Today News
2022 کے بعد پہلی بار تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیل سے تجاوز کرگئی
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سنہ 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 24 فیصد اضافے کے ساتھ 114.74 فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق یہ خدشہ ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہے۔
آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز بدستور بندش کا شکار ہے جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے لیکن جنگ کی شروعات سے وہاں ٹینکر جمع ہو رہے ہیں۔
توانائی کی مصنوعات کے راستے میں اس بڑی رکاوٹ کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے۔
Today News
اشرافیہ کا نظام حکمرانی – ایکسپریس اردو
پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے ۔کیونکہ حکمرانی کی نظام کی بنیاد جہاں عوامی مفادات کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے وہی نظام ریاست کے اندر اپنی سیاسی، سماجی،آئینی ،قانونی اور معاشی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔یہ نظام اور اس میں موجود حکمرانی کا طرز عمل طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد گھومتا ہے اور اسے حق حکمرانی میں ایک مخصو ص طبقہ پر مبنی طبقاتی حکمرانی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔
اس ملک کی حکمران اشرافیہ طاقت ور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے اور جو بھی پالیسیاں یا قانون سازی یا عملی اقدامات کسی تناظر میں بھی سامنے آتی ہیں اس کے پیچھے طاقت ور طبقات کے باہمی مفادات کے کھیل کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اس طرز کے نظام کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں جو بھی حالات برے ہوتے ہیں یا جو بھی آفات یا حادثات سامنے آتے ہیں اس کا بوجھ طاقت ور طبقات کے مقابلے میں کمزور یا عام افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔یعنی اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ خود اپنے اوپر کسی بھی طرز کا بوجھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے حکمرانی کے نظام میں ریاست،حکومت ،طاقت ور طبقات اور عام افراد کے درمیان سیاسی ومعاشی خلیج کا عمل بڑھتا جارہا ہے ۔
حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلا بوجھ بھی اس حکومت یا طاقت ور اشرافیہ نے خود پر ڈالنے کی بجائے لوگوں پر پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کی صورت میں کیا ہے ۔حالانکہ حکومت کی جانب سے عوام کو بتایا گیا تھا کہ ابھی ہمارے پاس کئی ہفتوں کا تیل موجود ہے مگر اچانک رات کی تاریکی میں قیمتوں میں اضافہ کرکے اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے یہ ہی ظاہر کیا ہے کہ ان کے سامنے عوامی اور کمزور طبقات کے مفادات کی ترجیحات کی کتنی اہمیت ہے ۔
حکمران طبقات جس سیاسی ڈھٹائی سے قیمتوں میں اضافہ کا جواز پیش کررہے ہیں وہ کافی حد تک شرمناک ہے۔یعنی اس سیاسی اور حکمران اشرافیہ نے جنگ کو بنیاد بنا کر عملی طور پر لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے اور خود اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔وزیر اعظم سیاسی کفایت شعاری یا بچت کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے یہ خوش نما نعروں کی عملی کوئی حیثیت نہیں۔ان کی اپنی جماعت اور خاندان کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں جو مہنگا ترین جہاز اور جہاز کا مہنگا ترین عملہ سمیت صوبائی بیوروکریسی کے لیے مہنگی ترین گاڑیاں خریدی ہیں اس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم جن حالات کی بنیاد پر معاشی بدحالی یا بحران کا شکار ہیں تو ایسے میں طاقت ور طبقات یا سیاسی اشرافیہ کی سیاسی عیاشیاں اور ان کا شاہانہ حکمرانی کا طرز عمل ہم دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھ سکتے ۔حکمران طبقات کی یہ ساری سیاسی عیاشیاں عوامی وسائل اور بجٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اورہم انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے یا ان کی ترقی پر پیسہ لگانے کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر اور سیاسی عیاشیوں پر لگاتے ہیں ۔ہم صرف حکومت اور ریاستی سطح پر موجود افراد،اداروں اور اعلی عہدے داروں جو پروٹوکول کی بنیاد پر مراعات دے رہے ہیں کچھ اس کا ہی تجزیہ کرکے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ حکمرانی او رحکمرانوں کے طاقت ور نظام کی ہم کتنا بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔
کمزور لوگوں کو طاقت ور طبقات کے خلاف آواز اٹھانے یا ان کے سامنے اپنی بات کرنے کے لیے اداروں کی موجودگی ہوتی تھی اور لوگوں کو یہ یقین ہوتا تھا کہ ہمیں ان اداروں سے اپنے حقوق یا حق کے تناظر میں انصاف مل سکے گا۔لیکن اسی طاقت سیاسی اشرافیہ نے ایک مخصوص پالیسی کے تحت اداروں میں سیاسی مداخلتیں کرکے ان کو جہاں کمزور کردیا ہے وہیں یہ ادارے مفلوج بھی ہوگئے ہیں ۔لوگوں کا اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور ان کولگتا ہے ادارے بھی عام افراد کے مقابلے میںطاقت ور افراد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔گورننس کا نظام جس پر حکومتی سطح سے اربوں روپے لگائے جارہے ہیں مگر سب سے کمزور پہلو بھی گورننس کا نظام ہی ہے ۔یہ مسئلہ محض کسی ایک صوبہ تک محدود نہیں بلکہ ہم وفاق سے لے کر صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع اور اضلاع سے لے کر تحصیل یا محلوں اور گاوں کی سطح پر دیکھیں تو بنیاد ی حق حکمرانی کا نظام برے طریقے پامال کیا جارہا ہے ۔ترقی کے عمل ذمینی حقایق سے زیادہ اخبارات ، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیاکی سطح پر بڑے بڑے اشتہاری تشہیر کی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ہم اس وقت رمضان المبارک سے گزرہے ہیں ۔ہمیں لوگوں کی معاشی ترقی کے مقابلے میں ہر طرف یہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ملک میں خیرات کی بنیاد پر راشن کی تقسیم ،سحری اور افطاری کا مفت بندوبست،محلوں یا گلیوں یا بازاروں کی سطح پر قائم دستر خوان وہ بھی حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ ہماری معاشی حیثیت کی اصل کہانی کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔حقیقی حکمرانی کا نظام لوگوں کی معاشی حیثیت کو مضبوط بناتا ہے نہ لوگوں کو خیرات کے ماتحت کرکے ان کی سفید پوشی کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔میں ایسے کئی سفید پوش افراد کو جانتا ہوں جو اپنی عزت کے لیے حکومتی امدادی پروگراموں تک رسائی کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے اور بعض لوگوں کو تو جو امداد دی جاتی ہے اس پر حکمرانوں کی ذاتی تصاویر ہوتی ہیں جو خود غریب اور مجبور لوگوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔سوال یہ ہے اس حکمرانی کے نظام میں ہمارا حکمران طبقہ باعزت روزگار کیونکر پیدا نہیں کررہا اور کیوں ملک میں چھوٹی اور بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی۔جب یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کی حقیقی معاشی حیثیت بھی بہتر نہیں ہوسکے گی۔
حکومت ہر دفعہ آئی ایم ایف کے سامنے یہ اعتراف کرتی ہے کہ وہ ملک میں مختلف نوعیت کی اصلاحات کی بنیاد پر نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرے گی ۔لیکن عملا ہم آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کرتے اور خود آئی ایم ایف جیسے اداروں کا ہماری حکومتوں کے بارے میں جوابدہی کا نظام اتنا کمزور ہوتا ہے یا وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموش رہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہماری جیسی طاقت ور سیاسی حکمران اشرافیہ داخلی اور خارجی سطح پر کہیں بھی جوابدہ نہیں ہوگی تو ان کی اصلاح کا عمل کیسے سامنے آسکے گا۔جب تک آئی ایم ایف جیسے ادارے ہماری حکومتوں کی جوابدہی کے نظام کو موثر اور شفاف اور جوابدہی کی صورت میں مضبوط نہیں بنائیں گے ہمارے حکمرانوں کے طر ز عمل میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی ۔حکمران طبقات کا یہ سیاسی مشغلہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی سطح پر بڑی بڑی گورننس کانفرنس یا فورمز کی صورت میں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنی رپورٹس اور پریزنٹیشن پیش کرتے ہیں جس میں سب اچھے یا بڑے بڑے دعووں کی رپورٹ ہوتی ہے ،مگر زمینی حقایق گورننس کے حوالے سے بہت کڑوے ہوتے ہیں۔ہم آج بھی گورننس کے نظام میں بدترین حالات کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری وفاقی اور صوبائی یا مقامی حکومتوں کی سطح پر کچھ بھی بہتری کے تناظر میں دیکھنے کو نہیں مل رہا اور اسی بنیاد پر ہماری بنیادی حقوق اور شہری افراد کی سہولتوں کے حوالے سے عالمی درجہ بندی واضح فرق ،تفریق اور خلیج دیکھنے کو ملتی ہے۔آئی ایم ایف پہلے ہی ہمیں انتباہ کرچکا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی ،قانونی اور انتظامی بنیادوں پر فوری طور پر سخت گیر اصلاحات نہ کی تو ان کی سیاسی اور معاشی ترقی کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔
اصل مسئلہ نئی نسل کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے مگر ہماری ترجیحات عملا اس وقت ملکی ترجیحات یا عوامی ترجیحات سے مختلف نظر آتی ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ اس ملک کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ ایک طرف اور ملک کے عوام دوسری طرف کھڑے ہیں اور دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس ملک کے نظام کو اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ نہ اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اس کھیل میں عام اور کمزور طبقات کے لیے سوائے سیاسی و معاشی سطح کے استحصال کے اور کچھ نہیں ہے۔یہ جو ہم نے سیاست اور جمہوریت کے نام پر سیاسی ادارے پارلیمنٹ کی سطح پر قائم کیے ہوئے ہیں یہ بھی طاقت ور اشرافیہ کے سیاسی کلب کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ۔کیونکہ ہمارے سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ طاقت ور افراد کی اپنی سیاسی بیٹھکوں میں ہوتے ہیں جہاں کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار کی تقسیم کا کھیل سجایا جاتا ہے ۔اس لیے اس نظام کی بہتری کے لیے کوئی معمولی اصلاحات درکار نہیں ہیں ۔یہ جو حالات ہیں یہ لوگوں کے تناظر میں غیر معمولی ہیں اور ان کے اقدامات بھی غیر معمولی بنیادوں پر ہی ممکن ہوسکیں گے ۔لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔
Today News
کراچی، یوم قدس کے دن شاہراہ فیصل پر ریلی کی اجازت نہیں ہوگی، ناصر حسین شاہ
کراچی:
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے یومِ قدس کے موقع پر اپنے ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ سندھ حکومت نے جمعۃ الوداع کے روز صوبے بھر میں عام تعطیل کا فیصلہ کیا ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی کی ایک اہم شاہراہ کو رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کے پیش نظر جمعۃ الوداع کے موقع پر شاہراہ فیصل پر ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیر بلدیات نے تمام شیعہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ یومِ قدس کے موقع پر اپنے روایتی روٹس کے مطابق ریلیاں نکالیں اور قانون و ضابطے کی پابندی کریں۔
ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یومِ قدس کے اجتماعات پرامن اور منظم انداز میں منعقد ہوں۔
Today News
نئے سپریم لیڈر کا انتخاب
ایران کی مجلس خبرگان نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر اور رہبر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ایران کی کمان نئے سپریم لیڈر کے پاس آگئی ہے۔ ویسے تو اطلاعات یہی تھیں کہ نئے سپریم لیڈر گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کے معاملات میں عملی کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ بالخصوص پاسدران انقلاب کے معاملات میں ان کا رول خاصا زیادہ رہا ہے۔ اب بھی یہی اطلاعات ہیں کہ پاسداران انقلاب کا ووٹ اور حمایت انھیں ہی حاصل تھی اورا س حمایت نے ہی ان کے حق میں فیصلہ کی راہ ہموار کی ہے۔ بہرحال اب وہ ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ ایران کے آیندہ فیصلے ان کی رائے سے مشروط ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ زدہ ماحول میں نئے ایرانی سپریم لیڈر کیا کردارکر تے ہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ وہ زیادہ سخت گیر موقف رکھنے کے حامی ہیں، اس لیے جاری جنگ زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے ۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جب لیڈر بالخصوص سپریم لیڈر تنازعات کے آغاز میں مارے جاتے ہیں تو ان کے جانشن زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنے پیش رو سے زیادہ سختی سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی ایسی ہی سنگین صورتحال میں ذمے داری ملی ہے ۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر جو ان کے والد بھی تھے، جنگ کے آغاز میں شہید ہو گئے ہیں۔ اس لیے جناب مجتبیٰ خامنہ ای پر ایک دباؤ ضرور ہوگا۔
ایک بات اور اہم ہے کہ جب دشمن کسی لیڈر کو جنگ کے دوران قتل کردیتا ہے۔ تو اس کے جانشین کو وراثت میں یہ مسئلہ ملتا ہے کہ اس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل ہیں اور مضبوط ہیں۔جناب مجتبیٰ خامنہ ای بھی ایسی صورتحال کا شکار نظر آتے ہیں۔ انھیں بھی ثابت کرنا ہے کہ ان کا انتخاب درست ہے۔ اب وہ رہبر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ سب نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ لیکن ایک مرحلہ ابھی باقی ہے۔ انھیں اپنی صلاحیتیں ابھی منوانی ہیں۔ جوایک مشکل مرحلہ ہے۔ لوگ ان کا ان کے والد سے موازنہ کریں گے۔
نئے رہبراعلیٰ کی کوئی سیاسی تقریر فی الحال سامنے نہیں آئی ہے۔ ان کی کوئی تصنیف بھی ہمارے سامنے نہیں ہے کہ ان کی تحریر سے ان کی شخصیت کا انداذہ لگایا جاسکے ۔ ان کی کتاب سے ان کی سوچ پڑھ لیں۔ جس سے ان کی سیاسی سوچ کا انداذہ لگایا جا سکے۔ ان کی کوئی ویڈیو بھی موجود نہیں ہے۔ البتہ ان کی چند تصاویر ضرور موجود ہیں۔ لیکن وہ بھی بہت کم۔ انھوں نے اب تک جو بھی کام کیا ہے، پردہ کے پیچھے رہ کر کیا ہے۔ وہ کیا سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی پالیسی کیا ہوگی؟ وہ کیا مزاج رکھتے ہیں؟ باقی سب کہانیاں ہیں، ریکارڈ پر کچھ نہیں۔
اس جنگی ماحول میں نئے سپریم لیڈر کے لیے جلد پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ اس وقت جنگ سے پیچھے ہٹے تو یہ تاثر بنے گا کہ وہ کمزور ہیں۔ انھیں ایک مضبوط شناخت کے لیے جنگ جاری رکھنی ہوگی۔ اسی لیے جب سے ان کا علان ہوا، ایران کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ پاسداران انقلاب کا زیادہ سخت موقف سامنے آرہا ہے۔ جیسے ٹرمپ کے بیان کا براہ راست جواب دیا جارہا ہے کہ جنگ کب بند کرنی ہے، یہ فیصلہ ہم کریں گے۔ اس کو نئے سپریم لیڈر کی سوچ اور پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے نئے لیڈر کے لیے سخت موقف اور کشیدگی کو جاری رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کو کئی قسم کے دباؤ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ پاسداران انقلاب کی طرف سے یہ دباؤ ہوگا کہ وہ ان کی پالیسی کو آگے لے کر چلیں۔ انھیں انقلا بی دھڑے کی جانب سے بھی دباؤ کاسامان ہوگا کہ وہ انقلاب کی سوچ کو بھی آگے لے کر چلیں۔ انھیں اصلاح پسندوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہوگا کہ وہ ملک میں اصلاح پسندی لے کر آئیں۔ انھیں قدامت پسندوں اور اصلا ح پسندوں کے درمیان توازن رکھ کر آگے برھنا ہوگا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سب دھڑے غور سے دیکھ رہے ہیں کہ جانشین مضبوط ہے یا کمزور۔ ان کی پالیسی کیا ہے۔ والد کے ساتھ کام کرنا اور پھر خودکمان کرنے میں فرق ہے۔ لوگ اس فرق کو جاننا چاہتے ہیں۔
نئے رہبر کے انتخاب عوام نے کو بہت ویلکم کیا ہے۔ لیکن ابھی وہ عوام میں نہیں آئے، وہ انڈر گراؤنڈ ہیں، وہ سامنے نہیں آسکتے، ان کا کوئی ویٖڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی ایرانی صدر سے ملاقات کی بھی کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں آئی۔ اس لیے ایک تشنگی باقی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں جید مذہبی رہنما موجود ہیں لیکن فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔ اب وقت ثابت کرے گا کہ ان کو کتنی قبولیت حا صل ہوگی۔ اب جنگ کا ماحول ہے۔ قوم متحد ہے۔ ابھی سب خاموش بھی ہیں۔ جنگ کے بعد ان کے انتخاب کا اصل مرحلہ شروع ہوگا۔ تب ہی معلوم ہوگا کہ کتنی مقبولیت اور کتنی قبولیت ہے۔ مقبولیت عوام میں، قبولیت مذہبی رہنماؤں میں۔ کیا وہ ان کو ا پنا مذہبی لیڈر مان لیں گے؟
آئت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ایرانی میزائل حملوں میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار ان کو سخت گیر رہنماکے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان سے لمبی جنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان سے زیادہ سخت موقف کی توقع کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سب وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ سرپرائز بھی دے سکتے ہیں۔ وہ نئی سوچ اور نئی پالیسی کے ساتھ بھی آگے آسکتے ہیں۔ لیکن اس کے امکانات بظاہر کم نظر آرہے ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!