Today News
استقبال ماہ رحمت، برکت و مغفرت
رمضان المبارک، رحمٰن کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا آسمان، بے پایاں رحمت کا سائبان اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر حقیقت کھل جائے اور اس کی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جائے جو فرشتوں کی آمد و رفت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ دم بہ خود رہ جائے اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے۔ اس کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کی آمد ہوتی ہے۔ چار سُو نور کا سماں ہوتا ہے، فضا پُرسکون، اور موسم میں سرور نظر آتا ہے۔
آسمانوں سے رحمتوں کی چھما چھم بارش، مقرب ملائکہ کا نزول، گناہ گاروں کے لیے جہنم سے نجات کے پروانے، نیکو کاروں کے لیے درجات میں بلندی کی خوش خبری، سحر و افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعاؤں کی قبولیت کے اشارے، تراویح کی راحتیں، نماز تہجد کی لذتیں، تلاوت قرآن سے فضاؤں کا معطر ہونا، حمد باری تعالی اور نعت مصطفی ﷺ کی ہر طرف گونج، روزہ داروں کے پُرنور چہرے، مساجد کا مسلمانوں سے بھر جانا، کثرت سے صدقات و خیرا ت کی تقسیم، عبادت میں خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔
یہ کیفیتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں یقیناً کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔ وہ مہینہ جس کا ہر لمحہ برکتوں والا، جسے اﷲ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی اس ماہ مقدس کی فضیلت کے بار ے میں بتایا ہے: جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پا بہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔
’’جو شخص بہ حالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘ مزید فرمایا: یہ ایک مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصہ رحمت، اور درمیانی حصہ مغفرت کے لیے ہے اور تیسرے حصہ میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ ﷺ فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ غور کرنے کی بات ہے جب کوئی بہت ہی عزیز مہمان ہمارے گھر آرہا ہو تو دل کی کیفیت عجیب ہوتی ہے، انتہائی خوشی اور بے قراری سے مہمان کی آمد کا انتظار رہتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ آنے والا کوئی نہایت خاص مہمان ہے۔
اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے اس ماہ کی آمد کو اپنی زندگی کے لیے خوش نصیبی تصور کر ے۔ اور شکر ادا کرے کے رب تعالیٰ نے اسے ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے، ایک بار پھر اپنے رب کو راضی کرلے، جو لوگ اس ماہ رمضان کی برکات و ثمرات سے اپنی جھولی کو نہ بھر سکے، اور اس کی فضیلت و اہمیت کو نہ سمجھ سکے، اور اپنی عبادات سے اپنے رب کو راضی نہ کرسکے وہ بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہوگی؟ اس ماہ مقدس کی بہ دولت ہم سب پر کچھ ذمے داریاں عاید ہوتی ہیں، تاکہ اس ماہ میں نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے خوب لطف اندوز ہوسکیں۔
طہارت کا خاص اہتمام
ہمارے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق تو صفائی ویسے بھی ایمان کا حصہ ہے، لہذا رمضان المبارک میں کیوں کہ عبادات کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے لہذا اپنے جسم اور لباس کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کرے، گندگی اور ناپاک چھینٹوں سے خود کو بچائیں، باوضو رہنے کی کوشش کریں، حالت جنابت میں فی الفور غسل کریں تاکہ روزے کے ثمرات مکمل طور پر حاصل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ گھر کو بھی پاک صاف رکھنا ضروری ہے۔ خوشبو عطر وغیرہ کا استعمال کریں۔
نماز باجماعت ادا کرنا
جیسا کہ رمضان میں ہر نیکی کا اجر ستّر گنا زیادہ کردیا جاتا ہے، عام طور پر با جماعت نماز ادا کرنے پر پچیس، پچاس اور کچھ روایات کے مطابق ستر گنا زیادہ اجر دیا جاتا ہے، تو پھر رمضان میں تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ہوگا لہذا ہمیں چاہیے کہ رمضان میں خاص طور پر مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام کریں۔
قرآن کریم اور وظائف، کا پڑھنا
عام دنوں میں قرآن کریم کے ایک حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جب کہ رمضان المبارک میں ایک نیکی کا بدلہ ستّر گنا دیا جاتا ہے، لہذا فضول کاموں میں وقت ضایع کرنے کے بہ جائے قرآن کریم کم از کم دو یا تین مرتبہ ختم کریں، ایک مرتبہ تفسیر کے ساتھ پڑھیں تو اور بھی بہتر ہے، دیگر وظائف، دعاؤں میں دل لگائیں۔ اس کے علاوہ رمضان اور روزوں کے متعلق مسائل کا مطالعہ کریں، سیر ت طیبہ اور اسلامی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کریں۔ ایک روایت کے مطابق روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندۂ مومن کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے اﷲ تعالیٰ دن کے وقت میں نے اس کو کھانے اور شہوت سے روکے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے جگائے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ پس دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔
سحری و افطاری کا اہتمام کرنا
سحری کرنا مستحب ہے لہذا سستی کی وجہ سے اس کو نہ چھوڑیں، سحری و افطاری دعا کی قبولیت کے اوقات میں شامل ہیں، لہٰذا سحری و افطاری سے کچھ وقت پہلے اپنے لیے، والدین اور اہل و عیال، تمام امت مسلمہ کے لیے خاص دعا کریں، اپنے روزے اور عبادات کی قبولیت کے لیے دعا کریں۔
نیکی کے کاموں میں رغبت اختیار کرنا
کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑیں، اپنے ہر کام کو سنت ِ رسول کریم ﷺ کے مطابق کرنے کی کوشش کریں، نیکی کی دعوت کو عام کریں اور بڑھ چڑھ کر نیکی کے کاموں میں حصہ لیں، خود بھی برائیوں سے بچیں اور اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کی کوشش کریں۔
نماز تراویح کی پابندی
تراویح اس ماہ کی خاص عبادت ہے، لہذا کوشش کریں نماز تراویح کو مسجد میں با جماعت ادا کریں اور پورا قرآن سننے کی سعادت حاصل کریں۔
فضول کاموں ، جھگڑوں اور فضول گوئی، جھوٹ سے بچنا
رمضان المبارک کی ہر ایک ساعت کو قیمتی سمجھے، اس کی ہر ساعت میں ہزاروں لوگ بخش دیے جاتے ہیں، اور لاکھوں لوگوں کو جہنم سے نجات مل جاتی ہے، فحش الفاظ سننے اور سنانے سے بچیں، گانے، فلمیں دیکھنے سے بچیں، غیبت، چغلی، تہمت لگانے سے پرہیز کریں اور بُری عادت سے سچے دل سے توبہ کریں، اور جو لوگ ایسے کریں تو ان کو اچھے انداز میں سمجھائیں اور اس ماہ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
تاکہ وہ بھی اس رحمت والے مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے میں کام یاب ہوجائیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: جو شخص (بہ حالت روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر (برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو ا تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔
اعتکاف
اگر ممکن ہو تو اعتکاف کے لیے وقت نکالیں، اعتکاف کے دوران دنیاوی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں، اعتکاف کی صورت میں دوستوں احباب سے ملاقات سے گریز کریں، موبائل فون کا ہرگز استعمال نہ کریں، زیادہ وقت عبادات میں گزاریں۔
طاق راتوں میں عبادت کرنا
شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ طلوع فجر تک اس میں انوار و ملائک کا نزول ہوتا رہتا ہے، اگر اعتکاف نہ بھی کریں تب بھی طاق راتوں میں عبادات کا خاص اہتمام کریں، زیادہ تر وقت مسجد میں گزاریں، اس رات کروڑوں گناہ گاروں کی بخشش کردی جاتی ہے، عمل و ریاضت کے شیدائیوں کے لیے شب قدر خاص اہمیت و کشش رکھتی ہے کیوں کہ اس میں انتہائی مختصر وقت میں حیرت انگیز حد تک زیادہ سے زیادہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔
چاند رات سے متعلق چند باتیں
عیدالفطر کی رات کو حدیث میں ’’لیلتہ الجائزہ‘‘ یعنی انعام کی رات فرمایا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے، مفہوم: ’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذوالحجہ، نو ذوالحجہ۔ (یعنی عید الاضحیٰ)۔ دس ذوالحجہ۔ عیدالفطر۔ اور پندرہ شعبان کی رات۔ (شبِ برات)۔‘‘ شیطان کو چوں کہ معلوم ہوتا ہے کہ چاند رات انتہائی فضیلت والی رات ہے اس لیے اس کی فضیلت سے محروم کرنے کے لیے اس نے یہ راستہ نکالا ہے کہ لوگوں کو اس رات مختلف قسم کے گناہوں میں مبتلا کردیتا ہے، چاند نظر آتے ہی ہر طرف خرافات کا ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے۔ ہوشیار رہیے! یہ شیطان کا وہ جال ہے جس میں ہر شخص بہ آسانی پھنس کر اپنا اجر گنوا دیتا ہے۔
ان فتنوں سے جس طرح رمضان میں احتیاط کی، رمضان کے بعد بھی اجتناب کریں۔ اس رات کو اﷲ کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں عطا کی جاتی ہیں، لیکن ہم بے خبر ہوجاتے ہیں اور حاصل کرنے والے انعامات ضایع کرنے کے درپے ہوتے ہیں، لہذا ہمیں اس رات بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Today News
خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔
گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔
کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔
Today News
بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔
اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔
Source link
Today News
گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر
کراچی:
شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔
چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔
گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟
ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔
جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،
ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔
پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔
جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔
کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔
محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔
کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔
فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،
گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟
تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔
وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech5 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims