Connect with us

Today News

ڈھلتی عمر میں ہیرو؛ ماہرہ خان نے ہمایوں سعید کو کیا مشورہ دیا؟

Published

on


منجھی ہوئی معروف اداکارہ ہر دلعزیز ماہرہ خان اپنی نٹ کھٹ شرارتوں اور چلبلے انداز کے لیے شہرت رکھتی ہیں۔ ان کی جوڑی ہمایوں سعید کے ساتھ کافی مقبول ہے۔ 

ہمایوں سعید کے ساتھ کئی فلموں میں ہیروئن آنے والی ماہرہ خان نے اپنے ساتھی اداکار اور دوست کو ان کے کیریئر کے لیے ایک اہم مشورہ دے ڈالا۔

اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ ہمایوں سعید کو اب رومانوی کردار کے بجائے منفی اور ایکشن سے بھرپور کرداروں کی طرف جانا چاہیے تاکہ ناظرین انہیں ایک بالکل نئے انداز میں دیکھ سکیں۔

ان خیالات کا اظہار ماہرہ خان نے آنے والی فلم آگ لگے بستی کی پروموشنز کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کیا۔

اداکارہ ماہرہ نے کہا کہ میرا خیال ہے ہمایوں کو اب منفی کردار کرنے چاہئیں۔ میں انہیں کسی ولن یا نوڑی نتھ جیسے ایکشن کردار میں دیکھنا چاہوں گی جہاں وہ اپنا بالکل مختلف پہلو دکھا سکیں۔ وہ ایکشن پر مبنی کرداروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اسی پروگرام میں موجود اداکار فہد مصطفیٰ نے کہا کہ مجھے خود ایکشن کردار کرنا پسند ہیں مگر پاکستان میں فلموں کے لیے درکار جدید سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

فہد مصطفیٰ نے انکشاف کیا کہ فلم آگ لگے بستی میں کی شوٹنگ کے دوران ایک ایکشن سین کرتے ہوئے ان کی انگلی فریکچر بھی ہو گئی تھی۔

واضح رہے کہ ماہرہ خان اس وقت فلم آگ لگے بستی میں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ فلم ایکشن اور کامیڈی کا امتزاج ہے اور اس میں فہد مصطفیٰ بھی بطور اداکار اور پروڈیوسر شامل ہیں۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وی شانتا رام – ایکسپریس اردو

Published

on


غیر منقسم برصغیر میں فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ تھیں، اس وقت پنجابی فلموں اور اردو ادب کا مرکز لاہور تھا، جب کہ اردو اور ہندی فلموں کا مرکز بمبئی (ممبئی) تھا، جب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا، سوہنی مہینوال پہلی پنجابی فلم تھی جس کا میوزک ماسٹر غلام حیدر نے دیا تھا، ابتدا میں بہت بڑے بڑے نام فلمی دنیا میں سامنے آئے جنھوں نے فلموں کو ایسے ایسے موضوعات دیے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، ان ابتدائی موسیقاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسر اور لکھاریوں کی ایک کہکشاں ہے جو کوندتی نظر آتی ہے۔

اس دور میں نتن بوس، دیویکا رانی، ستارہ دیوی، کے آصف، ڈائریکٹر محبوب، تارا چندر بھاٹیہ، طلعت محمود، راج کمار، ایس ایس واسن نمایاں تھے۔ اداکاروں میں پرنس آف منروا مودی ٹون صادق علی، پرتھوی راج کپور، مدھوبالا، دلیپ کمار، نرگس، نلنی جیونت، ثریا اور مینا کماری بہت خاص ہیں جنھوں نے لاجواب فلمیں شائقین کو دیں۔ کے آصف کی مغل اعظم، کمال امروہوی کی پاکیزہ، محبوب کی مدر انڈیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

فلمی ستاروں کی کہکشاں کا ایک چمکتا ستارہ تھا وی شانتا رام جو اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر اورکہانی کار تھے۔ یہ سب سے الگ اور منفرد تھے، انھوں نے بڑی شاہکار فلمیں فلم بینوں کو دیں۔ وی شانتا رام کا جنم کولہاپور میں 18 نومبر سن 1901 میں ہوا۔ ان کا پورا نام راجہ رام وانکوندرے رکھا گیا، شانتا رام کا من پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے گندھروا ناٹک منڈلی میں پردہ کھینچنے کے کام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ شانتا رام کافی وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ قد چھ فٹ تھا، یوں لوگوں کی نظروں میں جلد آگئے۔

تھیٹر کے زمانے میں وہ بابو راؤ پینٹر کے رابطے میں آگئے اور فلم بینی کی تربیت حاصل کی۔ شانتا رام نابغہ روزگار تھا، پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ کافی ذہین اور تیز تھے، وہ بہت جلد فلم کی باریکیوں سے واقف ہوگئے۔ 1925 میں بابوراؤ پینٹر نے انھیں اپنی فلم ’’ساوکاری پاش‘‘ میں ایک کسان کا رول دیا۔ وی شانتا رام فلمی افق پر ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ انھوں نے 1927 میں ایک فلم ’’ نیتا جی پالکر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم کی ہدایت کاری نے انھیں فلمی دنیا میں ایک سمت دی۔ انھوں نے چار ٹیکنیشنوں کو ساتھ ملا کر اپنی کمپنی ’’ پربھات فلم کمپنی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی میں چار افراد تھے یہ چاروں فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ تھے۔ 1932 میں شانتا رام نے ’’ایودھیا راجہ‘‘ نامی فلم بنائی جس کا مقصد دادا صاحب پھالکے کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا، اس فلم نے فلمی دنیا کو درگا کھوٹے جیسی خوبصورت اداکارہ دی۔

1934 میں انھوں نے ’’امرت نتھن‘‘ نامی فلم بنائی، 1935 میں انھوں نے ’’مہاتما‘‘ نامی فلم بنائی، یہ فلم ذات پات کی تقسیم کے موضوع پر تھی اور ایک جرأت مندانہ کاوش تھی جسے فلم بینوں نے بہت سراہا۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور شانتا رام کا قد بہ حیثیت ہدایت کار اور بھی بلند ہو گیا، یہ لوگ سینما کے معمار تھے۔

وی شانتا رام کی فلمیں موضوعاتی اعتبار سے اچھوتی ہوا کرتی تھیں، انھوں نے زیادہ تر سماجی فلمیں بنائیں جس میں ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ 1936 میں انھوں نے ’’ سنت تکارام‘‘ بنائی جو مہاراشٹر کے ایک مقبول شاعر تھے، اس کردار کو اداکار نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ فلم میں اس قدر سادگی اور نفاست تھی کہ 1937 کے وینس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازا گیا اور بڑی پذیرائی ملی۔ یہ پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بیرون ملک سراہا گیا۔

1936 میں ہی انھوں نے ایک فلم ’’ امر جیوتی‘‘ بنائی جو ایک عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے ایک اچھوتی فلم تھی۔ 1937 میں انھوں نے فلم ’’ دنیا نہ مانے‘‘ بنائی یہ فلم بھی عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، اس فلم کو پبلک نے بہت سراہا۔ 1939 میں انھوں نے فلم ’’آدمی‘‘ بنائی، یہ فلم شانتا رام کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے۔ 1941 میں انھوں نے فلم ’’ پڑوسی‘‘ بنائی، یہ فلم ہندو مسلم فساد پر بننے والی پہلی فلم تھی، اس فلم کو بھی عوام نے بے حد سراہا۔ یہ ایک شاہکار فلم تھی۔

شانتا رام نے پربھات فلم سے الگ ہو کر اپنی ذاتی فلم کمپنی بنائی اور اس کے تحت فلم ’’شکنتلا‘‘ بنائی۔ اس فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، یہ فلم 104 ہفتے چلی۔ 1946 میں انھوں نے ’’ڈاکٹر کوئنس کی امر کہانی‘‘ بنائی۔ یہ ایک سچی کہانی تھی جسے خواجہ احمد عباس نے فلم کے لیے لکھا تھا، اس فلم کی دیس بدیس خوب پذیرائی ہوئی۔ 1955 میں انھوں نے ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ 1959 میں ’’نو رنگ‘‘، 1963 میں ’’سہرا‘‘، 1971 میں ’’جل بن مچھلی نرتیہ بن بجلی‘‘ بنائی۔

یہ تمام فلمیں کلاسیکی رقص پر مبنی تھیں، ان فلموں نے شانتا رام کو شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ خاص کر ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ کی موسیقی، رقص اور جان دار کہانی کی وجہ سے آج تک شائقین کو یاد ہے۔ بقیہ تینوں فلموں کا موضوع بھی کلاسیکل رقص تھا جسے پبلک نے بے حد پسند کیا، خاص کر ’’ نو رنگ‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے بھی یادگار فلم تھی۔ ایک اور فلم تھی ان کی ’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ یہ ایک لاجواب فلم تھی۔ اس فلم کا ایک گیت برسوں بنا کا گیت مالا میں ریڈیو سیلون سے بجتا رہا، لتا کی آواز میں یہ کورس بہت مقبول ہوا۔

اے مالک تیرے بندے ہم

ایسے ہوں ہمارے کرم

نیکی پہ چلیں اور بدی سے بچیں

تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم

’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ ہر لحاظ سے ایک شاہکار فلم تھی، جسے پوری دنیا میں سراہا گیا، ہدایت کاری کے لحاظ سے، میوزک کے لحاظ سے، مکالمہ کی وجہ سے، فوٹو گرافی ہو یا پروڈکشن ہر لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ فلم تھی۔ اس فلم کو پہلی بار سان فرانسسکو کے فلمی فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ یورپ کے فلم سازوں نے اس فلم کو خوب سراہا۔ اس فلم کے لیے انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں 1958 میں نیشنل ایوارڈ، اس فلم کے لیے برلن ایوارڈ، OCIC فلم ایوارڈ، 1959 میں گولڈن گلوب ایوارڈ اور سمبل گولڈ گلوب ایوارڈ اور دو اور فلمیں بھی ایسی تھیں جو مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک فلم ’’پرچھائیں‘‘ جس میں شانتا رام نے ہیرو کا اور ان کی بیوی جے شری نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں سندھیا بھی تھی جو بعد میں شانتا رام کی بیوی بھی بنی۔ فلم ’’پرچھائیں ‘‘ شانتا رام کی اپنی کہانی بن گئی تھی، اس فلم کے دو گیت بہت مقبول ہوئے تھے، ایک طلعت محمود کا گایا ہوا یہ گیت:

محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیارکیا جانے

نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکارکیا جانے

اور دوسرا لتا کا گایا ہوا یہ گیت جو جے شری پہ فلمایا گیا تھا:

کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن پہلو بدل بدل کے

رہتے ہیں دل کے دل میں ارماں مچل مچل کے

شانتا رام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام وملا تھا جس سے ان کے کئی بچے ہوئے۔ دوسری بیوی جے شری سے ان کے تین بچے ہوئے اور سندھیا سے ان کے چار بچے ہوئے۔ ایک بیٹی نے ہندوستان کے نامی گرامی کلاسیکل گلوکار پنڈت جسراج سے شادی کی۔ انھیں اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ 1985 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 1992 میں پدم بھوشن ایوارڈ، 1992 میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی ’’صبح کا تارا‘‘، اس کی ہیروئن جے شری تھی، محبوب خان، کے آصف، کمال امروہوی اور شانتا رام جیسے لوگ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب بھی برصغیر کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس میں فلموں کا ذکر ہوگا تو یہ چار نام سرفہرست رہیں گے۔

 شانتا رام بڑے کھلے دل اور اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، ان کا کبھی کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے جس سے ان کی شہرت کو چار چاند لگے، لیکن وہ کبھی بد دماغ نہیں رہے۔ ہر ایک سے جھک کر ملنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

بنگلہ دیشی انتخابات اور ہماری بیمار سیاست

Published

on


بنگلہ دیش میں ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اپنی بلاشرکت غیرے حکومت بنا لی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمن، جو سابق فوجی جنرل ضیا الرحمن کے صاحبزادے ہیں نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔

بنگلہ دیشی انتخابات میں دوسری بڑی کامیابی جماعت اسلامی کی زیر قیادت سیاسی اتحاد نے 77 نشستوں کے ساتھ حاصل کی جب کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے نوجوان طلبا کی قائم کردہ نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابات میں حصہ نہ لے سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے طارق رحمن کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے انھیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کبھی ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے، 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط بنگال کے سانحے میں جہاں درون خانہ صاحبان اقتدار کی کوتاہیاں، غلط فیصلے، لسانی نفرتیں اور سیاسی چپقلش نے منفی اثرات مرتب کیے تو دوسری جانب بھارت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے کر سقوط ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔

بعدازاں بھارتی قیادت نے بنگلہ دیش میں آہستہ آہستہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کو مضبوط اور طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقہ بھارتی مداخلت کاری کو اپنی آزادی، سلامتی اور خود مختاری کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ 1971 کے بعد عوامی سطح پر بنگالی عوام میں پاکستان کے ساتھ ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات میں جوش و جذبہ خاصا کم ہو چکا تھا لیکن بھارتی رویوں کے باعث رفتہ رفتہ صورت حال تبدیل ہوتی گئی۔

گزشتہ سال بنگلہ دیشی نوجوانوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کو احتجاج کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ نتیجتاً شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب شیخ حسینہ واجد نے بہ طور وزیر اعظم بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی رخصتی کے محض ایک سال بعد جب آئی سی سی نے T-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیشی ٹیم کو آؤٹ کیا تو پاکستان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا اور بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی کو آگاہ کر دیا کہ بنگلہ دیش کی T-20 میں شمولیت تک پاکستان بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔

مجبوراً آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بنگلہ دیش T-20 ورلڈ کپ کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کو مہمیز کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف جیت کا جمود توڑنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی لیکن پاکستان نے بنگلہ دیش کی عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 55 سال کی دوریوں اور فاصلوں کو ختم کرنے میں ابھی وقت درکار ہے لیکن دونوں ملکوں کے سیاستدانوں و حکمرانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل فکر و دانش کو دونوں ملکوں کے درمیان جنم لینے والی تازہ محبتوں و قربتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ انتخابی نتائج کو بی این پی اور جماعت اسلامی نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، نہ کسی ریاستی ادارے نے الیکشن میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور نہ ہی فارم 47 کا شور بلند ہوا۔

نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا۔ جب کہ ہماری بیمار سیاست میں یہ سب کچھ جائز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص صاحبان اقتدار اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دینے کے سارے جتن آزمانے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و نارسائیوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نفرت، بدلہ اور انتقام کو ’’ مکافات عمل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

درگزر اور اعلیٰ ظرفی کا ہماری بیمار سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کل پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لوگ جیلوں میں تھے اور نارسائیوں کے گلے شکوے تھے، آج دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی بیماری چشم میں مبتلا ہیں۔ پی ٹی آئی کو نارسائیوں کے شکوے ہیں جب کہ حکومت مکمل تعاون اور طبی سہولیات کی فراہمی کی دعویدار ہے۔ پاکستان کی بیمار سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رنجشوں کی داستان 77 سالوں پر محیط ہے، جانے کب اور کون ازالہ کرے گا؟





Source link

Continue Reading

Today News

آمد رمضان کریم مبارک – ایکسپریس اردو

Published

on


اﷲ تعالی کا احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے، اس مہینے میں اجر و ثواب بہت بڑھ جاتاہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنا کردیا جاتا ہے بل کہ اس مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق: ’’روزہ دار کے لیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔‘‘

روزہ باطنی عبادت ہے کیوں کہ ہمارے بتائے بغیر کسی کو یہ علم نہیں ہوسکتا کہ ہمارا روزہ ہے اور اﷲ تعالی باطنی عبادت کو زیادہ پسند فرماتا ہے۔ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق: ’’روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔‘‘ اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالی نے اس میں قرآن پاک نازل فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور راہ نمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اﷲ تعالی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے تم گنتی پوری کرو اور اﷲ تعالی کی بڑائی بولو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، سورۃ البقرہ)

اس آیت مقدسہ کے ابتدائی حصہ ’’شھر رمضان الذی‘‘ کے تخت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: ’’رمضان‘‘ یا تو ’’رحمن تعالی‘‘ کی طرح اﷲ تعالی کا نام ہے چوں کہ اس مہینہ میں دن رات اﷲ تعالی کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا اسے شہر رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ کہا جاتا ہے‘ جیسے مسجد و کعبہ کو اﷲ تعالی کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں‘ ایسے ہی رمضان اﷲ تعالی کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں۔ روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اﷲ تعالی کے مگر بہ حالت روزہ جو جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے، وہ بھی اﷲ تعالی کے کام قرار پائے اس لیے اس ماہ کا نام رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ ہے۔ یا یہ رمضاء سے مشتق ہے‘ رمضاء موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دُھل جاتی ہے اور ربیع کی فصل خوب ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ مہینہ بھی دل کے گرد و غبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے‘ اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں۔ ’’ساون‘‘ میں روزانہ بارشیں چاہییں اور ’’بھادوں‘‘ میں چار‘ پھر ’’اسار‘‘ میں ایک‘ اس ایک سے کھیتیاں پک جاتی ہیں توا س طرح گیارہ مہینے برابر نیکیاں کی جاتی رہیں‘ پھر رمضان کے روزوں نے ان نیکیوں کی کھیتی کو پکا دیا۔ یا یہ ’’رمض‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’گرمی یا جلنا‘‘ چوں کہ اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کی جلا ڈالتا ہے، اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ کنزالعمال کی آٹھویں جلد کے صفحہ 217 پر حضرت انسؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم رؤف رحیمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔‘‘ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینہ تھا اسی سے اس کا نام ہوا۔ جو مہینہ گرمی میں تھا اسے رمضان کہہ دیا اور جو موسم بہار میں آیا، اسے ربیع الاول اور جو سردی میں تھا اسے جمادی الاولیٰ کہا گیا۔ اسلام میں ہر نام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نام کام کے مطابق رکھا جاتا ہے دوسری اصطلاحات میں یہ بات نہیں۔

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریمؐ کا فرمان عالی شان کا مفہوم ہے:

’’جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے، جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے ہر سجدے کی عوض (یعنی بدلہ میں) اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے، اس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے‘ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالی مہینے کے آخر دن تک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لیے صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے، اس ہر سجدے کے عوض اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھڑ سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔‘‘

خدائے حنان و منان تعالی کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے طفیل ایسا ماہ رمضان عطا فرمایا۔ حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے:

’’ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبیؑ کو نہ ملیں۔

٭ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالی ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالی نظر رحمت فرمائے گا اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔

٭ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بُو سے بھی بہتر ہے۔

٭ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

٭ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا، عن قریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔

٭ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘

لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہُوا اور عرض کی: یارسول اﷲ ﷺ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انھیں اُجرت دی جاتی ہے۔‘‘

حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، حضور پرنورؐ کا فرمان ہے: ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہ رمضان اگلے ماہ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔‘‘

رمضان المبارک میں رحمتوں کی چھما چھم بارشیں اور گناہ صغیرہ کے کفارے کا سامان ہو جاتا ہے، گناہ کبیرہ توبہ کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ ہُوا ہو خاص اس گناہ کا ذکر کرکے دل کی بے زاری اور آئندہ اس سے بچنے کا عہد کرکے توبہ کرنی ہوگی۔ مثلاً جھوٹ بولا، یہ کبیرہ گناہ ہے۔ بارگاہ خداوندی تعالی میں عرض کرے: ’’یااﷲ تعالی! میں نے جو یہ جھوٹ بولا اس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔‘‘ یہ کہتے وقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کروں گا جبھی توبہ ہے، اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ اس بندے سے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے فضائل سے کتب احادیث مالا مال ہیں۔ رمضان المبارک میں اس قدر برکتیں اور رحمتیں ہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا: ’’اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘

حضرت سیدنا سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن میں بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات (ایسی بھی ہے جو) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالی نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام تطوع (یعنی سنت) ہے، جو اس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مؤاسات (یعنی غم خواری اور بھلائی) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کچھ کمی ہو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کروائے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا، اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول (یعنی ابتدائی دس دن) رحمت ہے اور اس کا اوسط (یعنی درمیانی دس دن) مغفرت ہے اور آخر (یعنی آخری دس دن) جہنم سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ اس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمھیں بے نیازی نہیں۔ پس وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں: لاالہ الااﷲ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا۔ جب کہ وہ دو باتیں جن سے تمھیں غنا (بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں، اﷲ تعالیٰ سے جنت طلب کرنا اور جہنم سے اﷲ تعالی کی پناہ طلب کرنا۔‘‘

حدیث مبارکہ میں ماہِ رمضان کی رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کا خوب تذکرہ ہے‘ لہٰذا تمام مسلمانوں کو اس ماہ مقدسہ میں کلمہ شریف زیادہ تعداد میں پڑھ کر اور بار بار استغفار یعنی خوب توبہ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending