Connect with us

Today News

انٹرنیشنل کانفرس میں چینی ساختہ روبوٹ کو بھارتی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دینے پر تنازع

Published

on


نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ایک نجی یونیورسٹی کی پروفیسر کی جانب سے چینی ساختہ روبوٹ ڈاگ کو اپنی یونیورسٹی کی ایجاد قرار دینے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سمٹ میں نمائش کے لیے رکھا گیا چاندی رنگ کا روبوٹ ڈاگ دراصل چینی اسٹارٹ اپ کمپنی یونی ٹری کا تیار کردہ ماڈل تھا۔ یہ روبوٹ گیلگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال پر رکھا گیا تھا۔

ٹی وی انٹرویو کے دوران پروفیسر نے روبوٹ کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ اسے یونیورسٹی کے سینٹرز آف ایکسیلینس نے تیار کیا ہے۔

روبوٹ نے کیمرے کے سامنے مختلف حرکات کیں، جن میں ہاتھ ہلانا اور دو ٹانگوں پر کھڑا ہونا شامل تھا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید شروع ہوگئی۔

بعد ازاں یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس نے یہ روبوٹ تیار نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ حال ہی میں تعلیمی مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا ہے اور طلبہ اس پر تجربات کر رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعے کو حکومت پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک عالمی سطح پر مذاق بن گیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم مودی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا

Published

on


پنجاب میں سال 2026 کے پہلے چار ہفتوں میں خسرے کے 1695 مشتبہ مریض سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق خسرے کے لیبارٹری ٹیسٹ سے کنفرم مریضوں کی تعداد 330 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں خسرے کے 40 آؤٹ بریک الرٹس جاری کیے گئے۔

ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب نے خسرے سے متعلق تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی۔ سال 2024 میں پنجاب میں خسرے کے 23 ہزار 680 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے تھے۔

سال 2025 میں خسرے کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 19 ہزار 913 رہی جبکہ سال 2024 میں خسرے کے 6 ہزار 747 کیسز لیب سے کنفرم ہوئے تھے۔ سال 2025 میں خسرے کے کنفرم مریضوں کی تعداد 4 ہزار رہی۔

سال 2024 میں خسرے سے 16 اموات جبکہ 2025 میں 4 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رواں سال خسرے کی صورتحال پر محکمہ صحت کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری اور وزیر صحت کی سربراہی میں متعدد اجلاس ہوئے ہیں۔ خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متعلقہ اضلاع میں سرویلنس تیز کر دی گئی ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ اور اسپتالوں کی سطح پر مانیٹرنگ کا نظام مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست

Published

on


ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم ترین اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والوں میں بابر اعظم سرفہرست ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران بابر اعظم کی پریکٹس سیشن اور میچ میں مختلف مائنڈ سیٹ سے بیٹنگ نے بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک نیٹ سیشن کے دوران نسیم شاہ کی شارٹ گیند کو انہوں نے مڈوکٹ کے اوپر سے کھیلا، جبکہ سلمان مرزا کی آف اسٹمپ سے باہر شارٹ ڈلیوری پر زوردار اپر کٹ لگایا۔

شاداب خان اور ابرار احمد کی لیگ اسپن کے خلاف بھی وہ قدموں کا استعمال کرتے ہوئے شاٹس کھیلتے دکھائی دیے۔

تاہم ایک موقع پر نسیم کی لیگ کٹر پر وہ شاٹ غلط ٹائم کر بیٹھے اور خود پر برہم بھی نظر آئے۔

یہ 20 سے 25 منٹ کا سیشن بابر اعظم کے دو رخ دکھاتا ہے۔

ایک طرف جارحانہ ارادے کی جھلک جبکہ دوسری جانب کسی میچ میں بھی نیٹ جیسی روانی نظر نہیں آئی اور وہی گیندیں میچ میں محتاط انداز سے کھیلی گئیں۔

اپنا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 111.81 ہے، جو سب سے کم اور سابق کپتان محمد حفیظ کے اسٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔

کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا ہے، مگر اب بابر کو میدان میں کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مقبوضہ کشمیر کے فنڈز اترپردیش منتقل؟ بی جے پی پر بڑا الزام

Published

on


مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترقیاتی فنڈز کو بھارتی ریاست اترپردیش منتقل کرنے کے معاملے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ غلام علی کھٹانہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اترپردیش منتقل کر دیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 کروڑ 52 لاکھ روپے میں سے 10 کروڑ 58 لاکھ روپے اترپردیش میں خرچ کیے گئے، جبکہ خطے کو خود شدید اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی یہاں سے منتخب ہو کر بھی دیگر ریاستوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس سے اس کے دعووں اور عملی اقدامات میں تضاد ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کو پہلے ہی معاشی مشکلات اور ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ایسے میں فنڈز کی منتقلی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending