Today News
اﷲ کے رنگ میں رنگ جائیے۔۔۔۔۔ !
سورہ البقرۃ میں اﷲ تعالی کے ارشاد کا مفہوم: ’’کہو! کہ ہم نے اﷲ کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور اﷲ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے اور ہم اﷲ کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘
انسانی شخصیت پر اﷲ کا رنگ اﷲ کی بندگی سے چڑھتا ہے۔ ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی رضا کی تلاش مطمعٔ نظر رہے تو اﷲ کا رنگ نصیب ہوتا ہے۔ اس آیت میں اﷲ کے رنگ اور اﷲ کی عبادت کا ایک ساتھ ذکر معنی خیز ہے۔ روزے پر غور کریں تو روزے کے دوران ہر لمحے ظاہر و باطن میں اﷲ کی بندگی کی جا رہی ہوتی ہے۔
آپ ٹھنڈے میٹھے پانی سے گریز کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔؟ صرف اﷲ کے لیے۔
آپ گرم نرم روٹی اور مزے دار سالن سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟ صرف اﷲ کے لیے۔
آپ میٹھے رس بھرے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے اجتناب کرتے ہیں، کس لیے۔۔۔ ؟
اگر فی الحقیقت آپ کا یہ سب کچھ اﷲ ہی کے لیے ہے تو آپ اﷲ کا رنگ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نماز میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ ہر حرکت سے پہلے اﷲ کا نام یوں لیا جاتا ہے گویا ہر جنبش اﷲ سے پوچھ کر کی جا رہی ہو۔
روز مرہ زندگی میں، نماز جیسی اﷲ کے رنگ میں رنگی مطابقت استوار رکھنے کے لیے خاتم النبیین رسول کریم ﷺ نے ہمیں ماشاء اﷲ، ان شاء اﷲ، الحمد اﷲ، سبحان اﷲ، انا ﷲ و انا الیہ راجعون، وغیرہ جیسے کلمات سکھائے ہیں۔ ہر کام سے پہلے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی آیت پڑھنا بھی اﷲ کے رنگ میں رنگ جانے کے لیے ہی ہے۔ ملاقات پر اسلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہہ کر اﷲ تعالی کی رحمت کے ساتھ اﷲ کی یاد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم پر انفرادی و اجتماعی طور پر، اﷲ کا رنگ غالب رہے۔
ہماری روحانی شخصیت کی خوب صورتی اﷲ کی ذات کے لیے کیے گئے اعمال سے ہے۔
حضرت ابُوہریرہ ؓ سے مروی ہے: ’’آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ بہت سے روزہ داروں کو بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے قیام کرنے والوں کو جاگنے کے علاوہ کچھ وصول نہیں ہوتا۔‘‘
اس حدیث پر غور کریں کہ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ ایسے روزے میں اور ایسے جاگنے میں، اﷲ کا رنگ شامل نہیں ہُوا ہوگا۔ حضرت نوحؑ کے بیٹے کی زندگی اﷲ کے رنگ سے خالی تھی۔ اس نے سیلابی پانی سے بچنے کے لیے اﷲ کے سوا پہاڑ کو سہارا قرار دیا۔ یوں اس کی روحانی شخصیت ناشائستہ اعمال ٹھہری۔
ہمارے اعمال کی شکل میں، ہماری روحانی شخصیت اﷲ کے ہاں ایک روپ دھارتی ہے۔ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اﷲ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کا مفہوم ہے کہ روزہ ڈھال ہے۔ روزہ شیطانی حملوں سے روکتا ہے۔ شیطانی حملوں کا دائرہ ہماری زندگی میں ہمیں اﷲ کا رنگ اختیار کرنے سے روکنے تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں اور باتوں میں بھی ہم اﷲ کے رنگ میں رنگتے چلے جائیں تو ہم شیطان کے اس ہتھ کنڈے سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اسی لیے ابلیس انسانی زندگی میں، اﷲ کے ایسے رنگ چڑھنے کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد تو یہاں تک ہے کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی درکار ہو تو اﷲ سے مانگو۔ حضرت رسول کریم ﷺ اﷲ کے رنگ میں کامل رنگے ہوئے تھے۔
فی زمانہ جو دنیاوی حالات ہیں، اس اعتبار سے دنیا میں شمولیت، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول سے عبارت ہو چکی ہے۔ نوحؑ کے بیٹے کی طرح مادی سہاروں پر انحصار شعوری سطح پر کیا جانے لگا ہے۔ آج کے انسان کو، مادے اور اس سے متعلق مہارتوں پر دست رس کے لیے اپنے سال ہا سال کھپانے پڑتے ہیں۔ ان مہارتوں میں ڈوبنا پڑتا ہے تب کہیں اسے مہارت ملتی ہے۔ یوں آج ہم میں سے اکثر کے پاس اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نہیں۔ ماضی کے انسان نے اپنی کم زوریوں کے باعث مادے اور مادی قوتوں کو خدا بنایا، آج ان پر قدرے قابو پاکر انسان نے اپنی صلاحیت کو خدا بنا لیا ہے۔ انسان تب بھی غلطی پر تھا، آج بھی غلطی پر ہے۔
روحانیت میں فروغ کے لیے مادے اور متعلقہ صلاحیتوں کے حصول اور برتنے کے تناظر میں اﷲ کی ذات کو، پس منظر اور پیش منظر میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہیں سے ہمیں شیطان ورغلانے میں کام یاب ہوجاتا ہے اور مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کے حصول کے تناظر میں، ہم پر اﷲ کا رنگ چڑھ نہیں پاتا۔ یوں ہمارا پڑھنا، لکھنا، کھانا، پینا اور دیگر امور روحانیت سے خالی رہتے ہیں۔ روزہ اس رنگ میں رنگے جانے کی ایک کام یاب ابتداء اس طرح بنتا ہے کہ روزے کی حالت میں ہم ہر ایسے کام کو اﷲ کی کسوٹی پر پرکھنے پر مجبور ہوتے ہیں ورنہ روزہ شرف ِ قبولیت کیسے پا سکتا ہے۔
روزہ مادے اور اس سے جڑی مہارتوں کے برتنے کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی بھی مشق کرواتا ہے تاکہ اﷲ کی نشانیوں پر غور کا وقت نکل پائے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ شدید گرمی، پیاس اور بھوک کئی ایک کام نہ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یوں ہم اس احساس کے ساتھ اﷲ کا رنگ اختیار کرنے کے لیے معاشرے کے بعض ان افراد کے متعلق بھی سوچتے ہیں کہ جو عدم ِ رمضان میں بھی مادے اور اس سے متعلق مہارتوں کی کم سے کم سطح سے بعض اوقات محروم ہوتے ہوئے بھی زندگی میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔
روحانی سطح پر روزہ باور کراتا ہے کہ آپ اﷲ کے مقابلے میں دنیاوی حدود میں کس قدر تجاوز کرچکے ہیں۔ ہر بندے میں تجاوز کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ انہوں نے اﷲ سے پائوں میں جوتے نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ کچھ آگے گئے تو اﷲ نے ایک معذور شخص کو زمین پر گھسٹتے اور رینگتے دکھا کر شکر میں آزما لیا۔ اس پر وہ اﷲ کے شکر گزار ہوئے کہ اﷲ نے پائوں تو سلامت دے رکھے ہیں۔
اسی طرح ہم میں سے کسی کو خواہشات کا روزہ درکار ہے تو، کسی کو آنکھ کا، کسی کو کان کا اور کسی کو زبان کا۔
حضرت معاذ ؓ سے ابن ماجہ میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: ’’اس کو روک رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبی ﷺ! جو گفت گو ہم عام طور پر کرتے ہیں کیا اس پر بھی مواخذہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (غیبت، بہتان، گالیوں بھری باتیں) ہی تو ہوں گی۔‘‘
قبر میں پیش آنے والے سوالات ہوں یا پل صراط جیسی آزمائش، یہاں وہی کام یاب ہوں گے جن کی شخصیت پر اﷲ کا جگ مگاتا رنگ چڑھا ہوا ہو۔ آپ کی قبر کے اندھیروں کو اﷲ کا یہی رنگ جگ مگانے کی مسلمہ ضمانت ہے۔ سنن نسائی کی حدیث ﷺ کے مطابق ایک دن کا روزہ جہنم سے ستّر سال کی دوری کا باعث بن جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے مطابق اﷲ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے تو اس کا بدلہ بھی پھر میں ہی دوں گا۔
اب کیا ہم اس بادشاہ ِ بے مثال کی عطا بے بہا سنبھال پائیں گے۔۔۔۔ ؟ جب عطا بڑی تو عمل بھی بڑا، عمل بڑا وہ جو اﷲ کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ اس رمضان میں، جناب رسول اکرم ﷺ کی پیروی میں، اپنے ہر لمحے کو اﷲ کے رنگ میں رنگ دیجیے، یوں آمد ِ رمضان مبارک ٹھہری! خوش آمدید رمضان کریم
Today News
خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔
گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔
کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔
Today News
بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔
اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔
Source link
Today News
گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر
کراچی:
شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔
چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔
گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟
ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔
جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،
ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔
پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔
جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔
کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔
محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔
کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔
فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،
گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟
تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔
وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech5 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims