Today News
عوام کی خیر خواہ یہ سیاسی حکومتیں
وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا ہے کہ حکومت نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کے ذریعے ساڑھے تین کروڑ غریبوں کو بچایا ہے اور صرف چار لاکھ 66 ہزار کے قریب صارفین نیٹ میٹرنگ سے فائدہ اٹھا رہے تھے اور پرانے نرخوں پر نیٹ میٹرنگ کے باعث باقی غریب صارفین پر سالانہ دو سو ارب سے زیادہ کا بوجھ پڑ رہا تھا۔ نئی نیٹ میٹرنگ کا مقصد غریب عوام کو تحفظ دینا ہے۔ اس بیان سے لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کے عوام پرکس قدر مہربان ہے اور اس نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی سے عوام کو حکومتی احسانوں تلے دبا دیا ہے۔
موجودہ ہی نہیں ماضی کی بھی تمام حکومتیں عوام کی اتنی ہی خیر خواہ رہی ہیں، جتنی موجودہ (ن) لیگی حکومت ہے جس کے سربراہ عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے آئے دن غیر ملکی دوروں پر رہتے اور حکمرانوں کا رویہ اور طرز زندگی محسوس ہی نہیں ہونے دیتا کہ وہ اربوں ڈالر کے مقروض ملک کے سربراہ ہیں جنھوں نے ہماری آنے والی نسل کو مقروض در مقروض کر دیا ہے ،عوام اپنی محنت کی کمائی سے غیر ملکی قرض مہنگائی سہہ کر بھی ادا کر رہی ہے مگر قرض ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ نیپرا قواعد صاف اور سستی بجلی دینے والے شہریوں کو سزا دینے کے مترادف ہیں۔ نیپرا پر اعتماد کرکے سولرائزیشن میں سرمایہ لگانے والوں کو شدید مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ پی پی رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم لگا کر حکومت کو بجلی دینے والوں کے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے۔ سابق (ن) لیگی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا ہے کہ اب سولر صارفین کم معاوضہ وصول کرتے ہوئے مکمل قیمت ادا کریں گے اور چالیس روپے یونٹ بجلی خریدیں گے اورگیارہ روپے میں واپس حکومت کو دیں گے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ سیٹھوں نے بجلی سستی کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر دو طرفہ حملہ کیا ہے، ایک طرف حکومت نے بجلی کے نرخ بڑھا دیے ہیں اور دوسری طرف سولر نیٹ میٹرنگ ختم کر دی ہے اور سولر لگانے والوں کو دھوکا دیا گیا ہے جس سے انھیں مالی نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوگا۔ ملک کی تاجر برادری نے بھی حکومت کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر تبدیلی پر سخت ردعمل دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آئی پی پیزکا پیٹ پالنے کے لیے اتنی سخت پالیسیاں نہ بنائی جائیں، تاجر بہت مشکل سے گزر رہے ہیں۔ تاجروں نے حکومت سے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ اور نئی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ حکومت کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کے بعد بھی تاجر نئے نرخوں پر بھی منافع بخش سرمایہ کاری جاری رکھیں گے اور حکومت نے تو دو سو یونٹ تک کے گھریلو صارفین کو بھی رعایت دی ہے اور غریب صارفین کو مزید بوجھ سے بچایا ہے جو ان پر دو سو ارب تھا اور پانچ سو ارب روپے تک جانے کا امکان تھا جو عوامی مفاد کا حکومت کا ایک اچھا فیصلہ ہے جس پر حکومت کو فخر ہے اور حکومت نے وسیع تر مفاد میں یہ جرأت مندانہ اصلاحات کی ہیں۔ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظرثانی کرا کر ملک کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا ہے۔
ماضی میں آئی پی پیز سے معاہدے بھی ملک میں حکمرانی کرنے والی ماضی کی سیاسی حکومتوں نے کیے تھے جس کے نتیجے میں حکومت کو تو نہیں بلکہ بجلی صارفین کو ہر سطح پر مالی نقصان ہو رہا تھا کیونکہ ملک کو نقصان اور آئی پی پیز کو زبردست مالی فائدہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ہوا تھا۔ جو آئی پی پیز حکومت کو بجلی بھی نہیں دے رہے تھے حکومتیں انھیں بھی ماہانہ ڈالروں میں ادائیگیاں کر رہی تھیں اور دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ حکومتی فیصلوں سے صارفین سب سے زیادہ متاثر اور سیاسی پشت پناہی کے حامل یہ آئی پی پیز سالوں ماہانہ کروڑوں روپے مفت میں کماتے رہے اور اب بھی کچھ کم مگر کما ضرور رہے ہیں اور بجلی ازحد مہنگی خریدنے والے صارفین اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور یہ تینوں حکومت کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور ان تینوں اشیا کو مہنگا سے مہنگا کر کے ملک میں مہنگائی و بے روزگاری بڑھائی گئی ہے۔ بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے پہلے آئی پی پیزکو زبردست مالی فائدہ پہنچانے کے ساتھ (ن) لیگی حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی بنا کر سولرائزیشن کرکے اپنی ضرورت پوری اور اپنی بنائی ہوئی فاضل بجلی فروخت کرنے والوں نے سولروں کے ذریعے بجلی کی کمی دورکی جس کے صلے میں آئی پی پیز متاثر ہوئے کیونکہ ان کی بجلی کی ضرورت کم ہو رہی تھی تو انھوں نے حکومت پر نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی بنانے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھایا جس پر سولر بجلی فروخت کرنے والے سوچ رہے ہیں کہ انھوں نے حکومت پر اعتماد کیوں کیا تھا۔
سیاسی رہنما بھی نئی پالیسی کو عوام سے دھوکا اور فراڈ قرار دے رہے ہیں جس سے حکومت کو بھی دھچکا ضرور لگے گا اور عوام میں حکومت کے خلاف بداعتمادی ضرور بڑھے گی۔ (ن) لیگ کی سابق حکومت میں ’’ قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ پالیسی سے حکومت پر عوامی اعتماد پہلے ہی متاثر ہوا تھا اور نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی پر عوام کے اعتماد سے محروم (ن) لیگ کی وفاقی حکومت پر عوام آیندہ اعتماد نہیں کریں گے۔
پہلے ہر آنے والی حکومت پہلی حکومت کی پالیسی رد کرکے اپنی پالیسی نافذ کرتی تھی جس سے عالمی سطح پر ملکی ساکھ متاثر ہوتی تھی اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ نہیں لگاتے تھے کہ ہر حکومت کی پالیسی سے ان کا سرمایہ نہ ڈوب جائے۔ ملک سے صنعتیں مہنگی بجلی سے باہر منتقل ہو رہی ہیں اور صنعتکار شریف فیملی کی حکومت سے مایوس تھے اور اب نئی میٹرنگ پالیسی سے متوسط طبقہ بھی حکومت پر اعتماد نہیں کرے گا کہ یہ عوام کی نام نہاد خیر خواہ حکومت پھر پالیسی نہ بدل لے، اس لیے حکومت مزید ناقابل اعتبار ہو جائے گی۔
Today News
خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔
گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔
کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔
Today News
بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔
اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔
Source link
Today News
گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر
کراچی:
شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔
چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔
گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟
ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔
جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،
ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔
پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔
جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔
کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔
محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔
کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔
فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،
گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟
تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔
وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech5 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims