Connect with us

Today News

سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 روز میں نمٹانے کا فیصلہ

Published

on



چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں لا اینڈ جسٹس کمیشن کا 47واں اجلاس ہوا جس میں عدالتی امور پر غور کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق لا اینڈ جسٹس کمیشن نے سزائے موت، عمر قید کے مقدمات 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کیا جس کے تحت آئندہ سوا ماہ میں تمام کیسز کو نمٹایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق انصاف سے محروم شہریوں کے لیے مفت قانونی مشورے کا جامع فریم ورک تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ کو ہائی کورٹز اور بار کے تعاون سے عمل درآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔

اجلاس میں ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے ذریعے فنڈنگ کے امکانات پر غور کیا گیا جبکہ خاندانی قوانین، کریمنل پروسیجر اور ای فائلنگ سمیت دیگر اصلاحات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں انکلوسیو اور ریسپانسیو قانون سازی کے عزم کے ساتھ عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی توثیق کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 9 تا 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔

اعلامیہ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد سے زیادہ رہی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار انداز اپناتے ہوئے نمٹانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیل پٹیشنز کی دائر درخواست کے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مرد سیاحوں کو نہر میں پھینک کر خواتین سے زیادتی؛ درندہ صفت ملزمان کا عبرتناک انجام

Published

on


بھارتی عدالت نے غیر ملکی سیاحوں پر حملے، زیادتی اور قتل کے الزام میں تین ملزمان کو سزائے موت سنادی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جن تین ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی گئی ہے ان میں 27 سالہ شرن نپا، 22 سالہ ملیش اور 21 سالہ سائی شامل ہے۔

یہ تینوں 6 مارچ 2025 کی رات موٹر سائیکل پر معروف سیاحتی مقام سنابپور جھیل پہنچے تھے جہاں 5 سیاح رات میں تارے دیکھنے جمع ہوئے تھے۔

ملزمان نے سیاحوں سے پٹرول پمپ کا راستہ پوچھنے کے بہانے ان کے قریب گئے اور پھر ان سے پیسے مانگنے لگے تھے۔

سیاحوں نے انھیں منہ مانگی رقم نہیں دی تو ملزمان مشتعل ہوگئے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ مرد سیاحوں کو جھیل میں دھکیل دیا۔

جن میں سے دو مرد سیاح تیرتے ہوئے دوسرے کنارے تک بحفاظت پہنچنے میں کامایب ہوگئے لیکن ایک ڈوب کر ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی دوران تینوں ملزمان نے دونوں سیاح خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور پھر ان کے موبائل فونز اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے تھے۔

جن خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ان میں سے ایک 27 سالہ اسرائیلی جب کہ دوسری 29 سالہ بھارتی میزبان تھیں جن کے گھر مہمان سیاح ٹھہرے ہوئے تھے۔

تین مرد سیاحوں میں امریکی سیاح 23 سالہ ڈینیئل پٹاس، بھارتی سیاح 42 سالہ پنکج پٹیل اور 26 بیبش کمار نائیک شامل ہیں۔

ان میں سے بیبش کمار نائیک کا تعلق بھارتی ریاست اڑیسہ سے تھا جنھیں جھیل میں دھکا دیا گیا تھا اور وہ ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کیس نے مودی سرکار کا بدنما چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب کردیا تھا اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث ہی یہ کیس تیزی سے حل کیا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے

Published

on



کولمبو:

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں واقعی آنسو تھے، پریماداسا اسٹیڈیم میں میچ کے بعد گرین شرٹ پہنے اس لڑکے کو تسلی دینے کیلیے جب میں آگے بڑھنے لگا تو اس سے پہلے ہی شاید اس کے دوست یا کزن جو بھی تھے وہ آگئے ،او تم رو رہے ہو ہا ہا کب بڑے ہو گے، ہار گئے تو ہار گئے چھوڑو اب رونا دھونا۔

اس نے غصے سے انھیں گھورا اور کہا کہ میں رو نہیں رہا آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا، چلو اب ہوٹل چلتے ہیں، یہ کہہ کر وہ تو چل دیے لیکن میں جانتا تھا کہ اتوار کی شب ملک سے محبت کرنے والے بہت سے پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ 

کوئی مذاق اڑانے سے بچنے کیلیے آنکھ میں کچھ جانے کا بہانہ کر رہا ہو گا اور کسی نے آنکھوں سے باہر آنسو نہیں آنے دیے ہوں گے کہ لوگ کیا کہیں گے، خواتین تو رو لیتی ہیں مردوں کو یہ لبرٹی حاصل نہیں، کرکٹ کے شائقین کو سب برداشت ہے لیکن انڈیا سے ہار نہیں۔ 

مجھے سری لنکا میں ہی پاکستان سے کال آئی کہ ہمیں بڑی امیدیں تھیں لیکن افسوس آپ بھی پی سی بی کو کچھ نہیں کہتے، ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو ,,گلوری فائی,, کر رہے ہوتے ہیں، صرف کھلاڑیوں پر ہی زورچلتا ہے۔ 

میں نے کہا شاید آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن کیوں اس کی وجہ بھی جانتے ہیں،ویسے ہم بہت عجیب ہیں اتنے عجیب کہ خیالی پلاؤ بھی بناتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ خواب میں بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، جو ٹیم ایشیا کپ میں انڈیا سے مسلسل تین میچز ہار گئی، جسے نیدرلینڈز کو زیر کرنے کیلیے ناکوں چنے چبانے پڑے۔ 

ہمیں لگا انڈین سائیڈ خود فتح پلیٹ میں رکھ کر اسے پیش کر دے گی،میچ سے قبل کیا ہوا؟ ایک سابق اسٹار نے کہا اس بارمجھے ٹیم بہت مضبوط لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے، دوسرے نے کہا کہ سری لنکن کنڈیشنز سے ہم آہنگی حاصل ہو چکی، انڈین ٹیم تو ابھی وہاں پہنچی ہے انھیں پچ کا کچھ پتا نہیں اس لیے ہم جیت جائیں گے۔ 

تیسرے نے کہا کہ ہمارے اسپنرز کمال کے ہیں ہم جیت جائیں گے، چوتھے نے کہا ایسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، پانچویں نے کہا ویسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، ہم سے ٹی وی پر اینکر نے پوچھا تھا سلیم صاحب کیا لگتا ہے،میں نے جواب دیا ارے جناب مجھے تو ٹیم بہت اچھی لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے۔. 

کسی اور میڈیا والے سے ٹی وی پر پوچھا تو اس نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم جیت جائیں گے، البتہ دل میں ہم جانتے تھے کہ بھائی کیسے جیت جائیں گے، ہمارے پاس اسپنرز ہیں تو انڈیا کے پاس بھی تو ہیں، ہمارے پیسرز آؤٹ آف فارم ہیں مگر انڈیا کے تو فارم میں ہیں ہماری بیٹنگ کچھ نہیں کر رہی مگر انڈینز تو ہر حریف کو ہراتے چلے آ رہے ہیں، ایسے میں کیسے جیت جائیں گے،

کیا فہیم اشرف کے چھکوں سے جیتیں گے یا صائم ایوب کے نو لک شاٹ سے جیتیں ہیں، ہمارے پاس دنیا کی سب سے عجیب و غریب ٹیم ہے،2 پیسرز میں سے ایک فہیم کی بولنگ پر ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں اور انھیں گیند ہی نہیں تھمائی جاتی،ہاں وہ کبھی کبھار چھکے لگا دیتے ہیں۔

 دوسرے پیسر شاہین کی فارم روٹھ گئی ہے اور انھیں اب آرام کرنا چاہیے، صائم سے جارحانہ بیٹنگ کی توقع ہوتی ہے اور وہ وکٹیں لے رہے ہیں، بابر اعظم کا دور لگتا ہے اب ختم ہو گیا اور کتنے سال ان کو بڑے اسکور کی آس میں کھلایا جاتا رہے گا، کم از کم ٹی ٹوئنٹی سے تو وہ ریٹائر ہی ہو جائیں تو مناسب رہے گا۔

صاحبزادہ فرحان سے بڑی توقعات تھیں وہ بھی کچھ نہیں کر سکے، سلمان نے کپتان بننے کے بعد اتھارٹی منوانا شروع کر دی اور سابقہ کپتانوں کی طرح من پسند بیٹنگ پوزیشن پر قابض ہو گئے۔

چلیں ٹھیک ہے مگر اسکور بھی تو کریں ناں،عثمان خان کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا کہ وہ اس لیے تھوڑے رنز بنا گیا کیونکہ انڈیا نے اس پر ورک ہی نہیں کیا، جو پلیئر ہر میچ میں صفر پر آؤٹ ہو رہا ہو اس سے بھلا کوئی حریف کیوں ڈرے گا،انھیں ہیرو بننے کا اچھا موقع ملا تھا جو گنوا دیا۔

 ہمارے آل راؤنڈرز بھی ایسے ہیں کہ وہ خود اپنے نام کے سامنے یہ لکھا دیکھ کر شرما جاتے ہوں گے کہ او اچھا ایسا ہے، انھیں پتا ہی نہیں کہ بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ، بعض تو دونوں ہی شعبوں میں ناکام ہیں۔

آل راؤنڈر عمران خان،وسیم اکرم، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، اظہر محمود تھے، جنھوں نے ٹیم کو میچز بھی جتوائے، کولمبو میں پاکستانی ٹیم کو سری لنکنز کی بھی حمایت ملی۔

 ایک صاحب کو گرین شرٹ میں دیکھ کر جب میں نے  اردو میں کچھ کہا تو جواب ملا میں بنگلہ دیشی ہوں انگریزی میں بات کریں اردو زیادہ نہیں آتی، ان کے ہاتھ میں جتنا بڑا پاکستانی پرچم تھا شاید ہم یوم آزادی پر اپنے گھر میں بھی نہیں لگاتے ہوں گے،

کوئی پاکستانی لندن، دبئی تو کوئی امریکا سے میچ دیکھنے آیا تھا، البتہ اس سپورٹ کا کوئی فائدہ نہ ہوا کھلاڑی اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ ان سے بیٹنگ ہی نہ ہو سکی، وہ تو شکر کریں کہ ٹیم کی سنچری بن گئی،کیا صاحبزادہ میں دم نہیں،

کیا صائم باصلاحیت نہیں، کیا بابر ختم ہو چکا، کیا سلمان کچھ نہیں کر سکتا؟ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن انڈیا سے کھیلتے ہوئے  نجانے سب کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول جاتے ہیں، ماہر نفسیات کھلاڑیوں کیلیے تو کچھ نہیں کر سکے شاید وطن واپس جا کر خود انھیں ہی سیشنز لینے پڑیں۔ 

اب نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکا بھی پوائنٹس ٹیبل پر ہم سے آگے ہے، ہاں ہاں مجھے یاد ہے امریکا نے ہمیں گزشتہ ورلڈکپ میں ہرا دیا تھا، اب نمیبیا سے میچ جیتنے کی دعائیں کرنا پڑیں گی،

سوشل میڈیا دیکھنا میری مجبوری ہے لیکن انڈینز نے وہ طوفان بدتمیزی مچایا ہوا ہے کہ کیا بتاؤں،ظاہر ہے ہم ہارے جو جا رہے ہیں تو انھیں موقع مل گیا ہے، ہماری فوج نے انھیں جنگ میں ہرا دیا، ان کے کئی رافیل گرا دیے، دنیا بھر میں ہمارے نام کا ڈنکا بج گیا لیکن کرکٹ میں ہم کچھ نہیں کر پاتے۔

کاش یہاں بھی کوئی ایسا تگڑا کپتان مل جائے جو کسی انسان سے نہ ڈرے اور ہر حریف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، کاش کرکٹ میں بھی بہادر ائیرفورس کے پائلٹس جیسے جی دار کھلاڑی مل جائیں جو وکٹیں اڑائیں اور رنز بنائیں،

جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم کچھ نہیں کر سکتے، آپریشن کے نام پر پلیئر اے کو نکالیں گے، بی کو لے آئیں گے، پھر اگلی ہار پر اے واپس آ جائے گا اور بی باہر ہوگا، شائقین کی بھی یہی سوچ ہے،وہ بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں،انھیں جو باہر ہو وہ اچھا لگتا ہے پھر واپس آ جائے تو دوبارہ باہر نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کون سے بریڈ مین، میلکم مارشل یا شین وارن ہمارے پاس موجود ہیں جنھیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا،میں اس وقت فلائٹ میں بیٹھ کر یہ لکھ رہا ہوں, باقی باتیں انشااللہ اگلے کالم میں ہوتی ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)





Source link

Continue Reading

Today News

سانحہ گل پلازہ: بروقت امداد نہ ملنے سے نعشوں کے ڈھیر لگ گئے

Published

on


شہرِ قائد ایک بار پھر آگ، چیخوں، دھوئیں اور لاشوں کے سائے میں ڈوب گیا۔ گل پلازہ میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک کمرشل عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی نااہلی، ناقص شہری منصوبہ بندی، کمزور نگرانی اور انسانی جانوں سے مجرمانہ غفلت کی ایسی لرزہ خیز مثال بن کر سامنے آیا جس نے پورے کراچی کو سوگوار کر دیا۔

ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 72 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے ، باقی لا پتہ افراد کے اہلخانہ سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئیں لیکن وہ نہیں آئے۔ جاں بحق 72 افراد میں سے 69 افراد کی باقیات اہلخانہ کے سپرد کی جاچکی ہیں۔ 3 جاں بحق افراد کی باقیات تاحال ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔ سانحہ گل پلازہ گزشتہ ماہ 17 جنوری بروز ہفتہ، رات سوا دس بجے کے قریب پیش آیا۔ اس وقت گل پلازہ میں خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ میزانائن فلور پر قائم مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ میں ماچس یا لائٹر کے استعمال سے آگ بھڑکی، جس نے چند ہی لمحوں میں پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حیرت انگیز اور تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ انتظامیہ ایک دکان میں لگنے والی آگ پر بروقت قابو نہ پا سکی۔ عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 12 منٹ کے اندر پوری عمارت شعلوں کی زد میں آ گئی۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اور کالا دھواں پورے علاقے پر چھا گیا۔

چند لمحوں میں گل پلازہ ایک دہکتے ہوئے انگارے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آگ کے وقت پلازہ میں دکانداروں، ملازمین اور خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ دھواں بھرنے کے باعث سانس لینا محال ہو گیا۔ بجلی کی بندش اور عمارت سے باہر نکلنے والے متعدد راستوں کی بندش نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ حدِ نگاہ ختم ہو گئی، لوگ اندھیرے اور دھوئیں میں ایک دوسرے سے بچھڑتے چلے گئے۔ کئی افراد مارکیٹ کی بھول بھلیوں میں راستہ بھٹک کر پھنس گئے اور بے بسی کے عالم میں ایسی موت کا شکار ہو گئے جس کا تصور بھی شاید انہوں نے کبھی نہ کیا ہو۔

سانحہ کے بعد گل پلازہ کی مینجمنٹ کمیٹی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، آگ سے بچاؤ اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آخر کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ انکشاف ہوا کہ گل پلازہ میں نہ فائر الارم نصب تھا اور نہ ہی اسپرنکلر سسٹم موجود تھا۔ حادثے کے فوراً بعد شہر کا سیاسی ماحول بھی شدید گرم ہو گیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فوری استعفوں کا مطالبہ کر دیا۔ سانحے کے بعد ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے دفتر میں لاپتہ افراد کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا۔ یہاں جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ انسان کے دل کو چیر دینے والے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔ جلنے والی دکانوں کے مالکان کے لیے ریلیف پیکیج اور گل پلازہ کی نئی عمارت کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا۔

کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ سانحے کے دوران گل پلازہ کی عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ملبے تلے دبنے سے کے ایم سی کا فائر فائٹر فرقان علی فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو گیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گل پلازہ کی باقی ماندہ عمارت کو بھی مخدوش قرار دے کر گرانے کا حکم جاری کر دیا، جبکہ زمین بوس حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تنقید فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں پر کی گئی۔ شہریوں اور متاثرین کا الزام ہے کہ آگ لگنے کے باوجود فائر بریگیڈ بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔

جو گاڑیاں پہنچیں وہ ناکافی آلات اور پانی کی شدید کمی کا شکار تھیں۔ واٹر ٹینکرز سے فراہم کیا جانے والا پانی بھی تاخیر سے پہنچا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی ایک گھنٹے میں مؤثر ریسکیو آپریشن کیا جاتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ عمارت میں پھنسے افراد مدد کے لیے پکارتے رہے، مگر نظام کی بے حسی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔

سانحے کی چشم دید گواہ بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں یاسمین اور بیٹی عائشہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیس سال کی جمع پونجی صرف بیس منٹ میں جلتے ہوئے دیکھ لی۔ ان کے مطابق بیسمنٹ میں اعلان کیا گیا کہ اپنی دکان بند کر کے فوراً باہر نکلیں، اوپر آگ لگ چکی ہے۔ جب وہ اپنی والدہ اور ملازمین کے ساتھ باہر نکلیں تو ہر طرف دھواں اور شعلے تھے، ہر سمت بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ان کی بیسمنٹ میں گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نبی بخش پولیس نے واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او نبی بخش کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل بالسبب سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا اور مزید تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دی گئی۔

کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر دی گئی۔ پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ بعد 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو 10 بج کر 30 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیم 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچی۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ آگ گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ سے لگی۔ سانحے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ حسب روایت چند افسران معطل ہوں گے، ایک اور کمیٹی بنا دی جائے گی اور پھر فائلیں بند ہو جائیں گی، مگر جو لوگ دھوئیں اور آگ کے درمیان دم توڑ گئے، ان کے اہلخانہ کا کرب کون محسوس کرے گا؟۔ سانحہ گل پلازہ آج کراچی کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب بن چکا ہے، لیکن سوال آج بھی وہی ہے کہ کیا ہم نے کچھ سیکھا؟ یا یہ سانحہ بھی ماضی کے حادثات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟ 





Source link

Continue Reading

Trending