Connect with us

Today News

ذوالفقار علی بھٹو سے بلاول بھٹو تک پیپلزپارٹی ہمیشہ مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، صدر مملکت

Published

on



صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی دشمن کو شکست دینے کیلیے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تک اور اب بلاول بھٹو زرداری تک، ہم پاکستان کے دشمنوں کی طرف سے لاحق خطرات کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت بلاول ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی اور صوبائی قیادت کا اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کے اندرونی معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں پارٹی کے ڈویژنل اور ضلعی صدور، پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران اور وسطی پنجاب کے اضلاع کے نو منتخب عہدیداران نے شرکت کی۔

اپنے کلمات میں صدر نے سیاسی مذاکرات اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری مصروفیت انصاف، قومی ہم آہنگی اور ترقی کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو معاشی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارٹی کارکنوں اور قیادت کی جانب سے صبر اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔

صدر نے مشاہدہ کیا کہ زراعت کو مضبوط بنانا اور معاشی استحکام کو سپورٹ کرنا قومی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے اور ان شعبوں پر مسلسل توجہ دینے کو کہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی پی پی اپنے بانی اصولوں اور اپنی تاریخی قیادت کی میراث پر قائم ہے۔

قومی سلامتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ قومی خودمختاری، سالمیت اور پاکستان کی سلامتی ہمیشہ ہماری پارٹی کی بنیاد رہی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تک اور اب بلاول بھٹو زرداری تک، ہم پاکستان کے دشمنوں کی طرف سے لاحق خطرات کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بیرونی ممالک کی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے اتحاد سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دیں گے۔

پی پی پی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں پنجاب میں پارٹی کے نقش کو بڑھانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے صوبے بھر میں نوجوانوں کو شامل کرنے اور پارٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

صدر پیپلز ویمن ونگ سنٹرل پنجاب اور ایم این اے ثمینہ خالد گھرکی نے نچلی سطح پر شمولیت پر زور دیتے ہوئے سیاسی اور کمیونٹی موبلائزیشن میں خواتین کے کردار پر بات کی۔

پی پی پی لاہور کے صدر فیصل میر نے لاہور سے متعلق پارٹی امور کے بارے میں بریفنگ دی اور عوامی مسائل پر پارٹی کے جاری کاموں پر روشنی ڈالی۔

اجلاس کی نظامت سید حسن مرتضیٰ جنرل سیکرٹری پی پی پی سنٹرل پنجاب نے کی جنہوں نے افتتاحی کلمات ادا کیے اور اجلاس کے دوران ڈویژنل صدور اور ضلعی قیادت کا تعارف کرایا



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

محمد شاہد نامی شخص کا سیالکوٹ اسٹالینز سے کوئی تعلق نہیں، حمزہ مجید

Published

on


سیالکوٹ اسٹالینز کے مالک حمزہ مجید کا کہنا ہے کہ محمد شاہد نامی شخص کا فرنچائز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حمزہ مجید نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مبینہ طور پر محمد شاہد نامی شخص کا فرنچائز یا اس کی انتظامی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کے مطابق اس معاملے پر کچھ ابتدائی نوعیت کی بات چیت ضرور ہوئی تھی، تاہم نہ تو پاکستان کرکٹ بورڈ یا پی ایس ایل کو کوئی ادائیگی کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا۔

بیان میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔

انتظامیہ نے زور دے کر کہا کہ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور اسے سیالکوٹ اسٹالینز کے نام سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

سیالکوٹ اسٹالینز اور او زی گروپ کی جانب سے جاری اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ مکمل اعتماد اور استقامت کے ساتھ اپنے منصوبوں پر قائم ہیں۔

حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ ادارہ ہر معاملے میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتا ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فرنچائز کے 76 فیصد شیئرز کے قانونی مالک ہونے کے دعویدار محمد شاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ حمزہ مجید  فرنچائز کے شیئر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو مزید شیئرز بیچنے کا حق نہیں ہے۔

محمد شاہد کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو معاملات سے آگاہ کر دیا ہے، میں اس عمل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں۔

آسٹریلیا میں مقیم بزنس مین محمد شاہد نے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے 76 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش

Published

on


26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے سلسلے میں علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئیں، کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

عدالت کے جج امجد علی شاہ چھٹی پر ہونے کے باعث کوئی کارروائی نہ ہو سکی، عدالت نے آخری دونوں گواہوں تفتیشی افسران کو آئندہ تاریخ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

عدالت پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل جبکہ آئندہ تاریخ ہر صورت عدالت پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔

وکیل صفائی کو دونوں آخری گواہان پر جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، علیمہ خان سمیت تمام 11 ملزمان عدالت میں موجود تھے، علیمہ خان کے گارنٹرز کے جاری شوکاز نوٹس بھی معطل کر دیے گئے۔

سماعت کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھ پر کیس ہے کہ میں نے خان صاحب کا پیغام پہنچایا، خان صاحب اور حامد رضا سمیت دیگر پر کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں، یہ کیسز ایک دن میں ہوا میں اڑ جائیں گے۔

بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے انہیں الشفاء منتقل کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی تب ممکن ہے جب جسٹس سرفراز ڈوگر کیسز کی سماعت کریں۔

چیف جسٹس سے اپیل ہے کیسز سنیں کیونکہ مقرر جج چھٹی پر چلے گئے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوتے ہی ان کی آنکھ کا علاج الشفاء ہسپتال سے کروایا جائے گا، حکومت نے خان صاحب کے ساتھ تماشہ کیا، فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں معائنہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری ملاقات میں خان صاحب نے کہا یہ مجھے ختم کر دیں گے، محسن نقوی نے فیملی اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں علاج کی گارنٹی دی تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا اور ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی۔





Source link

Continue Reading

Today News

Mark Zuckerberg explains in court that he is making children addicted to social media

Published

on


امریکا کے شہر لاس اینجلس میں جاری ایک اہم مقدمے کے دوران میٹا کے بانی مارک زکربرگ عدالت میں پیش ہوئے۔

مارک زکربرگ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کو اپنی جانب راغب کرنے یا ان کا اسکرین ٹائم بڑھانے کے مقصد سے تیار نہیں کیا گیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے زکربرگ سے 2024 میں کانگریس کے سامنے دیے گئے ان کے بیان سے متعلق سوالات کیے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیموں کو ایپس پر صارفین کا وقت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ہدف نہیں دیتی۔ تاہم مدعی کے وکیل نے عدالت میں 2014 اور 2015 کی ای میلز پیش کیں، جن میں ایپس پر صارفین کے گزارے گئے وقت میں نمایاں اضافے کے اہداف کا ذکر موجود تھا۔

اس پر زکربرگ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صارفین کے وقت سے متعلق اہداف ضرور موجود تھے، لیکن کمپنی نے بعد ازاں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کا کانگریس میں دیا گیا بیان درست نہیں تھا تو وہ اس سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ نے عدالت میں پیش ہو کر انسٹاگرام کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق براہِ راست گواہی دی ہے۔

ماہرین کے مطابق لاس اینجلس میں جیوری کے سامنے جاری اس مقدمے کے نتائج کمپنی کے لیے اہم مالی اور قانونی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ کیس ہارنے کی صورت میں ہرجانے کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہ مقدمہ دراصل ان بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا کے بچوں اور کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر اثرات کے حوالے سے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ اسپین سمیت دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending