Today News
حکمرانوں کی مراعات اور پنشنرز کی فریاد
ایک اچھی، مخلص اور عوام دوست جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جس میں عوام الناس کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ ایسی دوررس نتائج کی حامل پالیسیاں بنائی جائیں جن کے عملی نفاذ سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔ ان کی روزمرہ کی زندگی میں حقیقی تبدیلی آئے۔ ان کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ روزگار، رہائش، تعلیم، صحت اور انصاف کی فراہمی حکومت کی پہلی ترجیح ہو۔ غربت، مہنگائی، پسماندگی اور بے روزگاری کا خاتمہ کر کے عوام کو ان کے روشن و تابناک مستقبل کے خواب کی تعبیر دینا حکمرانوں کی ذمے داری ہے۔
پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت عوام سے ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں کرانے کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں جیساکہ سیاسی جماعتوں کے منشور میں لکھا ہوتا ہے اور سیاست دان جیسا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک غریب عوام کی حالت نہیں بدلی۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل آج بھی سوالیہ نشان اور حکمرانوں کے لیے امتحان بنے ہوئے ہیں۔
کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے پیسوں سے حکمران اپنے تمام اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اپنی تنخواہوں، سہولیات اور مراعات میں اضافے اور اپنے اثاثے چھپانے اور خفیہ رکھنے کے لیے اسمبلی سے قانون منظور کراتے ہیں۔ اپنے اقتدارکو طول دینے، آئینی اداروں پر اپنی حاکمیت قائم کرنے اور بدعنوانیوں پر احتساب کے خوف اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے آئینی ترامیم راتوں رات منظور کروا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں وہ مکافات عمل سے بھی محفوظ ہو گئے۔
کسی دانا نے سچ کہا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے پہنچایا ہے۔ نتیجتاً آج کا پاکستان قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دسمبر 26 تک ملک پر قرضے و واجبات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک درجہ بہتری کے باوجود پاکستان کرپشن میں 136 ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نہ صرف پبلک سیکٹر اور انتظامی بدعنوانی بلکہ قانون ساز اداروں اور عدلیہ میں بھی بدعنوانی پائی جاتی ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔
حکمرانوں کی نااہلی اور سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کے بھی منفی اثرات سے عوام بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کی بندش حکومتی نااہلیوں کی زندہ مثال ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا اسٹیل ملز جو صنعتوں کی ماں کا درجہ رکھتا ہے، حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث تباہی کا شکار ہو کر آج تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ ملازمین کو وقفے وقفے سے برطرف کیا جا رہا ہے ان کے پراویڈنٹ فنڈز اور گریجویٹی کا پیسہ انتظامی نااہلیوں کی نذر ہو گیا اور ملازمین آج بھی اپنے واجبات سے محروم ہیں اور وصولی کے لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔
پاکستان اسٹیل ملز ذوالفقار علی بھٹو نے روس کے تعاون سے لگائی تھی۔ آج بھٹو کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی بھی اقتدار میں ہے لیکن اسٹیل ملز کی بحالی اور ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ بھٹو نے غریب مزدوروں اور تنخواہ دار ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی بسر کرنے اور مالی آسودگی کے لیے 1976 میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن کا ادارہ قائم کیا تھا جس کے تحت ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ادا کی جاتی ہے۔ ای او بی آئی رجسٹرڈ ملازمین کے کنٹری بیوشن سے جمع ہونے والی رقم سے مختلف اسکیموں میں محفوظ سرمایہ کاری کرتا ہے جس سے حاصل ہونے والے منافع سے رجسٹرڈ ملازمین کو پنشن دی جاتی ہے۔
ادارے کے پاس آج بھی اربوں روپے کے فنڈ اور جائیدادیں اور محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع موجود ہیں لیکن ملازمین کو صرف 11,500 روپے ماہانہ پنشن ادا کی جاتی ہے جو آج کی مہنگائی کے اس پرآشوب دور میں اونٹ کے منہ میں زیرا کے مترادف ہے۔ کیا حکومت کے وزرا، مشیران اور اراکین اسمبلی 11,500 روپے میں اپنے گھر کا ماہانہ خرچ پورا کر سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے غریب مزدور تنخواہ دار طبقے کی بہبود کے لیے بھٹو کا قائم کردہ یہ ادارہ بھی نااہلیوں کی نذر ہو چکا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ غریب پنشنرز اپنی ماہانہ پنشن میں اضافے کے لیے رل رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں کم سے کم اجرت 37 ہزار کے برابر دی جائے۔ مناسب ہوگا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت ای او بی آئی پنشنرز کے مطالبے کو پورا کرے اور ہر سال ان کی پنشن میں اضافے کا قانون منظور کرے۔
Today News
بھارت سے شکست کے باوجود قومی ٹیم کی بیٹنگ میں ریکارڈ شراکت
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھائی تاہم بیٹنگ میں آخری وکٹ میں شراکت کا ریکارڈ توڑ دیا۔
کولمبو میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو بھارت کے ایشان کشن نے شان دار بیٹنگ کی اور پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔
پاکستانی بیٹرز نے ناقص کارکردگی دکھائی اور صاحبزادہ فرحان کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد دیگر بیٹرز بھی مسلسل آؤٹ ہوتے رہے تاہم عثمان خان نے ٹیم کو 100 کا ہندسہ عبور کرنے کا موقع فراہم کیا۔
پاکستان کے 7 بیٹرز دہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکے اور 3 بیٹرز صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان نے سب سے زیادہ 44 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، شاداب خان نے 15 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 14 رنز بنائے۔
بھارت کے 175 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہوئی، جس میں آخری وکٹ کی شراکت میں شاہین شاہ آفریدی اور عثمان طارق نے 17 رنز کی شراکت کی جو ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ ہے، عثمان طارق کے صفر پر آؤٹ ہونے کے باوجود شراکت کا ریکارڈ بن گیا ہے۔
ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے دسویں وکٹ میں محمد آصف اور سعید اجمل نے 6 مئی 2010 کو انگلینڈ کے خلاف 15 رنز بنا کر آخری وکٹ میں بڑی شراکت کا ریکارڈ بنایا تھا۔
بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے اس میچ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت شاداب خان اور عثمان خان نے 35 گیندوں پر 39 رنز کی شراکت بنائی تھی، جس میں عثمان کے 22 گیندوں پر 26 اور شاداب خان کے 13 گیندوں پر 13 رنز شامل تھے۔
بابراعظم اور شاداب خان نے 21 جبکہ فہیم اشرف اور شاہین شاہ آفریدی نے 19 رنز کی شراکت بنائی تھی۔
ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ محمد رضوان اور بابراعظم کا انگلینڈ کے خلاف پہلی وکٹ میں ناقابل شکست 203 رنز ہے اور سرفہرست پانچ بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی انہی دونوں بیٹرز کے پاس ہے۔
بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابراعظم نے 24 اکتوبر 2021 کو دبئی میں 152 رنز بنا کر سب سے بڑی شراکت قائم کی تھی۔
Source link
Today News
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا
حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔
Source link
Today News
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔
Wheels down 🛬 in Vienna, a city of history, culture and global diplomacy.
I look forward to my meeting with Chancellor Christian Stocker @_CStocker to further strengthen the bonds of friendship between Pakistan and Austria. Our focus shall be on Trade, investment and economic…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) February 15, 2026
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ ویانا پہنچے ہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر ویانا پہنچ گئے ہیں اور ویانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آسٹریا کی مسلح افواج کے دستے نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو سلامی پیش کی۔
وزیرِ اعظم آسٹرین چانسلر کرسچئین اسٹاکر سے دو طرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے، وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے چانسلر دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے معروف کاروباری افراد کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔
وزیرِاعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت اور خطاب کریں گے، وزیرِاعظم ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ “پائیدار ترقی، عالمی امن و خوش حالی کا راستہ” کے موضوع پر خصوصی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔
علاوہ ازیں وزیرِاعظم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹرجنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech1 week ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Tech1 week ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech2 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Business2 weeks ago
Bulls remain in control as KSE-100 closes in the green at 186,900.73 points