Connect with us

Today News

3 نابالغ طلبا نے 49 سالہ شخص کو پیڈوفائل قرار دیکر کو پتھر مار مار کر قتل کردیا

Published

on


برطانیہ میں تین کم عمر نوجوانوں کو ایک شخص کو لڑکی بن کر ساحل پر بلانے اور پھر تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ کینٹ کے ساحلی علاقے آسلے آف شیپی میں پیش آیا جہاں 49 سالہ ایلگزینڈر کیش فورڈ کو پتھروں اور بوتلوں سے مار کر قتل کیا گیا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ دو لڑکے جن کی عمریں 15 اور 16 سال ہیں جب کہ ایک 16 سالہ لڑکی نے جعلی نام استعمال کرتے ہوئے مقتول کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

لڑکی نے خود کو سیئنا نامی کم عمر لڑکی ظاہر کیا اور اسی بہانے مقتول سے رابطہ قائم کیا گیا۔ واقعے کے روز تینوں نے اسے سمندر کے کنارے سی وال کے قریب ملاقات کے لیے بلایا۔

واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ مقتول پر پہلے بوتل سے وار کیا گیا جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے بھاگا لیکن تینوں نوجوانوں نے اس کا پیچھا کیا۔

حملے کے دوران حملہ لڑکے مقتول کو پیڈو فائل کہتے رہے جبکہ لڑکی چیختے ہوئے کہہ رہی تھی کہ میں ابھی صرف 16 سال کی ہوں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول حملے کے دوران زمین پر گر پڑا لیکن دوبارہ اٹھ کر بھاگا تاہم کچھ ہی دیر بعد لڑکوں نے دوبارہ پکڑ لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس کے صرف 68 منٹ بعد ہی وہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے سر اور چہرے پر شدید چوٹیں، جسم پر نیل، متعدد پسلیاں ٹوٹ کر پھیپھڑوں میں پیوست ہوگئی تھیں۔

استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملہ کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان نوجوانوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مقتول پر حملہ کریں گے اور تینوں نے اس میں فعال کردار ادا کیا۔

عدالت نے تینوں کو قتل کے الزام سے بری کر دیا تاہم دو نوجوانوں کو غیر ارادی قتل کا مجرم جبکہ لڑکی پہلے ہی جرم کا اعتراف کرچکی ہے۔ سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، فائرنگ سے آٹھویں جماعت کا طالبعلم سمیت دو افراد جاں بحق، اہلخانہ کا احتجاج کا اعلان

Published

on



کراچی:

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع پی آئی اے سوسائٹی گیٹ نمبر تین کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔

چھیپا حکام کے مطابق دونوں افراد کو زخمی حالت میں فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 22 سالہ شارون مسیح ولد افضل اور 30 سالہ طلحہ ولد قاسم شاہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی ہے جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق شارون مسیح نانی کے گھر سے واپس آیا تھا اور گھر کے قریب دودھ لینے نکلا تھا کہ اچانک فائرنگ کی زد میں آ گیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ شارون قریبی انگلش میڈیم اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ واقعے کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا۔

اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاش کے ہمراہ احتجاج کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

بنگلہ دیش اور مستقبل کے امکانات

Published

on


بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جس کی سربراہی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کررہے تھے اس کی جماعت نے کل 297نشستوں میں سے 212نشستوں پر کامیابی کے بعد دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کو 77نشستوں پر کامیابی ملی جو بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں بڑا حصے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

عمومی طور پر بنگلہ دیش کے انتخابات میں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کی دو مضبوط سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی تھیں ۔لیکن ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی کے باعث انتخابی معرکہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان دیکھنے کو ملا اور دیگر جماعتوں نے ان ہی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد کی حکمت عملی اختیار کی۔حسینہ واجد جو اس وقت بھارت میں جلا وطن ہیں وہ بنیادی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست میں اس مکافات عمل کا شکار ہوئی ہیں جو انھوں نے اپنے دور میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑی فسطایت اور بدترین دشمنی بشمول جماعت اسلامی کے 80برس بزرگوں کی پھانسی جیسی سزائیں بھی شامل ہیں، کا مظاہرہ کیا تھا ۔

اسی بنیاد پر ان کے خلاف ملک گیر مہم چلی اور ان کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔خود حسینہ واجد نے اپنی سربراہی میں جو انتخابات کروائے تھے اس میںتمام سیاسی مخالفین کے راستے بند کردیے گئے تھے اور اب وہ خود اس کا شکار ہوئی ہیں ۔ایک تجزیہ یہ کیا جارہا ہے کہ ان انتخابات میں نئی نسل کی اپنی پارٹی کچھ نہیں کرسکی۔لیکن جو ووٹنگ ٹرن آوٹ ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل نے بڑی تعداد میں بی این پی اور جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ مجموعی ووٹ ان ہی دو جماعتوں کو ملا ہے جس میں نئی نسل کے ناراض ووٹرز بھی شامل تھے۔

یہ بات پہلے سے نظر آرہی تھی کہ ان حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی جیت جائے گی مگر یہ اندازہ مشکل تھا کہ ان کو اس عمل میں دو تہائی اکثریت ملے گی۔کچھ لوگ یہ پیش گوئی کررہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی معرکہ جیت جائے گی مگر بیشتر سیاسی پنڈت جو بنگلہ دیش کی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ بی این پی کی جیت کی پیش گوئی کررہے تھے۔

حسینہ واجد کی جماعت کے ووٹرز نے بھی اپنا ووٹ عملی طور پر جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کو دینے کی بجائے بی این پی کو ڈالا ہے کیونکہ وہ نظریاتی طور پر جماعت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ووٹ ڈالنے کا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔جماعت اسلامی کی کامیابی ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس نے اس کے لیے مستقبل کی ملکی سیاست میں نئے مثبت امکانات پیدا کیے ہیں ۔ان انتخابات میں ہم جماعت کی کامیابی کو تین امور سے دیکھ سکتے ہیں۔

اول، حسینہ واجد کی حکومت کا جماعت اسلامی کے خلاف انتقامی سیاست کے دور کا خاتمہ اور اس کا عوامی ردعمل،دوئم، جماعت اسلامی کی حسینہ واجد کے خلاف مزاحمت اور ان کی حکومت کے خاتمہ میں موثر کردار اور عوامی سطح پر ان کی سیاسی قبولیت،سوئم، ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی اور اس خلا کا جماعت اسلامی نے فائدہ اٹھایا اور پہلی بار وہ اس پارلیمان میں ایک بڑی حزب اختلاف کے طور پر بیٹھے گی۔اسے کل ڈالے گئے سات کروڑ 60لاکھ ووٹ میں سے 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جو کے تقریباً 39.47فیصد ہیں۔پاکستان ان انتخابات کے نتیجے میں آنے والی جماعت بی این پی اور خود جماعت اسلامی کو پاکستان ہمدرد جماعت کے طورپر دیکھتا ہے ۔کیونکہ حسینہ واجد جہاں پاکستان مخالفت کی بنیاد پر مشہور تھیں تو وہیں ان کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور اسی بنیاد پر ان کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب تھے۔

اس لیے پاکستان کو یقین ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں آنے والی بنگلہ دیش میں حکومت اور حزب اختلاف خطہ اور پاکستان کے تناظر میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف بھارت کے وزیر اعظم نے حسینہ واجد کی حمایت کے باوجود بی این پی اور طارق رحمان کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم مستقبل میں مل کر آگے بڑھیں گے۔لیکن اس میں ایک بنیادی مطالبہ بی این پی اور جماعت اسلامی کا بھارت کی حکومت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا ہوگا جو ان کے درمیان تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش کی نئی نسل میں دہلی اور مودی مخالف جذبات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کی وجہ بھی ان کی طرف سے حسینہ واجد کی حمایت ہے اور اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر خطہ کی سیاست میں پاکستان بنگلہ تعلقات کو زیادہ موثر بنانا چاہتا ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت کی پوری کوشش ہوگی اور وہ تمام سفارتی اور ڈپلومیسی کارڈ معاشی بنیاد پر کھیلے اور بنگلہ دیش کو پاکستان کے حمایتی کیمپ میں جانے سے روکے تاکہ بھارت افغانستان کے بعد بنگلہ دیش سے بھی پاکستان کو دورکرسکے۔اسی کی بنیاد پر ہم بھارت کی سفارتی جنگ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھ سکیں گے ۔

دوسری طرف اس بات کے امکانات واضح ہیں کہ بی این پی کے قائد طارق رحمان ہی حکومت کے سربراہ ہوںگے اور جماعت اسلامی حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ ہوگی۔لیکن یہ بھی یاد رکھیں ان انتخابات کے ساتھ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں آئینی ،سیاسی اور قانونی ،کرپشن اور انتخابی اصلاحات کے تناظر میں ان ہی انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہوا جس میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ موجودہ حالات میں اصلاحات چاہتے ہیں یا نہیں ۔اس ریفرنڈم میں65.05فیصد لوگ اصلاحات چاہتے ہیں جب کہ 34.05فیصد نے اس کی مخالفت کی ۔یقینی طورپر اب بنگلہ دیش میں جب حکومت تشکیل دی جائے گی تو پھر اس ریفرنڈم کی بنیاد پر اصلاحات کی نئی بحث شروع ہوگی اور حکومت کے لیے اصلاحات سے بھاگنا ممکن نہیں ہوگا اور خود جماعت اسلامی بھی اصلاحات کا نعرہ لگا کر موثر اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے گی۔

اس لیے بنگلہ دیش حکومت کے نئے سربراہ طارق رحمان کے لیے اقتدار کی سیج آسان نہیں ہوگی اور ان کے گرد مختلف طور طریقوں سے گھیر ا تنگ رکھا جائے گا۔اس ریفرنڈم سے قبل جو عبوری حکومت تھی اس نے مختلف کمیشن کی رپورٹ کو قومی اتفاق رائے کمیشن کے طور پر جمع کیااور اسے جولائی قومی چارٹر کا نام دیا گیا۔ یہ چارٹر80سے زیادہ اصلاحاتی تجاویز پر مشتمل ہے جس میں تقریبا آدھی سے زیادہ آئینی نوعیت کی ہیں۔اس چارٹر پر 25سے زیادہ سیاسی جماعتوں نے 17 اکتوبر 2025 کو دستخط بھی کیے تھے ۔ ریفرنڈم میں اس کی حمایت کی کامیابی کے بعد یہ چارٹر قانونی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ ریفرنڈم کا بنیادی مقصد2024میں ہونے والی سیاسی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال یا سیاسی خلا کو پر کرنا اور ملک کو آمرانہ حکمرانی سے بچانا تھا۔یعنی مجوزہ آئینی ترمیم کی مدد سے حکمرانی کے نظام کو دوبارہ تشکیل دینا،جمہوریت کو مضبوط بنانا، سماجی انصاف کو فروغ دینا،اداروں میں احتساب کو بڑھانا،اداروں میں توازن پیداکرنا،صدر کے اختیارات میں اضافہ ،عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا، وزیر اعظم کی ٹرم کا تعین کرنا،آزاد الیکشن کمیشن، عبوری حکومت کی تشکیل،پارلیمنٹ کی ساخت میں تبدیلی جیسے اہم امور شامل ہیں اور اسی بنیاد پر اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

اس لیے بی این پی دو تہائی اکثریت پر مبنی جماعت کے سامنے بڑا چیلنج اس حالیہ ریفرنڈم کے نتائج اور اصلاحات کا عمل ہوگا جو بنگلہ دیش کی نئی حکومت اور پس پردہ طاقتوں کے درمیان یا تو طاقت کے نئے توازن کا تعین کرے گا اور اس دو تہائی اکثریت پر مبنی حکومت کے اختیارات میں توازن پیدا کرے گا۔ وگرنہ دوسری صورت میں ہمیں نئی حکومت اور طاقت کے مراکز میں ایک نیا ٹکراؤ یا سیاسی کشمکش دیکھنے کو ملے گی جو بنگلہ دیش کے داخلی بحران میں اور زیادہ مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک خاص سوچ اور مقصد کے تحت ہی عام انتخابات کے ساتھ ہی ریفرنڈم کی سیاسی کنجی کا کارڈ ایک بڑی حکمت عملی کے تحت کھیلا گیا یا اس کا سیاسی دربار سجایا گیا تھا کہ ہم اس کارڈ کی بنیاد پر نئی حکومت پر اصلاحات کے نام پر اپنا دباؤ بڑھا سکیں۔ایسے میں اگر صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے یا اسٹیبلیشمنٹ کو بھی بہت سے امور پر طاقت ملتی ہے تو حکومت کو دباؤ میں لانا آسان ہوگا۔اس لیے یہ کہنا کہ ان انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی بحران ختم ہوگیا ہے درست نہیں بلکہ آنے والے کچھ عرصہ میں ہمیں بنگلہ دیش کی سیاست کے داخلی مسائل میں ایک اور جنگ دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ان حالات میں بنگلہ دیش حکومت کے سربراہ طارق رحمان کس انداز سے آگے بڑھتے ہیں یا وہ خود کتنی سیاسی لچک دکھاتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

عوام کے لیے یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں

Published

on


بلدیاتی نظام کی اہمیت اور الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ بنانا ہوگا اور اگر سنجیدہ حلقے عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں یکساں بلدیاتی نظام لانا ہوگا، کیونکہ ہر سیاسی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے سے گھبراتی ہے۔ پنجاب کے مجوزہ بلدیاتی ایکٹ 2025 میں خواتین کی نشستیں کم کردی گئی ہیں، خواتین کو 33 فی صد نمایندگی دینے اور نوجوانوں کی بھی نشستیں بڑھائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔

 ملک میں آج کل صوبوں کی تعداد بڑھانے، ملک میں آئین کے تحت مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو وفاقی کنٹرول میں دینے کے مطالبات ہو رہے ہیں۔ فریقین کا اپنا اپنا موقف ہے کہ آئین کے تحت ایسا ہو سکتا ہے جب کہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ آئین میں کسی شہرکو وفاقی کنٹرول میں دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔گزشتہ سال لاہورکے سابق سٹی ناظم نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دی تھی کہ ملک کی آبادی پچیس کروڑ تک ہوگئی ہے اور ملک کے موجودہ چار صوبے ناکافی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے پریشانی کا سامنا ہے اور انھیں طویل سفرکر کے اپنے اپنے صوبائی دارالحکومت جانا پڑتا ہے جہاں انھیں رش اور سرکاری کام زیادہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دفاترکے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔

دور دراز کے وہ رہنے والے جن کے کراچی، لاہور، پشاور اورکوئٹہ میں اپنے عزیز و اقارب نہیں انھیں وہاں ہوٹلوں میں بھی ٹھہرنا پڑتا ہے اور مہنگائی کے دور میں صوبائی دارالحکومت جانا آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے جس سے ان کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور وقت بھی لگتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والے دیگر ممالک کی بھی مثال دیتے ہیں جہاں پاکستان سے آبادی کم ہونے کے باوجود صوبوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے پاکستان میں بھی صوبوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور ان کی پریشانیاں کم ہو سکیں۔

نئے صوبوں کے قیام کی حمایت و مخالفت میں ملک بھر میں بیان بازی اور مطالبات ہو رہے ہیں اور پنجاب، سندھ اور کے پی کی حکومتیں نئے صوبوں کی مخالف ہیں کیونکہ کے پی میں ہزارہ صوبے، پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبے اورکراچی میں شہری و دیہی آبادی کی بنیاد پر صوبے کے مطالبے ہو رہے ہیں اور اکثر بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی مخالف ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی زبانی حمایت کرتی رہی ہیں، پی ٹی آئی نے بھی اسی بہانے 2018 میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرکے ووٹ لیے تھے، مگر تینوں بڑی جماعتوں نے عملی طورکچھ نہیں کیا مگر مطالبے اب بھی جاری ہیں۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت میں بھی ملک میں 16 صوبے یعنی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی باتیں شروع ہوئی تھیں اور وزیر اعظم بننے سے قبل بے نظیر بھٹو نے بھی سکھر میں ضلعی گورنروں کی بات کی تھی۔

جماعت اسلامی بھی ایک قومی جماعت ہے مگر عوام نے کبھی جماعت کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں کامیابی کے لیے ووٹ نہیں دیے مگر جماعت کو 2002 میں مجلس عمل میں شمولیت کے باعث صوبہ سرحد میں کچھ وزارتیں ملی تھیں اور وزیر اعلیٰ جے یو آئی کا تھا۔ جماعت اسلامی کو کراچی سے چند نشستیں ضرور ملیں اور ایم کیو ایم بننے سے قبل دو بار کراچی میں ان کا میئر رہا، بعد میں اس کا سٹی ناظم بھی منتخب ہوا مگر اب کراچی میں جماعت کے پاس سندھ اسمبلی کی ایک نشست اور نو ٹاؤنز کی سربراہی ملی ہوئی ہے مگر اس کے موجودہ امیر، پی پی حکومت کی چال کی وجہ سے میئر نہیں بن سکے تھے اور پی پی اپنا میئر پہلی بار لانے میں کامیاب رہی تھی۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اور ایم کیو ایم ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کی حامی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی ایسا نہیں چاہتی۔ ایم کیو ایم، (ن) لیگ کی حکومت میں اتحادی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم میں اس کا بااختیار مقامی حکومتوں کا مطالبہ منظورکرایا جائے جس کا وزیراعظم نے وعدہ بھی کیا ہے مگر تین بڑی پارٹیاں جن کی وفاق میں حکومتیں رہی ہیں ایسا نہیں چاہتیں کہ ملک میں یکساں اور بااختیار حکومتیں آئین کے ذریعے بنائی جا سکیں۔

تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کا محکوم اور چھوٹی پارٹیاں ملک میں یکساں اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی جس میں تینوں بڑی پارٹیوں کی نمایندگی ہے نے بلدیاتی ترمیمی بل پھر موخرکردیا ہے اور وزیر اعظم اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو مسلسل آسرے پر رکھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) جو کمزور بلدیاتی انتخابات بھی پنجاب اور اسلام آباد میں کرانے سے گریزاں ہے وہ ملک کو یکساں اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا فیصلہ آئینی ترمیم کے ذریعے کبھی نہیں ہونے دے گی اور پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی بھی بااختیار اور ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کی سخت مخالف ہیں اور ارکان اسمبلی بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ ہر سال ملنے والے ترقیاتی فنڈز سے محروم ہو جائیں اور ان کی کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے یہ فنڈ ان کی مرضی کی بجائے مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہوں یہ انھیں کبھی قبول نہیں ہوں گے۔

وفاق اور صوبوں میں یکساں بلدیاتی نظام کے لیے آئینی ڈھانچہ ارکان اسمبلی نے بنانا ہے جو وہ کبھی نہیں بنائیں گے اور ملک میں بااختیار اور یکساں بلدیاتی نظام چاہتے ہی نہیں اور صوبائی حکومتیں بھی اس کی مخالف ہیں اسی لیے وہ اپنی اسمبلی سے اکثریت کے باعث مرضی کا کمزور بے اختیار بلدیاتی نظام منظورکراتی ہیں۔ ہر صوبے میں وزیر اعلیٰ کے بعد وزیر بلدیات نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے وہ جب دورے پر جاتا ہے تو علاقہ سجایا جاتا ہے، خیر مقدمی بینرز لگتے ہیں اور اس کا وزیر اعلیٰ جیسا استقبال ہوتا ہے، جو دوسرے وزیروں کو میسر نہیں۔ عوام کا بنیادی مسائل کے حل کے لیے بڑا واسطہ بلدیاتی اداروں سے پڑتا ہے۔

ملک کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام جنرل پرویز نے دیا تھا اور باقاعدگی سے بلدیاتی الیکشن غیر سول حکومتوں میں ہوئے جو عوام کی بھی ضرورت تھے جب کہ سیاسی حکومتوں کا کوئی ایسا اچھا ریکارڈ ہے نہ ہوگا اور کمزور بلدیاتی سسٹم سیاسی حکومتیں کبھی مضبوط نہیں بنائیں گی۔





Source link

Continue Reading

Trending