Connect with us

Today News

پنکھے کی گردش، دل کی دھڑکن، بل کا خوف

Published

on


اب بجلی کا بل کوئی کاغذ نہیں رہا، یہ دہشت کی وہ چٹھی ہے جو ہر مہینے آتی اور غریب کے دل کی دھڑکن تیز کردیتی ہے۔ گھر کے سکون پر مہر لگا دیتی ہے جسے پڑھتے ہی ماں کا دل لرزنے لگتا ہے، باپ کی آنکھوں میں خوف اتر آتا ہے اور بچہ پنکھے کی گردش روک دیتا ہے کہ یہ وہ بجلی بل ہیں جس نے عوام کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے اور اگر بل کئی ماہ تک ادا نہ ہو سکے تو بجلی کاٹنے کی دھمکی بھی آ جاتی ہے اور یہ دھمکی اگر کام کر گئی تو غریب کا پنکھا نہیں چلے گا۔

 فریج نہیں چلے گا تو بوڑھے پنشنر کی شوگر والی انسولین خراب ہو جائے گی۔ یہی بل ہیں جو بزرگ کا بی پی بڑھاتا ہے اور شوگر بھی بڑھاتا ہے اور بجلی کا بلب نہیں جلے گا تو بچوں کی تعلیم کا چراغ بجھ جائے گا۔ ایک مزدور جو صبح 5 بجے اٹھتا ہے سارا دن دھوپ میں مزدوری کرکے پسینہ بہاتا ہے، شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے اور پھر جب اس کے ہاتھ بجلی کا بل آتا ہے تو رقم دیکھ کر اسے یوں معلوم دیتا ہے کہ اس کے سینے پر کسی نے پتھر رکھ دیا ہے کیونکہ یہاں بجلی کے یونٹ کم ہوتے ہیں اور سزا زیادہ۔

ادھر عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ حکومت بجلی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر نہ ڈالے۔ پاکستانی حکام سے مذاکرات میں دیکھا جائے گا کہ مجوزہ ٹیرف تبدیلیاں پروگرام کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں اور میکرو اکنامک استحکام بشمول مہنگائی کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔ آئی ایم ایف کو اندازہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عوام کو توڑ چکی ہے۔ اگر بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں تو روٹی مہنگی، آٹا مہنگا، دودھ مہنگا، ٹرانسپورٹ مہنگی، دکاندار چیزیں مہنگی کرتا چلا جائے گا اور بے روزگاری بڑھتی چلی جائے گی۔ عجیب بات ہے آئی ایم ایف جیسے ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر نہ ڈالا جائے۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ بجلی کے بل صرف کاغذ نہیں، یہ عوام کی برداشت کی رسی ہے۔ یہ رسی مسلسل کھینچی جا رہی ہے، پاکستان میں آج بجلی کا بل ایک قومی المیہ ہے۔

یہ وہ المیہ ہے جس میں غریب کے گھر کا چولہا بجھ رہا ہے۔ بچوں کو تعلیم سے اٹھایا جا رہا ہے، پنشنرز کی دو وقت کی روٹی چھوٹ رہی ہے ۔ حکومت اگر بجلی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والوں پر ڈالے گی تو یہ صرف مہنگائی نہیں، معاشی ظلم بن جائے گا۔ کیونکہ امیر آدمی کے لیے بجلی کا بل ایک خرچ ہے جس میں کمی بیشی بھی ہو جائے تو اس کے لیے معمولی بات ہوتی ہے۔ لیکن غریب کا بل اب بوجھ بن گیا ہے اور بڑھا ہوا یہ بل اب غریب کے لیے روٹی، دوائی اور بچوں کی فیس کے مقابل کھڑا ایک عذاب ہے۔

کم آمدنی والا طبقہ پہلے ہی آٹے، دال، گھی اور سبزی کی قیمتوں سے پس رہا ہے، کرایہ، جس میں گزشتہ دو تین سال سے بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے، بچوں کے اسکول فیس اور علاج کے اخراجات سے ٹوٹ چکا ہے ، پرائیویٹ نوکریاں کرنے والوں پر ہر وقت نکالے جانے کا خوف طاری ہے، گزشتہ کئی سالوں سے تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں، ایسے میں بجلی نرخ مزید بڑھ جاتے ہیں تو غربت میں اضافہ ہوگا، بے روزگاری بڑھ جائے گی اور گھریلو زندگی مزید بحران کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔

حکومت کو چاہیے کہ کم ازکم 400 یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والوں کو ریلیف دے،کیونکہ اب ہر غریب کے لیے ضروری ہے کہ وہ فریج کا استعمال کرے اور ایسا کرنا اب ضروریات زندگی میں شامل ہے۔ اکثر افراد شوگر کا شکار ہیں اور ان لوگوں کی اکثریت کو ڈاکٹر انسولین تجویز کرتے ہیں جسے کم درجہ حرارت پر رکھنے کے لیے فریج کا استعمال لازمی ہے اور سخت ترین گرمی میں غریب کو اتنا حق ضرور ملنا چاہیے کہ وہ ٹھنڈا پانی استعمال کر سکے، اگر بوجھ ڈالنا ہے تو نادہندگان کے بڑے گروپ کو تلاش کرے۔ بجلی چوری کرنے والے بڑے نیٹ ورکس کے گرد شکنجہ کسنا شروع کرے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کنٹرول کیا جائے۔

حکومت فوری طور پر لائن لاسز کو کم سے کم کرے۔ بجلی چوری روکی جائے۔ بل وصولی بہتر ہو، ناقص انتظامی نظام ٹھیک کیا جائے۔ پاکستان میں حکومت نے اپنے طور پر یا آئی ایم ایف کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے جس سے بجلی کے بل عام افراد کے لیے عذاب بن کر رہ گئے ہیں، یعنی بجلی کے بل اب صرف بل نہیں رہے بلکہ پوری معیشت کا خون ہے حکومت بجلی کے شعبے میں چوری، لائن لاسز دیگر نقصانات، انتظامی اہلیت کا فقدان اور دیگر باتوں کی اصلاح کے بجائے آسان راستہ چنتی ہے جس سے غریب آدمی سخت گرمی میں بھی پنکھے کی گردش روک دیتے ہیں، ورنہ اس کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے کیونکہ ہر ماہ بڑھتے ہوئے بجلی بل کا خوف اسے ہر دم ستائے رکھتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

راجپال یادیو کے بعد ایک بھارتی اداکارہ کی گرفتاری کی تیاریاں؛ ناقابل ضمانت وارنٹ

Published

on


بھارت میں ابھی معروف اداکارہ راجپال یادیو کی گرفتاری اور پھر بھرپور عوامی دباؤ کے بعد رہائی کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ ایک اداکارہ کا بھی ایسا ہی کیس سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر مرادآباد کی ایک عدالت نے 2017 کے ایک ایونٹ سے متعلق چیک باؤنس اور معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر بڑا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے متعدد سمن جاری ہونے کے باوجود اداکارہ اداکارہ کے پیش نہ ہونے پر اس کیس میں امیشا پٹیل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔

تاہم اداکارہ کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جس پر سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا اور شوبز دنیا میں بھی حیرانی اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ 

البتہ اب اس معاملے پر امیشا پٹیل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے وضاحت جاری کی ہے جس سے معاملے کی گتھی سلجھنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ جس شخص پوون ورما کا زکر ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ معاملہ کئی برس قبل باقاعدہ طور پر طے پا چکا تھا۔

امیشا پٹیل نے مزید کہا کہ پوون ورما نے اُس وقت ہی مکمل سیٹلمنٹ پر دستخط بھی کیے تھے اور طے شدہ رقم بھی وصول کی تھی۔

اداکارہ امیشا پٹیل کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اب دوبارہ جھوٹے الزامات لگا کر قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے، جو سراسر بدنیتی پر مبنی ہے۔

اداکارہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کے وکلا اس شخص کے خلاف دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر فوجداری کارروائی شروع کر رہے ہیں۔

امیشا پٹیل نے مزید کہا کہ وہ ایسے افراد کو نظر انداز کرنا پسند کرتی ہیں جو جھوٹے بہانوں سے توجہ حاصل کرنے کے لیے معاملے کو تماشا بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2017 میں ایونٹ آرگنائزر پوون ورما نے امیشا پٹیل کو ایک شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے بک کیا تھا اور انہیں تقریباً 14 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔

تاہم اداکارہ کسی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہ کر سکی تھیں اور بعد ازاں یہ رقم واپس کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ امیشا پٹیل نے اس میں سے 10 لاکھ روپے واپس کر دیے تھے جبکہ ساڑھے چار لاکھ روپے کا ایک چیک باؤنس ہو گیا تھا۔

جس پر ایونٹ آرگنائزر نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی اور آج ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا آنے والے چند دنوں میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے، اسرائیل بھی الرٹ، امریکی میڈیا

Published

on


مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف محدود یا وسیع فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

میڈیا رپورٹس میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی سے متعلق عسکری اور سفارتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر مسلسل مشاورت اور غور و فکر میں مصروف ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات کے باعث اسرائیل میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی بنکرز کی معلومات رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا خدشہ ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو تہران جوابی کارروائی کے طور پر میزائل حملے کر سکتا ہے، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور میں خدمت کا رمضان مہم کا آغاز، شہر بھر میں سحری دسترخوان سج گئے

Published

on



لاہور:

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام فلاحی مہم “خدمت کا رمضان” کا آغاز کر دیا گیا، جس کے تحت شہر بھر میں سحری دسترخوان اور کچن قائم کیے گئے ہیں۔

پارٹی رہنماؤں کے مطابق لاہور کی 274 یونین کونسلز میں سحری کچن فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد سحری تقسیم پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں مستحق افراد اور مسافروں کو مفت سحری فراہم کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ ماڈل ٹاؤن میں ایک بڑا مرکزی شاہی سحری دسترخوان بھی سجایا گیا جہاں بیف قورمہ، پراٹھے، حلوہ پوری، دہی اور چائے سے شرکاء کی تواضع کی گئی۔

مرکزی قیادت نے بھی دسترخوان کا دورہ کیا اور شہریوں کے ساتھ بیٹھ کر سحری کی۔

اس موقع پر رہنما ڈاکٹر مزمل ہاشمی نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ “خدمت کا رمضان” کے عنوان سے لاہور بھر میں اپنی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہے اور پورے شہر میں سحری و افطاری کے دسترخوان سجائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم کی کوشش ہے کہ سحری مستحق افراد کی دہلیز تک پہنچائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا تاکہ ضرورت مند افراد کو رمضان میں آسانی میسر آ سکے۔





Source link

Continue Reading

Trending