Connect with us

Today News

پنجاب سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے دھرنا، مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل

Published

on



حکومت پنجاب نے سول سیکریٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا 10 روز سے جاری دھرنے کے نتیجے میں مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

حکومت پنجاب نے سرکاری ملازمین کے احتجاج پر حکومتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق اعلیٰ سطح کی حکومتی کمیٹی سراپا احتجاج ملازمین کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری ریگولیشن کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ملازمین کے مطالبات کا تفصیلی جائزہ لے کر 30 روز کے اندر اندر حتمی سفارشات اور فیصلہ پیش کرے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ کمیٹی ملازمین کے نمائندوں سے مشاورت کرے گی تاکہ قابل عمل اور متفقہ حل نکالا جا سکے اور محکمہ آئی اینڈ سی نے متعلقہ محکموں کو مشاورتی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ارسال کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم، لیو انکیشمینٹ اور رول 17 اے کے خاتمے کے خلاف 10 روز سے پنجاب سول سیکریٹریٹ میں دھرنا جاری تھا۔

سرکاری ملازمین کا پنشن رولز میں ترمیم کا نوٹیفکیشن، لیو انکیشمنٹ اور سرکاری ملازمین کا رول 17 اے کے خاتمے کا نوٹیفکیشن بھی واپس لینے کا مطالبہ ہے۔

مظاہرین نے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

محمد احمد نے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن ہے، اگر 31 مارچ تک مطالبات منظور نہیں ہوئے تو دوبارہ احتجاج اور دھرنا ہوگا۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نیکیوں کا موسم بہار رمضان کریم

Published

on


روزہ اﷲ رب العزت کے لیے ہے اور وہی اس کا اجر دے گا۔ روزے کو عربی میں صوم کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنیٰ رک جانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں یہ اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جس میں ایک مسلمان اﷲ تعالیٰ کے حکم سے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تمام مفطرات سے رکا رہتا ہے۔

مفطرات، روزہ توڑنے والی چیزیں کو کہتے ہیں جیسے کھانا، پینا، شوہر و بیوی کی ملاقات وغیرہ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں عام زندگی میں حلال ہیں، مگر روزے کی حالت میں یہ حرام ہوجاتی ہیں اور روزہ ان اعمال کی وجہ سے فاسد ہوجاتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے اسی کے حکم کے مطابق طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ان اعمال سے بچنے کا نام روزہ ہے۔

روزے کی اس تعریف اور عمل سے ہی روزے کا مقصد واضح ہو جاتا ہے جو اﷲ رب العالمین نے قرآن حکیم میں روزے کا حکم دیتے ہوئے بیان فرمایا ہے، مفہوم:

’’مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بنو۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

اس آیۂ مبارکہ کے مفہوم سے صاف واضح ہورہا ہے کہ روزہ رکھنے کا مقصد تقوے کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے، اﷲ کا ڈر اپنے دل میں بسانا، یعنی کسی بھی کام کو کرنے سے قبل انسان کے دل میں یہ خیال شدت کے ساتھ پیدا ہوجائے کہ میں جو کام کرنے جارہا ہوں وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا حرام ہے؟ ایسا کرنے سے اﷲ کی ناراضی کا اندیشہ تو نہیں؟

روزے سے تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟

جب ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں قید ہوتا ہے جہاں اسے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس کا مواخذہ کرنے والا ہوتا ہے، اب نہ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ ہی دیگر جسمانی خواہشات پوری کرتا ہے۔

وہ ایسا کیوں نہیں کرتا۔۔۔ ؟

محض اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے روزے کی حالت میں اسے ان امور سے روک دیا ہے اور وہ بھی پورے ایک مہینے کے لیے۔ اس ایک مہینے کی تربیت سے مومنوں کے دلوں پر فطری اثرات مرتب ہوتے ہیں بہ شرط یہ کہ انسان خلوص دل اور شعور سے کوشش کرے۔ اس کے بعد اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف جم جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے کہ جب روزے کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے حلال چیزوں سے بھی اجتناب کرتا رہا ہوں تو جو چیزیں اﷲ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دی ہیں، ان کا ارتکاب میرے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ یا اگر مجھے اﷲ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے تو میں اس خالق کائنات کی نافرمانی کیوں کروں ؟

چناں چہ یہ ماہ مبارک صرف روزہ رکھنے ہی کی ترغیب نہیں دیتا، بل کہ انسانی کردار کو نکھارنے کے لیے بعض کاموں سے انکار کروا کے اعمال صالحہ کی جانب راغب کرتا ہے۔ مثلاً روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا تو اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا رہے، یعنی اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس کے روزے کی کوئی اہمیت یا قدر نہیں۔

روزہ صرف کھانا، پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بل کہ روزہ تو ہر اس غلط سے روکتا ہے جو عام دنوں میں بھی جائز نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کے ساتھ جھگڑا اور فساد کرنے کی کوشش کرے تو اس سے بڑی نرمی سے کہہ دیا جائے: ’’بھئی، مجھے معاف کرو، میں روزے سے ہوں۔‘‘

اکثر نوجوان اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا نظر آتے ہیں جو روزہ دار کے لیے جائز نہیں، مثلاً وہ اپنا وقت گزارنے کے لیے ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، ٹی وی پر بیہودہ پروگرام دیکھتے ہیں، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ روزے کی حالت میں تو ہماری اسلامی و اخلاقی تربیت ہوتی ہے، مگر ہم اسے حاصل کرنے کے بہ جائے دوست احباب کے ساتھ تاش یا شطرنج کھیل کر وقت گزارتے ہیں۔ حالت روزہ میں چغل خور ی کرنا، جھوٹ بولنا اور مذاق کے نام پر بے ہودہ حرکات کرنا ناجائز ہے اور یہ ساری بری باتیں تو ویسے بھی قابل مذمت اور قابل وعید ہیں۔ ان سب کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر روزے کی حالت میں بھی طنز کرتے ہیں، تاکہ روزہ دار کو جوش آجائے اور وہ کسی طرح غیر اخلاقی عمل کا مرتکب ہوجائے۔ یہی وقت روزے دار کے لیے ہوش کا ہے۔ ایسے موقع پر درگزر کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام نے روزے کی حالت میں قوت برداشت سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

روزہ دار کے لیے ایک اہم نکتے کی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اسے جھوٹ بولنے سے منع کیا جارہا ہے، وہاں یہ بھی تعلیم دی جارہی ہے کہ دھوکے اور فریب سے گریز کرے۔ مثلاً اگر وہ تاجر ہے تو جھوٹ بول کر اپنی اشیاء فروخت نہ کرے، اپنے ناقص مال کو چھپا کر نہ بیچے، بل کہ اس شے کا نقص گاہک پر واضح کردے۔ کاروبار میں اس قسم کی حرکات ویسے تو پورے سال ممنوع ہیں، مگر رمضان المبارک میں اور روزے کی حالت میں اس قسم کی حرکات کا ارتکاب دین سے غفلت ہی ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے، مفہوم:

’’ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنھیں روزہ رکھنے سے سوائے پیاس اور بھوک کے اور کچھ نہیں ملتا، اور کتنے ہی شب بیدار ایسے ہیں جنھیں بے خوابی کے سوا شب بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

سال بھر کے مہینوں میں ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر ایک نیکی کا اجر دس سے ستّر گنا اور ایک مقام پر تو سات سو گنا بتایا گیا ہے۔ جنّت کے سات دروازوں میں سے ہر عمل کرنے والا گزارا جائے گا لیکن روزہ داروں کے لیے ایک مخصوص دروازہ رکھا گیا ہے، جس کا نام باب الریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار گزریں گے۔ اس ماہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

یہ مہینہ غریبوں اور مسکینوں سے ہم دردی اور غم گساری کا ہے۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔

یہ عظیم ماہ مقدس شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کا شایان شان استقبال اس انداز سے کریں کہ اس مہینے میں اپنے معمولات سے ہٹ کر زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہیں اور اپنی آخرت کی فکر کریں۔ آج ہی سے تمام برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے نیک اعمال کی جانب متوجہ ہوکر دنیا و آخرت کی کام یابی حاصل کریں۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعظم شہباز شریف دورہ امریکا مکمل کر کے لندن روانہ، اتوار کو وطن واپسی

Published

on



اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف اپنا دورہ امریکا مکمل کرنے کے بعد امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے لندن روانہ ہوں گے، جہاں وہ ایک روزہ قیام کے بعد اتوار کو وطن واپس آئیں گے۔

وزیراعظم نے دورے کے دوران امریکہ میں منعقدہ غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ میں پائیدار امن کا قیام پاکستان کا اہم مشن ہے اور عالمی برادری کو اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

وزیراعظم نے تنازعات کے حل میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت مداخلت سے پاک-بھارت جنگ رکی، جس سے کروڑوں قیمتی جانیں بچیں اور وہ امن کے علمبردار ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

صادق آباد؛ فاضل واہ نہر پر پولیس اور ڈاکوؤں میں مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک

Published

on


صادق آباد کے علاقے احمد پور لمہ میں فاضل واہ نہر کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ ہوا ہے۔

ڈی پی او عرفان علی سمو کے مطابق خفیہ ذرائع سے ڈاکوؤں کی نقل و حرکت کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا جبکہ مقابلہ تاحال جاری ہے۔

ڈی پی او کے مطابق صورتحال کے پیش نظر پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending