Connect with us

Today News

نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں غیرمتعلقہ افراد کی موجودگی کا انکشاف

Published

on



راولپنڈی:

نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق فیملی ٹری میں جعل سازی سے شریک ہوئے گھس بیٹھیوں کے خلاف نادرا نے بڑا ایکشن شروع کردیا، جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے مشتبہ افراد کو نادرا نے طلب کرلیا۔

نادرا نے ابتدائی طور پر ضلع راولپنڈی کے 833 افراد کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کردئیے اور ان 833 افراد کو 7 دنوں میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری میں شامل ہونے کا الزام ہے، جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو فون کال، میسج بھی کیے گئے ہیں، نوٹسز جاری کرکے ان لوگوں کو موقف سناجائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیش نہ ہونے والے افراد کی پاکستانی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سالانہ 60 ارب کی گیس چوری ہوتی ہے نقصان صارفین پر ڈالتے ہیں، سوئی گیس حکام کا اعتراف

Published

on



اسلام آباد:

سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے جس میں 30 ارب سوئی ناردرن اور 30 ارب سوئی سدرن سے چوری ہوتی ہے اوگرا کی حد تک نقصانات کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس معنقد ہوا۔ اجلاس میں گیس کے معاملات پر بات ہوئی۔

سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا کہ سوئی ناردرن کا گیس چوری اور نقصانات سے 30 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ گیس کی چوری کے نقصان کے 30 ارب روپے صارفین پر ڈالے جاتے ہیں، صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اسے گھریلو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔ 

سوئی گیس حکام نے کہا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک نقصانات صرف صارفین پر ڈالتے ہیں، ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی گیس سیکٹر میں یو ایف جی 6 فیصد تک ہوتی ہے جب کہ سوئی سدرن کا گیس چوری کا معاملہ 10 فیصد سے زائد ہے، سوئی سدرن سے 30 بی سی ایف گیس  چوری ہورہی ہے، سوئی سدرن سے بھی سالانہ 30 ارب روپے کی گیس چوری اور نقصانات ہورہے ہیں۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی میں پٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کا معاملہ زیر بحث آیا۔

سید نوید قمر نے کہا کہ جس مقصد کے لیے رقم جمع ہوئی اس کے لیے استعمال نہیں ہوئی، پالیسی سازی نہ ہونے سے وجہ سے یہ نااہلی سامنے آ رہی ہے، ٹریننگ فنڈ پر صوبوں کو بھی کمیٹی میں بلا کر پوچھنا چاہئیے۔

پیٹرولیم حکام نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ رقم کے استعمال کا کوئی پلان بنا سکیں۔ اس پر نوید قمر نے کہا کہ آخر کب تک پلان بنائیں گے؟ ہم اپنا صبر کھو رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملک میں اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں، وفاقی وزیر صحت

Published

on



وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔

قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ طلب کردہ متعدد تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں جن میں صوبہ بلوچستان سے متعلق ایچ آئی وی کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، ارکان نے نشان دہی کی کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ایچ آئی وی مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وضاحت کی کہ اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔ 

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 19-208 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024 کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے، کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید برآں ضلع سرگودھا (کوٹ مومن) میں 19-2018 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کیسز کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 میں 24 ہزار مریض علاج کے لیے رجسٹر ہوئے، کمیٹی ارکان نے اعتراض کیا کہ طلب کردہ اعداد و شمار اور اسباب سمیت متعدد پہلو وزارت کی رپورٹ میں مناسب طور پر شامل نہیں کیے گئے۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وضاحت کی کہ وزارت کی جانب سے ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کرنے کے نتیجے میں زیادہ افراد کی اسکریننگ ہوئی، جس سے کیسز کی نشان دہی میں اضافہ ہوا۔

وزارت نے آگاہ کیا کہ ملک بھر میں اسکریننگ اور آگاہی اقدامات جاری ہیں جبکہ پروگرام سے متعلق امور، فنڈز اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات آئندہ بریفنگ میں فراہم کی جائیں گی۔

چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل مجموعی پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے، این جی اوز کو دی جانے والی فنڈنگ، پروگرام پر عمل درآمد بالخصوص ایچ آئی وی سے متعلق امور اور منصوبہ جاتی آپریشنل بریفنگ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

وزیر صحت نے کہا مفروضے کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریض ہیں، گلوبل فنڈ 25 فیصد فنڈ گورنمنٹ کو 75 فیصد فنڈ این جی اوز کو دیا جا رہا ہے، ابھی آپ کو کیسز اور زیادہ ملیں گے، 90 فیصد لوگ میڈیکل وجوہات پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں، ڈی پورٹ ہونے والوں کی اسکریننگ ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ایک ہی جگہ پر بچوں میں  مرض پایا گیا جہاں غلط سرنجز لگائی گئیں،کراچی بنارس کے علاقے میں 70 مریضوں میں تشخیص ہوئی اور ڈی جی ہیلتھ کو کراچی بھیجا۔

پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کے حوالے سے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے اور انہوں نے ہار نہیں مانی اور تجویز دی کہ اس معاملے کو آئندہ ان کیمرہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔

وزیر صحت نے کہا کہ نرسنگ کونسل کا اتنا بڑا مافیا ہے، ملک کا تماشا ہے،کتنا بڑا اسٹیک ہے  معتبر نام انگلی پکڑ کر چلتے ہیں اور عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا ہے، اراکین کمیٹی  نے کہا کہ ایکٹ میں تجویز دینا چاہتے ہیں۔

رکن کمیٹی شازیہ سومرو نے ذرائع کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ کونسل میں گلگت بلتستان اور بلوچستان سے بعض ارکان کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور مطلوبہ اہلیت موجود نہیں، جس پر کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کی ہدایت کر دی۔

وزارت کے بجٹ کے حوالے سے مصطفی کمال نے کہا کہ مجھ سے قبل 21 ارب روپے بجٹ تھا، جب مجھے وزارت ملی تو  ہمیں صرف 14 ارب روپے  بجٹ میں دیے گئے،کوئی نئی اسکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی، تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی اسکیمیں مںظور کی گئی ہیں۔

اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور نگرانی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ارکان نے کلینیکل نگرانی اور نفاذ کے اقدامات سے متعلق پیش رفت، رپورٹنگ میں تاخیر اور نامکمل معلومات پر تشویش کا اظہار کیا، وزارت نے بتایا کہ بعض امور مزید جائزہ اور وقت کے متقاضی ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

ہاکی فیڈریشن کے قائم مقام صدر نے کپتان پر عائد پابندی فوری ختم کرنے کا اعلان کردیا

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن کے قائم مقام صدر نے کہا ہے کہ ملک میں ہاکی کے کھیل کو دوبارہ مضبوط اور فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے جبکہ انہوں نے سابق صدر کی جانب سے ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محی الدین وانی نے اپنے بیان میں کہا کہ فی الحال فیڈریشن کے معاملات کو بہتر بنانے، اعتماد بحال کرنے اور ٹیم مینجمنٹ کو ازسرنو منظم کرنے پر کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر اہم مسائل حل کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں ایک واضح منصوبہ بندی کے تحت کوچنگ، تربیت اور اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن میں شفاف نظام قائم کیا جائے گا اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی مدد کے لیے نجی شعبے کے ساتھ بھی تعاون بڑھایا جائے گا تاکہ کھلاڑی پوری توجہ اپنے کھیل پر رکھ سکیں۔

قائم مقام نے کہا کہ قومی کھیل کو دوبارہ عروج پر لانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فیڈریشن میں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ جمہوری طریقے سے نظام آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے اور تمام فیصلے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

آخر میں انہوں نے وزیر اعظم کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سب کو مل کر پاکستان ہاکی کو دوبارہ کامیابیوں کی راہ پر لانا ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Trending