Connect with us

Today News

اسلام آباد میں ڈولفن پولیس اہلکاروں کا مرد اور خاتون پر تشدد، ویڈیو سامنے آگئی

Published

on



اسلام آباد: وفاقی پولیس کے ڈولفن اسکواڈ کے اہلکاروں کی جانب خاتون سمیت مرد پر تشدد کیا گیا ہے جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ مارگلہ کی حدود ایف 8 میں ڈولفن اہلکاروں نے شہری پر تشدد کیا جس کی ایک ویڈیو سامنے آئی۔

ڈولفن اہلکاروں نے شہری اور اس کی بیوی کو ایف ایٹ میں ان کے گھر کے باہر روکا، اہلکاروں کی جانب سے شناختی کارڈ چیک کرنے پر تلخ کلامی ہوئی اور پھر اہلکاروں نے خاتون و مرد پر تشدد کیا۔

اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں نے شہری کو اس کی بیوی کے سامنے پیٹ ڈالا، آئی جی کا نوٹس، تمام اہلکار معطل، بتایا جا رہا ہے شہری کی جانب سے شناختی کارڈ نہ دکھانے پر تلخ کلامی ہوئی۔۔!! pic.twitter.com/sTtgoZIudJ
— Khurram Iqbal (@khurram143) February 20, 2026

آئی جی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے شہری اور خاتون پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کو معطل کردیا۔

آئی جی کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز نے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ کی تعریفیں – ایکسپریس اردو

Published

on


غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انھوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

امریکا کی دوستی اور امریکی صدر کی پسندیدگی عالمی سفارتکاری میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اسی طرح امریکا جس کے ساتھ ہے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم دونوں کے لیے امریکی صدر کی پسندیدگی پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں اہمیت کو مہر لگاتی ہے۔

ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کوئی پہلی دفعہ اس طرح تعریف نہیں کی ہے، وہ مسلسل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی جہازوں کو گرانے کی توثیق بھی کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ بند کروانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کو ان کے دونوں موقف پسند ہیں۔ پاکستان جنگ بند کروانے اور سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ کو دیتا ہے بلکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت ایٹمی جنگ رکوائی، اس لیے ہم اس جنگ کو رکوانے پر ٹرمپ کو نوبل پرائز کی نامزدگی کی بھی حمائت کر چکے ہیں۔

بھارت کا موقف ہے کہ اس نے امریکی دباؤ میں جنگ بندی نہیں کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی د رخواست پر جنگ بندی کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی کی گئی۔ اس لیے اس وقت ٹرمپ کا اور پاکستان کا موقف ایک ہے، صرف بھارتی جہازوں کی تباہی کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ ٹرمپ ہر بار جہازوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہیں تب ہی تحریک انصاف اور بالخصوص اوور سیز تحریک انصاف میں غم اور صدمہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی جاتی تھی۔ لیکن اب شاید سب تھک گئے ہیں۔اس بار کوئی باقاعدہ احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کے امریکی دوست امریکا کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے امریکی تعلقات کی طاقت سے پاکستان میں اپنی من مانی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کے دوست اس زعم میں مبتلا تھے کہ چند کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس کا ٹوئٹ پاکستان کے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس لیے کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ پر بہت توجہ دی جا رہی تھی۔

ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی کانگریس کے ار کان نے تحریک انصاف جوائن کرلی ہے۔ انھیں عمران خان کی رہائی کے لیے ٹوئٹ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب محسن نقوی امریکا گئے تو وہ جس کانگریس رکن سے ملے اس نے ملاقات کے بعد عمران خان کی رہائی کا ٹوئٹ کر دیا۔ تحریک انصاف کے دوست امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس کو ایسے دوبارہ شئیر کرتے تھے کہ جیسے بہت مقدس چیز ہے۔ اس لیے آج ٹرمپ فیلڈ مارشل اور شہبازشریف کی تعریف کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کی شکست بھی ہے۔ انھیں امریکا میں لابنگ کے میدان میں بری شکست ہوئی ہے۔ وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

بھارت بھی پریشان ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ سال بھارت نے امریکا کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت پریشان رکھا ہے۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن آج واضح ہو رہا ہے کہ اس سب کی بنیاد امریکا کی خوشنودی تھی۔

امریکی صدور بھارت کے لمبے لبے دورے کرتے تھے جس سے بھارت کا عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا امیج بن جاتا تھا۔ پاکستان کے خلاف امریکا سے بیانات آتے تھے۔ ڈو مور کا مطالبہ رہتا تھا۔ بھارت ہر وقت پاکستان کو سایڈ لائن کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ وہی امریکا اب پاکستان کے گن گا رہا ہے۔ جو مشکلات پہلے پاکستان کو درپیش تھیں ، وہی مشکلات اب بھارت کو درپیش ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بھارت میں ان پر دباؤ ہے کہ وہ ٹرمپ کو جواب دیں۔ لیکن ٹرمپ کے مسلسل گفتگو کا آج تک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مودی نے خاموشی کی پالیسی بنائی ہوئی ہے، وہ ٹرمپ کو جواب نہیں دے رہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارت ٹریڈ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔بھارت ٹریڈ ڈیل اور ٹیرف ڈیل کے دباؤ میں تھا۔ اب وہ ٹیرف ڈیل ہو گئی ہے لیکن بھارت ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ اگر بھارت جیسا ملک اپنے مالی مفادات کے لیے امریکی دباؤ میں ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں پاکستان کے بھی کس قدر امریکا سے مالی مفادات ہونگے۔





Source link

Continue Reading

Today News

رمضان کے آتے ہی ڈاکٹر عامر لیاقت کی یاد اور تازہ ہوجاتی ہے؛ سابق اہلیہ آبدیدہ

Published

on


مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال یکم رمضان کو ایک ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئیں اور یادیں تازہ کیں۔

بشریٰ اقبال نے اداکار و میزبان فیصل قریشی کے پروگرام میں ڈاکٹر عامر لیاقت پر تیار کردہ ویڈیو پیکج دیکھتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد وہ کسی بھی رمضان ٹرانسمیشن میں شریک نہیں ہوئیں تاہم کئی برس بعد آج اس پروگرام میں صرف اس لیے آئیں کیونکہ یہاں عامر لیاقت کو بانی اور پیش رو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

بشریٰ اقبال نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈاکٹر عامر لیاقت کے تعلیمی دور سے لے کر کامیابی تک ان کی ساتھی رہیں اور ان کے ساتھ بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ویڈیو پیکج دیکھتے ہی ساری یادیں ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہو گئیں اور خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

بشریٰ اقبال نے کہا کہ رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز بھی ڈاکٹر عامر لیاقت نے کیا تھا جو آج ایک کامیاب روایت بن چکا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 2022 میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔

مبینہ طور پر اس کی وجہ ان کی تیسری اہلیہ تھیں جن سے شادی کے بعد ہی ایک نہایت نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس سے ڈاکٹر صاحب دل برداشتہ تھے۔

عامر لیاقت کی پہلی شادی بشریٰ اقبال سے ہوئی جن سے دو بچے ہیں اور یہ شادی طویل عرصے چلی۔ انھوں دوسری شادی طوبیٰ اور پھر ان سے طلاق کے بعد تیسری شادی دانیہ شاہ سے کی۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

حکومتی پیشکش کے باوجود دباؤ میں آکرعمران خان سے ملاقات نہ کرنا غلطی ہے، رہنما پی ٹی آئی

Published

on



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں لیکن جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے لیکن اگر میں ہوتا تو ضرور ان سے ملاقات کرتا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں علیمہ خان کے جذبات کا احساس کرنا چاہیے، وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، ان کی سخت بات بھی ہمیں برداشت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ہمیں اسپیس دینی چاہیے، ہمیں احتیاط سے چلنا ہے کہ بہنوں کی دل آزاری بھی نہ ہو اور بانی کی رہائی بھی ہو، چیف جسٹس نے عمران خان کے حوالے سے 3 چیزوں پر کلیئر ہدایات دیں، چیف جسٹس نے بانی کی صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایات دیں، سپریم کورٹ نے واضح ڈائریکشن دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم از کم بانی پی ٹی آئی سے ذاتی معالج کی ملاقات تو کروا دے، ذاتی معالج تو سیاسی بات نہیں کرتے، فیصل سلطان سے عمران خان کا ایک طویل ساتھ ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں، جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو میں ضرور بانی پی ٹی آئی سے ملنے جاتا، میں ان سے پوچھتا کہ آپ کی صحت کیسی ہے، میں ہوتا تو ان کی صحت کی تصدیق بانی سے جیل میں مل کر کرتا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے فورس بنانے کا اعلان کیا تو میں پارلیمنٹ میں تھا، عمران کی رہائی کے معاملے پر سہیل آفریدی کی سوچ اچھی ہے، وزیر اعلیٰ نے یہ کہا کہ ہم پر امن کوششیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی کہ فورس کی جگہ لفظ رضا کار کر لیں، تجویز دی کہ بانی رہائی فورس کی جگہ بانی رہائی رضا کار کا نام دے دیں، اس سے مخالفین کو کسی تنقید کا موقع ہی نہیں ملے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending