Connect with us

Today News

20 سالہ انتظار ختم، پشاور میں چوکوں، چھکوں کی برسات کا وقت آ گیا

Published

on



20 سالہ انتظار ختم، پشاور میں چوکوں، چھکوں کی برسات کا وقت آ گیا، قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا میلہ ہفتے سے سجنے جا رہا ہے،عمران خان اسٹیڈیم میں شائقین کرکٹ پہلی بار مصنوعی روشیوں میں وکٹیں اڑتی دیکھیں گے، وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایونٹ کا افتتاح کریں گے، تمام ٹیمیں پشاورپہنچ گئیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اسٹیڈیم کو حصار میں لے لیا، ٹکٹس کی فروخت جاری ہے۔

 تفصیلات کے مطابق عمران خان اسٹیڈیم پشاور میں 20 سال بعد کرکٹ میچز ہونے والے ہیں، 2006 میں پاک بھارت ون ڈے کے بعد اسٹیڈیم کو جدید بنانے کے لیے توسیعی منصوبہ شروع کیا گیا تھا جو مکمل ہو گیا،اسٹیڈیم میں دبئی کی طرز پر جدید ایل ڈی لائٹس لگائی گئی ہیں، نیا پویلین اور انکلوژرز بنائے گئے۔

گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں نے پشاور پہنچنے کے بعد پریکٹس بھی کی، پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسٹیڈیم کا کنٹرول حاصل کرلیا ، پچز بھی تیار کرلی گئیں۔

ڈائریکٹرجنرل اسپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر نے کہا کہ مقابلوں کے لیے تمام تیاریاں ہو چکیں، سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل ہیں، یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں روزانہ 2 میچز کھیلے جائیں گے، ٹیموں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

 ہفتے کو پہلا میچ سوا چار بجے شام میزبان پشاور اور لاہور وائٹس کے درمیان ہو گا، دوسرا مقابلہ رات سوا 9 بجے فیصل آباد اور کراچی وائٹس میں کھیلا جائے گا، 17 مارچ کو دونوں سیمی فائنلز اور اگلے روز فائنل طے ہے، میچ ٹکٹس کی فروخت جاری ہے، وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی رات 8 بجے مقابلوں کا افتتاح کریں گے۔

 ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم 50 لاکھ روپے انعامی رقم حاصل کرے گی، رنرز اپ کو 25 لاکھ روپے دیے جائیں گے، ٹورنامنٹ کے تمام 23 میچز مختلف ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیے جائیں گے، لاہور بلوز کی ٹیم اعزاز کا دفاع کرے گی ، گزشتہ روز پشاور میں تمام ٹیموں کے کپتانوں نے ٹرافی کی تقریب رونمائی میں بھی شرکت کی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ٹرانسپورٹرز کا ردعمل، 20 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان

Published

on



پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔

ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے باعث ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کسی مجبوری کے تحت کیا گیا ہے تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ٹول ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی نازک معاشی صورتحال کے باوجود ٹرانسپورٹرز امپورٹ، ایکسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ ہر پاکستانی متاثر ہوتا ہے اور اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز کو ماضی میں 10 دن کی ملک گیر ہڑتال بھی کرنا پڑی تھی۔ ان کے مطابق ہڑتال کے دوران سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر سے ہونے والے معاہدوں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔

صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے مطالبہ کیا کہ وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز سے کیے گئے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کریں، بصورت دیگر اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ بند کردی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیدائش اورموت (دوسرا اورآخری حصہ)

Published

on



جب کھانے بیٹھتے تو ایک ہی برتن میں کئی ذائقے ہوتے، کسی کسی خوش نصیب کے ہاتھ گوشت کی بوٹی یا مرغا مرغی کی ہڈی بھی لگ جاتی چنانچہ اس سے ایک اصطلاح بھی بن گئی ہے جہاںکسی قسم کا کوئی اجتماع یا پارٹی یاجمگھٹا گوناگوں لوگوں کا ہوتا ہے تو طنزیہ طورپر اسے طالبان کا سالن کہا جاتا ہے ہاں ان چھڑوں کو طالبان بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ مسجد میں رہنے کا جواز پیداکرنے کے لیے یہ چھڑے یا طالبان استاد سے کچھ سبق بھی پڑھتے تھے ، قاعدہ ، سپارہ ، قرآن ،ناظرہ ،اذان، اقامت، چند سورتیں دعائیں وظائف کبھی کبھی استاد کی غیر موجودگی میں کوئی طالب آگے ہوکر نماز بھی پڑھا لیتا تھا۔ اس طرح جو طالب یا چھڑا قرآن ناظرہ چند ضروری روزمرہ کے دینی کام سیکھ لیتا تھا تو کسی نہ کسی جگہ امام بھی بن جاتا یوں آہستہ آہستہ اکثر مساجد میں ایسے ہی امام پیدا ہوتے چلے گئے جن کو چند روزمرہ کی چیزوں کے سوا کچھ بھی نہیں آتا تھا، لکھت پڑھت سے بھی عاری ہوتے تھے چنانچہ باقی کام سنی سنائی کہانیوں سے چلاتے تھے ، دم چف بھی کرتے تھے ۔

پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے ، پرچ پیالوں کے اندر یہ لوگ کچھ لکھ دیا کرتے تھے اورپھر بیماروں کو ان پرچ پیالوں میں پانی یا دودھ پلاتے تھے ، ہم نے خود بچپن میں ایسے پرچوں اور پیالوں سے پیا ہے لیکن پھر اس سائیڈبزنس کے ساتھ ایک اورسائیڈ بزنس یہ شروع ہوا کہ ان میں جو شاعر طبع لوگ تھے وہ فارسی کتابوں کو مقامی زبانوں میں منظوم ترجمہ کرتے تھے اورناشر لوگ ان کو چھاپتے تھے ، یوں فارسی سے کہانیوں کی کتابیں بھی ترجمہ ہوئیں، الف لیلیٰ ، داستان امیر حمزہ ، شاہنامہ فردوسی ، فسانہ عجائب، بہرام گل اندام، سیف الملوک ، پدری جمال اوران میں ’’افسانے‘‘ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس دور میں جو قصے مروج تھا اورگھروں حجروں اورمسجد میں کثرت سے پڑھا اورسنا جاتا تھا۔

خیر ہم اپنے ملا کی بات کرتے ہیں جو چھڑوں سے ترقی کرکے ملا اوراخوند بن گیا یا بنایا گیا کیوں کہ لوگوں کو عالم نہیں بلکہ ایسا ملا چاہیے تھا جو ان ہی کی طرح ہو۔ چنانچہ مسجد میں سب سے آگے اور رتبے میں سب سے پیچھے یہ ملا ایک عجیب وغریب کیریکٹر بن گیا جو دوسرے پیشہ وروں سے بھی کم رتبہ تھا کہ پیشہ ور تو پھر اپنے کام کامعاوضہ وصول کرتے تھے یامقررکرتے اوراپنی مرضی سے چھٹی بھی کرتے تھے اپنے گھر میں اپنی پسندکی کھاتے پیتے ، اوڑھتے پہنتے اورکھاتے پیتے بھی تھے لیکن اس ملا کی نہ کوئی مقررہ تنخواہ تھی نہ معاوضہ اورچوبیس گھنٹے کی بلاناغہ حاضری تھی، لباس جوتے پگڑی وغیرہ ’’میتوں‘‘ کے دیے جاتے تھے اورکھانا بھی معمولی ہوتا تھا۔ اس کااندازہ ایک لطیفے سے لگایاجا سکتا ہے کہ ایک مسجد کے ایک ایسے ہی ملا نے کھانا لانے والے بچے سے کہا کہ بیٹا اپنے باپ سے کہنا کہ اس تکلیف کی کوئی ضرورت نہیں مجھے تھوڑا سا نمک بجھوادے اورساگ کا وہ کھیت بتادے میں خود ہی جاکر اورنمک چھڑک کر کھا لیاکروںگا۔

یہی وہ دورہے جس میں وہ مخصوص اور نئی روایات مروج ہوئیں جس میں نکاحوں، طلاقوں اورحلالہ کی عجیب وغریب شکلیں مروج ہوئیں ۔ امام وہی ’’مسائل ‘‘کتاب سے نکالتے جو پیچھے کھڑے والے چاہتے ، نہ نکالتا تو بغیر کسی نوٹس اور وجہ کے بیک بینی ودوش ودوگوش نکال دیا جاتا چنانچہ سب لوگوں نے اسے نیچے کامقام دیا تو اس نے بھی معاملات دینی کو اپنا کھیت، اپنی دکان اوراپنا پیشہ بنالیا ، علم کی نہ اسے کوئی ضرورت تھی اورنہ ہی رواج۔

 ہرہرکام کے لیے دعائیں مخصوص کی گئیں، شادی بیاہ رنج بیماریاں، روزگار میں ترقی، جنگوں، جھگڑوں اورمقدمات میں جیت کے لیے بھی اسے استعمال کیا جانے لگا ، یہاں تک کہ سردرد ، دانت درد، سانپ بچھو بلکہ بھڑ کے کاٹے کے لیے بھی ’’دم‘‘ نکالے گئے ، دوفریقوں کے درمیان دشمنی ہونی، جھگڑا ہونا مقابلہ یامقدمہ ہوتودونوں کے ہاں ختم دلائے جاتے تھے اورہاں ’’کھانے‘‘ کے لیے بھی اورکھلانے کے لیے بھی، ایسا کوئی کام نہ تھا جو انسانوں نے اپنے لیے چھوڑا ہو سارے چھوٹے بڑے کام اس سے لیے جاتے تھے ۔مذہب سے رہنمائی لینے کے بجائے بات دم اور پھونکوں تک محدود ہو گئی۔

 اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ بیچارا ملا کیا تھا کہ جس کاکچھ بھی اپنے اختیار میں نہ تھا ، ذمے داری دینے والوں نے اسے جس کام کے لیے بنایا تھا وہ کرتا رہا بیچارا، اس نے ’’دین‘‘ کو دین کے طورپر سیکھا ہی نہ تھا ، ایک پیشے ایک روزگار اورایک مزدوری کے طورپر سیکھاتھا اورایک مزدوری کے طورپر کیا اوراسی میں مرگیا۔

 اوراب اس کاجو نیا جنم ہوا ہے اس میں وہ وہی سادہ ملا نہیں رہا ہے ،’’سامان‘‘ وہی ہے لیکن آج کے ہنرمند اسے بہت اونچائی پر لے گئے ہیں۔دوسرے پیشوں اورہنروں کی طرح اس میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے اب جولاہا ٹیکسٹائل مل کامالک ہے ، موچی جوتوں کاکارخانہ چلارہا ہے ، لوہار نے اسٹیل مل بنالی ہے ، پن چکی والا فلورمل چلارہا ہے ،طبیب فزیشن بن گیا ہے اورجراح نے سرجن کاروپ دھارلیاہے ، ہٹی کی جگہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورنے لے لی ہے ۔

عین ممکن ہے کہ ہندی عقائد کے مطابق اپنا انتقام لینے کے لیے وہ نئے جنم میں آگیا ہو۔



Source link

Continue Reading

Today News

ہوگوشاویز، وینزویلا کا ایک عظیم لیڈر

Published

on


دوستو ! آج کے کالم میں ہم ذکر کریں گے، وینزویلا کے سابق صدر ہوگوشاویز کا۔ ہوگو شاویز 28 جولائی 1954 کو وینزویلا کے قصبے سبانیتا میں پیدا ہوئے، ان کے والدین درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ البتہ ہوگو شاویز نے پرورش اپنی دادی کے زیر سایہ پائی، ان کی دادی ایک کسان خاتون تھیں۔ اسی باعث ہوگو شاویز خود کو کسان کہا کرتے تھے۔

اب اگر ذکرکریں، ان کے حصول تعلیم کے مراحل کا تو ہوگو شاویز نے ابتدائی تعلیم جولین پینو اسکول سے حاصل کی جب کہ مزید حصول تعلیم کے لیے باریناس کے ڈینیل لورینواوٹری اسکول میں داخلہ لے لیا۔ البتہ 1971 میں وینزویلین اکیڈمی آف ملٹری سائنس میں داخلہ لیا جہاں سے انھوں نے 1975 میں 21 برس کی عمر میں لیفٹیننٹ کے عہدے کے ساتھ ملٹری آرٹس اینڈ سائنس کی سند حاصل کی۔ یہ ضرور ہوا کہ فوج کی ملازمت کے دوران شاویز کو کراکس میں واقع سائمن بولیور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کرنے کا موقع ملا۔

  ہوگو شاویزکی زندگی پر تین واقعات نے گہرے اثرات مرتب کیے، ان تین واقعات کو ہوگو شاویز نے یوں بیان کیا ہے کہ اول میرا چھوٹا بھائی اینسو جوکہ ایک خوبصورت و پیارا بچہ اور ہمہ وقت مسکراتا رہتا تھا وہ سخت بیمار ہوا لیکن مناسب علاج نہ ہونے کے باعث وفات پا گیا، یہ ضرور تھا کہ اگر میرے بھائی کو مناسب علاج کی سہولت مل جاتی تو شاید وہ صحت یاب ہو کر طویل عمر پاتا، گویا ہوگو شاویز کا یہ خیال تھا کہ ان کا چھوٹا بھائی غربت کی نذر ہو گیا، یوں بھی وہ بہت حساس مزاج کے مالک تھے۔

دوم۔ یہ ہوا کہ ہوگو شاویزکا ایک بچپن کا دوست تھا، جس کا نام جارج تھا وہ ایک یتیم بچہ تھا۔ اسی باعث اس کو چھوٹی عمر میں اپنی کفالت کی ذمے داریاں خود پوری کرنا پڑیں جب وہ سخت محنت کرتا تو ہوگو شاویز اسے دیکھ کر افسردہ ہو جاتے۔ سوم یہ واقعہ ہوا کہ 1975 میں جب ہوگو شاویز نیا نیا فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ 21 برس عمر تھی کہ ان کو دیگر فوجیوں کے ساتھ کمیونسٹ انقلابیوں کی ایک تحریک کو کچلنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ حالات زیادہ خراب تھے چنانچہ فوجیوں کو گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا جب فوجی انقلابیوں پر گولیاں برسا رہے تھے تو ہوگو شاویز نے جب دیکھا کہ انقلابیوں میں غریب کسان و نو عمر لڑکے بھی شامل تھے جوکہ گولیوں کا نشانہ بن رہے تھے تو ہوگو شاویز بے حد بے چین ہوئے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ان دونوں میں کون غلط ہے اور کون ٹھیک ہے کیونکہ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران نوجوان فوجی بھی مارے گئے تھے۔

یہ تھے تین واقعات جن کے رونما ہونے سے ہوگو شاویز کی فکری سوچ تبدیل ہو گئی پھر ہوگو شاویز یہ بھی سوچتے کہ تیل جیسی دولت سے مالا مال وینزویلا میں اس قدر غربت پوری خوراک حاصل نہ ہونے کے باعث کمزور لوگ و معصوم بچے آخر کیوں؟ یہی وجوہات تھیں جن کے باعث انھوں نے پولیٹیکل سائنس کے مضمون کو پڑھنے کا فیصلہ کیا جب کہ ان کے رابطے ترقی پسند لوگوں سے بھی قائم ہو چکے تھے اب ہوگو شاویز پر انسان دوست ترقی پسند نظریات کے در بھی کھلتے جا رہے تھے، بالخصوص سائمن بولیوار ان کا ہیرو تھا، وہی سائمن بولیوار جس نے 19 ویں صدی میں ہسپانوی سامراج کے خلاف وینزویلا بولیویا، کولمبیا اور پیرو کی آزادی کے لیے انتھک عملی جدوجہد کی تھی۔ البتہ سائمن بولیوار لاطینی امریکا کی آزادی اور وہاں کے باشندوں کے اتحاد کے خواب اپنے ساتھ لے کر دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن ہسپانوی سامراج تو رخصت ہو گیا مگر اس کی جگہ شمالی امریکا سامراج نے لے لی یہ ضرور تھا کہ وینزویلا، کولمبیا، پیرو و بولیویا کے باشندوں نے شمالی امریکا سامراج کو یانکی سامراج کا لقب دے دیا تھا، گویا یانکی سامراج ان ممالک کے ساتھ ساتھ اب پوری دنیا کے لیے ایک نفرت کی علامت بن چکا ہے۔

بہرکیف 1980 تک کیفیت یہ تھی کہ وینز ویلا عالمی مالیاتی اداروں کی مکمل گرفت میں آ چکا تھا ملک میں مہنگائی، کرپشن، معاشی و سماجی بدحالی پھیلی تو 27 فروری 1989 کو عوام سڑکوں پر آگئے، تمام ملک میں زبردست احتجاج شروع ہوگیا۔ صدرکارلوس آندرے پریز نے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا، نتیجہ سیکڑوں لوگ جاں بحق ہو گئے، البتہ ہوگو شاویز نے گولی چلانے سے انکارکر دیا ، وقتی طور پر حالات حکومت کے کنٹرول میں آ گئے، مگر عوام کے سینوں میں غیظ و غضب کی چنگاری موجود تھی۔ ہوگوشاویز نے فوج کے کافی لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ یہ فوجی حکومتی نظام سے بے زار تھے، چنانچہ 4 فروری 1992 کو ہوگو شاویز کی قیادت میں 5 فوجی یونٹ روانہ ہوئے۔ مقصد ملک کے تمام اہم مقامات پر قبضہ کرنا تھا، یہ بغاوت کامیاب نہ ہو سکی، البتہ ہوگو شاویز کو ٹیلی وژن پر موقع دیا گیا کہ وہ لوگوں سے اپیل کریں کہ لوگ حکومت کے خلاف لڑائی ختم کر دیں لیکن ہوگو شاویز نے موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عارضی ناکامی ہے، اس خطاب کے بعد وہ عوام کے ہیرو بن گئے۔ البتہ ان کو وینزویلا کی بدنام زمانہ جیل میں قید کر دیا گیا۔

1993 میں صدر کارلوس آندرے پریز کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا گیا، ملک میں نئے انتخابات ہوئے۔ منتخب صدر رافیل کالڈیرا نے ہوگوشاویز کو رہا کر دیا، یہ رہائی 1994 کو عمل میں آئی۔ 1994 ہی میں (MBR200) مومنتو بولیو نوریوشنو200 گروپ قائم کیا، بعدازاں ففتھ ری پبلک مومنٹ کے نام کے ساتھ1998 میں انتخابات میں حصہ لیا اور سامراج مخالف تقاریر و شعلہ بیانی کے باعث ہوگو شاویز 56 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے اور 2 فروری 1999 کو ہوگو شاویز نے وینزویلا کے صدر کا حلف اٹھا لیا۔ انھوں نے ملک کو نیا آئین دیا، ملک کا نام تبدیل کرکے بولیوارین ری پبلک آف وینزویلا رکھا۔ امریکی سامراج سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں تمہاری کٹھ پتلی نہیں بنوں گا، آزاد خارجہ حکمت عملی اپنائی، روس، چین، کیوبا سے قریبی تعلقات قائم کیے۔

پلان 2000 کے تحت بے گھر افراد کے لیے گھر تعمیر کروائے، شاہراہوں کے جال بچھا دیے، وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ویکسین تیارکروائی، زمینداروں سے ٹیکس وصولی کا نظام وضع کیا، یونیورسٹی تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کیا، تیل کی صنعتوں کی نجکاری روک دی، تیل کی پیداوار سے حاصل دولت ملک کے عوام پر خرچ ہو رہی تھی، البتہ 11 اپریل 2002 کو ان کی حکومت کے خلاف بغاوت ہو گئی مگر ہوگو شاویز کی حامی فوج نے دوسرے ہی روز اس بغاوت کو کچل دیا اور ہوگو شاویز حکومت بحال کر دی۔ وہ تین بار ملک کے صدر منتخب ہوئے البتہ جب چوتھی بار وہ اکتوبر 2012 کے انتخابات میں کامیاب تو ہو گئے مگر حلف اٹھانے سے قبل ہی وہ جہان فانی سے کوچ کر گئے، وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے، البتہ ان کی وفات کے بعد امریکی سامراج نے ان کے ملک کے تیل کے ذخائر پر حکمت عملی کے تحت قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور آج امریکا نے کھلم کھلا جارحیت کرکے وینزویلا میں تیل کی دولت پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، البتہ ہوگوشاویز اگر زندہ ہوتے تو امریکی جارحیت ناممکن تھی۔ بہرکیف 5 مارچ2026 کو ان کی 12 ویں برسی تھی، بلاشبہ وہ ایک عظیم لیڈر تھے۔





Source link

Continue Reading

Trending