Connect with us

Today News

کون جیتا کون ہارا؟

Published

on



سیاسی میدان میں جیت ہار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بانی تحریک انصاف کی صحت پر خوب سیاست ہوئی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔ اس لیے ان کے علاج کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس سیاست کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جہاں تک علاج کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں علاج حکومت کی ذمے داری ہے۔

بانی تحریک انصاف اس وقت حکومت کی تحویل میں ہیں۔ وہ ایک قیدی ہیں۔ اس لیے صرف بانی تحریک انصاف ہی نہیں تمام قیدیوں کا علاج اور ان کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ اس ضمن میں ملک کے قوانین واضح ہیں۔ جب تک عدالت بانی تحریک انصاف کو علاج کے لیے ضمانت پر رہا نہیں کرتی تب تک علاج حکومت کی ذمے داری ہے اور حکومت کی نگرانی میں ہی علاج ہونا ہے۔ اس لیے حکومت کو اپنی ذمے داریاں ادا کرنی چاہیے۔

اب سیاست کی بات کر لیں۔ سیاست میں تحریک انصاف نے اس ضمن میں حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ ایک سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی اور ایک عوامی دباؤ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پہلے عوامی دباؤ کی بات کر لیتے ہیں۔ تحریک انصاف نے بانی تحریک انصاف کی صحت پر عوامی احتجاج کی کال دی۔

ان کے پاس نعرہ بھی اچھا تھا کہ بانی کی 85فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے، حکومت نے علاج میں کوتاہی کی ہے۔ اس لیے آنکھ کے ضایع ہونے پر تحریک انصاف عوامی جذبات کو ابھارنے اور لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا کہہ رہی تھی۔ احتجاج کی باقاعدہ کال دی گئی۔ اب جائزہ اس بات کا لینا ہوگا کہ عوامی احتجاج کی کال کتنی کامیاب رہی ۔سڑکیں بند کرنے کا جائزہ اس کے بعد لیتے ہیں۔ کیونکہ پہلی کال پریس کلبوں کے باہر احتجاج کی تھی۔

تحریک انصاف کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے۔ پھر کے پی کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں نوے فیصد لوگ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ دو تہائی مینڈیٹ بھی موجود ہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا کہ تحریک انصاف واضح کال کے باوجود کسی بھی پریس کلب کے آگے کوئی موثر احتجاج نہیں کر سکی۔ پنجاب میں تو احتجاج ہوا ہی نہیں۔ لیکن پنجاب کے حوالے سے تو تحریک انصاف کے پاس یہ بہانہ ہے کہ یہاں حکومت احتجاج نہیں کرنے دیتی۔

حالانکہ میں اس کو ایک کمزور توجیح مانتا ہوں۔ احتجاج ہوتا ہے حکومت کو چیلنج کرتے ہیں۔ کونسی حکومت احتجاج کی کھلم کھلا اجازت دیتی ہے۔ لیکن چونکہ پنجاب کے حوالے سے ایک توجیح موجود ہے۔ اس لیے پنجاب میں کوئی احتجاج نہ ہونے کو اس توجیح کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

لیکن سوال تو کے پی کا بھی ہے۔ کے پی میں تو حکومت کا کوئی خوف نہیں، وہاں تو حکومت احتجاج نہیں روکتی بلکہ وہاں کی حکومت اور پولیس تو تحریک انصاف کے احتجاج کی مکمل سہولت کاری کرتی ہے۔ وہاں تو گرفتاری کا بھی کوئی خوف نہیں۔ اس لیے وہاں کے احتجاج کا جائزہ لینے پر تو تحریک انصاف کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پشاور میں تو چند سو لوگ بھی نہیں تھے۔ باقی شہروں میں بھی کہیں ایک سو دو سو سے زائد لوگ کہیں جمع نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کی کال پر ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے باہر نکل آئے۔ اس لیے پہلے دن احتجاج کی کال ناکام رہی۔ اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے دھرنے میں بھی ارکان پارلیمنٹ تھے، عوام نہیں تھے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے تو اندر ہی دھرنا دیا گیا۔

اس لیے اس سوال کا جواب ضرور دیا جانا چاہیے کہ عوام باہر نہیں آئے۔ آپ نے 85 فیصد بینائی ختم ہونے کا بیانیہ بنایا۔ لیکن لوگ باہر نہیں آئے۔ کیا لوگوں کو اب تحریک انصاف کے سیاسی بیانیوں پر اعتبار نہیں۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف جھوٹ کی بنیاد پر بیانیہ بناتی ہے۔ ان کا سوشل میڈیا بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس لیے لوگوں نے 85فیصد بینائی ختم ہونے پر یقین نہیں کیا اور عوام کو پہلے دن سے یقین تھا کہ علاج ٹھیک ہو رہا ہے۔ دوسرا کیا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت ختم ہوگئی ہے۔ لوگ تحریک انصاف سے دور ہو گئے ہیں۔ اس لیے احتجاج میں نہیں آئے۔ لوگوں کا بانی تحریک انصاف سے رشتہ کمزور ہوگیا ہے۔

بہرحال کئی عوامل پر بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن بات صاف ہے کہ کہیں بھی عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے نہیں نکلی۔ عوام میں کوئی غم و غصہ نظر نہیں آیا، عوام نارمل نظر آئے ہیں۔ اب سڑکیں بند کرنے کا جائزہ لیتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کوئی سڑکیں بند نہیں ہوئیں۔ کے پی میں سڑکیں بند ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف نے کال دے کر، کے پی کو دوسرے ملک سے ملانے والی سڑکیں بند کی ہیں۔ صوابی انٹر چینج سے موٹر وے بندکی گئی، جی ٹی روڈ بند کی گئی اور بھی کئی سڑکیں بند کی گئی ہیں۔لیکن صوابی انٹر چینج جس کو بند کیا گیا سوال یہ ہے کہ وہاں کتنے لوگ تھے۔ آپ نے اپنے کارکنوں کو زبردستی بلایا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا عوام نے سڑکیں بند کیں یا پھر تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس اور انتظامیہ کی آشیر باد سے سڑکیں بند کی ہیں۔

کہیں کوئی دس ہزار لوگ نہیں تھے۔ چند سو لوگ موجود تھے جو ان کے کارکن تھے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سڑکیں بند کرنے میں بھی عوام نہیں آئے۔ کسی سڑ ک پر دس ہزار پچاس ہزار لوگوں نے دھرنا نہیں دیا ۔ جتنے لوگ تھے اتنے لوگ ایک کونسلر بھی اکٹھا کر لیتا ہے۔ اسی لیے تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کا ایک ٹوئٹ میں نے پڑھا، انھوں نے کہا جو ہزاروں لوگ مجھے سڑکیں بند کرنے کے لیے میسج کر رہے ہیں وہ سب صوابی انٹر چینج پہنچیں۔ لیکن وہاں تو چند سو بھی بمشکل تھے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام نے سڑکیں بند نہیں کیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اور ان کے سرکاری سیاسی کارکنوں نے سڑکیں بند کیں۔ لوگ نہیں آئے۔

ویسے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ سڑکیں بند کرنے کا فیصلہ ایک غیر مقبول فیصلہ تھا۔ کے پی لوگ ہی تنگ ہوئے، عوام کو مشکلات ہوئی ہیں۔ کے پی کے لوگوں کا سڑکیں بند کرنے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے سڑکیں کھلوا دی ہیں۔ حالانکہ یہ کام پولیس کو ہائی کورٹ کے حکم کے بغیر ہی کرنا چاہیے تھا لیکن پولیس خاموش تماشائی رہی ۔ کے پی بند کرنے کا جو ایک کارڈ تحریک انصاف کے پاس تھا، وہ بھی ختم ہوگیا۔

اب جیت ہار کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ میں نے تصویر کے دونوں پہلو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دلائل بھی آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ بہترین فیصلہ آپ ہی کا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ

Published

on



کراچی:

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔

گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔

کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع

Published

on



پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔

اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔

کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔ 

چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔

سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔

ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔

گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔

کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟

ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔

چیف فائر آفیسر  ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔ 

جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع  پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،

ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔

آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔

پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔

جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔

جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟

چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔

کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔

محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔

کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔

گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔

فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،

گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟

تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔

وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔





Source link

Continue Reading

Trending