Today News
مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار
نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن عملے کی مبینہ ملی بھگت سے تارکین وطن کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بیرون ممالک و یورپ بیجھوانے کے لیے سہولت کاری و انسانی سمگلنگ کے میگا سکینڈل کا انکشاف ہوا۔
چار مسافروں سے رشوت کے عوض امیگریشن کلئیر کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے امیگریشن کے افسر محمد عالم ،ایف سی انضمام الحق اور زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے رشوت ستانی و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔
حکام کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ڈائریکٹر ایف ایک اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کے غیر قانونی سرگرمیوں و انسانی اسمگلروں سے روابط کی اطلاع ملی۔
جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نے خود نگرانی کرتے ہویے تحیقیقات شروع کیں توالزامات سچ نکلنے۔
الزامات سچ ہونے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی سربراہی میں ٹیم نے چھاپہ مارا اور آئی ائی اے امیگریشن کے اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور زونل آفس میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا جس میں رشوت لیکر باہر بھجوائے گئے 4 مسافروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کی جانب سے سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیاگیا کہ اطلاع موصول ہوئی کہ عمرہ ویزہ پر سفر کرنے والے چند مسافر یورپ جانے کے لیے غیر قانونی طور پر سمندری راستے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
اطلاع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ٹیم نے اسلام آباد سے دمام اور سعودی عرب جانے والی پرواز کے دوران چھاپہ مارا تو پرواز پر پشاور سے تعلق رکھنے والے مسافر کامران خان اور زیاد خان ،باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب اور یاسین خان امیگریشن کاؤنٹر سے کلیرینس پاکر طیارے میں سوار ہونے کے لیے ویٹنگ لاونج میں تیار تھے۔
متن مقدمہ کے مطابق جہاں چھاپہ مار کر چاروں مسافروں کو آف لوڈ کرکے پوچھ گچھ کی گی، انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ تمام مسافر عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہے تھے اور کاؤنٹر کے اہلکار انضمام الحق (ایف سی) نے انہیں مزید جانچ پڑتال کے لیے سیکنڈ لائن افسران کے حوالے کیے بغیر کلیئر کیا۔
مزید انکشاف ہوا کہ مسافر عمرہ ویزہ (سنگل انٹری کیٹیگری) پر سفر کر رہے تھے جبکہ امیگریشن کے دوران مسافروں کے لیے یہ غلط تاثر پیدا کرنا کہ وہ دوبارہ سعودی عرب میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایس او پی کے مطابق مسافر لو پروفائل تھے جنکی پروفائل ایل ایل کے تحت سیکنڈ لائن آفیسر کے حوالے کرکے دوبارہ پروفائلنگ ضروری تھی،
مسافروں نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ ان سے یونس خان نامی ایجنٹ نے رابطہ کرکے سعودی عرب، مصر، لیبیا کے راستے یورپ میں داخلے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بورڈنگ پاسز کے اجراء کے بعد ایجنٹوں نے انہیں خاص طور پر ہدایت کی کہ وہ کلیئرنس کے لیے امیگریشن کاؤنٹر نمبر 13 جہاں انضمام الحق ایف سی تعینات ہوگا اُس پر جائیں تاکہ مزید جانچ پڑتال اور پروفائلنگ سے بچا جا سکے۔
متن مقدمہ کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن اہلکار انضمام الحق نے انکشاف کیا کہ اے ایس آئی محمد عالم جو ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن شفٹ اے اراییول میں بطور کاؤنٹر اہلکار تعینات ہیں۔ اُس کے کہنے پر کلئیر کیا،
امیگریشن اہلکاروں انضمام الحق (ایف سی ) اور اے ایس آئی محمد عالم کو مسافروں سمیت تحویل میں لیکر قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل اسلام آباد کے حوالے کردیا۔
کارروائی کے دوران مسافروں کے چار موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گیے۔
ادھر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی ابتدائی تفتیش میں امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات اہلکار ایف سی محمد انضمام الحق کے ہوش ربا انکشاف سامنے آئے ہیں جسکے مطابق امیگریشن اہلکار انظمام الحق نے بتایا کہ اس سے امیگریشن اراییول کے اے ایس آئی محمد عالم نے چار مسافروں کو 30 ہزار روپے فی مسافر کے عوض کلیئر کرنے کے لیے کہا جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن میں تعینات اے ایس آئی محمد عالم نے انکشاف کیا کہ اس سے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے رابطہ کیا اور چاروں مسافروں کی کلیرینس 80 ہزار روپے فی مسافر میں ڈیل طے کی۔
اے ایس آئی محمد عالم نے مزید انکشاف کیا کہ ہیڈکانسٹیبل محمد اسماعیل نے ایجنٹ کے ساتھ یہ ڈیل 15 لاکھ روپے میں طے کی اور محمد اسماعیل کے ساتھ ملکر ایک ہفتے میں اس سے پہلے 12 مسافروں کو کلیئر کیا۔
ان 12 مسافروں کو بھی اسی امیگریشن اہلکار انظمام الحق ایف سی نے 30 ہزار فی مسافر نقد لے کر کلیئر کیا۔
ایف آئی آر میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے اے ایس آئی محمد عالم کو لاکھوں روپے دیے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ اسکی جانب بقایا ہے اور ایجنٹ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل سے براہ راست رابطے میں تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن اہلکاروں ایف سی انضمام الحق اور اے ایس آئی محمد عالم سمیت زون میں تعینات ایف آئی اے کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کے خلاف رشوت ستانی و انسانی سمگلنگ میں سہولت کاری وغیرہ کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے انسداد انسانی سمگلنگ سیل نے بھی ملزمان کے خلاف الگ سے کاروائی شروع کردی اور تفتیش کے دوران مزید انکشافات کی توقع ہے۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا کہناتھاکہ ایف آئی اے میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، غیرقانونی کاموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔
Source link
Today News
صدر ٹرمپ سپریم کورٹ پر برس پڑے؛ٹیرف فیصلے کو شرمناک قرار دیدیا
امریکی سپریم کورٹ کے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے باعثِ شرم قرار دیا ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ بند کمرہ اجلاس کے دوران ایک معاون نے صدر ٹرمپ کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں موجود ایک ذریعے نے فوکس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ پڑھتے ہی اسے شرمناک کہا اور بتایا کہ میرے پاس متبادل موجود ہے۔ اس کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل ہی امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کو اکانومی ایمرجنسی کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ٹیرف لگانے تک توسیع نہیں پاتا۔ یہ کام صدر کا نہیں بلکہ کانگریس کا ہے جو اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کا قانونی اور مجاز ادارہ ہے۔
ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا ہے جب کہ اپوزیشن جماعت اسے انصاف کی کامیابی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹیرف کو اپنی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، تاہم یہ حکمتِ عملی ابتدا ہی سے تنازع کا شکار رہی ہے۔
Today News
کراچی میں بچوں کی لڑائی پر گولیاں چل گئیں، 1 جاں بحق اور 2 زخمی
شہر قائد کے علاقے رضویہ سوسائٹی گولیمار میں بچوں کی لڑائی خونی تصادم میں بدل گئی ، بڑوں کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق رضویہ کے علاقے گولیمار لیاقت چوک واجد پکوان کے قریب فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتول کی لاش اور زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔
ایس ایچ او رضویہ سوسائٹی بشارت نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 30 سالہ زبیر کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی ہونے والے 45 سالہ علی اکبر اور 25 سالہ کاشان کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق دو روز قبل بچوں میں کوئی جھگڑا ہوا تھا جس میں بڑے بھی کود گئے اور اس دوران ہونے والی تلخ کلامی کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آگیا ، مقتول اور زخمی افراد آپس میں رشتے بتائے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس فائرنگ کر کے فرار ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے جنھیں جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
Source link
Today News
قومی کھیل کو تباہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، فیڈریشن سے متعلق اہم انکشافات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ کی رکن سیدہ شہلا رضا اور ہاکی کے مایہ ناز اولمپئینز نے قومی کھیل ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قومی کھیل کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عناصر کے خلاف شفاف انداز میں تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور قومی خزانے کی لوٹ مار کرنے والے ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
مقررین نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھا جائے اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کو اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کا بھرپور احتساب کیا جائے،سچے اور حقیقی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر قومی ہاکی فیڈریشن کے فوری انتخابات کرائے جائیں، راست اقدامات کی صورت میں پاکستان عالمی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔
پریس کانفرنس میں شہلا رضا، اولمپینز سمیع اللہ خان، کلیم اللہ خان، حنیف خان، ناصر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز، افتخار سید ،پی ایچ ایف کے سابق سیکریٹری حیدر حسین اور دیگر شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، کھلاڑیوں کے ناموں پر ویزے حاصل کرنے والوں کی سرکوبی کی جائے، مردوں کی ہاکی ٹیموں میں خواتین کو ساتھ لے جانے والے افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کا خزانہ لوٹنے والوں کابلا امتیاز احتساب ضروری ہے،ایسے عناصر کو سیاسی دباؤ کی بنیاد پر استثنیٰ ملنا قوم کے ساتھ مذاق ہوگا۔
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی کھیل ہاکی کے معاملات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نااہل عہدے داران پاکستان ہاکی فیڈریشن کو برطرف کیا اور پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا میں ہونے والی شدید بد انتظامی اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کی جانے والی سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے والے پی ایچ ایف کے نام نہاد عہدے داران کو گھروں کو بھیج دیا۔
انہوں نے کہا کہ پرو لیگ کے لیے خطیر رقم دینے کے باوجود پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے بدترین انتظامات کرنے پر برطرف فیڈریشن ذمہ دار ہے، فیڈریشن سے مفادات کے لیے چمٹے عناصر نے ہمیشہ فنڈز کی کمی کا رونا رویا اور اسی اڑ میں فائدے اٹھاتے رہے لیکن اس مرتبہ بیچ چوراہے میں یہ ہنڈیا پھوٹ گئی، اس تباہی کی ذمہ دار طارق بگٹی اور رانا مجاہد ہیں۔
شہلا رضا نے کہا کہ طارق مسوری نے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انتظامی بے ضابطگیوں کے ریکارڈ توڑ دیے،بدقسمتی سے پاکستان میں کھیلوں کی تنظیموں کی مافیاز کو سیاسی اشرباد حاصل رہی ہے، ساوتھ ایشین گیمز میں حق رائے دہی استعمال کرنے والے حیدر حسین کی جگہ بدعنوانی میں ملوث رانا مجاہد کو سیکرٹری جنرل پی ایچ ایف تسلیم کرلیا گیا۔
’’ طارق مسوری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ملنے والے ٹاسک کے مطابق فیڈریشن کے انتخابات نہ کرائے، خود اقتدار سے چمٹے رہے اور مالی ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کی بجائے ملوث عناصر کے ساتھ مل کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا‘‘۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی طرح پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کردار بھی مشکوک نظر آتا ہے، مبینہ طور پر ایف ائی ایچ کے صدر طیب اکرام بھی ان سازشوں کا حصہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) یاسر پیرزادہ نے وزیراعظم پاکستان کے احکامات کو نظر انداز کیا، شہباز سینیئر سندھ بینک سکینڈل میں پی ایچ ایف کے خفیہ اکاؤنٹ کو چلاتے رہے۔
’’حالیہ دورہ آسٹریلیا میں ان کو بطور سپیشل آبزرور بنا کر بھیجا گیا،حکومت پاکستان کھیلوں کے لیے کے لیے زہر قاتل عناصر کے خلاف تحقیقات کرائے جامع تحقیقات کرائے اور ذمہ داران کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ قومی کھیل کو مافیا سے پاک کر کے میرٹ، شفافیت اور احتساب کی بنیاد پر آگے بڑھایا جاسکے‘‘۔
اُن کا مزید کہان تھا کہ اب وقت اگیا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کو سدھارا جائے ورنہ پاکستان میں ہاکی کا نام وہ نشان تک نہیں رہے گا۔
Source link
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims