Connect with us

Today News

پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے مہنگی ڈیل کا امکان بڑھنے لگا

Published

on



پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے مہنگی ڈیل کا امکان بڑھنے لگا، اس سے پی سی بی کے خزانے میں اربوں کا اضافہ ہو جائے گا، ایک پی ایس ایل فرنچائز نے پی ایس ایل براڈکاسٹ کیلیے سالانہ ساڑھے چار ارب روپے دینے کا ذہن بنا لیا، معاملات طے پانے پر 18 ارب تک میں چار سالہ معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے کچھ عرصے قبل چار سالہ پی ایس ایل میڈیا رائٹس کے لیے اشتہار جاری کیا تھا، اس پر کئی پارٹیز سامنے آئیں، 2 بڑے اسپورٹس چینلز بھی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر ان میں سے ایک پر مبینہ طور پر 4 ارب 70روپے کے واجبات ہیں، دوسرے کو 60کروڑ سے زائد رقم ادا کرنی ہے۔

بورڈ نے یہ معاملہ حل کرنے کے لیے دونوں پارٹیز کو وقت دیا لیکن ادائیگیاں نہ ہو سکیں جس پر گزشتہ روز انھیں ڈس کوالیفائی کرنے کے خطوط بھیج دیے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ایس ایل فرنچائز خریدنے والی ایک کمپنی میڈیا رائٹس لینے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے، اس کی جانب سے ریکارڈ توڑ بڈ ہو سکتی ہے، بعض باخبر حلقے سالانہ ساڑھے چار ارب اور 4 برس کیلیے 18 ارب روپے کی بولی کا بھی دعویٰ کر رہے ہیں، لائیو اسٹریمنگ کی بڈ 7 ارب تک بھی جا سکتی ہے، اس صورت میں یہ پاکستان کرکٹ تاریخ کی سب سے بڑی ڈیل ہو جائے گی۔

بورڈ نے چینلز کی مبینہ ملی بھگت روکنے کے لیے اس بار کنسورشیم کی اجازت نہیں دی، مذکورہ کمپنی بڈ جیتنے پر ممکنہ طورپر سرکاری ٹی وی کی اسکرین استعمال کرے گی۔

پی سی بی نے پاکستان میں پی ایس ایل براڈ کاسٹ اور لائیو اسٹریمنگ کی فروخت کا ٹینڈر جاری کیا تھا، کوئی بھی کمپنی دونوں یا کسی ایک میں بڈ کر سکتی تھی، دونوں کی بڈ سیکیورٹی 10، 10 کروڑ روپے ہے، فاتح کمپنی کی رقم ایڈجسٹ جبکہ دیگر کو واپس مل جائے گی، گو کہ ریزرو پرائس ابھی سامنے نہیں آئی لیکن محتاط اندازے کے مطابق یہ 18 ارب تک ہی ہو سکتی ہے۔

لائیو اسٹریمنگ کے لیے 6 ارب تک ریزرو پرائس کا امکان ہے، گزشتہ برس پی ایس ایل کے 34 میچز ہوئے تھے اب 2 نئی ٹیموں کی شمولیت سے تعداد 44 تک پہنچ جائے گی۔ ہر سال 10 اضافی میچز سے یہ چار سالہ ڈیل سابقہ ویلیو کے لحاظ سے 5 سالہ بن جائے گی۔

حالیہ بڈنگ میں شریک ایک اور میڈیا چینل ماضی میں بلیک لسٹ بھی رہ چکا، اس کی جانب سے بڑی بڈ دیے جانے کا کوئی امکان نہیں لگتا، یوں بظاہر میدان پی ایس ایل فرنچائز کے لیے خالی نظر آتا ہے۔

قوانین کے مطابق پروڈکشن اخراجات نکالنے کے بعد 3 ارب روپے سے بڑی براڈ کاسٹ ڈیل کی صورت میں اضافی رقم میں سے 5 لاکھ ڈالر آئیکون غیر ملکی کرکٹرز سے معاہدے کیلیے رکھے جائیں گے، باقی 80 فیصد حصہ پی سی بی اور 20 فیصد فرنچائز کو ملے گا۔

گزشتہ برس پروڈکشن کے اخراجات ایک ارب روپے سے زائد تھے، لیگ کا 11 واں ایڈیشن 26 مارچ کو شروع ہوگا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 میں کور کمانڈر پشاور کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست

Published

on



پشاور:

پشاور میں آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کامیابی سے جاری ہے۔

کور کمانڈر پشاور کی آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے طلبہ کیساتھ خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں کور کمانڈر پشاور نے طلبہ سے خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی معاملات اور درپیش چیلنجز پر جامع گفتگو کی۔ 

طلبہ نے پاک فوج کی قربانیوں، پیشہ وارانہ مہارت خصوصاً معرکہ حق میں دشمن کیخلاف جرأت و استقامت کو سراہا،  طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے مثبت بیانیے کے محافظ بن کر قومی مفادات کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ ہمیں کور کمانڈر کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سیکورٹی مسائل پر تفصیل سے آگاہ کیا گیا، اس نشست کے بعد ہماری خیبرپختونخوا اور قومی معاملات پر فہم و فراست میں اضافہ ہوا ہے۔

طلبہ نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل محاذ پر دشمن کے پروپیگنڈے اور منفی بیانیے کیخلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے، طلبہ نے ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا

Published

on



اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا۔

جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا، سپریم کورٹ نے شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2017 میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے دفاع کا حق ختم کردیا تھا، ٹرائل کورٹ میں کیس شہادتوں پر پہنچا ہوا ہے۔

 بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاناما کیس پر خاموشی کے لیے انہیں شہباز شریف کی جانب سے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا۔

لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کا ٹرائل جاری ہے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب جمع کرانے میں تاخیر پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،  لاہور ہائیکورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جواب دینے میں غیر ضروری تاخیر کی۔

مئی 2025 میں ٹرائل کورٹ کے سامنے شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، گواہ عطا تارڑ اور ملک احمد خان پر بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے جرح مکمل ہوچکی ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست خارج کردی تھی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے بانی پی ٹی آئی کی اپیل خارج اور حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

اکثریت فیصلے کے مطابق  بانی پی ٹی آئی کا رویہ دانستہ نافرمانی والا رہا اور عدالتی عمل میں تاخیر کی، جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا تھا، جسٹس عائشہ ملک کا موقف تھا کہ کسی بھی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں کیا جانا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک کے اختلافی نوٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو دفاع کا موقع ملنا چاہیے تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

مصطفیٰ کمال نے عمران خان کی آنکھ سے متعلق سوال پر خاموشی اختیار کرلی

Published

on


میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج بارے میں سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرلی۔ 

تفصیلات کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کے دوران مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر جو پزیرائی ہوئی اس کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کی پاکستان پر شب خون مارنے کی کوشش کو ناکام بنایا، پہلی مرتبہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے سب معترف ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کے جنگ جیتنے کی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیت کو تسلیم کیا گیا اور پاکستان نے اپنی برتری کو بہترین طریقے سے مارکیٹ کیا۔

تاہم کسی صحافی کی جانب سے جب بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر صرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات  ہی بات کریں گے۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے میرے خیال میں اس کی خبرایک جگہ سے جانی چائیے۔ اس  لئے میں نے اس پر بات نہیں کی اور نہ ہی میں بات کروں گا۔





Source link

Continue Reading

Trending