Today News
رمضان کی آمد؛ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا بڑا اعلان سامنے آگیا
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے عوام سے کل بروز منگل چاند دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہادتیں متعلقہ اداروں کو جمع کرائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری اگر دوربین سے بھی چاند دیکھیں تو فوری طور پر قریبی عدالت یا متعلقہ سرکاری ادارے کو اطلاع دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنی شہادت تحریری طور پر بھی درج کروائیں تاکہ رویتِ ہلال کے فیصلے میں آسانی ہوگی۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں بھی چاند دیکھنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری کمیٹیاں متحرک کر دی گئی ہیں۔
عوام کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ ماہرینِ فلکیات کی رائے بھی رویت کے فیصلے میں شامل کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے اگر کل چاند نظر آ گیا تو نیا اسلامی مہینہ اگلے روز یعنی بدھ سے شروع ہو جائے گا جبکہ چاند نظر نہ آنے کی صورت میں شعبان کا مہینہ 30 دن مکمل کرے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں رویتِ ہلال کے فیصلے کو دنیا بھر کے کئی اسلامی ممالک میں بھی اہمیت دی جاتی ہے اور متعدد ممالک اپنے فیصلے انہی اعلانات کی روشنی میں کرتے ہیں۔
Today News
قائمہ کمیٹی کی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پرتنقید
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوارکے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام نے نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر سخت تنقیدکی۔
اجلاس کی صدارت سیدحفیظ الدین نے کی۔ چیئرمین کمیٹی حفیظ الدین نے کہاکہ اس پالیسی میں ترمیم سے حکومت کی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہونگے،جب ریگولیٹر آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کااحترام کرسکتاہے تو صنعتوں اور افراد کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی پر کیے گئے سرمایہ کاری فیصلوں کابھی احترام کیاجاناچاہیے۔
صنعتی یونٹس نے حکومتی پالیسی پر اعتمادکرتے ہوئے سولر نظام نصب کیے،مگر اب اچانک تبدیلی سے وہ شدید ابہام کاشکار ہیں۔کمیٹی ارکان اور سیکریٹری صنعت نے بھی اس خدشے کااظہارکیاکہ اس اقدام سے سرمایہ کاروں کاحکومتی پالیسیوں پر اعتمادمجروح ہوگااورصنعتیں متبادل توانائی اپنانے سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیاکہ نیپراکی جانب سے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی بنیاد کسی جامع اور معقول مطالعے پر مبنی نہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے زوردیاکہ پاکستان کوصنعتوں کیلیے شمسی اور صاف توانائی کے فروغ کی ضرورت ہے، جس سے طویل مدت میں کاروباری لاگت کم ہو سکتی ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں وزارت صنعت و پیداوارکے مختلف محکموں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کاجائزہ اور منظوری بھی شامل تھی،جانچ پڑتال کے بعدکمیٹی نے متعددمنصوبے مستردکرتے ہوئے پلاننگ کمیشن سے ان کی مانیٹرنگ رپورٹس طلب کر لیں،منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر ارکان نے برہمی کااظہارکیا۔
ڈاکٹر مہرین بھٹو نے کہاکہ اگرچہ کووڈ،ڈالر بحران اور حکومت کی تبدیلی کے اثرات کو نظر اندازنہیں کیاجاسکتا، تاہم بیشتر منصوبے 6 سے 9 سال کی تاخیرکاشکار ہیں اورکمیٹی کودی جانیوالی بریفنگز نامکمل ہوتی ہیں۔
Today News
حسب ضرورت… (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
’’ بڑا پیارا سوٹ پہنا ہوا ہے تم نے نسرین!‘‘ میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی، باقی باتیں جو ختم ہو گئی تھیں۔ اکثر آپ کو خواتین کی محفل میںکپڑوں اورجوتوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی موضوع نہیں ہوتا حالانکہ اس سے پہلے وہ تمام موضوعات جن پر انھیں عبور حاصل ہے، پر حسب توفیق گفتگو کر چکی ہوتی ہیں۔
’’ بہت بہت شکریہ، تمہیں واقعی پسند آیا یا ایسے ہی میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حسب عادت سوال کیا۔
’’ نہیں واقعی بہت اچھا ہے۔‘‘
’’ میں نے فلاں برانڈ سے لیا تھا، سلمان تو کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر مجھے پتا تھا کہ یہ سل کر اچھا لگے گا، مردوں کو کہاں کپڑوں کا پتا ہوتا ہے، ان کی ماننے لگو تو جانے کیسے اونترے اونترے سے کپڑے پہننے لگو گے۔ سارا کمال تو میرے درزی کا ہے، اس نے ہی سارے ششکے کر کے اس جوڑے کو اتنا کمال کا بنا دیا ہے۔ سلائی تو زیادہ لیتا ہے مگر کام اچھا کرتا ہے۔
سادہ سلائی کا جوڑا تین ہزار روپے میں سیتا ہے مگر میرا کوئی جوڑا عام ہوتا کہاں ہے سو وہ میرے جوڑے چھ سات ہزار سے کم میں نہیں سیتا۔ اوپر سے کمال دیکھو اپنی سہیلی کا کہ سر سے پاؤں تک میچنگ سے میں ہر جوڑے کی کافی ٹشن نکال لیتی ہوں، پرس تو خریدنا پڑتا ہے مگر جوتے تو میں اپنے جوڑوں کے میچنگ خود بنواتی ہوں، اسی لیے تو اتنا اچھی میچنگ ہوتی ہے۔ ( اس کے کہنے پر میں نے دیکھا تو واقعی جوتے اس کے قمیض کے کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔ میاں کے پاس پیسہ ہو تو پھر بیویوں کے ایسے نخرے تو بنتے ہیں۔‘‘ اس نے شاید میرے سادہ سے جوڑے پر طنز کیا تھا، مجھے خود پر غصہ بھی آیا کہ یوں ماسیوں والے حلیے میں کامکار چھوڑ کر، مال آجانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔
نسرین اور میں اس روز مال میں اتفاقاً ہی مل گئے تھے، ہم دونوں ہی اس وقت تنہا تھیں اور پندرہ بیس سال کے بعد کی ملاقات کو ہم یوں سرراہ کیسے سلام دعا کر کے ختم کر دیتے سو دونوں ایک کافی شاپ میں جا کر بیٹھیں اور کافی آرڈر کر دی۔ باقی تعارفی باتیں کھڑے کھڑے ہو گئی تھیں تو بیٹھ کر میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی تھی۔ ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے۔
اس نے ایک سوال کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ میںنے اس کا کیا جواب لکھا تھا۔ میں نے بتایا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… ’’ کیا تم نے ارکان اسلام کا جواب صرف پانچ الفاظ میں لکھاہے؟‘‘’’ ہاں ، کلمہ، نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج!!‘‘ میںنے اسے بتایا۔’’ اور تمہیں لگتا ہے کہ اس جواب پر تمہیں پورے نمبر مل جائیں گے؟‘‘ اس نے طنز سے کہا۔ ’’ اچھا اب بتاؤ کہ تم نے پاکستان کے موسموں والے سوال کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘ اسے یونہی عادت تھی کہ کمرہء امتحان سے باہر نکل کر کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے ایسے سوال کرتی تھی اور انھیں طنز سے کہتی کہ وہ تو مشکل سے ہی پاس کر پائیں گے۔’’ میںنے لکھا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں، موسم سرما، موسم گرما، موسم بہار اور موسم سرما۔‘‘ میں نے بتایا تو اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آگئے۔
’’ ایک تو جواب اتنا مختصر، اوپر سے ترتیب بھی غلط!‘‘ اس نے ہنسی کے درمیان کہا۔
’’ جتنا سوال تھا، اتنا ہی میں نے جواب لکھ دیاحسب ضرورت اور ترتیب سے لکھنے کو تو کہا بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ ’’ تم بالکل بے وقوف ہو، حسب ضرورت تو یوں کہہ رہی ہو جیسے تم نے خرید خرید کر لکھنا تھا، بھئی مفت میں لکھنا ہوتا ہے تو حسب توفیق لکھا کرو، حسب خواہش لکھا کرو۔ زیادہ لکھنے سے امتحانی پرچہ چیک کرنے والا متاثر ہوتا ہے اور زیادہ نمبر دیتا ہے۔‘‘ اس کی منطق نرالی تھی میںبحث نہیں کرتی تھی اور جب نتیجہ آیا تو میرے زیادہ نمبر آنے کا سن کر تو اس نے رو رو کر دریا بہا ڈالے کہ میں نے جو پرچہ چار شیٹ پر حل کیا تھا اس نے دس شیٹ پر حل کیا تھا۔
(جاری ہے)
Today News
کراچی، فائرنگ سے آٹھویں جماعت کا طالبعلم سمیت دو افراد جاں بحق، اہلخانہ کا احتجاج کا اعلان
کراچی:
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع پی آئی اے سوسائٹی گیٹ نمبر تین کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔
چھیپا حکام کے مطابق دونوں افراد کو زخمی حالت میں فوری طور پر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 22 سالہ شارون مسیح ولد افضل اور 30 سالہ طلحہ ولد قاسم شاہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی ہے جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق شارون مسیح نانی کے گھر سے واپس آیا تھا اور گھر کے قریب دودھ لینے نکلا تھا کہ اچانک فائرنگ کی زد میں آ گیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ شارون قریبی انگلش میڈیم اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ واقعے کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا۔
اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ لاش کے ہمراہ احتجاج کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech6 days ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Tech3 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s