Today News
9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ، اسپیکر کی تشکیل کردہ کمیٹی کے خلاف درخواست خارج
پشاور ہائیکورٹ نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کیجانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کےخلاف دائر رٹ پٹیشن کو خارج کردیا۔
ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس کیس میں ابھی انکوائری فائنل ہوئی نہ ہی کوئی ایسا مواد پیش کیا جاسکے، جس سے ثابت ہو کہ اسپیکر کیس پر اثرانداز ہورہے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ عوامی مفاد کے کیس میں پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو انکوائری کراسکتے ہیں، درخواست گزار اس کیس میں متعلقہ فورم سے قانون کے مطابق ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رٹ پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بنچ نے کی جبکہ عدالت نے9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا جو جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا ہے۔
رٹ میں موقف اختیار کیاگیاتھا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت پر 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات کے دوران حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا گیا اورعمارت کو آگ لگائی گئی جسکے بعد ملزمان کےخلاف انسداد دہشتگردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ مقدمے میں نامزد ملزمان میں موجودہ اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔
اس ضمن میں اسپیکر نے 12 دسمبر کو اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس میں اراکین اسمبلی شامل ہیں جو درست نہیں کیونکہ وہ انکوائری پر اثراندازہوسکتے ہیں۔
عدالت نے قراردیا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے کمیٹی بنائی ہے لیکن ابھی تک عدالت کو کوئی ڈائریکشن نہیں دیئے ہیں پھر کس طرح ہم اس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
عدالت کے مطابق اس مرحلے پر ہم اس میں کوئی آرڈر نہیں کرسکتے اور درخواست قبل از وقت ہے کمیٹی اپنا کام کرے۔
تاہم وکیل درخواست گزار کا موقف تھا کہ چونکہ کمیٹی میں اراکین اسمبلی بھی پہلے سے ملزمان نامزد ہیں اسلئے ممبران اسمبلی اپنے خلاف کیس میں جج نہیں بن سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، عدالتی کاروائی میں مداخلت کا اختیارسپیکر کو حاصل نہیں ہے۔
عدالت نے رٹ خارج کرتے ہوئے قراردیا کہ یہ درخواست اس اسٹیج پر قبل ازوقت ہے ۔اگر آئین کے تناظر میں مختلف نوعیت کے معاملات میں آئینی تصادم پیدا کیے بغیر عدالتی ٹرائل کیساتھ ساتھ مقننہ (پارلیمنٹ) کی جانب سے انکوائری چل سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ٹینشن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنےکی کوشش کرے تاہم اس کیس میں ایسا نہیں لگ رہا ہے اور اب تک کوئی مداخلت سامنے نہ آسکی نہ ہی انکوائری فائنل ہوئی ہے جبکہ عدالت میں اس حوالے سے کوئی موادبھی پیش نہیں کیاجاسکا جس کی بنا پر انکوائری روکی جائے۔
عدالت نے مزید قراردیا کہ مقننہ اور ایگزیکٹیو باڈیز آئینی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ اندرونی معاملات کو ریگولیٹ کرسکیں اور جہاں عوامی مفاد کے کیسز میں ضرورت پڑے وہ وہاں انکوائری کرسکتے ہیں اوریہ انکے آئینی حدود میں آتا ہے ۔ عدالت نے انہیں ابزرویشن کے ساتھ رٹ خارج کردی ہے ۔
Today News
ایرانی میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ ٹرمپ کا حیران کن جواب
ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔
امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ رضا پہلوی 1971 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان دنوں امریکا و برطانیہ میں لابنگ میں بھی مصروف ہیں۔
قبل ازیں وہ ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت بھی کرچکے ہیں اور ایران میں اقتدار ملنے کی صورت میں بادشاہت کے بجائے جمہوری طرز ہر ملک چلانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
رضا پہلوی کی والدہ اور سابق شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی نے بھی آج میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کو جس جمہوری اور عدل پر مبنی نطام کی ضرورت ہے اس کے لیے ان کے بیٹے کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے ٹرمپ کے ایران پر حملوں کو رجیم چینج کا حربہ قرار دیتے ہوئے پہلے ہی اس آپریشن سے خود کو الگ کرلیا تھا اور دیگر یورپی ممالک کا بھی یہی موقف رہا ہے۔
Today News
بہو کے آرام کا معاملہ، رابعہ انعم اور صبا فیصل میں لفظی جنگ
نجی ٹی وی کی رمضان نشریات کی میزبان رابعہ انعم نے سینئر اداکارہ صبا فیصل کے ایک پرانے بیان پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بہو سے متعلق اداکارہ کی رائے بالکل پسند نہیں آئی۔
چند ماہ قبل ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے صبا فیصل نے نئی دلہن کے حوالے سے کہا تھا کہ بہو کو گھر میں سونے یا آرام کرنے سے پہلے ساس یا نند کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا تھا اور کئی صارفین نے اس پر تنقید بھی کی تھی۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں رابعہ انعم نے بغیر نام لیے اسی بیان پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں یہ کہا گیا کہ بہو اگر کچھ دیر آرام کرنا چاہے تو ساس سے اجازت لے، آخر اس کی کیا ضرورت ہے؟
رابعہ نے کہا کہ وہ خود بھی بہو ہیں اور ان کی ساس نے کبھی ان سے اس قسم کی توقع نہیں کی، نہ ہی وہ سمجھتی ہیں کہ کسی کو اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں اس طرح وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر فرد کو اپنی زندگی اپنے انداز میں گزارنے کا حق حاصل ہے اور ایسی روایات کو فروغ دینا درست نہیں۔ رابعہ انعم کے مطابق ہم اکثر ایسے خیالات کو اس لیے دہراتے ہیں کیونکہ ہم برسوں سے بھارتی ڈراموں اور کلچر کے زیرِ اثر ہیں، حالانکہ ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہوتی ہیں اور ہمیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔
دوسری جانب صبا فیصل نے رابعہ انعم کے بیان پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر رابعہ کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ لوگ محض خود کو دانشمند ثابت کرنے اور وقتی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کی بات اتنی ہی غلط تھی تو اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔
یوں بہو اور ساس کے تعلق سے جڑا ایک بیان سوشل میڈیا پر نئی بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں صارفین دونوں شخصیات کے مؤقف پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
Source link
Today News
آیت اللہ کے بیٹے اور ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں؟
ایران میں آیت اللہ کے جانشین کے طور پر سب سے مقبول و معروف شخصیت ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آگیا۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انھیں ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایران کے آئینی طریقہ کار کے تحت رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہوتا ہے اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر ہونا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition