Today News
رمضان شریف: موبائل فون کو ایک طرف رکھ دیجئے !
یہ ڈیجیٹل دَور ہے ۔ چاہتے ہُوئے بھی ہم اِس ڈیجیٹائزیشن سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔ اگر ہم ڈیجیٹل دَور سے ہم آہنگ نہیں ہوتے تو قدم قدم پر احساسِ محرومی جان کو اٹک جاتا ہے ۔ ہمارے بچے جس تیزی اور مہارت سے موبائل فون اور کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں ، اُنہیں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ’’جنریشن گیپ ‘‘ کسے کہتے ہیں ۔
موبائل فون ہماری ڈیجیٹل زندگی کا جزوِ ناگزیر بن چکا ہے ۔ غریب ہو یا امیر،ہر گھر میں جتنے افراد ہیں ، سب کے ہاتھ میں موبائل فون تھما ہے ۔ اچھا لگے یا بُرا، خاتونِ خانہ باورچی خانہ میں ہانڈی بھی پکاتی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ موبائل فون پر رشتہ داروں اور سہیلیوں سے گپ شپ بھی کرتی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں ۔ہاتھ میں فون نہ بھی تھما ہو ، اسے آن کرکے باورچی خانے ہی میں کسی جگہ اٹکا دیا جاتا ہے اور من پسند ڈرامہ دیکھا جاتا ہے ۔ باورچی خانے میں چاہے ہانڈی جَل جائے ، مگر خاتونِ خانہ کی توجہ موبائل فون سے نہیں ہٹتی ۔ یہ تقریباً ہم سب کے گھروں کا ’’مشترکہ کلچرل منظر‘‘ بن چکا ہے ۔
موبائل فون جدید دَور کا لازمہ بن گیاہے ۔ اِس سے شائد کوئی مفر ہی نہیں ۔ ہمارے گھر کے سامنے مسجد ہے ۔ جب بھی اللہ کی توفیق سے باجماعت نماز ادا کرنے مسجد جاتا ہُوں ، کئی بار دورانِ نماز کئی نمازیوں کے موبائل فون کی گھنٹی بجتی سنائی دیتی ہے ۔ نماز میں واضح طور پر خلل بھی پڑتا ہے اور توجہ بھی بَٹ جاتی ہے ۔ کئی بار امام مسجد ، جماعت کھڑی ہونے سے قبل،یہ کہتے ہُوئے سنائی دیے ہیں:’’ مہربانی فرما کر موبائل فون کی گھنٹی بند کر دیجئے ۔‘‘ پہلے پہل امام صاحب یہ کہتے سنائی دیا کرتے تھے :’’ برادران، مسجد میں موبائل فون مت لایا کیجئے ۔‘‘ اب نوبت صرف گھنٹی بند کرنے تک آکر رُک گئی ہے ۔
پھر بھی کئی نمازی گھنٹی بند کرنا بھول جاتے ہیں۔ اِسی سے ا ندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ موبائل فون ہماری جان کو کس طرح چمٹ گیا ہے ۔ ایک بلا کی طرح!بچوں کی زندگیاں تو ویسے بھی اِس ’’بلا‘‘ نے ہلکان کر دی ہیں ۔ اِس کے اثراتِ بَد سے کوئی محفوظ نہیں ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ممالک ( جنھوں نے موبائل فون کی بلا ایجاد کی ہے ) قوانین وضع کرہے ہیں کہ ’’سترہ سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ کاش، اِس طرح کی قانون سازی ہمارے ہاں بھی کر دی جائے ۔میرا دو سالہ پوتا بھی صبح آنکھ کھولتے ہی، اپنی توتلی زبان یا اشاروں میں، ٹی وی یا موبائل فون دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ۔ کارٹون دیکھنے کے لیے !
اب الحمد للہ ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر رمضان المبارک آ چکا ہے ۔ 2026 کا رمضان شریف۔آج ماشاء اللہ دوسرا روزہ ہے۔ عالمِ اسلام کے ساتھ ساتھ ساری معلوم دُنیا میں ماہِ رمضان المبارک کی گونج اور بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ غیر مسلم بھی روزہ دار مسلمانوں کا احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بڑی حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح پورا مہینہ یہ مسلمان 12سے زائد گھنٹے بغیر کچھ کھائے پیئے گزار دیتے ہیں ۔رمضان شریف کے ایام میں واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا نیکیوں کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے اور بدیوں سے اجتناب میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ اگرچہ روزوں کے دوران اسراف میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔
یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں دُنیا جہان کی ہر مرغن اور لذیذ شئے دسترخوان پر ہونی چاہیے ۔ حالانکہ یہ خواہش اور اہتمام دراصل روزے کی رُوح کے منافی ہے ۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ لاتعداد ایسے روزہ دار ہیں جو روزے کے دوران نماز و نوافل ادا کرنے اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے کی بجائے موبائل کی اسکرین پر وقت گزاری کرتے ہیں ۔
اور موبائل فون کی اسکرین پر جو کچھ نمودار ہوتا ہے ، وہ اکثر روزے کی رُوح کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے ؛ چنانچہ رمضان شریف میں کوشش ہونی چاہیے کہ اِس موبائل فون کی ’’لعنت‘‘ سے کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سہی، نجات حاصل کرلیں ۔یہ ’’نجات ‘‘ مگر کیسے حاصل کی جائے ، اِس کی ایک تدبیر مجھے اگلے روز ایک دینی جریدے میں نظر آئی ہے ۔ اِس جریدے کا نام ’’ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ‘‘ ہے ۔لاہور سے شائع ہوتا ہے ۔ اِس جریدے کے فروری2026کے شمارے میں مجھے جناب رضی ولی محمد کا لکھا گیا ایک دلکشا آرٹیکل پڑھنے کو ملا ہے ۔ اِس آرٹیکل کا عنوان ہی ’’ ڈیجیٹل رمضان‘‘ ہے ۔
میں چاہتا ہُوں کہ روزے کو تقویت دینے والے اِس آرٹیکل کے کچھ اقتباسات اپنے معزز و محترم قارئین کے سامنے رکھوں :کہ رمضان شریف میں موبائل فون کو ایک طرف رکھتے ہُوئے ہم کیسے رمضان کی مبارک و مسعود گھڑیوں سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ اِس کے لیے مضمون نگار ( رضی ولی محمد صاحب) نے کچھ تجاویز دی ہیں ، جو یوں ہیں :
’’رمضان میں روزہ رکھ کر جس طرح بارہ سے چودہ گھنٹے ہم اللہ کی خوشنودی کیلیے کھانے پینے، اور جنسی خواہشات سے دُور رہتے ہُوئے روزہ دار کہلاتے ہیں، بالکل اسی طرح ڈیجیٹل روزہ بھی رکھیں اور روزانہ چند گھنٹے موبائل کو مکمل طور پر بند کردیں، گویا کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یاد رکھیے روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے ،بلکہ دراصل روزہ اپنی خواہشاتِ نفس کو ربّ العزت کے احکام کے تابع کرنے کی تربیت و جدوجہد کا نام ہے۔ ضرورت پڑنے پر موبائل کا استعمال صرف مخصوص اوقات میں کریں۔
سحری، افطار اور نمازوں کے اوقات میں قطعاً اس کے قریب نہیں جائیں، یا اس کو اپنے قریب نہ لائیں۔ ٹیلی وژن کا پورے رمضان روزہ رکھوائیں اور مکمل طور پر بند رکھیں اور اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار سے تراویح ختم ہونے تک اور پھر سحر میں قطعی نہ کھولیں۔ اس طرح گناہوں کے آگے روزہ جیسی ڈھال معصیت کے سوراخ ہونے سے بچ سکے گی۔
’’اپنے موبائل کو آپ اللہ کے دین کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں جس میں معروف کا حکم ہو اور نواہی سے روک ہو۔ موبائل میں قرآن کی تفاسیر اور احادیث کے مجموعوں کی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیجیے اور ان سے استفادہ کی کوشش کیجیے۔ موبائل پر آن لائن درُوس سننے کا اہتمام کریں اور خصوصاً تراویح کے خلاصہ کی کوئی آن لائن کلاس جوائن کرلیں یا کم از کم یو ٹیوب پر موجود کسی بھی عالم دین یا مقرر کے خلاصہ تراویح کو دیکھنے اور سننے کا اہتمام کریں۔ بہتر ہو کہ اس پروگرام میں تمام گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر شرکت کریں۔ اس طرح رمضان المبارک میں مکمل قرآن کا پیغام سمجھ سکیں گے۔
اور جب بات سمجھ آجائے تو عمل آسان ہوجاتا ہے۔ تصحیحِ تلاوت کے لیے کسی منتخب قاری کی ترتیل کے ساتھ تلاوت سنیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دُہرائیں۔ اس طرح آپ کے قرآن پڑھنے کے تلفظ کی درستی ہوسکے گی۔ مختصر احادیثِ مبارکہ اور قرآنی و مسنون دُعاؤں اور ان کے ترجمہ و مفہوم سے متعلق کوئی ایپ اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرلیں اور جب بھی موقع ملے اس میں سے دیکھ کر اس حدیث اور دُعا کو چلتے پھرتے حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح رمضان المبارک کے اختتام پر احادیث اور قرآنی و مسنون دُعاؤں کی بڑی تعداد آپ کو یاد ہوجائے گی جو آپ کو تزکیہ نفس اور اصولِ تقویٰ میں ممد و معاون ہوں گی۔
’’ایسی معتبر اسلامی ویب سائٹس وزٹ کریں جن پر اسلامی سوال و جواب کے پروگرامات پیش کیے جاتے ہوں۔ ا س سے آپ کے دینی علم میں اضافہ ہوگا اور کئی اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھیں گی، جو اطمینانِ قلب کا سبب بنے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اہلِ اسلام کو رمضان شریف کی جملہ برکات سمیٹنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔
Today News
جرم بصارت کی جسارت (حصہ اول)
جب سے ہوش سنبھالا ہے ریاست و حکومت پر تنقید سنتا، پڑھتا آیا ہوں۔ ریاست و حکومت سے شکوے زبان زد عام تھے مگر جب تک کمانے کی مشقت سے آزاد اپنے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ کی کمائی پر گزر بسر ہو رہی تھی سوچتا تھا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے اور ماں اتنی بری کیسی ہوسکتی ہے؟ مگر جب اپنا اور بچوں کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا تو پتہ چل گیا کہ سیر سے کتنی پکتی ہے۔ مگر خدا گواہ ہے کہ کافی عرصے تک یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ریاست میرے ساتھ زیادتی کر رہی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میرا جیسا بندہ جو ریاست کو ماں کہہ کر پکارنے کا عادی تھا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ماں جیسی جان کی دشمن بن کر ظلم کرنے لگ گئی ہے آخر میرے جیسے کروڑوں پاکستانی یہ سوچنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ ریاست ہمارے ساتھ ظلم کرنے پر اتر آئی ہے۔
اگرچہ نابیناؤں کے شہر میں جرم بصارت اور جرم جسارت ناقابل معافی جرائم ہیں اور بسا اوقات تمام نابینا اس جرم کی پاداش میں صاحب بصارت و جسارت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر بصارت رکھنے والے نابینا شہر میں آئینہ بن کر بصارت و جسارت کا جرم کرنا پڑتا ہے۔
بقول و قلم احمد ندیم قاسمی:
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں
دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے
کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے
سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر
زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے
اور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہے
اے خداوندان ایوان عقائد
اے ہنر مندان آئین و سیاست
زندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئے
مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
اس امید پر کہ شہر نابینا کے ایوان اقتدار میں بیٹھے نابیناؤں نے مجھے جرم بصارت و جسارت اجازت دینگے بات آگے بڑھاتا ہوں۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد، انوکھا اور بدقسمت ملک ہے جہاں عوام پر بین الاقوامی اور مقامی دہشتگردوں کے ساتھ اپنے حکمران بھی حملہ آور رہتے ہیں۔ کبھی پٹرول، بجلی اور گیس بم گرا کر اور کبھی مہنگائی کی آگ بھڑکا کر۔ حکمران عوام کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے، عام عوام خصوصاً تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے عشرے میں نہ رکنے والے ریاستی معاشی دہشتگردی کی وجہ سے ہی ہانپنے لگتا ہے۔ تنخواہ دار اور اوسط درجے کا کاروباری طبقہ غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہتے اور عوام دشمن ترجیحات کی وجہ سے کاروبار کا پہیہ منجمد ہو چکا ہے، آخر کیوں عام عوام لاوارث ہیں ؟ اور وہ آخر جائیں کہاں؟
عام عوام ہر روز نئے نرخنامے کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور اور ہر مہینے بجلی کے بل عام عوام کی معاشی لاشوں پر دھما چوکڑی کرنے آجاتے ہیں۔
چھوٹا کاروباری سوچ رہا ہے کہ کاروبار جاری رکھے یا شٹر گرا کر فاقوں پر گزارہ کرے۔ ایک وقت کھانے والا دیہاڑی دار مزدور شیر خوار بچوں کے “پانی میں دودھ ملانے” پر مجبورہے۔ ریاستی جبر کے ہاتھوں زندہ لاشوں کی دل چیرنے والی کہانیاں چاروں طرف بکھری پڑی ہیں، عام عوام کو آج تک کبھی محسوس نہیں ہوا کہ موجودہ یا سابقہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عام عوام بھی ہیں۔ یہاں تو ہر پالیسی عام عوام کے گلے کا پھندا ثابت ہوتی ہے، مگر آج بجلی کے نہ ختم ہونے والے ریاستی جھٹکوں پر بات کرتے ہیں۔ بجلی کے بل پر نظر ڈالنے پر کئی جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ بجلی کی قیمت کے علاوہ پتہ نہیں کس کس نام سے سرچارج وصول کیے جاتے ہیں، بعض اوقات استعمال شدہ بجلی کی قیمت، واجب الادا رقم کے 30 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔
ٹیکسوں کی بھرمار کے علاوہ بروقت بجلی کا بل ادا کرنے کے جرم میں بجلی چوروں کی استعمال شدہ بجلی کو لائن لاسز کی ٹوپی پہنا کر عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔ بجائے چور کو پکڑنے اور سزا دینے کے بل دینے والوں سے ان کا بل لیا جاتا رہا مگر عوام دشمن حکمرانوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی شاید اس لیے پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے کو بھی عام عوام کے گلے کا پھندا اور بجلی کے جھٹکے دینے والی کرسی اس انداز میں بنائی گئی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ المیہ نہیں حکمرانوں کی نااہلی اور عوام دشمنی کا ثبوت ہے کہ ایٹمی پاکستان میں ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کے زہر آلود ماہانہ بھاری بھرکم بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے اندھیروں نے عوام کا جینا دو بھر کیا تھا۔
لوڈشیڈنگ سے نجات اور سی پیک پروجیکٹ کے بیسیوں انڈسٹریل اسٹیٹس کے ضروریات پورا کرنے کے نام پر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر بدنام زمانہ آئی پی پیز کا ڈرامہ رچایا گیا۔ رئیس زادوں اور سرکاری دامادوں کو اربوں روپے کے قرضے آسان شرائط پر دلوائے گئے تو ہر ایک نے “حسب استطاعت و ضرورت” قرضے کی حاصل کردہ رقم سے خطیر رقوم ملک سے باہر اپنے بے نامی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کردئے۔ 10-15 فیصد سے سرکاری مڈل مینز کی دوزخ کو بھر کر دو نمبر مشینری منگوائی اور حکومت نے آئی پی پیز کو لائسنس جاری کیے۔
گرمیوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو کل 22ہزار میگاواٹ اور سردیوں میں 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، آئی پی پیز سے پہلے گرمیوں کے موسم میں 8 ہزار میگاواٹ واٹ کے لگ بھگ بجلی کی کمی کا سامنا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے ناعاقبت اندیش حکمرانوں اور بیوروکریسی نے اپنی جیبیں بھرنے اور سرمایہ کاروں کو نوازنے کے لیے آئی پی پیز سے 46 ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کے لیے گارنٹیاں دے کر معاہدے کر لیے یعنی اس وقت کی ضرورت سے لگ بھگ 38 ہزار میگاواٹ زیادہ کے لیے معاہدے کیے گئے۔ اس وقت اور آج بھی ہماری ٹرانسمیشن لائنز میں 25 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ترسیل کی سکت نہیں اور گرمیوں میں مسلسل ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے ملک اندھیروں میں ڈوبتا رہتا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرانسمیشن کی ترسیلی سکت سے 35 ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی کے معاہدے کیوں کیے گئے؟ جس کی وجہ سے آئی پی پیز کو ایک یونٹ بجلی پیدا کیے بغیر فکسڈ چارجز کی مد میں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
ایک طرف عام عوام کے جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ہر ماہ ڈالا جاتا ہے اور دوسری طرف سرمایہ داروں بلکہ ان کی آیندہ آنے والی نسلوں کو بھی مالا مال کیا جا رہا ہے۔ یعنی ماں جسی ریاست اپنے سگے بچوں کی قومی خزانے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کی وصولی اپنی سوتیلی اولاد (عام عوام) سے کر رہی ہے۔ ریاست بجلی چوروں کی چوری، آئی پی پیز کی لوٹ مار اور کارخانہ داروں کو دی گئی رعایتی بجلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے اور اپنا حصہ لے کر ہر ذمے داری سے بری الزمہ ہو جاتی ہے۔ جب بجلی کے بل عام عوام کے گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور کارخانو ں کے بجٹ کو نگلنے لگے تو حکومت و ریاست سے مایوس عام عوام نے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے نجات پانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھروں کے چھتوں پر سولر پینل لگا کر ماحول دوست بجلی (گرین انرجی) بنانا شروع کیا تو حکومت نے عوام کے فلاح و بہبود اور آسانی کے نام پر سولر انرجی پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کو دن رات پروموٹ کیا تو عام عوام ان کے دھوکے میں آگئے، کسی نے اپنی جمع پونجی، کسی نے بیوی بچوں کے زیور بیچ کر اور کسی نے قرض لے کر اپنے گھر کے چھت پر منی آئی پی پی لگا لیے، آج تک کم و بیش 4 لاکھ 60 ہزار پاکستانیوں نے اپنی حلال کمائی کے اربوں روپے لگا کر یہ منی آئی پی پیز لگائے اور حکومت وقت نے ان کے ساتھ 7 سالہ نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کیے۔
(جاری ہے)
Today News
کراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 2 زخمیوں سمیت 3 ملزمان گرفتار
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلوں میں 2 زخمیوں سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بہادر آباد تھانے کی حدود میں کارساز روڈ کے قریب پولیس نے مشکوک موٹرسائیکل سوار ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ساتھی فرار ہوگئے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت وارث اور اشفاق کے نام سے ہوئی ہے، جن کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ، پستول بمعہ ایمونیشن اور موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔
زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ضابطے کی کارروائی جاری ہے اور فرار ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سعیدآباد کے علاقے میں بھی پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جہاں پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے اسلحہ اور چھینے گئے موبائل فون برآمد ہوئے ہیں، ملزم کی شناخت اور اس کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔
Today News
امریکی صدر کی تعریف سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، عطا تارڑ
واشنگٹن:
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے واشنگٹن ڈی سی سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ امریکا میں منعقدہ بورڈ آف پیس اجلاس کے دوران پاکستان کو نمایاں پذیرائی اور احترام حاصل ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی منظرنامے پر پاکستان ایک اہم اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے معاملے پر مؤثر سفارتی کردار ادا کیا اور مختلف عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ سمیت دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر فلسطینی مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم کے درمیان مثبت روابط اور خوشگوار ملاقاتوں سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور ملک عالمی معاملات میں ایک اہم و متعلقہ کردار ادا کر رہا ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور قومی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملک عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال اور مؤثر کردار کی جانب گامزن ہے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims