Today News
غزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا پہلا اجلاس؛ صدر ٹرمپ خطاب کریں گے
صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ کے بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس اب سے کچھ دیر بعد واشنگٹن میں شروع ہونے جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سفارتی وفود واشنگٹن پہنچ گئے اور اس تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ تصویر بنوائیں۔
یہ اجلاس جنگ بندی کے بعد غزہ کے انتظامی و بحالی امور کی نگرانی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی خصوصی دعوت پر شریک ہیں۔
اجلاس کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کلیدی خطاب کریں گے۔ ان کے بعد امریکا کے درجن سے زائد اعلیٰ حکام اور بورڈ آف پیس سے وابستہ سینئر نمائندے خطاب کریں گے۔
اس کے بعد بورڈ آف پیس میں شامل مختلف ممالک کے ایک درجن سے زائد غیر ملکی رہنما بھی مختصر تقاریر کریں گے، جن میں غزہ کی بحالی، سیکیورٹی، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام سے متعلق اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔
امریکی حکام کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسا بین الاقوامی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن، تعمیرِ نو اور انسانی امداد کو یقینی بنا سکے۔
تاہم اس امریکی اقدام پر عالمی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور بعض حلقے اس منصوبے کو متنازع بھی قرار دے رہے ہیں۔
Today News
پنجاب سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے دھرنا، مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل
حکومت پنجاب نے سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے جاری دھرنے کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
حکومت پنجاب نے سرکاری ملازمین کے احتجاج پر حکومتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق اعلیٰ سطح کی حکومتی کمیٹی سراپا احتجاج ملازمین کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری ریگولیشن کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ملازمین کے مطالبات کا تفصیلی جائزہ لے کر 30 روز کے اندر اندر حتمی سفارشات اور فیصلہ پیش کرے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ کمیٹی ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کرے گی تاکہ قابل عمل اور متفقہ حل نکالا جا سکے اور محکمہ آئی اینڈ سی نے متعلقہ محکموں کو مشاورتی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ارسال کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم، لیو انکیشمینٹ اور رول 17 اے کے خاتمے کے خلاف 10 روز سے پنجاب سول سیکریٹریٹ میں دھرنا جاری تھا۔
سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم کا نوٹیفکیشن، لیو انکیشمنٹ اور سرکاری ملازمین کا رول 17 اے کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لینے کا مطالبہ ہے۔
مظاہرین نے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن ہے، اگر 31 مارچ تک مطالبات منظور نہیں ہوئے تو دوبارہ احتجاج اور دھرنا ہوگا۔
Today News
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس؛ ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا
واشنگٹن میں ہونے والے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ اور قطر کے نمائندگان نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی عالمی کوششوں میں اپنے کردار کو مزید واضح کردیا۔
ترکیہ نے غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی جب کہ قطر نے امن منصوبے کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری حکومت غزہ میں نہ صرف فوجی دستے بھیجنے کے لیے تیار ہے بلکہ صحت، تعلیم اور فلسطینی پولیس فورس کی تربیت میں بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
تاہم وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس بات پرخبردار بھی کیا کہ اسرائیل جکی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں غزہ میں غیر ملکی فورس کی تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے اعلان کیا کہ قطر غزہ کی تعمیر نو کے مشن کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی صدرکی قیادت میں بورڈ آف پیس 20 نکاتی امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے گا تاکہ خطے میں انصاف اور استحکام ممکن ہو سکے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے واضح طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ قطر ایسی حتمی حل کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینیوں کو ریاست اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا حق دے، جبکہ اسرائیل کو سلامتی اور علاقائی انضمام حاصل ہو۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اجلاس میں موجود کسی بھی امریکی عہدیدار نے فلسطینی ریاست کا براہِ راست ذکر نہیں کیا حالانکہ دو ریاستی حل طویل عرصے سے امریکا، اقوام متحدہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی رہا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی قیادت اکتوبر 2023 میں غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد بارہا یہ اعلان کر چکی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پہلے ہی کھل کر ترکیہ کے غزہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت بھی کرچکے ہیں۔
Today News
غزہ میں کون کون سے ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتایا
ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں امریکی صدر نے غزہ میں مختلف ممالک کی فورسز کی تعیناتی کی تفصیلات بھی بتائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے غزہ میں جلد غیرمسلح ہونے کا امکان ظاہر کیا وہیں حماس کے بعد تعینات ہونے والی غیرملکی فورسز سے متعلق معلومات بھی دیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان غزہ میں سیکیورٹی کے لیے قائم کی گئی عالمی استحکامی فورس کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس بھیجیں گے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی استحکامی فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ان ممالک کا نام لے کر شکریہ بھی ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے جب کہ مصر اور اردن بھی اس عمل میں انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مصر اور اردن ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے فوج، تربیت اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
اس بین الاقوامی فورس کے اہلکار کی تعداد 18 سے 22 ہزار تک ہوسکتی ہے جس میں بیرون ملک کے دس سے بارہ ہزار اہلکار ہوں گے۔
سب سے زیادہ اہلکار بھیجنے کا وعدہ انڈونیشیا نے کیا ہے جس کی تعداد ڈھائی ہزار سے 2 ہزار تک ہوسکتی ہے۔
مراکش بھی 1500 سے 2 ہزار ، قازغستان 1200 سے 1500، البانیہ 700 سے ایک ہزار جب کہ کوسوو 600 سے 800 اہلکار بھیجے گا۔
مصر اور اردن کے اہلکار بھی غزہ میں تعینات ہوں گے تاہم ان کا مقصد صرف نگرانی اور تربیت دینا ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی استحکامی فورس میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ ان کے دستے محدود نوعیت کے امن مشنز انجام دیں گے، جن میں سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کا تحفظ اور حساس تنصیبات کی حفاظت شامل ہیں۔
امریکی حکام کے بقول ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے آپریشنز میں حصہ نہیں لینا چاہتے جن میں حماس یا دیگر مزاحمت پسند گروہوں سے براہِ راست لڑائی اور اسلحہ ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech3 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant