Connect with us

Today News

غلط العام نام اورالفاظ (1) – ایکسپریس اردو

Published

on


غلط العام، ان ناموں اور الفاظ کو کہتے ہیں جو ہوتے تو غلط ہیں بلکہ بعض تو اصل کی الٹ ہوتے ہیں لیکن جب زبانوں پر ایک مرتبہ چڑھ جاتے ہیں تو پھر اتر کر نہیںدیتے، چاہے کتنی ہی کوشش کریں، جیسے عربی میں ’’فلوس‘‘ سکے کو کہتے ہیں ،اس ترکیب کے مطابق مالدار کانام مفلس ہوناچاہیے لیکن یہاں الٹ ہے کہ فلوس نہ رکھنے والے کو مفلس کہاجاتا ہے بلکہ آگے پھر افلاس، مفلسی ، مفلسانہ جیسے کئی اور غلط العام بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں۔ لفظ ’’آریا‘‘ بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے جو قطعی غلط اوربالکل الٹ معنی میں مشہورہوچکا ہے۔

ہندوستان کے محقق پروفیسر محمد مجیب نے اپنی کتاب ’’تاریخ تمدن ہند‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک انگریز ماہربشریات جولین پکسلے کی کتاب ’’وی یورپین‘‘ کے حوالے سے ، اس نام ’’آریا‘‘ کو اب ہمیں بالکل ہی ترک کردینا چاہیے لیکن افسوس کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ تاریخ میں جب لفظ ’’آریا ‘‘کے معنی آتے ہیں تو لکھا ہوتا ہے ، شریف، بہادر ، سخی ، مہمان نواز، دیالو، اعلیٰ، بلند اخلاق ،غیرت مند اورعالیمرتبت وغیرہ ، یعنی تمام صفات انسانی سے بھرا ہوا اورہمہ صفت موصوف ہوتا ہے لیکن یہ سارے معنی ’’مجازی‘‘ ہیں، لفظ آریا کے اصلی، لغوی اورلسانی معنی نہیں ہیں کیونکہ اس لفظ کا لغوی اورلسانی مفہوم کسی نے معلوم کیااورنہ بیان کیا ہے بلکہ چھپایا گیا ہے ۔

لفظ آریا کی بنیاد ’’آر‘‘ بلکہ ’’آڑ‘‘ یا ’’اڑ‘‘ ہے اوریہ اس زبان کالفظ ہے جو سب سے پہلے انسان کے منہ سے نکلی تھی، ذرا توجہ دی جائے تو ہند کی ساری زبانوں میں خصوصاً ان زبانوں میں جو ’’قبل از ہند یورپی‘‘یا پروٹوانڈو یورپین کہلاتی ہیں، ان میں ’’اڑ‘‘ بکثرت استعمال ہوا ہے،باقی کسی بھی زبان یا لسانی نظام میں (ڑ) کی آواز موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ سنسکرت جو ہند یورپی زبان ہے کے ’’الفابیٹ‘‘ میں اب بھی یہ حرف یاآواز موجود نہیں ہے چنانچہ سنسکرت میں جب بھی یہ لفظ آتا ہے، وہاں (ڈ) لگایا جاتا ہے جیسے بوڑھے کو بڈھا ، سڑک کو سڈک، لڑائی کو لڈائی ،گھڑ ے کو گڈا ، لڑکا ، لڑکی کو لڈکا، لڈکی، اڑے کو اڈے کہاجاتا ہے۔ رومن میں ( آر) کے نیچے ایک نقطہ لگایا جاتا ہے ۔

الفاظ آڑ ، اڑی ، اڑنا ، اڑ گیا ، سب میں مطلب رکاوٹ، رکنے اورٹھہرجانے کے ہیں اورچونکہ سب سے بڑی، سب سے زیادہ، سب سے عام، وہ مقام ہے جہاں ہرچیز آکر ٹھہر جاتی ہے، اس کے آگے یا نیچے اورکوئی مقام نہیں ہے۔

اس تک آتی ہے توہرچیز ٹھہرجاتی ہے

 جیسے پانا ہی اس اصل میں مرجانا ہے

اڑ اور پڑ ہی ٹھہرنے ، رکنے اوربڑھنے کا مقام ہے۔ لفظ پڑ بھی اصل میں اڑ ہے ۔ یہ اڑ ، بیل، گدھے یا گھوڑ ے وغیرہ کا کام کرتے کرتے اڑ جانا،اکثر زمین پر لیٹ یابیٹھ جاتا ہے، اسے ’’اڑی‘‘ یا ’’اڑی مار‘‘ کہتے ہیں ۔ لفظ آڑا، بھی رکاوٹ کے معنی میں ہے۔

ہندی الاصل ساری زبانوں مثلاً،اردو پشتو، پنجابی ، سندھی، بلوچی، کشمیری، گوجری ، ہندکو، سرائیکی اورجنوب کی ساری زبانوں جسے تامل، ملیالم ،کیرل ،بنگالی ، نیپالی، مطلب یہ کہ ہند میں قدیم زمانوں سے مروج ساری زبانوں میں حرف ’’ڑ‘‘ بکثرت موجود ہے، خصوصاً پشتو میں تو یہ اتنا زیادہ ہے کہ کوئی ایسا جملہ مشکل سے ملے گا جس میں’’ ڑ‘‘ نہ آتی ہو بلکہ پشتو میں ایسے الفاظ بھی ہیں جو ’’ڑ‘‘ سے شروع ہوتے ہیں جب کہ دیگر لغات میں بھی ’’ڑ ‘‘کاحرف تو لکھا ہوتا ہے لیکن حروف تہجی کے اس پندرہویں حرف سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا ہے لیکن پشتومیں ایسے الفاظ بکثرت موجود ہیں، جیسے ڑوند، (اندھا) ڑنگ( برباد کرنا، ڑق(ہلنا) وغیرہ ۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ’’ڑ ‘‘کی یہ آواز قدیم ترین ان زبانوں کی آواز ہے جب انسان کے آلات نطق یامخرج یا ووکل بکس،کچا تھا ،کھردرا تھا ، اب بھی اکثر بچے اوردیہاتی (ر) کی جگہ (ڑ) بولتے ہیں۔ مرد کو مڑد،گرد کو گڑد،یاجان مان ، دان وان ،ران کو ’’رانڑ‘‘ بولتے ہیں بلکہ ن کو تو (ٹ) بولنا عام ہے ۔

لفظ اڑ چو نکہ زمین اورزراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اورزراعت انسان کا پہلا پیشہ اورہنر تھا، اس لیے جو لوگ اس پیشے یاہنر سے نابلد ہوتے تھے ،ان کو اناڑی (ان آڑی ) کہا جاتا تھا، آڑی یعنی زراعت کار اور’’ان آڑی‘‘ غیر زراعت کار ، غیر ہنر مند یاانجان ۔ بعد میں جب انسان نے اوربھی ہنر سیکھ لئیے ، پیشے اختیار کیے تو ہرپیشے کے انجان، نابلد اورمبتدی لوگوں کے لیے بھی اناڑی کالفظ بولا جانے لگا ، آج بھی دیہات میں زمینداروں کے برعکس دوسرے پیشہ وروں کو ’’کمی کمین کہاجاتا ہے اورسمجھا جاتا ہے ۔

اس اڑ کی اب بھی پشتو میں کئی شکلیں موجود ہیں، سب سے پہلے تو زمین جوتنے یا ہل چلانے کو ’’اڑول‘‘ کہاجاتا ہے جس میں آہستہ آہستہ الٹنے کے معنی بھی شامل ہوگئے۔ زمین کو الٹ پلٹ اوراوپر نیچے کرنا، پشتو میں’’اڑول‘‘ بنا، پھر یہی اڑول کالفظ خانہ بدوش قبائل میں بھی ،گرانے، رکھنے اورڈالنے کے لیے استعمال ہونے لگا چنانچہ کسی جگہ ڈیرہ ڈالنے یا سامان کو کڈہ یاکڈے کہاجاتا ہے۔آج بھی پشتو میں خانہ بدوش کے لفظ ’’کڈہ پر سر‘‘ یعنی گھر کو سر پر رکھے ہوئے ہوتے ہیں اوراڑول کو انگریزی لفظ ’’ایرائیول‘‘ میں بھی دیکھا جاتا ہے ۔

ایرائیول کسی جگہ پہنچ جانا یا کسی زمین پر اترنا ہے اورساتھ ہی ایریا ، ایرینا۔ پشتو کے شمالی لہجے میں لفظ اڑتاؤ ایک کثیرالاستعمال لفظ ۔۔اڑتول بمعنی گرانے پھینکنے کے۔ واڑتوہ (پھینک دو یاگراؤ) مہ اڑتاؤ( مت گراؤ یاپھینکو) اڑتاؤ بہ شے (گرجاؤ گے ) اڑتاؤ شو (گرگیا) کشتی میں کسی کو زیر کرنے کے لیے اڑتاؤ بولا جاتا ہے ، فلاں نے فلاں کو اڑتاؤ کیا ، مٹی چٹادی اڑتاؤ کردیا، جیسا جیسا مخرج ہموار ہوتا گیا ، اڑ کالفظ بھی ار میں بدلتا گیا ، چنانچہ پشتو میں ’’ار‘‘ بنیادکو کہاجانے لگا ۔ ار رکھنا بلکہ ذات پات کے لیے بھی ار بولاجانے لگا۔

اسی دورمیں زبانیں بھی دوحرفی سے سہ حرفی ہوگئیں تو ارکادوحرفی لفظ بھی سہ حرفی ہوکر ارت بن گیا جو اب بھی پشتو میں کھلے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارت زمین ، ارت میدان ،ارت جوتے بمقابلہ تنگ اس میں ٹھیک وہی معنی ہیں جوعربی میں عرض بمقابلہ طول کے ہیں ، بیوی کو بھی ارتینہ کہا جاتا ہے کیوں کہ قدیم زمانوں سے عقائد میں زمین کو آسمان کی بیوی یا ارتینہ کہا جاتا رہا ہے ، زمین ماں اورآسمان باپ۔ ہندی دھرم میں دیوتاؤں کی بیویوں کو ان کی اردھانجلی یعنی نصف شکتی کہاجاتا ہے ۔اس سہ حرفی دور میں آر سے ہندی میں اردھ۔ فارسی میں ارد عربی میں ارض اورانگریزی میں ارتھ کے الفاظ بن گئے ۔ چنانچہ تاریخ میں لفظ آریا صرف زراعت کاروں کے لیے صحیح ہے جب کہ غلط العام کے طورپر یہ لفظ ان لوگوںپر چسپاں کیاگیا جو آریا تھے ہی نہیں بلکہ آریوں کے جدی پشتی دشمن اساک خانہ بدوش تھے ، اساک بمعنی گھوڑے والے جن کو یونانیوں نے ’’سیتھین‘‘ سائیتھین لکھا ہے ، اساک ، سک ، سکت ، سکتیں اورسائتھین۔

ایرانی ان کو ’’تورانی‘‘ کہتے ہیں اورہندی کشتری (کش توری) چنانچہ آریا صرف ایرانی تھے، باقی جہاں جہاں بھی یہ خانہ بدوش گئے اورآباد ہوئے ،اساک تھے اورآریا کے غلط العام نام سے مشہور ہوئے بلکہ کیے گئے اوراس کی بھی وجہ موجود ہے ،عام طورسیدھی سادی اورسمجھ میں آنے والی بات ہے کہ نقل مکانی ، کوچ ، ہجرت اوریہاں سے وہاںجانے کی ضرورت جانورپالوں کو رہتی ہے ۔یوں کہیے کہ انسانوں کے ان دونوں گروہوں کی اپنی اپنی مجبوری ہوتی ہے ،زراعت کے پیٹ بھرنے کاذریعہ زمین ہوتی ہے اورجانورپال کا گزربسر جانور پر ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارت سے شکست کے باوجود قومی ٹیم کی بیٹنگ میں ریکارڈ شراکت

Published

on



ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میں بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھائی تاہم بیٹنگ میں آخری وکٹ میں شراکت کا ریکارڈ توڑ دیا۔

کولمبو میں کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو بھارت کے ایشان کشن نے شان دار بیٹنگ کی اور پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستانی بیٹرز نے ناقص کارکردگی دکھائی اور صاحبزادہ فرحان کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد دیگر بیٹرز بھی مسلسل آؤٹ ہوتے رہے تاہم عثمان خان نے ٹیم کو 100 کا ہندسہ عبور کرنے کا موقع فراہم کیا۔

پاکستان کے 7 بیٹرز دہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکے اور 3 بیٹرز صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان نے سب سے زیادہ 44 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، شاداب خان نے 15 گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 14 رنز بنائے۔

بھارت کے 175 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہوئی، جس میں آخری وکٹ کی شراکت میں شاہین شاہ آفریدی اور عثمان طارق نے 17 رنز کی شراکت کی جو ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کا ریکارڈ ہے، عثمان طارق کے صفر پر آؤٹ ہونے کے باوجود شراکت کا ریکارڈ بن گیا ہے۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے دسویں وکٹ میں محمد آصف اور سعید اجمل نے 6 مئی 2010 کو انگلینڈ کے خلاف 15 رنز بنا کر آخری وکٹ میں بڑی شراکت کا ریکارڈ بنایا تھا۔

بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے اس میچ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت شاداب خان اور عثمان خان نے 35 گیندوں پر 39 رنز کی شراکت بنائی تھی، جس میں عثمان کے 22 گیندوں پر 26 اور شاداب خان کے 13 گیندوں پر 13 رنز شامل تھے۔

بابراعظم اور شاداب خان نے 21 جبکہ فہیم اشرف اور شاہین شاہ آفریدی نے 19 رنز کی شراکت بنائی تھی۔

ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ محمد رضوان اور بابراعظم کا انگلینڈ کے خلاف پہلی وکٹ میں ناقابل شکست 203 رنز ہے اور سرفہرست پانچ بڑی شراکت کا ریکارڈ بھی انہی دونوں بیٹرز کے پاس ہے۔

بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے محمد رضوان اور بابراعظم نے 24 اکتوبر 2021 کو دبئی میں 152 رنز بنا کر سب سے بڑی شراکت قائم کی تھی۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا

Published

on



حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation

Published

on


وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔

 

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ ویانا پہنچے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر ویانا پہنچ گئے ہیں اور ویانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آسٹریا کی مسلح افواج کے دستے نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو سلامی پیش کی۔

وزیرِ اعظم آسٹرین چانسلر کرسچئین اسٹاکر سے دو طرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے، وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے چانسلر دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے معروف کاروباری افراد کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

وزیرِاعظم پاکستان آسٹریا بزنس فورم میں شرکت اور خطاب کریں گے، وزیرِاعظم ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ “پائیدار ترقی، عالمی امن و خوش حالی کا راستہ” کے موضوع پر خصوصی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔

علاوہ ازیں وزیرِاعظم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹرجنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending