Connect with us

Today News

گووندا سدھر جائیں تو معاف کردوں گی؛ اہلیہ سنیتا آہوجا

Published

on


بالی ووڈ کے سپر اسٹار گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں تاہم اس بار سنیتا آہوجا نے رشتہ قائم رکھنے کی بنیادی شرط رکھ دی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے حالیہ انٹرویو میں اپنی ازدواجی زندگی اور اس میں آنے والے پیچیدہ موڑ پر کھل کر بات کی ہے۔

سنیتا آہوجا نے کہا ہے کہ اگر گووندا سدھر جائیں، اپنے رویّے میں تبدیلی لائیں اور ایک خاندان کی طرح چلنے کو تیار ہوں تو میں انہیں معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔

سنیتا آہوجا نے کہا کہ میں عمر کے اُس حصے میں ہوں جہاں عورت کو خاص طور پر شوہر اور بچوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ذہنی دباؤ کم ہو۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ گووندا الزامات اور تنازعات کو میڈیا سے گفتگو میں ہنسی میں ٹال دیتے ہیں مگر ان کے جوابات اکثر سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔

سنیتا آہوجا کے بقول شروع میں ہر معاملات میں نے سنبھالے اور گووندا کو سہارا دیا لیکن اب نئے منیجرز کے آنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ گووندا اب اپنی کم ہوتی ہوئی شہرت اور مقبولیت کو تسلیم کرنے میں بھی مشکل محسوس کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں جب کہ اداکار کا نام ایک کم عمر میراٹھی اداکارہ کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بنگلہ دیشی انتخابات اور ہماری بیمار سیاست

Published

on


بنگلہ دیش میں ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اپنی بلاشرکت غیرے حکومت بنا لی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمن، جو سابق فوجی جنرل ضیا الرحمن کے صاحبزادے ہیں نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔

بنگلہ دیشی انتخابات میں دوسری بڑی کامیابی جماعت اسلامی کی زیر قیادت سیاسی اتحاد نے 77 نشستوں کے ساتھ حاصل کی جب کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے نوجوان طلبا کی قائم کردہ نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابات میں حصہ نہ لے سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے طارق رحمن کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے انھیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کبھی ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے، 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط بنگال کے سانحے میں جہاں درون خانہ صاحبان اقتدار کی کوتاہیاں، غلط فیصلے، لسانی نفرتیں اور سیاسی چپقلش نے منفی اثرات مرتب کیے تو دوسری جانب بھارت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے کر سقوط ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔

بعدازاں بھارتی قیادت نے بنگلہ دیش میں آہستہ آہستہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کو مضبوط اور طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقہ بھارتی مداخلت کاری کو اپنی آزادی، سلامتی اور خود مختاری کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ 1971 کے بعد عوامی سطح پر بنگالی عوام میں پاکستان کے ساتھ ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات میں جوش و جذبہ خاصا کم ہو چکا تھا لیکن بھارتی رویوں کے باعث رفتہ رفتہ صورت حال تبدیل ہوتی گئی۔

گزشتہ سال بنگلہ دیشی نوجوانوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کو احتجاج کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ نتیجتاً شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب شیخ حسینہ واجد نے بہ طور وزیر اعظم بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی رخصتی کے محض ایک سال بعد جب آئی سی سی نے T-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیشی ٹیم کو آؤٹ کیا تو پاکستان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا اور بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی کو آگاہ کر دیا کہ بنگلہ دیش کی T-20 میں شمولیت تک پاکستان بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔

مجبوراً آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بنگلہ دیش T-20 ورلڈ کپ کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کو مہمیز کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف جیت کا جمود توڑنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی لیکن پاکستان نے بنگلہ دیش کی عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 55 سال کی دوریوں اور فاصلوں کو ختم کرنے میں ابھی وقت درکار ہے لیکن دونوں ملکوں کے سیاستدانوں و حکمرانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل فکر و دانش کو دونوں ملکوں کے درمیان جنم لینے والی تازہ محبتوں و قربتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ انتخابی نتائج کو بی این پی اور جماعت اسلامی نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، نہ کسی ریاستی ادارے نے الیکشن میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور نہ ہی فارم 47 کا شور بلند ہوا۔

نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا۔ جب کہ ہماری بیمار سیاست میں یہ سب کچھ جائز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص صاحبان اقتدار اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دینے کے سارے جتن آزمانے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و نارسائیوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نفرت، بدلہ اور انتقام کو ’’ مکافات عمل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

درگزر اور اعلیٰ ظرفی کا ہماری بیمار سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کل پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لوگ جیلوں میں تھے اور نارسائیوں کے گلے شکوے تھے، آج دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی بیماری چشم میں مبتلا ہیں۔ پی ٹی آئی کو نارسائیوں کے شکوے ہیں جب کہ حکومت مکمل تعاون اور طبی سہولیات کی فراہمی کی دعویدار ہے۔ پاکستان کی بیمار سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رنجشوں کی داستان 77 سالوں پر محیط ہے، جانے کب اور کون ازالہ کرے گا؟





Source link

Continue Reading

Today News

آمد رمضان کریم مبارک – ایکسپریس اردو

Published

on


اﷲ تعالی کا احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے، اس مہینے میں اجر و ثواب بہت بڑھ جاتاہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنا کردیا جاتا ہے بل کہ اس مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق: ’’روزہ دار کے لیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔‘‘

روزہ باطنی عبادت ہے کیوں کہ ہمارے بتائے بغیر کسی کو یہ علم نہیں ہوسکتا کہ ہمارا روزہ ہے اور اﷲ تعالی باطنی عبادت کو زیادہ پسند فرماتا ہے۔ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق: ’’روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔‘‘ اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالی نے اس میں قرآن پاک نازل فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور راہ نمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اﷲ تعالی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے تم گنتی پوری کرو اور اﷲ تعالی کی بڑائی بولو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، سورۃ البقرہ)

اس آیت مقدسہ کے ابتدائی حصہ ’’شھر رمضان الذی‘‘ کے تخت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: ’’رمضان‘‘ یا تو ’’رحمن تعالی‘‘ کی طرح اﷲ تعالی کا نام ہے چوں کہ اس مہینہ میں دن رات اﷲ تعالی کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا اسے شہر رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ کہا جاتا ہے‘ جیسے مسجد و کعبہ کو اﷲ تعالی کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں‘ ایسے ہی رمضان اﷲ تعالی کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں۔ روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اﷲ تعالی کے مگر بہ حالت روزہ جو جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے، وہ بھی اﷲ تعالی کے کام قرار پائے اس لیے اس ماہ کا نام رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ ہے۔ یا یہ رمضاء سے مشتق ہے‘ رمضاء موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دُھل جاتی ہے اور ربیع کی فصل خوب ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ مہینہ بھی دل کے گرد و غبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے‘ اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں۔ ’’ساون‘‘ میں روزانہ بارشیں چاہییں اور ’’بھادوں‘‘ میں چار‘ پھر ’’اسار‘‘ میں ایک‘ اس ایک سے کھیتیاں پک جاتی ہیں توا س طرح گیارہ مہینے برابر نیکیاں کی جاتی رہیں‘ پھر رمضان کے روزوں نے ان نیکیوں کی کھیتی کو پکا دیا۔ یا یہ ’’رمض‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’گرمی یا جلنا‘‘ چوں کہ اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کی جلا ڈالتا ہے، اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ کنزالعمال کی آٹھویں جلد کے صفحہ 217 پر حضرت انسؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم رؤف رحیمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔‘‘ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینہ تھا اسی سے اس کا نام ہوا۔ جو مہینہ گرمی میں تھا اسے رمضان کہہ دیا اور جو موسم بہار میں آیا، اسے ربیع الاول اور جو سردی میں تھا اسے جمادی الاولیٰ کہا گیا۔ اسلام میں ہر نام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نام کام کے مطابق رکھا جاتا ہے دوسری اصطلاحات میں یہ بات نہیں۔

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریمؐ کا فرمان عالی شان کا مفہوم ہے:

’’جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے، جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے ہر سجدے کی عوض (یعنی بدلہ میں) اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے، اس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے‘ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالی مہینے کے آخر دن تک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لیے صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے، اس ہر سجدے کے عوض اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھڑ سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔‘‘

خدائے حنان و منان تعالی کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے طفیل ایسا ماہ رمضان عطا فرمایا۔ حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے:

’’ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبیؑ کو نہ ملیں۔

٭ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالی ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالی نظر رحمت فرمائے گا اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔

٭ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بُو سے بھی بہتر ہے۔

٭ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

٭ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا، عن قریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔

٭ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘

لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہُوا اور عرض کی: یارسول اﷲ ﷺ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انھیں اُجرت دی جاتی ہے۔‘‘

حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، حضور پرنورؐ کا فرمان ہے: ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہ رمضان اگلے ماہ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔‘‘

رمضان المبارک میں رحمتوں کی چھما چھم بارشیں اور گناہ صغیرہ کے کفارے کا سامان ہو جاتا ہے، گناہ کبیرہ توبہ کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ ہُوا ہو خاص اس گناہ کا ذکر کرکے دل کی بے زاری اور آئندہ اس سے بچنے کا عہد کرکے توبہ کرنی ہوگی۔ مثلاً جھوٹ بولا، یہ کبیرہ گناہ ہے۔ بارگاہ خداوندی تعالی میں عرض کرے: ’’یااﷲ تعالی! میں نے جو یہ جھوٹ بولا اس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔‘‘ یہ کہتے وقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کروں گا جبھی توبہ ہے، اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ اس بندے سے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے فضائل سے کتب احادیث مالا مال ہیں۔ رمضان المبارک میں اس قدر برکتیں اور رحمتیں ہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا: ’’اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘

حضرت سیدنا سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن میں بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات (ایسی بھی ہے جو) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالی نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام تطوع (یعنی سنت) ہے، جو اس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مؤاسات (یعنی غم خواری اور بھلائی) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کچھ کمی ہو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کروائے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا، اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول (یعنی ابتدائی دس دن) رحمت ہے اور اس کا اوسط (یعنی درمیانی دس دن) مغفرت ہے اور آخر (یعنی آخری دس دن) جہنم سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ اس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمھیں بے نیازی نہیں۔ پس وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں: لاالہ الااﷲ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا۔ جب کہ وہ دو باتیں جن سے تمھیں غنا (بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں، اﷲ تعالیٰ سے جنت طلب کرنا اور جہنم سے اﷲ تعالی کی پناہ طلب کرنا۔‘‘

حدیث مبارکہ میں ماہِ رمضان کی رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کا خوب تذکرہ ہے‘ لہٰذا تمام مسلمانوں کو اس ماہ مقدسہ میں کلمہ شریف زیادہ تعداد میں پڑھ کر اور بار بار استغفار یعنی خوب توبہ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نیکیوں کا موسم بہار رمضان کریم

Published

on


روزہ اﷲ رب العزت کے لیے ہے اور وہی اس کا اجر دے گا۔ روزے کو عربی میں صوم کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنیٰ رک جانے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں یہ اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی منفرد عبادت ہے جس میں ایک مسلمان اﷲ تعالیٰ کے حکم سے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک تمام مفطرات سے رکا رہتا ہے۔

مفطرات، روزہ توڑنے والی چیزیں کو کہتے ہیں جیسے کھانا، پینا، شوہر و بیوی کی ملاقات وغیرہ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں عام زندگی میں حلال ہیں، مگر روزے کی حالت میں یہ حرام ہوجاتی ہیں اور روزہ ان اعمال کی وجہ سے فاسد ہوجاتا ہے، اس لیے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے اسی کے حکم کے مطابق طلوع فجر سے غروب آفتاب تک ان اعمال سے بچنے کا نام روزہ ہے۔

روزے کی اس تعریف اور عمل سے ہی روزے کا مقصد واضح ہو جاتا ہے جو اﷲ رب العالمین نے قرآن حکیم میں روزے کا حکم دیتے ہوئے بیان فرمایا ہے، مفہوم:

’’مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بنو۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

اس آیۂ مبارکہ کے مفہوم سے صاف واضح ہورہا ہے کہ روزہ رکھنے کا مقصد تقوے کا حصول ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے، اﷲ کا ڈر اپنے دل میں بسانا، یعنی کسی بھی کام کو کرنے سے قبل انسان کے دل میں یہ خیال شدت کے ساتھ پیدا ہوجائے کہ میں جو کام کرنے جارہا ہوں وہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ حلال ہے یا حرام ہے؟ ایسا کرنے سے اﷲ کی ناراضی کا اندیشہ تو نہیں؟

روزے سے تقویٰ کیسے حاصل ہوتا ہے؟

جب ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں قید ہوتا ہے جہاں اسے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اس کا مواخذہ کرنے والا ہوتا ہے، اب نہ وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ ہی دیگر جسمانی خواہشات پوری کرتا ہے۔

وہ ایسا کیوں نہیں کرتا۔۔۔ ؟

محض اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے روزے کی حالت میں اسے ان امور سے روک دیا ہے اور وہ بھی پورے ایک مہینے کے لیے۔ اس ایک مہینے کی تربیت سے مومنوں کے دلوں پر فطری اثرات مرتب ہوتے ہیں بہ شرط یہ کہ انسان خلوص دل اور شعور سے کوشش کرے۔ اس کے بعد اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف جم جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے کہ جب روزے کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے حلال چیزوں سے بھی اجتناب کرتا رہا ہوں تو جو چیزیں اﷲ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دی ہیں، ان کا ارتکاب میرے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ یا اگر مجھے اﷲ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے تو میں اس خالق کائنات کی نافرمانی کیوں کروں ؟

چناں چہ یہ ماہ مبارک صرف روزہ رکھنے ہی کی ترغیب نہیں دیتا، بل کہ انسانی کردار کو نکھارنے کے لیے بعض کاموں سے انکار کروا کے اعمال صالحہ کی جانب راغب کرتا ہے۔ مثلاً روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑا تو اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا رہے، یعنی اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس کے روزے کی کوئی اہمیت یا قدر نہیں۔

روزہ صرف کھانا، پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بل کہ روزہ تو ہر اس غلط سے روکتا ہے جو عام دنوں میں بھی جائز نہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص کسی روزہ دار کے ساتھ جھگڑا اور فساد کرنے کی کوشش کرے تو اس سے بڑی نرمی سے کہہ دیا جائے: ’’بھئی، مجھے معاف کرو، میں روزے سے ہوں۔‘‘

اکثر نوجوان اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا نظر آتے ہیں جو روزہ دار کے لیے جائز نہیں، مثلاً وہ اپنا وقت گزارنے کے لیے ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، ٹی وی پر بیہودہ پروگرام دیکھتے ہیں، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ روزے کی حالت میں تو ہماری اسلامی و اخلاقی تربیت ہوتی ہے، مگر ہم اسے حاصل کرنے کے بہ جائے دوست احباب کے ساتھ تاش یا شطرنج کھیل کر وقت گزارتے ہیں۔ حالت روزہ میں چغل خور ی کرنا، جھوٹ بولنا اور مذاق کے نام پر بے ہودہ حرکات کرنا ناجائز ہے اور یہ ساری بری باتیں تو ویسے بھی قابل مذمت اور قابل وعید ہیں۔ ان سب کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر روزے کی حالت میں بھی طنز کرتے ہیں، تاکہ روزہ دار کو جوش آجائے اور وہ کسی طرح غیر اخلاقی عمل کا مرتکب ہوجائے۔ یہی وقت روزے دار کے لیے ہوش کا ہے۔ ایسے موقع پر درگزر کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام نے روزے کی حالت میں قوت برداشت سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

روزہ دار کے لیے ایک اہم نکتے کی بات یہ بھی ہے کہ جہاں اسے جھوٹ بولنے سے منع کیا جارہا ہے، وہاں یہ بھی تعلیم دی جارہی ہے کہ دھوکے اور فریب سے گریز کرے۔ مثلاً اگر وہ تاجر ہے تو جھوٹ بول کر اپنی اشیاء فروخت نہ کرے، اپنے ناقص مال کو چھپا کر نہ بیچے، بل کہ اس شے کا نقص گاہک پر واضح کردے۔ کاروبار میں اس قسم کی حرکات ویسے تو پورے سال ممنوع ہیں، مگر رمضان المبارک میں اور روزے کی حالت میں اس قسم کی حرکات کا ارتکاب دین سے غفلت ہی ہے۔ ایسے لوگوں کی بابت نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے، مفہوم:

’’ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنھیں روزہ رکھنے سے سوائے پیاس اور بھوک کے اور کچھ نہیں ملتا، اور کتنے ہی شب بیدار ایسے ہیں جنھیں بے خوابی کے سوا شب بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘

سال بھر کے مہینوں میں ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس مہینے کے روزے مسلمانوں پر فرض کیے گئے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ہر ایک نیکی کا اجر دس سے ستّر گنا اور ایک مقام پر تو سات سو گنا بتایا گیا ہے۔ جنّت کے سات دروازوں میں سے ہر عمل کرنے والا گزارا جائے گا لیکن روزہ داروں کے لیے ایک مخصوص دروازہ رکھا گیا ہے، جس کا نام باب الریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار گزریں گے۔ اس ماہ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

یہ مہینہ غریبوں اور مسکینوں سے ہم دردی اور غم گساری کا ہے۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔

یہ عظیم ماہ مقدس شروع ہوچکا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کا شایان شان استقبال اس انداز سے کریں کہ اس مہینے میں اپنے معمولات سے ہٹ کر زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہیں اور اپنی آخرت کی فکر کریں۔ آج ہی سے تمام برائیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے نیک اعمال کی جانب متوجہ ہوکر دنیا و آخرت کی کام یابی حاصل کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending