Connect with us

Today News

عمران خان کی صحت پر سیاست بند کی جائے، پی ٹی آئی رہنماؤں کا جیل سے خط

Published

on



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رہنماؤں نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر سیاست بند کی جائے اور ذاتی معالجین کے تعاون سے علاج کیا جائے۔

کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے بھیجے گئے خط میں رمضان میں احتجاجی سرگرمیاں مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے لکھا کہ بانی چئرمین پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست بند کی جائے اور ذاتی معالجین کے تعاون سے علاج کیا جائے اور پارٹی بانی چئیرمین کے لیے عدالتوں میں کارروائی مزید منظم کرے، عہدیداران، وکلا اور بہنوں کی ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔

اسیر رہنماؤں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کو پارلیمانی حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی بحث مباحاثہ کرے اور اتفاق رائے سے فیصلہ کرے، فیصلے تحریری ریکارڈ میں محفوظ کیے جائیں اور پارٹی پالیسی میڈیا اور عوام تک پہنچائی جائے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ فعال کارکنان کی تربیت اور منظم تنظیم سازی کی جائے اور بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کی جائے، ملکی مسائل اجاگر کیے جائیں، غریبی، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کو ہر سطح پر اجاگر کریں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے عمران خان کے حوالے سے بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عمران خان مشکل حالات مین باوقار جیل کاٹ رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بے مقصد دھرنے اور الٹی میٹم

Published

on


اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیراؤں کے ہفتہ وار احتجاج، عارضی دھرنوں، وزیر اعلیٰ کے پی کے اڈیالہ کے باربار چکروں میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات رنگ لائی اور بانی کی جسمانی صحت، بینائی کے مسئلے، بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے پر حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوا اور بانی کے وکیل نے اپنی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس پر چیف جسٹس نے حکم بھی صادر کیا مگر پی ٹی آئی نے دو تین دن کا صبر بھی گوارا نہ کیا اور بانی کی صحت پر جو سیاست شروع کی وہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور بانی کی بینائی کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نمایاں ضرور ہوئیں۔ تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔

حکومتی حامیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جیلوں میں کسی بھی وجہ سے قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں جو انھیں ملنے چاہئیں مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے نہیں دیے۔ (ن) لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کو بھی کہنا پڑا کہ کسی حکومت کو کسی کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں مگر خود بانی اپنے اقتدار میں کس طرح دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان سے بھی بانی کی حمایت نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کا موقف بھی درست تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے بروقت اقدامات حکومت کی ذمے داری ہے۔ آنکھ کا مسئلہ سیریس ہوتا ہے جس پر حکومت اور پی ٹی آئی کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بانی سابق وزیر اعظم ہیں انھیں فوری توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سلمان صفدر نے بانی سے ملاقات کی تو یہ مسئلہ سامنے آیا، اگر آنکھ کا کوئی مسئلہ تھا تو جنوری میں بانی کی ہمشیرہ جب بانی سے ملی تھیں تو اس وقت آنکھ کے علاج کی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ اور بینائی کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹروں نے ہی کرنا ہے اور حکومت نے کوئی لاپرواہی نہیں کی اور سلمان صفدر سے ملاقات سے قبل بانی نے خود کچھ نہیں بتایا تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ بانی نے بینائی کی معمولی شکایت کی تھی جس پر متعدد بار ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تھا اور دوائی بھی دی تھی۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل نے تو چارج چھوڑنے سے قبل بھی بانی کا معائنہ کرایا تھا۔

یہ بھی درست ہے کہ بانی کی بہنوں اور پی ٹی آئی کو بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کی ضرور شکایات تھیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ حکومت نے بانی سے ملنے پر کسی وجہ سے پابندی لگائی تھی کیونکہ بانی کی بہنیں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاست کر رہی تھیں اور ہر منگل چند گھنٹوں کے لیے احتجاج و دھرنا بھی ہوتا تھا۔

ملاقات نہ کرانا حکومتی مسئلہ تھا مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے بانی کی آنکھ کا مسئلہ بڑھ جانے پر حکومت نے بانی کو پمز لا کر ان کی آنکھ کا معائنہ بھی کرایا تھا مگر حکومت نے یہ حقیقت چھپائی بھی تھی جو غلط حکومتی فیصلہ تھا۔ بعد میں حکومت نے تصدیق بھی کی جس سے پی ٹی آئی کو شکایتوں کا موقعہ ملا اور سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا اور یہ تک کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری ہمارے لیے کچھ نہیں۔ اس بیان کا مقصد بینائی کے مسئلے کو سیاسی بنا کر احتجاج و دھرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جو حکومتی غلط پالیسی سے پی ٹی آئی کو مل گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ بانی کو رہا کرو۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹروں نے ہنگامہ کیا جس پر حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ضروری احتجاج نہ کرے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر جس سے کہیں گے حکومت بانی کا علاج کرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جنوری میں بانی کی آنکھ کی تکلیف کا بتایا گیا تھا اب ان کی صحت پر سیاست کرنا غلط ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اب لاشوں اور جھوٹوں کی سیاست نہیں چلے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت نہیں جھکے گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جو حکومت نے نہیں ہونے دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی جو اپوزیشن کا حق تھا مگر 16 فروری کا انتظار نہیں کیا گیا اور وقت سے پہلے عدالتی فیصلہ نہ آنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان بانی کی رہائی کے لیے الٹی میٹم بھی دے رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے سخت بیانات بھی آ رہے ہیں اور مخالفانہ بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 8 مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئے ہیں اور عدالتی ریلیف بھی ملنے لگا ہے جس کے بعد احتجاج، دھرنے اور دھمکی آمیز بیانات بے مقصد ثابت ہو رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک

Published

on



کراچی:

بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا، اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا  جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔

صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے  مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔

پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، ‘‘پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔

دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024 میں 13.1 فیصد تک آ گیا، اور مالی سال 2025 میں معمولی اضافے کے بعد 13.8 فیصد پر پہنچا۔

اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔

حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔

کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔

برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔

جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وی شانتا رام – ایکسپریس اردو

Published

on


غیر منقسم برصغیر میں فلمیں تفریح کا واحد ذریعہ تھیں، اس وقت پنجابی فلموں اور اردو ادب کا مرکز لاہور تھا، جب کہ اردو اور ہندی فلموں کا مرکز بمبئی (ممبئی) تھا، جب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا، سوہنی مہینوال پہلی پنجابی فلم تھی جس کا میوزک ماسٹر غلام حیدر نے دیا تھا، ابتدا میں بہت بڑے بڑے نام فلمی دنیا میں سامنے آئے جنھوں نے فلموں کو ایسے ایسے موضوعات دیے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، ان ابتدائی موسیقاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسر اور لکھاریوں کی ایک کہکشاں ہے جو کوندتی نظر آتی ہے۔

اس دور میں نتن بوس، دیویکا رانی، ستارہ دیوی، کے آصف، ڈائریکٹر محبوب، تارا چندر بھاٹیہ، طلعت محمود، راج کمار، ایس ایس واسن نمایاں تھے۔ اداکاروں میں پرنس آف منروا مودی ٹون صادق علی، پرتھوی راج کپور، مدھوبالا، دلیپ کمار، نرگس، نلنی جیونت، ثریا اور مینا کماری بہت خاص ہیں جنھوں نے لاجواب فلمیں شائقین کو دیں۔ کے آصف کی مغل اعظم، کمال امروہوی کی پاکیزہ، محبوب کی مدر انڈیا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

فلمی ستاروں کی کہکشاں کا ایک چمکتا ستارہ تھا وی شانتا رام جو اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر اورکہانی کار تھے۔ یہ سب سے الگ اور منفرد تھے، انھوں نے بڑی شاہکار فلمیں فلم بینوں کو دیں۔ وی شانتا رام کا جنم کولہاپور میں 18 نومبر سن 1901 میں ہوا۔ ان کا پورا نام راجہ رام وانکوندرے رکھا گیا، شانتا رام کا من پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے گندھروا ناٹک منڈلی میں پردہ کھینچنے کے کام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ شانتا رام کافی وجیہ اور خوبصورت انسان تھے۔ قد چھ فٹ تھا، یوں لوگوں کی نظروں میں جلد آگئے۔

تھیٹر کے زمانے میں وہ بابو راؤ پینٹر کے رابطے میں آگئے اور فلم بینی کی تربیت حاصل کی۔ شانتا رام نابغہ روزگار تھا، پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود وہ کافی ذہین اور تیز تھے، وہ بہت جلد فلم کی باریکیوں سے واقف ہوگئے۔ 1925 میں بابوراؤ پینٹر نے انھیں اپنی فلم ’’ساوکاری پاش‘‘ میں ایک کسان کا رول دیا۔ وی شانتا رام فلمی افق پر ایک درخشندہ ستارہ تھا۔ انھوں نے 1927 میں ایک فلم ’’ نیتا جی پالکر‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم کی ہدایت کاری نے انھیں فلمی دنیا میں ایک سمت دی۔ انھوں نے چار ٹیکنیشنوں کو ساتھ ملا کر اپنی کمپنی ’’ پربھات فلم کمپنی‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کمپنی میں چار افراد تھے یہ چاروں فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ تھے۔ 1932 میں شانتا رام نے ’’ایودھیا راجہ‘‘ نامی فلم بنائی جس کا مقصد دادا صاحب پھالکے کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا، اس فلم نے فلمی دنیا کو درگا کھوٹے جیسی خوبصورت اداکارہ دی۔

1934 میں انھوں نے ’’امرت نتھن‘‘ نامی فلم بنائی، 1935 میں انھوں نے ’’مہاتما‘‘ نامی فلم بنائی، یہ فلم ذات پات کی تقسیم کے موضوع پر تھی اور ایک جرأت مندانہ کاوش تھی جسے فلم بینوں نے بہت سراہا۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور شانتا رام کا قد بہ حیثیت ہدایت کار اور بھی بلند ہو گیا، یہ لوگ سینما کے معمار تھے۔

وی شانتا رام کی فلمیں موضوعاتی اعتبار سے اچھوتی ہوا کرتی تھیں، انھوں نے زیادہ تر سماجی فلمیں بنائیں جس میں ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔ 1936 میں انھوں نے ’’ سنت تکارام‘‘ بنائی جو مہاراشٹر کے ایک مقبول شاعر تھے، اس کردار کو اداکار نے بڑی خوبی سے ادا کیا۔ فلم میں اس قدر سادگی اور نفاست تھی کہ 1937 کے وینس فلم فیسٹیول میں اعزاز سے نوازا گیا اور بڑی پذیرائی ملی۔ یہ پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بیرون ملک سراہا گیا۔

1936 میں ہی انھوں نے ایک فلم ’’ امر جیوتی‘‘ بنائی جو ایک عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے ایک اچھوتی فلم تھی۔ 1937 میں انھوں نے فلم ’’ دنیا نہ مانے‘‘ بنائی یہ فلم بھی عورت کے کردار کے گرد گھومتی تھی، اس فلم کو پبلک نے بہت سراہا۔ 1939 میں انھوں نے فلم ’’آدمی‘‘ بنائی، یہ فلم شانتا رام کی یادگار فلموں میں سے ایک ہے۔ 1941 میں انھوں نے فلم ’’ پڑوسی‘‘ بنائی، یہ فلم ہندو مسلم فساد پر بننے والی پہلی فلم تھی، اس فلم کو بھی عوام نے بے حد سراہا۔ یہ ایک شاہکار فلم تھی۔

شانتا رام نے پربھات فلم سے الگ ہو کر اپنی ذاتی فلم کمپنی بنائی اور اس کے تحت فلم ’’شکنتلا‘‘ بنائی۔ اس فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، یہ فلم 104 ہفتے چلی۔ 1946 میں انھوں نے ’’ڈاکٹر کوئنس کی امر کہانی‘‘ بنائی۔ یہ ایک سچی کہانی تھی جسے خواجہ احمد عباس نے فلم کے لیے لکھا تھا، اس فلم کی دیس بدیس خوب پذیرائی ہوئی۔ 1955 میں انھوں نے ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ 1959 میں ’’نو رنگ‘‘، 1963 میں ’’سہرا‘‘، 1971 میں ’’جل بن مچھلی نرتیہ بن بجلی‘‘ بنائی۔

یہ تمام فلمیں کلاسیکی رقص پر مبنی تھیں، ان فلموں نے شانتا رام کو شہرت کی معراج تک پہنچا دیا۔ خاص کر ’’چھنک چھنک پائل باجے‘‘ کی موسیقی، رقص اور جان دار کہانی کی وجہ سے آج تک شائقین کو یاد ہے۔ بقیہ تینوں فلموں کا موضوع بھی کلاسیکل رقص تھا جسے پبلک نے بے حد پسند کیا، خاص کر ’’ نو رنگ‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے بھی یادگار فلم تھی۔ ایک اور فلم تھی ان کی ’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ یہ ایک لاجواب فلم تھی۔ اس فلم کا ایک گیت برسوں بنا کا گیت مالا میں ریڈیو سیلون سے بجتا رہا، لتا کی آواز میں یہ کورس بہت مقبول ہوا۔

اے مالک تیرے بندے ہم

ایسے ہوں ہمارے کرم

نیکی پہ چلیں اور بدی سے بچیں

تاکہ ہنستے ہوئے نکلے دم

’’ دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ ہر لحاظ سے ایک شاہکار فلم تھی، جسے پوری دنیا میں سراہا گیا، ہدایت کاری کے لحاظ سے، میوزک کے لحاظ سے، مکالمہ کی وجہ سے، فوٹو گرافی ہو یا پروڈکشن ہر لحاظ سے یہ ایک نہایت عمدہ فلم تھی۔ اس فلم کو پہلی بار سان فرانسسکو کے فلمی فیسٹیول میں دکھایا گیا۔ یورپ کے فلم سازوں نے اس فلم کو خوب سراہا۔ اس فلم کے لیے انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں 1958 میں نیشنل ایوارڈ، اس فلم کے لیے برلن ایوارڈ، OCIC فلم ایوارڈ، 1959 میں گولڈن گلوب ایوارڈ اور سمبل گولڈ گلوب ایوارڈ اور دو اور فلمیں بھی ایسی تھیں جو مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک فلم ’’پرچھائیں‘‘ جس میں شانتا رام نے ہیرو کا اور ان کی بیوی جے شری نے ہیروئن کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں سندھیا بھی تھی جو بعد میں شانتا رام کی بیوی بھی بنی۔ فلم ’’پرچھائیں ‘‘ شانتا رام کی اپنی کہانی بن گئی تھی، اس فلم کے دو گیت بہت مقبول ہوئے تھے، ایک طلعت محمود کا گایا ہوا یہ گیت:

محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیارکیا جانے

نکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکارکیا جانے

اور دوسرا لتا کا گایا ہوا یہ گیت جو جے شری پہ فلمایا گیا تھا:

کٹتے ہیں دکھ میں یہ دن پہلو بدل بدل کے

رہتے ہیں دل کے دل میں ارماں مچل مچل کے

شانتا رام نے تین شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام وملا تھا جس سے ان کے کئی بچے ہوئے۔ دوسری بیوی جے شری سے ان کے تین بچے ہوئے اور سندھیا سے ان کے چار بچے ہوئے۔ ایک بیٹی نے ہندوستان کے نامی گرامی کلاسیکل گلوکار پنڈت جسراج سے شادی کی۔ انھیں اپنی سڑسٹھ سالہ زندگی میں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ 1985 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 1992 میں پدم بھوشن ایوارڈ، 1992 میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی ’’صبح کا تارا‘‘، اس کی ہیروئن جے شری تھی، محبوب خان، کے آصف، کمال امروہوی اور شانتا رام جیسے لوگ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب بھی برصغیر کی تاریخ لکھی جائے گی اور اس میں فلموں کا ذکر ہوگا تو یہ چار نام سرفہرست رہیں گے۔

 شانتا رام بڑے کھلے دل اور اعلیٰ ظرف کے مالک تھے، ان کا کبھی کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے جس سے ان کی شہرت کو چار چاند لگے، لیکن وہ کبھی بد دماغ نہیں رہے۔ ہر ایک سے جھک کر ملنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت تھی۔





Source link

Continue Reading

Trending