Connect with us

Today News

ریاست مدینہ والا کبھی کہتا ہےآنکھ میں درد ہے کبھی کہتا ہے دودھ نہیں ملتا، آصف زرداری

Published

on



صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے لیڈر کا کام عوام اور پارٹی کو بچا کر لڑنا اور جیل جانا ہوتا ہے، آج ایسے لیڈر ہیں جنہیں جیل میں ڈیڑھ سال نہیں ہوا، ان کی ہمت نہیں کبھی کہتا ہے میری آنکھ میں درد ہے کبھی کہتا ہے دودھ نہیں ملتا۔

رحیم یارخان میں چانگ ہاؤس نواز آباد میں صدر آصف علی زرداری نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں سیاست سمجھ کر مخالفت اور مقابلہ کرنا ہے، جمہوریت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا ہے کہ آپ ہتھیار اٹھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہر جگہ میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ آپ کا ہتھیار اٹھانا ان کا فائدہ اور آپ کا نقصان ہے، کیونکہ مرنے والے آپ کے ہیں لیکن وہ جو آپ کو ورغلانے والے ہیں، جو آگ لگانے والے ہیں وہ پاکستان کی حیثیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، انفارمیشن انقلاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان اسی لیے بنایا ہے کہ مودی جیسے حکمران ہوں گے، خدانخواستہ پاکستان نہ بنتا تو سوچو ہماری کیا حالت ہوتی، اب ہم نے تاریخ سے سیکھا ہے کہ اپنی دھرتی اپنا ملک اپنی چیز ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں، عیسائی اور کسی سے پوچھیں وہ بھارت سے خوش نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے سیکولر بھارت کی حمایت اور وفاکی تھی لیکن وہ سیکولر بھارت نہیں رہا اب وہاں ہندو راج آیا ہے، ان کی سوچ بدل گئی ہے اور لوگوں کو دھرم اور مذہب پر تقسیم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اکثر کہتا ہوں ٹھیک ہے میں جیلوں میں رہا ہوں، تکلیفیں کاٹی ہیں لیکن اللہ کا کرم ہے میں اپنی جیلوں میں تھا، ٹھیک ہے سیاست میں ہوتا ہے، لیڈر کا کام لڑنا اور جیلوں میں جانا ہے کیونکہ عوام اور پارٹی کو بچا کر رکھنا ہوتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ آج ایسے لیڈر ہیں جنہیں جیل میں ڈیڑھ سال نہیں ہوا، میں نے کہا تھا دو سال بعد جیل حال احوال پوچھتی ہے، تو یہ ان کی بھڑکیں دکھانے اور بولنے کی ہیں، یہ قربانی نہیں دے سکتے، ان کے پاس ہمت ہی نہیں ہے، یہ صرف باتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مجھ سے زیادہ بہتر اسپیکر ہوں، وہ تو پروفیسرز بھی بہتر اسپیکرز ہیں تو ان کو سیاست میں لے کر آئیں، لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں، پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی اور سیاسی پارٹی نہیں ہے جس کے ساتھ لوگ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہیں جو جارحیت، لڑ کر اور خون کر کے سیٹیں لیتے ہیں، اپنے حلقے میں دھونس جماتے ہیں تو یہ عزت نہیں ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں حکومت میں اس دفعہ بھی پیش کش تھی لیکن ہم نے خود نہیں لی اور کہا آپ رکھیں، ملک چلائیں اور ملک کو بنائیں ہم آپ کی مدد کریں گے اور جس حد تک ہوسکتا ہے ہم مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ساڑھے 14 سال قید کاٹی ہے تو وہ کارکنوں کے زور پر کاٹی ہے، ریاست مدینہ والا کبھی کہتا ہے میری آنکھ میں درد ہے، کبھی کہتا ہے دودھ نہیں ملتا ، بیٹا جیل جیل ہے، جیل میں نہ پانی اور نہ دودھ ہے، روزہ رکھیں ویسے بھی ریاست مدینہ بنانے والا ہے، جیلوں میں عبادت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ نیازی پہلے اپنے ٹائیگر کی بات کرے، چار سال ہمیں کسی کام کا نہیں سمجھا گیا، جب وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔

کارکنان کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ عام عوام کی خدمت کی سیاست کی ہے، یہاں میڈیکل یونیورسٹی بھی قائم کرنا چاہتے ہیں، آپ اور آپ کی نسلیں ہمارا سرمایہ ہیں ہر ممکن مدد کریں گے، یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم اور مخدوم احمد محمود کو گورنر بنایا۔

صدر مملکت نے کہا کہ وسیب کے عوام کو آئندہ بھی نمائندگی اور مواقع دیں گے، زمینوں کو پانی اور جدید زرعی سہولیات فراہم کریں گے کیونکہ زراعت بہتر ہوگی تو کسان خوش حال ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو واپسی سے روکا گیا مگر وہ شہادت کے لیے وطن آئیں، ہمیں گولیوں سے نہ ڈراؤ ہم نہیں ڈرتے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ بلوچستان کی معدنیات پر دشمن کی نظر، دہشت گردی کی سازشیں جاری ہیں، بھٹو کو چہرے سے نہیں، کاموں سے یاد رکھا جاتا ہے، جتنا جھکو گے اتنی عزت بڑھے گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب میں مستحق خاندانوں کیلئے اربوں کے فنڈز جاری

Published

on


وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر 20 ارب روپے کے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں۔

مستحق خاندانوں کے گھروں کی تعمیر کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے۔ اب تک1 لاکھ 21 ہزار سے زائد خاندانوں کوبلاسود قرض فراہم کیے جا چکے ہیں۔

مزید برآں 26 ہزار سے زائد خاندانوں کو فوری اقساط جاری کی جاسکیں گی جبکہ صوبہ بھر میں اس وقت 43 پزار سے زائد گھر زیر تعمیر ہیں۔ اب تک 172 ارب روپے سے زائد پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر کے لیے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ اب تک 6 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کامیابی سے کی جاچکی ہے، 1لاکھ 12ہزار سے زائد خاندانوں کو تعمیر مکمل کرنے کے لیے دوسری قسط کا اجرأ کیا جا چکا ہے۔ 5 سال میں 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مکمل کیا جائے گا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام سے بڑی تعداد میں مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ قرضہ جات کی فراہمی کا عمل آسان اور شفاف رکھا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاور ڈویژن نے مستقبل میں سبسڈی سے متعلق پلان تیار کر لیا

Published

on



پاور ڈویژن نے مستقبل میں سبسڈی سے متعلق پلان تیار کر لیا، آئی ایم ایف وفد کو حالیہ ٹیرف سے متعلق ری اسٹرکچرنگ اور سبسڈی پر بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق مستقبل میں صرف مستحق صارفین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے یہ سبسڈی دی جائے گی اور بی آئی ایس پی سے ڈیٹا لیکر ماہانہ انکم کو مد نظر رکھتے ہوئے سبسڈی دی جائے گی۔

پاور ڈویژن نے بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کے ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔

مستقبل میں صارفین سے بجلی کی پوری قیمت وصول کی جائے گی۔ کراس سبسڈی یا دیگر صارفین یا شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ مستحق صارفین کو صرف بجٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔

ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس کے شعبے میں بھی کراس سبسڈی کو ختم کیا جائے گا اور گیس کے شعبے کی کراس سبسڈی کو آئندہ بجٹ میں رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ گیس کے شعبے کی 225 ارب روپے کی کراس سبسڈی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

بونڈی بیچ حملہ کیس: مرکزی ملزم ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش

Published

on


سڈنی: آسٹریلیا کے علاقے بونڈی بیچ میں مبینہ فائرنگ واقعے کے مرکزی ملزم نوید اکرم پیر کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ ان کی پہلی عوامی پیشی تھی جو دسمبر میں پیش آنے والے مہلک حملے کے بعد عمل میں آئی۔

استغاثہ کے مطابق نوید اکرم اور ان کے والد ساجد اکرم پر حنوکہ کی ایک تقریب پر حملے کا الزام ہے۔ پولیس کارروائی کے دوران ساجد اکرم ہلاک ہو گئے تھے۔

نوید اکرم پر دہشت گردی، 15 افراد کے قتل، متعدد افراد کو قتل کی نیت سے زخمی کرنے اور دھماکہ خیز مواد نصب کرنے سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

وہ سڈنی کی عدالت میں تقریباً پانچ منٹ تک ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران زیادہ تر قانونی اور تکنیکی امور زیر بحث آئے، جن میں بعض متاثرین کی شناخت کو خفیہ رکھنے سے متعلق احکامات شامل تھے۔

عدالت کے مطابق ملزم نے جج کے سوال پر صرف ایک لفظ “ہاں” کہا۔ ان کی اگلی پیشی 9 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔

ملزم کے وکیل بین آرچبولڈ نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کو سخت حالات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا ملزم جرم قبول کرے گا یا نہیں۔

حکام کے مطابق حملے سے قبل دونوں ملزمان نے نیو ساؤتھ ویلز کے دیہی علاقے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی تربیت حاصل کی اور کئی ماہ تک منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے سے کچھ عرصہ قبل وہ فلپائن کے جنوبی علاقے کا دورہ بھی کر کے واپس آئے تھے۔

یہ واقعہ آسٹریلیا میں تقریباً تین دہائیوں کے دوران پیش آنے والے بدترین اجتماعی حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ملک میں اسلحہ قوانین اور یہودی برادری کے تحفظ سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending