Connect with us

Today News

سپر ہائی وے پر گاڑی کی ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ناردرن بائی پاس پر ٹریلر اور آئل ٹینکر میں تصادم

Published

on



سپر ہائی وے پر نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے راہگیر جاں بحق ہوگیا جبکہ ناردرن بائی پاس ہمدرد یونیورسٹی کے قریب ٹریلر اور آئل ٹینکر میں تصادم کے نتیجے میں 4 افراد شدید زخمی ہوگئے اور  قائد آباد ڈی سی ملیر آفس کے قریب ٹرک نے موٹر سائیکل سوار 3 افراد کو روند کر شدید زخمی کر دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق سپرہائی وے نیو سبزی منڈی گیٹ نمبر ایک کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا جن کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی اور ان کی شناخت 55 سالہ عبدالحمید ولد عبدالمجید کے نام سے کی گئی۔

ادھر منگھوپیر کے علاقے نادرن بائی پاس ہمدرد یونیورسٹی دعا ہوٹل کے قریب آئل ٹینکر اور ٹریلر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 4 افراد شدید زخمی ہوگئے اور حادثے میں ٹریلر الٹ گیا۔

ایس ایچ او منگھوپیر خوش نواز پتافی نے بتایا کہ حادثہ کراسنگ کے دوران پیش آیا ہے جس میں شدید زخمی 4 افراد کو فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی شناخت 22 سالہ ثمر ولد گلاب ، 22 سالہ طوطہ ولد روشن، 25 سالہ بلال ولد علوی اور 45 سالہ رحمت اللہ ولد علی صاحب کے نام سے کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی 4 افراد میں سے 3 زخمی ٹریلر جبکہ ایک زخمی آئل ٹینکر کا ڈرائیور ہے تاہم اس حوالے سے مزید تصدیق کا عمل جاری ہے۔

کراچی کے علاقے قائد آباد نینشل ہائی وے ڈی سی آفس کے قریب تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل سوار 3 افراد کو روند دیا جس کے نتیجے  میں تینوں افراد شدید زخمی ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی چھیپا کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کی شناخت 25 سالہ عرفان عبدالرزاق، 25 سالہ حسین حیدر بخش اور  27 سالہ نادر حسین کے نام سے کی گئی جبکہ حادثے کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک

Published

on



کراچی:

بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا، اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا  جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔

صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے  مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔

پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، ‘‘پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔

دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024 میں 13.1 فیصد تک آ گیا، اور مالی سال 2025 میں معمولی اضافے کے بعد 13.8 فیصد پر پہنچا۔

اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔

حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔

کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔

برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔

جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وی شانتا رام – ایکسپریس اردو

Published

on


غیر منقسم برصغیر میں فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ تھیں، اس وقت پنجابی فلموں اور اردو ادب کا مرکز لاہور تھا، جب کہ اردو اور ہندی فلموں کا مرکز بمبئی (ممبئی) تھا، جب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا، سوہنی مہینوال پہلی پنجابی فلم تھی جس کا میوزک ماسٹر غلام حیدر نے دیا تھا، ابتدا میں بہت بڑے بڑے نام فلمی دنیا میں سامنے آئے جنھوں نے فلموں کو ایسے ایسے موضوعات دیے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، ان ابتدائی موسیقاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسر اور لکھاریوں کی ایک کہکشاں ہے جو کوندتی نظر آتی ہے۔

اس دور میں نتن بوس، دیویکا رانی، ستارہ دیوی، کے آصف، ڈائریکٹر محبوب، تارا چندر بھاٹیہ، طلعت محمود، راج کمار، ایس ایس واسن نمایاں تھے۔ اداکاروں میں پرنس آف منروا مودی ٹون صادق علی، پرتھوی راج کپور، مدھوبالا، دلیپ کمار، نرگس، نلنی جیونت، ثریا اور مینا کماری بہت خاص ہیں جنھوں نے لاجواب فلمیں شائقین کو دیں۔ کے آصف کی مغل اعظم، کمال امروہوی کی پاکیزہ، محبوب کی مدر انڈیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

فلمی ستاروں کی کہکشاں کا ایک چمکتا ستارہ تھا وی شانتا رام جو اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر اورکہانی کار تھے۔ یہ سب سے الگ اور منفرد تھے، انھوں نے بڑی شاہکار فلمیں فلم بینوں کو دیں۔ وی شانتا رام کا جنم کولہاپور میں 18 نومبر سن 1901 میں ہوا۔ ان کا پورا نام راجہ رام وانکوندرے رکھا گیا، شانتا رام کا من پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے گندھروا ناٹک منڈلی میں پردہ کھینچنے کے کام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ شانتا رام کافی وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ قد چھ فٹ تھا، یوں لوگوں کی نظروں میں جلد آگئے۔

تھیٹر کے زمانے میں وہ بابو راؤ پینٹر کے رابطے میں آگئے اور فلم بینی کی تربیت حاصل کی۔ شانتا رام نابغہ روزگار تھا، پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ کافی ذہین اور تیز تھے، وہ بہت جلد فلم کی باریکیوں سے واقف ہوگئے۔ 1925 میں بابوراؤ پینٹر نے انھیں اپنی فلم ’’ساوکاری پاش‘‘ میں ایک کسان کا رول دیا۔ وی شانتا رام فلمی افق پر ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ انھوں نے 1927 میں ایک فلم ’’ نیتا جی پالکر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم کی ہدایت کاری نے انھیں فلمی دنیا میں ایک سمت دی۔ انھوں نے چار ٹیکنیشنوں کو ساتھ ملا کر اپنی کمپنی ’’ پربھات فلم کمپنی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی میں چار افراد تھے یہ چاروں فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ تھے۔ 1932 میں شانتا رام نے ’’ایودھیا راجہ‘‘ نامی فلم بنائی جس کا مقصد دادا صاحب پھالکے کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا، اس فلم نے فلمی دنیا کو درگا کھوٹے جیسی خوبصورت اداکارہ دی۔

1934 میں انھوں نے ’’امرت نتھن‘‘ نامی فلم بنائی، 1935 میں انھوں نے ’’مہاتما‘‘ نامی فلم بنائی، یہ فلم ذات پات کی تقسیم کے موضوع پر تھی اور ایک جرأت مندانہ کاوش تھی جسے فلم بینوں نے بہت سراہا۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور شانتا رام کا قد بہ حیثیت ہدایت کار اور بھی بلند ہو گیا، یہ لوگ سینما کے معمار تھے۔

وی شانتا رام کی فلمیں موضوعاتی اعتبار سے اچھوتی ہوا کرتی تھیں، انھوں نے زیادہ تر سماجی فلمیں بنائیں جس میں ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ 1936 میں انھوں نے ’’ سنت تکارام‘‘ بنائی جو مہاراشٹر کے ایک مقبول شاعر تھے، اس کردار کو اداکار نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ فلم میں اس قدر سادگی اور نفاست تھی کہ 1937 کے وینس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازا گیا اور بڑی پذیرائی ملی۔ یہ پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بیرون ملک سراہا گیا۔

1936 میں ہی انھوں نے ایک فلم ’’ امر جیوتی‘‘ بنائی جو ایک عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے ایک اچھوتی فلم تھی۔ 1937 میں انھوں نے فلم ’’ دنیا نہ مانے‘‘ بنائی یہ فلم بھی عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، اس فلم کو پبلک نے بہت سراہا۔ 1939 میں انھوں نے فلم ’’آدمی‘‘ بنائی، یہ فلم شانتا رام کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے۔ 1941 میں انھوں نے فلم ’’ پڑوسی‘‘ بنائی، یہ فلم ہندو مسلم فساد پر بننے والی پہلی فلم تھی، اس فلم کو بھی عوام نے بے حد سراہا۔ یہ ایک شاہکار فلم تھی۔

شانتا رام نے پربھات فلم سے الگ ہو کر اپنی ذاتی فلم کمپنی بنائی اور اس کے تحت فلم ’’شکنتلا‘‘ بنائی۔ اس فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، یہ فلم 104 ہفتے چلی۔ 1946 میں انھوں نے ’’ڈاکٹر کوئنس کی امر کہانی‘‘ بنائی۔ یہ ایک سچی کہانی تھی جسے خواجہ احمد عباس نے فلم کے لیے لکھا تھا، اس فلم کی دیس بدیس خوب پذیرائی ہوئی۔ 1955 میں انھوں نے ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ 1959 میں ’’نو رنگ‘‘، 1963 میں ’’سہرا‘‘، 1971 میں ’’جل بن مچھلی نرتیہ بن بجلی‘‘ بنائی۔

یہ تمام فلمیں کلاسیکی رقص پر مبنی تھیں، ان فلموں نے شانتا رام کو شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ خاص کر ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ کی موسیقی، رقص اور جان دار کہانی کی وجہ سے آج تک شائقین کو یاد ہے۔ بقیہ تینوں فلموں کا موضوع بھی کلاسیکل رقص تھا جسے پبلک نے بے حد پسند کیا، خاص کر ’’ نو رنگ‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے بھی یادگار فلم تھی۔ ایک اور فلم تھی ان کی ’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ یہ ایک لاجواب فلم تھی۔ اس فلم کا ایک گیت برسوں بنا کا گیت مالا میں ریڈیو سیلون سے بجتا رہا، لتا کی آواز میں یہ کورس بہت مقبول ہوا۔

اے مالک تیرے بندے ہم

ایسے ہوں ہمارے کرم

نیکی پہ چلیں اور بدی سے بچیں

تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم

’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ ہر لحاظ سے ایک شاہکار فلم تھی، جسے پوری دنیا میں سراہا گیا، ہدایت کاری کے لحاظ سے، میوزک کے لحاظ سے، مکالمہ کی وجہ سے، فوٹو گرافی ہو یا پروڈکشن ہر لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ فلم تھی۔ اس فلم کو پہلی بار سان فرانسسکو کے فلمی فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ یورپ کے فلم سازوں نے اس فلم کو خوب سراہا۔ اس فلم کے لیے انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں 1958 میں نیشنل ایوارڈ، اس فلم کے لیے برلن ایوارڈ، OCIC فلم ایوارڈ، 1959 میں گولڈن گلوب ایوارڈ اور سمبل گولڈ گلوب ایوارڈ اور دو اور فلمیں بھی ایسی تھیں جو مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک فلم ’’پرچھائیں‘‘ جس میں شانتا رام نے ہیرو کا اور ان کی بیوی جے شری نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں سندھیا بھی تھی جو بعد میں شانتا رام کی بیوی بھی بنی۔ فلم ’’پرچھائیں ‘‘ شانتا رام کی اپنی کہانی بن گئی تھی، اس فلم کے دو گیت بہت مقبول ہوئے تھے، ایک طلعت محمود کا گایا ہوا یہ گیت:

محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیارکیا جانے

نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکارکیا جانے

اور دوسرا لتا کا گایا ہوا یہ گیت جو جے شری پہ فلمایا گیا تھا:

کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن پہلو بدل بدل کے

رہتے ہیں دل کے دل میں ارماں مچل مچل کے

شانتا رام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام وملا تھا جس سے ان کے کئی بچے ہوئے۔ دوسری بیوی جے شری سے ان کے تین بچے ہوئے اور سندھیا سے ان کے چار بچے ہوئے۔ ایک بیٹی نے ہندوستان کے نامی گرامی کلاسیکل گلوکار پنڈت جسراج سے شادی کی۔ انھیں اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ 1985 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 1992 میں پدم بھوشن ایوارڈ، 1992 میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی ’’صبح کا تارا‘‘، اس کی ہیروئن جے شری تھی، محبوب خان، کے آصف، کمال امروہوی اور شانتا رام جیسے لوگ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب بھی برصغیر کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس میں فلموں کا ذکر ہوگا تو یہ چار نام سرفہرست رہیں گے۔

 شانتا رام بڑے کھلے دل اور اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، ان کا کبھی کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے جس سے ان کی شہرت کو چار چاند لگے، لیکن وہ کبھی بد دماغ نہیں رہے۔ ہر ایک سے جھک کر ملنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

بنگلہ دیشی انتخابات اور ہماری بیمار سیاست

Published

on


بنگلہ دیش میں ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے اپنی بلاشرکت غیرے حکومت بنا لی ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمن، جو سابق فوجی جنرل ضیا الرحمن کے صاحبزادے ہیں نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔

بنگلہ دیشی انتخابات میں دوسری بڑی کامیابی جماعت اسلامی کی زیر قیادت سیاسی اتحاد نے 77 نشستوں کے ساتھ حاصل کی جب کہ گزشتہ سال شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے نوجوان طلبا کی قائم کردہ نوزائیدہ سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابات میں حصہ نہ لے سکی۔ بی این پی کی کامیابی پر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے طارق رحمن کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہوئے انھیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کبھی ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے، 1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں ہمارا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ سقوط بنگال کے سانحے میں جہاں درون خانہ صاحبان اقتدار کی کوتاہیاں، غلط فیصلے، لسانی نفرتیں اور سیاسی چپقلش نے منفی اثرات مرتب کیے تو دوسری جانب بھارت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی پاکستان کے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مشرقی پاکستان میں مداخلت کرکے علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے کر سقوط ڈھاکا کی راہ ہموار کی۔

بعدازاں بھارتی قیادت نے بنگلہ دیش میں آہستہ آہستہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بھرپور تعاون فراہم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کو مضبوط اور طول دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقہ بھارتی مداخلت کاری کو اپنی آزادی، سلامتی اور خود مختاری کے منافی سمجھتے تھے۔ اگرچہ 1971 کے بعد عوامی سطح پر بنگالی عوام میں پاکستان کے ساتھ ہم دردی اور خیر سگالی کے جذبات میں جوش و جذبہ خاصا کم ہو چکا تھا لیکن بھارتی رویوں کے باعث رفتہ رفتہ صورت حال تبدیل ہوتی گئی۔

گزشتہ سال بنگلہ دیشی نوجوانوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کو احتجاج کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ نتیجتاً شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک دور ایسا بھی آیا جب شیخ حسینہ واجد نے بہ طور وزیر اعظم بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی رخصتی کے محض ایک سال بعد جب آئی سی سی نے T-20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیشی ٹیم کو آؤٹ کیا تو پاکستان نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا اور بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا اور آئی سی سی کو آگاہ کر دیا کہ بنگلہ دیش کی T-20 میں شمولیت تک پاکستان بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا۔

مجبوراً آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بنگلہ دیش T-20 ورلڈ کپ کا حصہ بن گیا۔ پاکستان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے بنگلہ دیش کے عوام کے دلوں میں پاکستان کی محبت کو مہمیز کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف جیت کا جمود توڑنے میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی لیکن پاکستان نے بنگلہ دیش کی عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 55 سال کی دوریوں اور فاصلوں کو ختم کرنے میں ابھی وقت درکار ہے لیکن دونوں ملکوں کے سیاستدانوں و حکمرانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل فکر و دانش کو دونوں ملکوں کے درمیان جنم لینے والی تازہ محبتوں و قربتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بنگلہ دیش کے انتخابات میں پاکستان کے ارباب اقتدار، صاحب اختیار اور اہل سیاست کے لیے غور و فکر کا بڑا سامان موجود ہے۔ انتخابی نتائج کو بی این پی اور جماعت اسلامی نے کھلے دل سے تسلیم کیا اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی، نہ کسی ریاستی ادارے نے الیکشن میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی جماعت نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور نہ ہی فارم 47 کا شور بلند ہوا۔

نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا۔ جب کہ ہماری بیمار سیاست میں یہ سب کچھ جائز اور ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص صاحبان اقتدار اپوزیشن کا ناطقہ بند کر دینے کے سارے جتن آزمانے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں و نارسائیوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نفرت، بدلہ اور انتقام کو ’’ مکافات عمل‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

درگزر اور اعلیٰ ظرفی کا ہماری بیمار سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کل پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو (ن) لیگ اور پی پی پی کے لوگ جیلوں میں تھے اور نارسائیوں کے گلے شکوے تھے، آج دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں ہے۔ بانی پی ٹی آئی بیماری چشم میں مبتلا ہیں۔ پی ٹی آئی کو نارسائیوں کے شکوے ہیں جب کہ حکومت مکمل تعاون اور طبی سہولیات کی فراہمی کی دعویدار ہے۔ پاکستان کی بیمار سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رنجشوں کی داستان 77 سالوں پر محیط ہے، جانے کب اور کون ازالہ کرے گا؟





Source link

Continue Reading

Trending