Connect with us

Today News

ٹی 20 ورلڈکپ، افغانستان نے کینیڈا کو شکست دے دی

Published

on


افغانستان نے ٹی 20 ورلڈکپ کے 39ویں میچ میں کینیڈا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 82 رنز سے شکست دے دی ۔

بھارت کے شہر چینائی مین کھیلے گئے میچ میں افغانستان نے پہلے بیٹنگ کی اور جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر مقررہ اوورز میں 200 رنز بنائے۔

ابراہیم زردان 95 اور صدیق اللہ 44 رنز بناکر نمایاں بلے باز رہے۔

201 رنز کے تعاقب میں کینیڈا کی ٹیم 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز تک محدود رہی۔

انگلینڈ کی جانب سے ہرش ٹھاکر 30 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جبکہ کپتان دلپریت باجوہ نے 13 رنز بنائے۔

افغانستان کی جانب سے محمد نبی نے چار، راشد خان نے 2 جبکہ مجیب الرحمان اور عظمت اللہ نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔

  





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی صدر کی تعریف سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، عطا تارڑ

Published

on



واشنگٹن:

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے واشنگٹن ڈی سی سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ امریکا میں منعقدہ بورڈ آف پیس اجلاس کے دوران پاکستان کو نمایاں پذیرائی اور احترام حاصل ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی منظرنامے پر پاکستان ایک اہم اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے معاملے پر مؤثر سفارتی کردار ادا کیا اور مختلف عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ سمیت دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر فلسطینی مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم کے درمیان مثبت روابط اور خوشگوار ملاقاتوں سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور ملک عالمی معاملات میں ایک اہم و متعلقہ کردار ادا کر رہا ہے۔

آخر میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور قومی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملک عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال اور مؤثر کردار کی جانب گامزن ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بے مقصد دھرنے اور الٹی میٹم

Published

on


اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیراؤں کے ہفتہ وار احتجاج، عارضی دھرنوں، وزیر اعلیٰ کے پی کے اڈیالہ کے باربار چکروں میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات رنگ لائی اور بانی کی جسمانی صحت، بینائی کے مسئلے، بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے پر حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوا اور بانی کے وکیل نے اپنی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس پر چیف جسٹس نے حکم بھی صادر کیا مگر پی ٹی آئی نے دو تین دن کا صبر بھی گوارا نہ کیا اور بانی کی صحت پر جو سیاست شروع کی وہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور بانی کی بینائی کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نمایاں ضرور ہوئیں۔ تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔

حکومتی حامیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جیلوں میں کسی بھی وجہ سے قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں جو انھیں ملنے چاہئیں مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے نہیں دیے۔ (ن) لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کو بھی کہنا پڑا کہ کسی حکومت کو کسی کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں مگر خود بانی اپنے اقتدار میں کس طرح دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان سے بھی بانی کی حمایت نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کا موقف بھی درست تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے بروقت اقدامات حکومت کی ذمے داری ہے۔ آنکھ کا مسئلہ سیریس ہوتا ہے جس پر حکومت اور پی ٹی آئی کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بانی سابق وزیر اعظم ہیں انھیں فوری توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سلمان صفدر نے بانی سے ملاقات کی تو یہ مسئلہ سامنے آیا، اگر آنکھ کا کوئی مسئلہ تھا تو جنوری میں بانی کی ہمشیرہ جب بانی سے ملی تھیں تو اس وقت آنکھ کے علاج کی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ اور بینائی کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹروں نے ہی کرنا ہے اور حکومت نے کوئی لاپرواہی نہیں کی اور سلمان صفدر سے ملاقات سے قبل بانی نے خود کچھ نہیں بتایا تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ بانی نے بینائی کی معمولی شکایت کی تھی جس پر متعدد بار ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تھا اور دوائی بھی دی تھی۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل نے تو چارج چھوڑنے سے قبل بھی بانی کا معائنہ کرایا تھا۔

یہ بھی درست ہے کہ بانی کی بہنوں اور پی ٹی آئی کو بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کی ضرور شکایات تھیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ حکومت نے بانی سے ملنے پر کسی وجہ سے پابندی لگائی تھی کیونکہ بانی کی بہنیں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاست کر رہی تھیں اور ہر منگل چند گھنٹوں کے لیے احتجاج و دھرنا بھی ہوتا تھا۔

ملاقات نہ کرانا حکومتی مسئلہ تھا مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے بانی کی آنکھ کا مسئلہ بڑھ جانے پر حکومت نے بانی کو پمز لا کر ان کی آنکھ کا معائنہ بھی کرایا تھا مگر حکومت نے یہ حقیقت چھپائی بھی تھی جو غلط حکومتی فیصلہ تھا۔ بعد میں حکومت نے تصدیق بھی کی جس سے پی ٹی آئی کو شکایتوں کا موقعہ ملا اور سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا اور یہ تک کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری ہمارے لیے کچھ نہیں۔ اس بیان کا مقصد بینائی کے مسئلے کو سیاسی بنا کر احتجاج و دھرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جو حکومتی غلط پالیسی سے پی ٹی آئی کو مل گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ بانی کو رہا کرو۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹروں نے ہنگامہ کیا جس پر حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ضروری احتجاج نہ کرے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر جس سے کہیں گے حکومت بانی کا علاج کرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جنوری میں بانی کی آنکھ کی تکلیف کا بتایا گیا تھا اب ان کی صحت پر سیاست کرنا غلط ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اب لاشوں اور جھوٹوں کی سیاست نہیں چلے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت نہیں جھکے گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جو حکومت نے نہیں ہونے دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی جو اپوزیشن کا حق تھا مگر 16 فروری کا انتظار نہیں کیا گیا اور وقت سے پہلے عدالتی فیصلہ نہ آنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔

بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان بانی کی رہائی کے لیے الٹی میٹم بھی دے رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے سخت بیانات بھی آ رہے ہیں اور مخالفانہ بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 8 مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئے ہیں اور عدالتی ریلیف بھی ملنے لگا ہے جس کے بعد احتجاج، دھرنے اور دھمکی آمیز بیانات بے مقصد ثابت ہو رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک

Published

on



کراچی:

بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا، اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا  جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔

صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلیٰ سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔

اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے  مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریباً 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔

پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، ‘‘پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔

دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024 میں 13.1 فیصد تک آ گیا، اور مالی سال 2025 میں معمولی اضافے کے بعد 13.8 فیصد پر پہنچا۔

اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریباً 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔

حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔

کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔

برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔

جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending