Today News
قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی ذیلی کمیٹی کا ہاکی کے معاملات پر سخت تشویش کا اظہار
قومی اسمبلی کی قاٸمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی ذیلی کمیٹی نے ہاکی کے معاملات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قاٸمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مہرین رزاق بھٹو کی کنوینرشپ میں ہاکی کے معاملات کا جاٸزہ لیا گیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عبوری صدر محی الدین وانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
کمیٹی ارکان نے ہاکی معاملات پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بدقسمتی ہے، قاٸمہ کمیٹی نے اس معاملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ کمیٹی جاٸزہ لے گی کہ اس نااہلی کے اصل قصوروار کون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دل کرکٹ کی طرح ہاکی کے ساتھ بھی دھڑکتے ہیں۔ ہم خود ہی اپنے کھیلوں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
رکن کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن دونوں ہی ناکام ہو گٸے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہاکی کے معاملے پر وزیر اعظم سے ملاقات کی جائے۔ وزیر اعظم کو بھیجی گئی انکواٸری رپورٹ قاٸمہ کمیٹی میں بھی پیش کی جائے۔
قاٸمہ کمیٹی کو پاکستان اسپورٹس بورڈ کے منصوبوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔
پی ایس بی حکام نے بتایا کہ بائیو میکنیکل لیب منصوبہ 2014 میں شروع ہوا لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔
وزیر اعظم ہدایت پر گلگت میں ہاکی آسٹرو ٹرف کی تکمیل پر 15 سال لگ گٸے۔ 35 ملین کی آسٹرو ٹرف کا منصوبہ 123 ملین تک جا پہنچا۔
نارووال اسپورٹس سٹی پراجیکٹ 2012 میں شروع ہوا جسے 2018 میں بند کردیا گیا۔ منصوبے کی لاگت 732 ملین سے چھ ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔
پی ایس بی حکام نے بتایا کہ یہ نامکمل پراجیکٹ ایچ ای سی کو ٹرانسفر ہوگیا ہے۔ نارووال اسپورٹس سٹی کو عالمی معیار کا بنانے کے لیئے لاگت میں اضافہ ہوا۔
مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے اتنا عرصہ پراجیکٹ مکمل نہیں ہوسکا۔ احسن اقبال کا حلقہ بھی ہے لیکن پھر بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس بی کے پاس اتنا پیسہ ہے لیکن منصوبے پھر بھی مکمل نہیں ہوئے۔
Today News
نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں غیرمتعلقہ افراد کی موجودگی کا انکشاف
راولپنڈی:
نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق فیملی ٹری میں جعل سازی سے شریک ہوئے گھس بیٹھیوں کے خلاف نادرا نے بڑا ایکشن شروع کردیا، جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے مشتبہ افراد کو نادرا نے طلب کرلیا۔
نادرا نے ابتدائی طور پر ضلع راولپنڈی کے 833 افراد کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کردئیے اور ان 833 افراد کو 7 دنوں میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری میں شامل ہونے کا الزام ہے، جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو فون کال، میسج بھی کیے گئے ہیں، نوٹسز جاری کرکے ان لوگوں کو موقف سناجائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیش نہ ہونے والے افراد کی پاکستانی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔
Today News
کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری
لاہور:
محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری کردی۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997کے تحت کالعدم تنظیموں کو کسی قسم کی معاونت فراہم کرنا جرم ہے، شہری غیر رجسٹرڈ اور کالعدم خیراتی اداروں کو زکوٰۃ، خیرات اور عطیات مت دیں، دہشتگردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی امداد کرنے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔
اعلامیہ کے مطابق پنجاب میں خیراتی اداروں کیلئے پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹریشن لازم ہے، شہری اپنی زکوٰۃ، خیرات اور عطیات صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دیں، تمام رجسٹرڈ اداروں کی تصدیق انکے سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ سے کی جاسکتی ہے، شہری یقینی بنائیں کہ انکی امداد دہشتگردوں کی بجائے صحیح حقدار تک پہنچ رہی ہے۔
کالعدم تنظیموں کی فہرست:
کالعدم تنظیموں میں تحریک لبیک پاکستان، لشکر جھنگوی، سپاہ محمد پاکستان، جیش محمد، الرحمت ٹرسٹ بہاولپور، الفرقان ٹرسٹ کراچی، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان، تحریک نفاذ شریعت محمد، تحریک اسلامی، القاعدہ، ملت اسلامیہ پاکستان، خدام الاسلام، اسلامی تحریک پاکستان، جمعیت الانصار، جماعت الفرقان، حزب التحریر، خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ شامل ہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی، اسلامک اسٹوڈنٹس موومنٹ آف پاکستان، لشکر اسلامی، انصار السلام، حاجی نامدار گروپ، تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان رپبلیکن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، لشکر بلوچستان، بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ، بلوچستان مسلح دفاع تنظیم، شیعہ طلبہ ایکشن کمیٹی گلگت، مرکزی سبیل آرگنائزیشن گلگت، تنظیم نوجوانانِ اہل سنت گلگت بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔
پیپلز امن کمیٹی لیاری، اہلِ سنت والجماعت، الحرمین فاؤنڈیشن، رابطہ ٹرسٹ، انجمن امامیہ گلگت بلتستان، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت، تنظیم اہل سنت والجماعت گلگت، بلوچستان بنیاد پرست آرمی، تحریک نفاذ امن، تحفظ حدود اللہ، بلوچستان واجہ لبریشن آرمی بھی فہرست میں شامل ہیں۔
بلوچ رپبلیکن پارٹی آزاد، بلوچستان یونائیٹڈ آرمی، اسلام مجاہدین، جیش اسلام، بلوچستان نیشنل لبریشن آرمی، خانہ حکمت گلگت بلتستان، تحریک طالبان سوات، تحریک طالبان مہمند، طارق گیدڑ گروپ، عبداللہ اعظم بریگیڈ، ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
کالعدم تنظیموں میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، اسلامک جہاد یونین، 313 بریگیڈ، تحریک طالبان باجوڑ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر (حاجی نامدار گروپ)، بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، جئے سندھ متحد محاذ، داعش، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی، انصار الحسین، تحریک آزادی جموں و کشمیر، جنداللہ، الرحمت ویلفئیر ٹرسٹ آرگنائزیشن بھی فہرست میں شامل ہیں۔
بلاورستان نیشنل فرنٹ، جماعت الدعوۃ، الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوۃ الارشاد پاکستان لاہور، الحمد ٹرسٹ لاہور/ فیصل آباد، موسک اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ لاہور، المدینہ فاؤنڈیشن لاہور، معاذ بن جبل ایجوکیشنل ٹرسٹ لاہور کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الفضل فاؤنڈیشن/ٹرسٹ لاہور، الایثار فاؤنڈیشن لاہور، پاک ترک انٹرنیشنل CAG ایجوکیشن فاؤنڈیشن، حزب الاحرار، جئے سندھ قومی محاذ، سندھو دیش ریولیوشنری آرمی، سندھو دیش لبریشن آرمی کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں۔
تنظیم خاتم الانبیاء، غازی فورس، زینبیون بریگیڈ، مجید بریگیڈ، حافظ گل بہادر گروپ، پشتون تحفظ موومنٹ، تحریک لبیک پاکستان، غلامانِ صحابہ، معمار ٹرسٹ، سچل سرمست ویلفیئر ٹرسٹ کراچی، الجزاء پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کراچی، الاختر ٹرسٹ، الراشد ٹرسٹ شامل ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی فہرست محکمہ داخلہ پنجاب اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر بھی دی گئی ہے۔
Today News
خیبرپختونخوا حکومت نے انڈس ریور اور دریائے کابل سے سونا نکالنے پر پابندی لگادی
پشاور:
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈس ریور اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی اور پلَیسر گولڈ نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ پابندی 60 روز کے لیے ضلع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک سمیت ملحقہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ خان کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور صوبائی کابینہ کے 37ویں اجلاس میں ہونے والی مشاورت کی روشنی میں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے کناروں پر جاری غیر قانونی کان کنی سے ماحول کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا، پانی آلودہ ہو رہا تھا، قدرتی مناظر تباہ ہو رہے تھے اور مقامی آبادی کی صحت اور سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔
یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی غیر قانونی سرگرمیاں امن و امان کی خرابی، مقامی گروہوں کے درمیان تنازعات، غیر قانونی طور پر نکالے گئے مواد کی ترسیل اور کھدائی میں استعمال ہونے والے ایندھن کی اسمگلنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق بعض منظم گروہ مالی وسائل رکھتے ہیں اور کارروائی کے دوران مزاحمت بھی کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنیات کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف مربوط کارروائی کرے، اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس تعاون فراہم کریں گی جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔
حکم نامے کے تحت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں، جس میں خلاف ورزی کرنے والوں کی مشینری، گاڑیاں اور دیگر آلات ضبط کرنا بھی شامل ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech7 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims