہاں صورتحال کشیدہ مگر مستحکم ہے۔ فضائی اور زمینی سرحدیں کھلی ہیں اور پی آئی اے و نجی ایئرلائنز کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ پھنسے پاکستانیوں کو کیس ٹو کیس بنیاد پر مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔زمینی راستوں کے ذریعے بھی آمد و رفت ممکن ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عراق میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی مقیم ہیں، جہاں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی اور کشیدہ ہے۔ ایک ہزار 277 پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات جاری ہیں جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے راستے ٹرانزٹ ویزے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ کویت میں ایک لاکھ ایک ہزار 976 پاکستانی مقیم ہیں، صورتحال کشیدہ مگر کنٹرول میں ہے اور فضائی حدود بند ہیں۔
عمان میں 3لاکھ 82 ہزار پاکستانی مستحکم ماحول میں ہیں جبکہ لبنان میں صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ جنوبی اور مشرقی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن پر میزائل حملہ بھی ہوا، جس میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ جنوبی لبنان میں پاکستانیوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف ممالک میں فضائی شعبے میں خلل، کم پروازیں اور مہنگے ٹکٹ کے سبب واپسی کے متبادل محدود ہیں۔ پاکستانی شہریوں کی حفاظت، رہائش اور ہنگامی اقدامات کے لیے حقیقی وقت میں منصوبہ بندی اور وسائل کی مکمل تیاری ضروری ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The diary of an octopus
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Today News2 weeks ago
سپر ایٹ مرحلہ: پاکستان اور انگلینڈ کے میچ سے متعلق بڑی خبر!