Today News
سرحد پارگٹھ جوڑ اور دہشت گردی
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 13 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شہر قائد ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب شاہ لطیف ٹاؤن میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے شدید مقابلے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ملک بھر میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی اور منظم لہر نے سر اٹھا لیا ہے، حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض چند منتشر کارروائیاں نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کے تحت جاری مہم کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کی ذمے داری جن عناصر پر عائد کی گئی اور جن کے بارے میں سرکاری سطح پر کہا گیا کہ انھیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے، وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی یہ لہر داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت کا بھی نتیجہ ہے۔ داخلی کمزوری یہ تھی کہ خیبرپختون خوا کی تمام شاہراہیں احتجاجی سیاست کی وجہ سے بند تھیں جس کی وجہ سے دشمن کو وار کرنے کا موقع ملا۔
گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین یا وہاں موجود نیٹ ورکس کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔جنوبی ایشیا ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اس کا ایٹمی طاقت ہونا، چین کے ساتھ اس کے تزویراتی تعلقات، اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے منصوبے بعض قوتوں کے لیے باعثِ تشویش رہے ہیں۔
ایسی صورت میں کسی ملک کو براہِ راست جنگ میں الجھانے کے بجائے پراکسی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ایک آزمودہ حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل، اسلحہ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے انھیں اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، سکیورٹی تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنائیں، تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہو اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا سکے۔
باجوڑ حملے میں خودکش دھماکہ خیز گاڑی کا استعمال، چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچانا اس بات کی علامت ہے کہ مقصد صرف عسکری نقصان نہیں بلکہ سماجی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی تھا۔ دہشت گردی کی حکمت عملی میں نفسیاتی جنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا پیغام دور دور تک پہنچتا ہے کہ دشمن ہر جگہ موجود ہے۔ یہی وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو سرمایہ کاری، سیاحت، معاشی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں دہشت گردوں کی موجودگی اور بارودی مواد کی تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری مراکز کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش جاری ہے، اگر کراچی جیسے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ بندرگاہی سرگرمیاں، بین الاقوامی تجارت، مالیاتی ادارے اور صنعتی یونٹس سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل ہدف محض جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ریاستی و معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔
اس نئی لہر کے اسباب و محرکات کو سمجھنے کے لیے ہمیں داخلی اور خارجی دونوں عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ خارجی سطح پر سب سے اہم عنصر علاقائی رقابت اور پراکسی جنگ ہے۔ اگر واقعی پاکستان مخالف عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے تو یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو سفارتی، عسکری اور معاشی محاذوں پر دباؤ میں رکھنا ہے۔
افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، سرحدی علاقوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت اور قبائلی روابط دہشت گردوں کے لیے نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنا پاتی تو اس کا براہِ راست نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی، خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں، باہمی اعتماد کی فضا کو کمزور رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ اور سرحدی جھڑپیں ایک ایسے ماحول کو جنم دیتی ہیں جہاں پراکسی عناصر کے استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دہشت گرد گروہوں کو مالی یا لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، کے فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرے تاکہ عالمی دباؤ کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔داخلی عوامل بھی کم اہم نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، مگر نظریاتی اور مالیاتی نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔
شدت پسند بیانیہ، مذہبی یا نسلی جذبات کا استحصال، اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب تک ان فکری جڑوں کو نہیں کاٹا جائے گا، دہشت گردی کی نئی شکلیں سامنے آتی رہیں گی، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری کارروائی کافی نہیں۔ ایک ہمہ جہت حکمت عملی ناگزیر ہے جس کے چند بنیادی ستون ہوں۔ پہلا ستون انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا مربوط نظام ہے۔ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر مانیٹرنگ کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تکمیل اور جدید آلات کے استعمال سے دراندازی کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
دوسرا ستون نظریاتی محاذ ہے۔ علما، دانشور، اساتذہ اور میڈیا کو مل کر ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو انتہا پسندی کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرے۔ مذہب کے نام پر تشدد کو بے نقاب کرنا اور آئینی و جمہوری اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نصابِ تعلیم میں تنقیدی سوچ، برداشت اور مکالمے کی ثقافت کو شامل کرنا طویل المدتی استحکام کا ضامن بن سکتا ہے۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور قومی دھارے میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ شدت پسند عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں۔تیسرا ستون معاشی و سماجی ترقی ہے۔
قبائلی اضلاع اور سرحدی علاقوں میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو ان کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیتے ہیں۔ مقامی عمائدین اور کمیونٹی لیڈرز کو امن کمیٹیوں کے ذریعے شامل کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
چوتھا ستون سفارت کاری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور واضح پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے اختلافات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی، خواہ تعلقات کشیدہ ہی کیوں نہ ہوں، بیک چینل یا رسمی سفارتی ذرائع سے اس مسئلے کو اٹھایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور الزامات کی سیاست کے بجائے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر بات آگے بڑھے۔
پانچواں اور سب سے اہم ستون قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو ہوا دینا اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جائے تو دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنسنی خیزی کے بجائے ذمے دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔آج کا تقاضا یہی ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک سیکیورٹی چیلنج کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی بقا اور مستقبل کے تناظر میں سمجھا جائے۔
اگر ہم نے مربوط حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سفارت کاری، نظریاتی اصلاح اور معاشی ترقی کو یکجا کر لیا تو دہشت گردی کی یہ نئی لہر بھی دم توڑ دے گی۔ بصورت دیگر، وقتی کامیابیاں بھی مستقل امن میں تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے، اور قوم کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ہر سطح پر دشمن کے عزائم کو ناکام بنائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
Today News
لاہور میں خدمت کا رمضان مہم کا آغاز، شہر بھر میں سحری دسترخوان سج گئے
لاہور:
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام فلاحی مہم “خدمت کا رمضان” کا آغاز کر دیا گیا، جس کے تحت شہر بھر میں سحری دسترخوان اور کچن قائم کیے گئے ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق لاہور کی 274 یونین کونسلز میں سحری کچن فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد سحری تقسیم پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں مستحق افراد اور مسافروں کو مفت سحری فراہم کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ ماڈل ٹاؤن میں ایک بڑا مرکزی شاہی سحری دسترخوان بھی سجایا گیا جہاں بیف قورمہ، پراٹھے، حلوہ پوری، دہی اور چائے سے شرکاء کی تواضع کی گئی۔
مرکزی قیادت نے بھی دسترخوان کا دورہ کیا اور شہریوں کے ساتھ بیٹھ کر سحری کی۔
اس موقع پر رہنما ڈاکٹر مزمل ہاشمی نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ “خدمت کا رمضان” کے عنوان سے لاہور بھر میں اپنی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہے اور پورے شہر میں سحری و افطاری کے دسترخوان سجائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم کی کوشش ہے کہ سحری مستحق افراد کی دہلیز تک پہنچائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا تاکہ ضرورت مند افراد کو رمضان میں آسانی میسر آ سکے۔
Today News
غزہ میں اس سال بھی رمضان ٹوٹے گھروں، بکھرے خاندان اور شہدا کی یاد کیساتھ شروع
غزہ کے پھٹے پُرانے بوسیدہ پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی بمباری کے شکار اور درد کے مارے فلسطینی خاندان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت، جنگ و جدل اور مایوس کن غیر یقینی حالات نے زندگی کو سخت اذیت ناک بنا رکھا ہے۔
اس کے باوجود جیسے ہی ہلال صوم آسمان پر جگمگایا، مظلوم فلسطینیوں کی نگاہیں چمک اور چہرے خوش سے کھلکھلا اُٹھے۔ غربت، بے گھری اور بھوک کے باوجود وہ آج بہت شاداں ہیں۔
وہ خیمے جو موسم کی سختیاں جھیلنے کی سکت نہیں رکھتے، ان میں بھی رمضان کی آمد پر سادہ لیکن خوشنما سجاوٹ کی جا رہی ہے۔ بچے اپنے ہاتھ سے پینٹنگز بناکر خیموں پر لگا رہے ہیں۔
تاریک ماحول کو خصوصی طور پر تیار کی گئی رمضان لالٹین سے روشن کیا جا رہا ہے۔خیمہ گاہوں کی کچی پکی ایک ایک گلی رنگ و نور سے بھر گئی ہے۔ خیموں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں۔
صاف نظر آ رہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کے گھروں کو تو مسمار کرچکا ہے لیکن ایک ایک شخص کا جذبۂ ایمانی پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکا ہے۔
غزہ کے لوگوں کے لیے رمضان المبارک کے یہ دن امید، صبر اور اجتماعات کی اہمیت کا پیغام بھی رکھتے ہیں حالانکہ اب بھی جنگ، بحران اور قربانیوں کا دکھ پوری شدت کے ساتھ تازہ ہے۔
Today News
افطاری کیلیے اداکارہ صبا فیصل کس وقت فروٹ چاٹ بناتی ہیں؛ مداح حیران رہ گئے
معروف سینئر اداکارہ صبا فیصل نے رمضان سے متعلق ایک پروگرام میں اپنے معمولات پر کھل کر گفتگو کی تاہم اس پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
ماہ رمضان میں سحر و افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور یہ شعبہ خواتین کا بھی پسندیدہ شعبہ ہے۔ جس میں شوبز خواتین بھی کسی سے کم نہیں۔
صبا فیصل نے بتایا کہ وہ رمضان میں فروٹ چاٹ دوپہر تقریباً 12 بجے ہی تیار کرلیتی ہیں اور اس میں چاٹ مصالحہ بھی اسی وقت شامل کر دیتی ہیں کیونکہ افطار شام میں ہوتا ہے۔
اداکارہ صبا فیصل کے بقول یہ ان کا ذاتی اور آزمودہ طریقہ ہے جس پر وہ برسوں سے عمل کر رہی ہیں۔
تاہم اداکارہ کا یہ بیان سوشل میڈیا صارفین کو ہضم نہ ہوسکا۔ کچھ خواتین نے تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی تیار کی گئی فروٹ چاٹ شام تک خراب یا سیاہ ہو سکتی ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ پھر تو پھل شام تک کالے ہو جاتے ہوں گے جبکہ ایک اور تبصرہ تھا کہ یہ تو بہت قدیم طریقہ لگتا ہے۔
البتہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ہر شخص کا اپنا طریقہ ہوتا ہے اور اگر کوئی برسوں سے کسی معمول پر عمل کر رہا ہو تو اسے غیر ضروری تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech5 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims