Today News
قیدیوں کے حقوق – ایکسپریس اردو
ریاست کے بیانیہ سے انحراف کرنے والے ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ جب دنیا بھر میں بادشاہتیں قائم تھیں تو بادشاہ کے بیانیے کو قبول نہ کرنے والے افراد سخت سزا کے مستحق ہوتے تھے۔ عمومی طور پر ان افراد کو غدار قرار دے کر پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تھا۔
بادشاہ بہت سے افراد کو زندان خانہ میں بھیج کر بھول جاتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ زندان خانہ میں جان دے دیتے تھے یا برسوں قید رہتے تھے۔ مغل بادشاہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی اس طرح پیروی نہیں کی کہ غداروں کے سروں کے مینار بنائے جائیں مگر سب سے سخت موت کی سزا کو برقرار رکھا۔ مغل بادشاہوں کے دشمن ان کے قریبی رشتے دار بھی ہوتے تھے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے حکم پر اس کے والد شاہجہاں کو زندگی بھر قید میں رکھا اور بھائی دارا شکوہ اور مراد بخش کو اندھا کر کے پھانسی دیدی گئی تھی۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہزاروں لاکھوں افراد کو پھانسیاں دی گئیں۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ایک تھال پیش کیا گیا۔ اس تھال میں ان کے بیٹوں کے کٹے ہوئے سر تھے مگر پھر جب کمپنی نے ہندوستان میں جدید نظام نافذ کیا۔ پولیس اور عدالتی نظام قائم ہوا تو اب سیاسی مخالفین کو سزا کے طور پر بحیرۂ ہند کے جزیرہ انڈیمان بھیج دیا جاتا تھا۔ اس اجاڑ جزیرے میں جانے والے وہیں مرکھپ جاتے تھے۔
جب 20 ویں صدی شروع ہوئی تو ہندوستان میں سیاسی جماعتیں مزدوروں،کسانوں اور دانشوروں کی تنظیمیں قائم ہوچکی تھیں۔ انگریز حکومت نے ایک محدود اختیارات کا بلدیاتی نظام بھی قائم کیا تھا۔ اس صدی کے پہلے عشرے میں آزادی کی تحریک ایک نئے انداز میں شروع ہوئی۔ خلافت تحریک ،کانگریس سودیشی تحریک اور عدم تعاون کی تحریکیں چلائی گئیں۔
ان تحریکوں میں لاکھوں ہندوستانیوں نے گرفتاریاں دیں اور سیکڑوں افراد نے سرکاری ملازمتوں سے استعفے دیے۔ اب انگریز حکومت نے 1894 میں Prision Act نافذ کیا۔ اس قانون میں جیلوں کے انتظام اور قیدیوں کے حقوق کا پہلی دفعہ تعین ہوا۔ جب تعلیم یافتہ افراد سیاسی تحریکوں میں رضاکارانہ طور پر جیلوں میں گئے تو فرسودہ جیل قوانین اور قیدیوں کے حقوق کا معاملہ اخبارات اور عدالتوں کا ایجنڈا بن گیا۔ انڈین لیجسلیٹو کونسل میں سیاسی قیدیوں کے حالتِ زار پر سوال اٹھائے گئے جس پر انگریز حکومت نے 1919-1920 میں جیلوں میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور اس کمیٹی کی سفارشات پر جیل مینوئل میں بنیادی تبدیلیاں ہوئیں۔
گزشتہ صدی کے 45 برسوں کے دوران کانگریس ، جمعیت علمائے ہند، کمیونسٹ پارٹی اور دیگر انقلابی تنظیموں کے تمام رہنما جیل گئے۔ ان میں مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو اور ان کی اہلیہ کیٹی، مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا حسرت موہانی جیسے جید رہنما شامل تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو جب 1935 میں نظربند تھے تو ان کی اہلیہ کملا کو ٹی بی کا مرض ہوا۔ اس کے علاج کے لیے انھیں سوئٹزر لینڈ لے جایا گیا۔ حکومت نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنی اہلیہ کے پاس جانے کے لیے پے رول پر رہا کیا۔ جب ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ کے روحِ رواں کانگریس کے اہم رہنما احمد نگر قلعہ میں نظربند تھے تو مولانا ابو الکلام آزاد کی اہلیہ بیمار ہوگئیں مگر مولانا ابو الکلام آزاد کی ملاقاتیں بند تھیں۔
ان کی اہلیہ کی بیماری کے بارے میں انھیں خط کے ذریعے اطلاع دی گئی۔ اسی طرح ان کی اہلیہ کے انتقال کی اطلاع بھی خط کے ذریعے دی گئی مگر جب مولانا ابو الکلام آزاد رہا ہوئے تو انھیں تمام خطوط ملے۔ اسی طرح آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو جیل مینوئل کے مطابق کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے جیل میں ناقص سہولتیں اور خراب خوراک کے خلاف 15 جون 1929کو بھوک ہڑتال شروع کی۔ اس 63 دن کی ہڑتال میں ان کے ساتھی جتن نارتھ داس انتقال کرگئے۔
پاکستان بننے کے بعد انگریز دور کے جیل کے قوانین برقرار رہے۔ اب برسر اقتدار حکومتوں نے سیاسی منحرفین کو بغاوت اور امن و امان کی دفعہ 144 جیسے قوانین کی خلاف ورزی اور حتیٰ کہ دشمن کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں گرفتارکرنا شروع کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد خان عبد الغفار خان ولی خان خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں، بلوچستان سے عبدالصمد اچکزئی، پنجاب اور سندھ سے کمیونسٹ پارٹی، مزدور کسان تنظیموں اور طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ معروف صحافی اور ادیب حمید اختر نے جیل کے حالات پر اپنی معرکتہ الآراء کتاب ’’ کال کوٹھری‘‘ تحریر کی۔ اس کتاب نے ملک کی جیلوں کی ناگفتہ بہ حالات کو آشکار کیا۔ حمید اختر نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ سینئر صحافی حسن عابدی ملتان جیل کی ایک کھولی میں بند تھے۔
ایک کبوتر ان کی کھولی کی کھڑکی پر بیٹھ جاتا تھا۔ حسن عابدی اس کبوتر سے ہم کلامی کرتے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے عابدی صاحب کے سامنے اس کبوتر کو ذبح کردیا تھا۔ حکومت نے 1956 میں سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی قیادت میں جیل اصلاحات کی سفارشات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی کی سفارش پر انگریز دورکے فرسودہ جیل مینوئل میں معمولی تبدیلی ہوئی مگر قیدیوں پر تشدد، خطرناک قیدیوں کو بیڑیاں لگانے اور قیدیوں کو بند وارڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور پاکستان کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے حالات انتہائی خراب رہے۔ ایوب خان کا دور ایک جبرکا دور تھا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرنا عام سی بات تھی۔ اس دور میں سیاسی قیدیوں پر لاہورکے شاہی قلعہ میں بدترین تشدد ہوتا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما حسن ناصرکو شاہی قلعہ میں تشدد کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔
اسی دور میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو ڈیفنس پاکستان رولز (D.P.R) کے تحت گرفتار کیا گیا، وہ کئی ماہ تک ساہیوال جیل میں نظربند رہے۔ بھٹو دور میں پھر جیلوں میں اصلاحات ہوئیں۔ خواتین اورکم عمر ملزم بچوں کے بارے میں قانون میں تبدیلی ہوئی مگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں بدترین سلوک ہوا۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد لاہور جیل میں بدترین جسمانی تشدد کا شکار ہوئے، جب نیشنل عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی کے منحرفین کے خلاف حیدرآباد جیل میں بغاوت کا مقدمہ چلا تو ان قیدیوں کو خاصی بہتر سہولتیں فراہم کی گئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں صحافیوں، مزدورکارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں کوڑے مارے گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کارکن نذیر عباسی کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔ ان کے ساتھ سہیل سانگی، پروفیسر جمال نقوی، شبیر شر اور کمال وارثی کو لانڈھی جیل میں 18 ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو 8 ماہ تک سکھر جیل کی ایک بیرک میں بند رہیں۔ اس بیرک میں چھپکلی کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو جیلوں کے حالاتِ کار کو بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی گئیں۔ ان کے پہلے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا مگر ان اصلاحات سے جیلوں کے حالات میں خاطرخواہ تبدیلیاں نہیں آئیں۔ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں سیاست دانوں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرنے کی روایت کی تجدید ہوئی۔
صدر آصف زرداری تقریباً 10 سال تک کرپشن کے الزام میں پنجاب اور سندھ کی جیلوں میں بند رہے مگر انھوں نے آدھی مدت اسپتالوں میں گزاری۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف وغیرہ گرفتار ہوئے۔ آصف زرداری نے لانڈھی جیل میں ان کی میزبانی کی۔ آصف زرداری جب اڈیالہ جیل میں بند تھے تو مسلم لیگ ن کے رہنما ان کے مہمان رہے مگر میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتہ کر کے سعودی عرب چلے گئے۔
ان کے باقی ساتھی بعد میں جیلوں سے رہا ہوئے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت 2008ء میں قائم ہوئی تو سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔ جب میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو سندھ میں نیب نے پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت مسلم لیگ کے بیشتر رہنما گرفتار ہوئے مگر پھر میاں نواز شریف جیل میں سخت بیمار ہوگئے اور تاریخ میں پہلی دفعہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انھیں لندن جانے کی خصوصی اجازت دی گئی۔
موجودہ دور میں 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ سمیت بہت سے رہنما جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں ڈاکٹر یاسمین راشد بھی شامل ہیں جوکینسر کی مریضہ ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کے صدر اور بانی کی آنکھ کی بیماری کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔ اب حکومت نے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا ، اگرچہ یہ فیصلہ دیر سے کیا گیا مگر یہ ایک مناسب فیصلہ ہے۔
1857 سے تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ کسی بھی دور میں مخالف بیانیہ رکھنے والے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور صحافیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں رہا۔ دنیا بھر کے جدید ممالک میں جمہوری کلچر انتہائی مضبوط ہے۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں حکومت کے بیانیے کو رد کرنے والے رہنماؤں کے ساتھ اتنے ہی احترام کا سلوک ہوتا ہے، جتنا سربراہِ حکومت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان ممالک کی ترقی کی ایک بڑی وجہ تنقید کے ادارے کا احترام ہے مگر ہم اس شعبے میں بھی پسماندہ ہیں۔
Today News
خطے میں امن کے خواہاں ہیں، دشمن کے بیانیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، گورنر سندھ
کراچی:
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سحری دسترخوان پر موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ وقت گزارا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے معاشرتی مساوات، ملکی صورتحال اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو شخص آج کسی دسترخوان پر سحری کر رہا ہے، وہ آئندہ رمضان میں دوسروں کو سحری کرانے کے قابل ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی کی دولت دیکھ کر احساس محرومی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مال و دولت انسان کو اللہ کے قریب یا زیادہ محبوب نہیں بناتی۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب کو برابری کا درجہ دینا چاہیے اور کوئی چھوٹا بڑا یا امیر و غریب نہیں ہوتا۔
گورنر سندھ نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل مراحل سے گزر رہا ہے تاہم قوم کے اتحاد سے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور غزہ امن معاہدے میں شمولیت بھی مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے جذبے کے تحت کی گئی ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے تحت۔
کامران ٹیسوری نے مزید بتایا کہ گورنر ہاؤس میں رمضان المبارک کے دوران تیس دن تک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ہے جہاں روزہ داروں کو تحائف بھی دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بااختیار بنایا جائے اور معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔
Today News
بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی میں توسیع
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹم جاری کردیا جس کے مطابق بھارت کی تمام پروازوں پر 23 مارچ تک پاکستانی فضائی حدود بند رہے گی۔
اس سے قبل فضائی حدود کی بندش 18 فروری تک تھی۔ واضح رہے کہ بھارتی طیاروں کیلیے پاکستانی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند ہے۔
Source link
Today News
گل پلازہ میں آگ کا درجہ حرارت 1200 ڈگری تھا، چیف فائرافسر
کراچی:
شہر قائد میں گل پلازہ آتشزدگی کے دل دہلا دینے والے حقائق جوڈیشل کمیشن کے سامنے آرہے ہیں، جہاں جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے گئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس نہیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، ٹریفک جام ہونے سے فائربریگیڈ کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، اوپر جانے اور دوسری منزل سے اترنے کے راستے بند تھے۔
چیف فائرافسر نے بیان دیا کہ بجلی بند ہونا انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ تھی، اگر اعلان ہوتا کہ چوکیدار دروازے کھول دیں تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ میں گل پلازہ انکوائری کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی صدارت میں ہوا۔کمیشن نے ریسکیو 1122کے سربراہ کو روسٹرم پر طلب کیا۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ تمام آلات موجود تھے، دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا جا سکتا ہے، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی حفاظتی سوٹ تیسرے درجے کی آگ میں کام نہیں کرتا۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ عمارت میں دھواں بھر گیا تھا، دھویں کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جا سکتا تھا؟ ڈی جی واجد صبغت اللہ نے کہا کہ 8 ہزار اسکوائر فٹ پرگل پلازہ تعمیر تھا۔
گرائونڈ فلور اور میز نائن فلور پر لوگ موجود تھے، لوگ شاید یہ سمجھے کہ آگ پر قابو پا لیا جائیگا۔
کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جب گل پلازہ میں رات میں لائٹ بند ہو گئی اور دھواں بھر گیا، آپ کی رائے میں لائٹ بند کرنے کا کیا اثر ہوا؟
ڈی جی نے کہا کہ گراؤنڈ فلور پر لوگوں کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئیں، لائٹ بند کرنا ضروری تھا، ایس او پی ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کی جائے۔
جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں یہ جمع کر ادیجیے گا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے ایم سی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔انہوں نے بیان دیا کہ ہمیں 10 بج کر 26 منٹ پر گل پلازہ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، 10 بجکر 27 منٹ پر فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔
جو سامنے لوگ تھے انہیں بچایا، 15 فائر ٹینڈر، 2 اسنارکل اور 3 باؤزر موقع پر روانہ ہوئے، 10 بجکر 45 پر مجھے اطلاع ملی اور روانہ ہوا، گل پلازہ میں ہرطرف آگ لگی تھی، اسنارکل لوگوں کو ریسکیو کررہی تھی،
ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا، فائر ٹینڈر پر سیڑھیاں لگا کر لوگوں کوریسکیو کیا گیا۔
آگ کی شدت بہت زیادہ تھی، کھڑکیاں کاٹ کر 5 سے 6 افراد کی لاشیں نکالیں،آدھے گھنٹے بعد سامنے کاحصہ گرا اور ریمپ کا راستہ بلاک ہو گیا، آگ کا درجہ حرارت 1200ڈگری ریکارڈ کیا، پانی بھی فورا بھاپ بن جاتاہے۔
پہلی اور دوسری منزل پر گرل اورکھڑکیاں کاٹی ہیں، پہلے اور دوسری منزل کی سیڑیاں بند تھیں۔
جسٹس آغافیصل نے استفسار کیا کہ آپ کے آلات کی حالت تسلی بخش ہے؟ ہمایوں خان نے کہا کہ ہمارے پاس ساری گاڑیاں مکمل فعال حالت میں ہیں۔
جسٹس آغا نے استفسار کیا کہ پانی کی ترسیل کا ذریعہ صرف ٹینکر ہے؟ پانی کی ترسیل مسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ شہر میں ٹریفک کی صورتحال ہے کیسے پہنچتے ہونگے؟
چیف فائر افسر نے کہا کہ فائر اسٹیشن میں پانی کے ٹینک موجود ہی نہیں ہوتے تھے، مستقل حل یہ ہے کہ واٹر کارپوریشن کی لائن فائر اسٹیشن میں موجود ہونا چاہیے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟چیف فائر افسر نے کہا کہ ہمیں علم نہیں۔
کمیش کے سربراہ نے پوچھا کہ آگ پھیلنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے کہا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ موجود تھی، جو بہت جلدی آگ پکڑتا ہے اور زیریلا دھواں بھی پیدا ہوتا ہے۔
محمد بلال سرکل انچارج ایدھی جبکہ سید کلیم الرحمن انچارج چھیپا اپنے وکیل لیاقت علی گبول کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ حادثے کے بعد ویلفیئر اداروں کی ایمبولنسز پہنچتی ہیں، فریم ورک اور طریقہ کیا ہوتاہے۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ہمارے کنٹرول روم میں کال آتی ہے، جس کے بعد ایمبولنسز بھیجی جاتی ہیں۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ اس کا کیا رول ہے؟ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈرائیور کا کام یہ ہے کہ زخمی کو اسپتال منتقل کرے۔
کمیشن سربراہ نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے کیا کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے؟ جو ڈرائیور وہاں پہنچے انکی فہرست فراہم کریں۔
گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ 10 بجکر 10 منٹ پر آگ لگی، دکان نمبر 194 شہزاد نے آگ کی اطلاع دی۔
فائر ایکٹینشنفویشر لیکر اوپر گئے، کے الیکٹرک کوفون کیا کہ لوکل شٹ ڈاون کرے، 7 سے 8 منٹ میں پورا علاقہ شٹ ڈاون کیا گیا،
گراونڈ فلور پر 16 راستے تھے سب کھلے تھے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسارکیاکہ ہلاکتوں کی وجوہات سے متعلق آپ کی رائے ہے؟
تنویر پاستا نے کہا کہ دھویں سے ہلاکتیں ہوئیں، دبئی کراکری سے چند قدم کے فاصلے میں مسجدہے۔
وہاں سے بہت سے لوگ نکلے تھے۔صدر گل پلازہ تنویر پاستا کو بھی کمیشن نے آج دوبارہ طلب کرلیا۔کمیشن نے اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech5 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims