Connect with us

Today News

امریکی بزنس مین کا اسلام قبول کرنے کے بعد مسجد الحرام میں پہلا روزہ؛ ویڈیو شیئر کردی

Published

on


امریکی ارب پتی اور سعودی عرب کی معروف کمپنی ریڈ سی ڈیلوپمنٹ کے سی ای او جان پگانو نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلا روزہ مسجد الحرام میں کھولا۔

جان پگانو نے اپنے اس شاندار روحانی تجربے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنی ایک ویڈیو میں بتایا۔

اس ویڈیو میں جان پگانو سفید سعودی لباس کندورہ اور سعودی کیفیہ زیب تن کیے ہوئے ہیں اور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہو رہے ہیں۔

جان پگانو کی نگاہوں کے سامنے خانہ کعبہ اپنی پورے جاہ و جلال اور رحمتیں بکھیرتا نظر آ رہا ہے، وہ خانہ خدا کی جانب بے تابی سے بڑھتے ہیں۔

ویڈیو میں جان پگاؤ کی خوشی دیدنی تھی۔ ان کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار اور انتظامی عملہ بھی رہنمائی کے لیے ہر لمحہ موجود تھا۔

ویڈیو پیغام میں جان پگانو نے خادمِ حرمین شریفین، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو رمضان المبارک کی مبارک باد پیش کی۔

انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت مہینے میں سعودی عرب پر خیر، امن اور برکتیں نازل فرمائے۔

یاد رہے کہ جان پگانو نے اکتوبر 2025 میں اسلام قبول کیا تھا جس کے بعد سعودی حکومت نے انھیں اعزازی سعودی شہریت بھی دی تھی۔

جان پگاؤ کی کمپنی ریڈ سی ڈیویلپمنٹ کمپنی سعودی عرب کے میگا سیاحتی منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس؛ ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا

Published

on


واشنگٹن میں ہونے والے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ اور قطر کے نمائندگان نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی عالمی کوششوں میں اپنے کردار کو مزید واضح کردیا۔

ترکیہ نے غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی جب کہ قطر نے امن منصوبے کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت غزہ میں نہ صرف فوجی دستے بھیجنے کے لیے تیار ہے بلکہ صحت، تعلیم اور فلسطینی پولیس فورس کی تربیت میں بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

تاہم وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس بات پرخبردار بھی کیا کہ اسرائیل جکی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں غزہ میں غیر ملکی فورس کی تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

اجلاس سے خطاب میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے اعلان کیا کہ قطر غزہ کی تعمیر نو کے مشن کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی صدرکی قیادت میں بورڈ آف پیس 20 نکاتی امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے گا تاکہ خطے میں انصاف اور استحکام ممکن ہو سکے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے واضح طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ قطر ایسی حتمی حل کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینیوں کو ریاست اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا حق دے، جبکہ اسرائیل کو سلامتی اور علاقائی انضمام حاصل ہو۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اجلاس میں موجود کسی بھی امریکی عہدیدار نے فلسطینی ریاست کا براہِ راست ذکر نہیں کیا حالانکہ دو ریاستی حل طویل عرصے سے امریکا، اقوام متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی رہا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیلی قیادت اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد بارہا یہ اعلان کر چکی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پہلے ہی کھل کر ترکیہ کے غزہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت بھی کرچکے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

غزہ میں کون کون سے ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتایا

Published

on


ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں امریکی صدر نے غزہ میں مختلف ممالک کی فورسز کی تعیناتی کی تفصیلات بھی بتائیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے غزہ میں جلد غیرمسلح ہونے کا امکان ظاہر کیا وہیں حماس کے بعد تعینات ہونے والی غیرملکی فورسز سے متعلق معلومات بھی دیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان غزہ میں سیکیورٹی کے لیے قائم کی گئی عالمی استحکامی فورس کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس بھیجیں گے۔

صدر ٹرمپ نے عالمی استحکامی فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ان ممالک کا نام لے کر شکریہ بھی ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے جب کہ مصر اور اردن بھی اس عمل میں انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ مصر اور اردن ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے فوج، تربیت اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

اس بین الاقوامی فورس کے اہلکار کی تعداد 18 سے 22 ہزار تک ہوسکتی ہے جس میں بیرون ملک کے دس سے بارہ ہزار اہلکار ہوں گے۔

سب سے زیادہ اہلکار بھیجنے کا وعدہ انڈونیشیا نے کیا ہے جس کی تعداد ڈھائی ہزار سے 2 ہزار تک ہوسکتی ہے۔

مراکش بھی 1500 سے 2 ہزار ، قازغستان 1200 سے 1500، البانیہ 700 سے ایک ہزار جب کہ کوسوو 600 سے 800 اہلکار بھیجے گا۔

مصر اور اردن کے اہلکار بھی غزہ میں تعینات ہوں گے تاہم ان کا مقصد صرف نگرانی اور تربیت دینا ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی استحکامی فورس میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ ان کے دستے محدود نوعیت کے امن مشنز انجام دیں گے، جن میں سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کا تحفظ اور حساس تنصیبات کی حفاظت شامل ہیں۔

امریکی حکام کے بقول ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے آپریشنز میں حصہ نہیں لینا چاہتے جن میں حماس یا دیگر مزاحمت پسند گروہوں سے براہِ راست لڑائی اور اسلحہ ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

غزہ پر بنایا بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کی بھی نگرانی کرے گا؛ ڈونلڈ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں اس منصوبے کی تشکیل، تکمیل اور اغراض و مقاصد پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا قائم کردہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا تشکیل کردہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی کارکردگی، بالخصوص مالی امور، کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت کیے بغیر کہا کہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کو مالی لحاظ سے سہارا دے سکتا ہے اور یہ یقینی بنائے گا کہ ادارہ قابلِ عمل رہے۔

انھوں نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے بارے میں اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ اس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن ویسا کام نہیں کر رہا جیسا ہونا چاہیئے۔

صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی چیز بننے جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہوگا جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کے تشکیل کے وقت یورپی ممالک نے سب سے بڑا اعتراض یہی اُٹھایا تھا کہ یہ اقوام متحدہ سے متصادم ادارہ ہوگا۔

سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ ایک کثیرالجہتی ادارہ ہے، جس کے فیصلے تمام رکن ممالک کی مشاورت سے ہوتے ہیں۔

یورپی ممالک پہلے ہی اس نظریے کو مسترد کرچکے ہیں کہ اقوام متحدہ پر کسی ایک ملک یا اس کے قائم کردہ بورڈ کی بالادستی قبول نہیں کی جا سکتی۔

بعض یورپی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے اقوامِ متحدہ کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی نظام میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خطرہ ہے۔

فرانسیسی اور جرمن حکام نے غیر رسمی گفتگو میں اس خیال پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کے اختیارات کی نوعیت واضح نہیں اور یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہوگا۔

اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اشارہ دیدیا ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی نگرانی گا اور اس پر یورپی اعتراضات آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی محاذ پر نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Trending