Connect with us

Today News

سر پر چھت اور ایک وقت کی روٹی کیلئے روسی نوجوان کا انتہائی قدم

Published

on


روس میں بے روزگاری سے تنگ آئے ایک نوجوان نے سر پر چھت اور ایک وقت کی روٹی کے لیے انتہائی قدم اٹھا لیا۔

روسی میڈیا کے مطابق بشکورتستان کے ایک علاقے سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بم کی افواہ پھیلا کر خود کو کامیابی کے ساتھ گرفتار کروا لیا۔

ہائی اسکول سے گریجویٹ کرنے کے بعد نوجوان نے فوج میں خدمات انجام دیں اور حال ہی میں روسی شہر اوفا میں نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن متعدد کوششوں کے بعد بھی ناکام رہا۔

رہنے کے لیے جگہ اور کھانے کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نے خود کو جیل بھِجوانے کا ایک منصوبہ تیار کیا۔

گزشتہ برس اوفا میں نوکری کی تلاش میں تین روز گزارنے کے بعد وہ ایک ہوٹل میں گیا اور وہاں کے اسٹاف کو ڈرایا کہ اس کے بیگ میں بم ہے اور وہ اس جگہ کو اڑا دے گا۔ اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا جس کے باوجود ہوتل اسٹاف نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا۔ لہٰذا وہ کمرے کی کھڑکی سے کود کر  ایئر پورٹ بھاگ نکلا۔

اس کی دوسری کوشش کامیاب رہی۔ اوفا ایئر پورٹ کے ٹرمینل کے بیچ اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چیخنے لگا کہ اس کے پاس بم ہے، کوئی اس کے قریب نہ آئے۔ ایئر پورٹ سیکیورٹی نے نوٹس کیا کہ بستے میں کوئی وائر یا بم ڈیٹونیٹر نہیں ہے، وہ اس کی جانب لپکے اور اس کو پولیس کے آنے تک پکڑے رکھا۔

نوجوان کے پاس سے کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا اور پوچھے جانے پر بتایا کہ اس نے ایسا قصداً کیا۔ نفسیاتی چیک اپ پر وہ بالکل ٹھیک معلوم ہوا۔ البتہ، اس کے منصوبے ک مطابق عدالت نے اس کو تین سال اور دو ماہ کے لیے قید کی سزا سنا دی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

تعصب ایک عالمی ورثہ ہے

Published

on


امریکی ریاست منی سوٹا میں صومالی تارکینِ وطن کی آبادی دو فیصد ہے۔یہاں سے ایک صومالی نژاد رکنِ کانگریس الہان عمر صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ٹرمپ منی سوٹا کے صومالی نژاد ووٹروں کو ایسا کچرہ کہتے ہیں جو کسی کام کا نہیں اور اس کچرے کی صفائی کے بغیر امریکا عظیم نہیں بن سکتا۔بقول ٹرمپ یہ لوگ امریکا چھوڑ کر اپنے بدترین غلیظ اصل ملک کیوں نہیں لوٹ جاتے۔

ہو سکتا ہے بہت سوں کو ٹرمپ کا یہ تبصرہ بھی کچرے جیسا لگے مگر ان دنوں عمومی ماحول ایسا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایسے کھلم کھلا نسل پرستانہ تبصروں کو کسی امریکی عدالت میں چیلنج کرے اور عدالت اس کا سختی سے نوٹس لے کر اور کچھ نہیں تو ہلکی پھلکی سرزنش ہی کر دے۔

بالخصوص ڈھائی ماہ قبل ایک افغان پناہ گزین کے ہاتھوں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کی ایک افسر کے قتل اور ایک کے شدید زخمی ہونے کے بعد تو گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا۔اس واردات کی آڑ میں تیسری دنیا کے کم ازکم سولہ ممالک کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار پایا اور تیس دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزہ کا حصول مزید مشکل ہو گیا۔ویزہ مل بھی جائے تو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ ملک میں داخلے سے پہلے لازمی قرار پائی ۔ٹرمپ کے حامیوں کے منہ کی کڑواہٹ اب تک دور نہیں ہوئی کہ سانولے رنگ کا زہران ممدانی نیویارک کا مئیر کیوں بن گیا اور اس کی شہریت منسوخ ہونے سے کیسے بچ گئی۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ بھی شئیر کی جس میں سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ کی بندر جیسی میم بنائی گئی ہے۔مگر اس حرکت کا صدمہ یوں نہیں ہونا چاہئیے کہ لگ بھگ بارہ برس پہلے جب ٹرمپ نے پہلی بار صدر اوباما کی امریکی شہریت پر سوال اٹھائے تھے تب سے اب تک تعصب اور نسل پرستی کے پلوں تلے سے نفرت کا اتنا پانی گذر چکا ہے کہ امریکا میں اب کسی کے لیے بھی کسی نسل پرست ریمارک کے کوئی معنی نہیں رہے۔ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی تک کی سفید فام امریکی نسل پرستی جو بظاہر کچھ عرصے کے لیے مدہم دکھائی پڑتی تھی، ایک انگڑائی لے کر امریکی ریاستی سوچ پر دوگنی شدت سے ٹوٹ پڑی ہے۔

 امریکا کے علاوہ اس لہر کی لپیٹ میں ایسے ایسے ممالک آ رہے ہیں کہ جنھیں چند برس پہلے تک درگذر ، روشن خیالی اور کھلے پن کا امام سمجھا جاتا تھا۔مثلاً ڈنمارک میں نسل پرستی کی لہر کے خلاف ایک موثر روشن خیال اتحاد تشکیل دینے کے بجائے امیگریشن قوانین اتنے سخت کر دیے گئے ہیں کہ اب دوسرے یورپی ممالک بھی ان کی بتدریج تقلید کر رہے ہیں۔

جو برطانوی لیبر پارٹی کچھ عرصے پہلے تک کنزرویٹو پارٹی کو تعصب کا طعنہ دیتی آ رہی تھی اب اپنی امیگریشن پالیسیوں میں روایتی نسل پرستوں سے بھی اوپر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔وزیراعظم کئر اسٹارمر کھل کے کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرکار یقینی بنائے گی کہ یہ جزیرہ ( برطانیہ ) اجنبیوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے۔

یہ وہی برطانیہ ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے برصغیر اور سابق افریقی نوآبادیات کے مزدوروں کے لیے امیگریشن کے دروازے ایسے کھولے تھے کہ سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ پہنچنے کے صرف پندرہ دن کے اندر اندر سابق نوآبادیاتی باشندے برطانوی شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔اب یہ مدت دس برس کر دی گئی ہے اور دس برس بعد بھی درخواست گذار کے رہائشی و سماجی ریکارڈ کا جائزہ لے کر ہی اسے شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔مگر یہ سخت گیر پالیسی کم ازکم ان امیر مسلمان ممالک کی پالیسی سے تو پھر بھی بہتر ہے جہاں تارکینِ وطن کی تین تین نسلیں بھی شہریت کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔وہاں شہریت بنیادی حق نہیں بلکہ ’’ احسان ‘‘ ہے۔

غیر مغربی ممالک میں بھی اجنبیوں کے لیے برداشت ختم ہو رہی ہے۔مثلاً جو تارکینِ وطن یورپ جانے کی غرض سے لیبیا میں عارضی طور پر داخل ہوتے ہیں۔وہ سرسری گرفتاریوں ، گمشدگی ، تشدد ، ریپ ، قتل ، بھتہ خوری اور جبری مشقت کروانے والے گروہوں کے نشانے پر ہیں۔یورپی یونین لیبیائی کوسٹ گارڈز کی مسلح تربیت کے لیے بھاری رقم دیتی ہے تاکہ تارکینِ وطن کو یورپ جانے سے روکا جا سکے۔مگر لیبیا میں تارکینِ وطن سے ہونے والے سلوک سے یورپی یونین کو کوئی مطلب نہیں۔انسانی حقوق کا کوڑا صرف ان ممالک کی پیٹھ پر برسانے کے لیے ہے جو مغرب کو کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں۔

کہنے کو لیبیا کا ہمسایہ تیونس بھی ایک عرب و بربر اکثریتی مگر افریقی ملک ہے۔تاہم وہاں بھی سیاہ فام تارکینِ وطن ایک مدت سے اپنی رنگت کا جرمانہ دے رہے ہیں۔لگ بھگ ڈھائی برس پہلے تیونس کے صدر قیس سعید نے بیان دیا کہ افریقی تارکینِ وطن کا اس ملک میں اکثریت بننے کا خدشہ حقیقی ہے۔ایسا ہوا تو تیونس کا ثقافتی و تاریخی رشتہ عرب ثقافت سے کٹ جائے گا۔اس بیان کے بعد ملک میں سیاہ فام طلبا اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے خلاف حملوں کی لہر اور گرفتاریوں کا سلسلہ چل نکلا۔

جنوبی افریقہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کس طرح چالیس لاکھ سفید فاموں نے ڈھائی کروڑ سیاہ فام شہریوں کو اپارتھائیڈ پالیسی کے ذریعے انیس سو چورانوے تک ایک نسل پرست نظام میں جکڑے رکھا ۔مگر آج اپارتھائیڈ سے پاک اسی جنوبی افریقہ میں آس پڑوس سے روزگار کی خاطر آنے والے سیاہ فام تارکینِ وطن کو انہی حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے جس نظر سے گورے افریکانر جنوبی افریقی سیاہ فاموں کو دیکھتے تھے۔

انیس سو چورانوے میں آزادی ملنے کے بعد سے اب تک جنوبی افریقہ میں غیرملکی سیاہ فام تارکینِ وطن کے خلاف لگ بھگ ڈیڑھ ہزار پرتشدد وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ان وارداتوں میں تذلیل ، لوٹ مار ، اغوا اور قتل سمیت ہر طرح کے قصے شامل ہیں۔کوویڈ کے دوران بھی تارکینِ وطن امتیازی سلوک سے گذرے۔جنوبی افریقہ کی سول سوسائٹی کے کئی گروپ نائجیریا ، موزمبیق ، زیمبیا اور زمبابوے سے تلاشِ روزگار کے لیے آنے والے ہم نسلوں کے خلاف ریلیاں منظم کرتے رہے۔

لاطینی امریکی ممالک کولمبیا ، پیرو ، چلی اور ایکویڈور میں وینزویلا سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔بھارتی حکومت بنگالی نژاد مسلمانوں اور میانمار کے روہنگیا پناہ گزینوں کو جب کہ ایران و پاکستان کی حکومتیں افغان پناہ گزینوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور تارکینِ وطن مخالف ریاستی بیانیہ مقامی شہریوں کو بھی انتہاپسند بنا رہا ہے۔

 جب ریاست روزگار ، معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی طبقاتی عدم مساوات کے تناظر میں اپنے شہریوں کی توقعات پوری نہیں کر پاتی تو اس کا ذمے دار تارکینِ وطن کو ٹھہرانا مقامی ووٹروں کی توجہ بٹانے کا نہایت مجرب نسخہ ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

ہمالیہ سے الپس تک، ایک لسانی پُل

Published

on


سفارت کاری محض لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ جذبوں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے دورہ آسٹریا کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے اپنی ’’جرمن‘‘ لسانی مہارت کو بروئے کار لا کر ویانا کے سرد ایوانوں میں جو گرم جوشی پیدا کی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ’’ زبان‘‘ ہزاروں میل کے فاصلے مٹا سکتی ہے، اگرچہ یہ ہنر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ہی جرمن زبان بولنے والے ملکوں پر آزمایا جاتا تو آج ہمالیہ اور الپس کے درمیان معاشی شاہراہیں پہلے تعمیر ہو چکی ہوتیں۔ مگر موجودہ پیش رفت خواہ وہ جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت ہو یا سیاحت میں تعاون کی خواہش اور تجارت سرمایہ کاری، آئی ٹی، صحت، انسانی ترقی کے حوالے سے ایم او یوزکو جلد حتمی شکل دینے کی بات ہو۔

وزیر اعظم نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ملک کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلانے کی سمت میں اہم ہے۔ جرمن زبان کی وہ گفتگو دراصل ایک پکار تھی۔ ایک ایسی پکار جس نے ویانا سے لے کر اسلام آباد تک کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ ’’پاکستان اب آپ لوگوں کے کاروبار کے لیے کھلا ہے‘‘ جب جرمن زبان کی مٹھاس کے ساتھ سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہے تھے تو وہاں کے سرمایہ کار، تاجر کس اپنائیت کی نظر سے وزیر اعظم کو دیکھ رہے تھے۔

اب یہ ہماری اپنی اہلیت پر منحصر ہے کہ ہم اس دعوت کو اس یورپی معیار کے مطابق ڈھالیں، جس کا خواب آسٹروی سامعین کو دکھایا گیا ہے، کیونکہ وزیر اعظم کی جرمن گفتگو نے اہل ویانا کے دل جیت لیے ہیں۔ اب اگر ان ایم او یوز کو حقیقی رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے تو ہمارے باصلاحیت طالب علم وہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوں گے۔ آئی ٹی، ہماری کوڈنگ اور آسٹریا کی انجینئرنگ مل کر ایک نیا ڈیجیٹل شاہکار تخلیق کریں گی۔گلگت، سوات، چترال میں جب سیاحت کے شعبے میں ’’آسٹروی‘‘ سرمایہ اور ہنر تجربہ مل کر کام کریں گے تو ان کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں کے پہاڑ ان کے الپس پہاڑ جیسے ہوں گے اور یہاں کا لیڈر ان کی زبان بولنے والا۔

آج کا پاکستان آسٹریا کے ساتھ مل کر تعلیم ، صحت، سیاحت، انسانی وسائل، آئی ٹی، تجارت، سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے جو نیا باب کھولنا چاہ رہا ہے، اس میں جرمن زبان کی چاشنی نے ایک نیا رنگ بکھیر دیا ہے۔ پاکستان اور آسٹریا کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلا جائے۔

حکومت پاکستان نے آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت جوکہ اس وقت بہت ہی کم ہے اسے بڑھانے کے لیے ’’ بزنس ٹو بزنس‘‘ رابطوں کو فعال کرنے اور تجارتی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی، صحت و سیاحت کے ایم او یوز پر جب دستخط ہو جائیں گے تو یہ محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کے مقدر کو بدلنے والا عہد نامہ ہوگا۔

پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام میں ایک سچا ہم سفر ہے۔ آسٹریا کے پاس پہاڑوں کو سنوارنے کا فن ہے اور ہمارے پاس دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، اگر ہم آسٹریا کے ماڈل کو شمالی علاقہ جات میں نافذ کر دیں تو سیاحت کے میدان میں نوبل شاہکار بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی ’’جرمن‘‘ زبان میں گفتگو نے اس سرد مہری کو ختم کر دیا ہے جو اکثر مترجمین کے درمیان کھو جاتی ہے۔ پاکستان اب صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ایک ’’گلوبل بزنس حب‘‘ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر اعظم پاکستان اور آسٹریا کے چانسلر نے دونوں ممالک کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نے سب سے اہم یہ بات کی کہ پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کو آسٹریا میں ملازمتوں تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ وزیر اعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔

انھوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ ایک موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں۔ حکومت ان کی میزبانی اور ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ اب یہ حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کی کاوشیں کرتی ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کریں، یہاں پر ان کو ہر طرح کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ کیونکہ ہمالیہ اور الپس دونوں کے درمیان بہت سی باتیں قدر مشترک ہیں جس میں اگر جرمن زبان کو شامل کر دیا جائے تو ایک لسانی پُل کا کام کرے گا اور پھر فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اپنا گریباں چاک – ایکسپریس اردو

Published

on


ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت کمال تحریر ہے۔ کتاب کی پیشانی پرا ن کی جاذب نظر تصویر موجود ہے۔ جس سے محترم جاوید اقبال کی دانائی ‘ روشنی میں چھن کر سامنے آ رہی ہے۔ ’’اپنا گریباں چاک‘‘ صرف ایک نسخہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا فسانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف کئی مرتبہ رہا۔ وہ سال میں ایک یا دو برس ‘ ایڈمنسٹریو اسٹاف کالج ‘ لیکچر دینے آتے تھے۔

ان کے الفاظ میں بھی دلیل اور تاریخ کی رم جھم بھرپور طور پر محسوس ہوتی تھی۔ علامہ اقبال کا فرزند ہونا تو خیرایک محترم بات ہے ۔ مگر اس کے علاوہ‘ جاوید اقبال بذات خود علم کا ایک بھر پور خزانہ تھے۔ قانون‘ تاریخ‘ فلسفہ اور سماجی رویوں سے لبالب فیض یاب انسان ۔ طالب علم کا منصب تو نہیں ہے کہ فرزند اقبال کی تحریر پر کچھ لکھ سکے۔ مگر چنداقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کے ذہن کی متعدد گرہیں کھل جائیں گی۔ بہت سی فکری پگڈنڈیاں‘ سیدھے رستہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔

 دوسرا خط: میںنے تقریباً سات برس کی عمر میں اپنے والد کو پہلا خط لکھا تھا جب انھیں انگلستان سے گراموفون باجا لانے کی فرمائش کی تھی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد انھیں دوسرا خط تحریر کر رہا ہوں۔ اس مرتبہ وہ اگلے جہان میں ہیں اور مجھے اپنے قومی تشخص اور ’’اسلامی‘‘ریاست کے بارے میں ان سے رہبری لینا مقصود ہے۔

والد مکرم۔ السلام علیکم!

نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے میں آپ کی اجازت کے ساتھ چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی تھی اس میں مولانا مدنی کا موقف تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں‘ لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’قوم‘‘ اور ’’ملت‘‘ کے ایک ہی معانی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلک اشتراک ایمان سے بنی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی ’’قومیت ‘‘ ہے اور ’’وطنیت‘‘ بھی۔

خودکلامی: میں نماز کے بعد دعا رسماً مانگتا ہوں۔ آئین قدرت سے ہٹ کر دعا کی قبولیت کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ میرے مرنے کے بعد دنیا یونہی قائم رہے گی‘ میں قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔ کائنات میں قیامتیں آتی رہتی ہیں۔ ہر لحظہ کوئی نہ کوئی کہکشاں مٹ جاتی ہے‘ ستاروں کے جھرمٹ فنا ہو جاتے ہیں‘ سورج بجھ جاتے ہیں یا نظام ہائے شمسی معدوم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کن فیکون کا عمل بھی جاری ہے۔

قید مقام سے گزر: آخری بات جس پر میںنے زور دیا وہ ’’خالص اور ناخالص طرز حیات‘‘ کا مسئلہ تھا۔ یعنی زندگی بسر کرنے کا کونسا طریقہ ’’خالص‘‘ ہے‘ جسے اپنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو حقیقی معنوں میں آپ کی خوشی و اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ خدا نے روح انسان میں پھونک رکھی ہے۔ اس لیے ہر انسان کے اندر اتنی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں کہ اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی پا لے تو اس کی دنیا بدل سکتی ہے۔ لہٰذا ’’انسان خالص‘‘ وہی ہے جو اپنے جوہر کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ وہ صفات جنھیں اپنا لینے سے امکان ہے کہ ہم اپنے آپ کو ڈھونڈ سکیں‘ دراصل عشق‘ آزادی ‘ جرأت‘ بلندی مقاصد کی تحصیل کے لیے جستجو اور فقر ہیں۔

انہی صفات کی بدولت انسان کی اپنی ذات کی گرہ کھلتی ہے اور وہ تخلیقی‘ اختراعی اور ایجادی کار ہائے نمایاں انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ’’شر‘‘ کی جو قوت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ’’جمود‘‘ ہے۔ جمود ہی کے سبب نام نہاد خوبیاں مثلاً خاکساری ‘ عجز و انکساری‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ خوف‘ بزدلی‘ بدعنوانی‘ بھکاری کی طرح سوال کرنا اور نقالی پیدا ہوتی ہیں جو بالآخر انسان کی مستقل غلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کا فرمان ہے: تمہارا سب سے اچھا دوست تمہارا دشمن ہے جو تمہیں ہمیشہ چوکس اور بیداری کی کیفیت میں رکھتا ہے کیونکہ اگر تمہاری زندگی سے مقابلے یا دوسرے سے سبقت لے جانے کا عنصر نکال دیا جائے تو انجام بے حسی یا موت ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے مطابق ظاہر ہے زندگی گزارنے کا ’’خالص‘‘ طریقہ یہی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح خاک پر رینگتے رہنے کے بجائے انسان اپنے وجود کے سرچشمے سے کچھ بلند کر کے دکھائے۔

اے روح اقبال! جس طرح آپ اپنے آپ کو قائداعظم کا سپاہی سمجھتے تھے اسی طرح قائداعظم نے آپ کو اپنا ’’ دوست‘‘ اور ’’رہبر‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان سے متعلق جس طرح قائداعظم کے بارہ بنیادی اصول میں نے ان کی تقاریر اور بیانات سے اخذ کیے ہیں اسی طرح آپ کو برصغیر میں اسلامی ریاست کے قیام کا خیال جس وجہ سے آیا‘ یا آپ کے دل میں اس خیال کی پرورش جیسے ہوئی‘ آپ کی تحریروں کی روشنی میں اس کی تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔

اس بات پر تو غالباً سب متفق ہیں کہ نظریہ پاکستان کا مطلب برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسی وفاقی ریاست وجود میں لانا تھا جو جمہوری‘ اسلامی اور فلاحی ہونے کے ساتھ ’’جدید‘‘ بھی ہو۔ مگر اے روح اقبال! برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی میں ’’قدیم‘‘ انداز فکر کب ختم ہوتا ہے اور ’’جدید‘‘ کب شروع ہوتا ہے؟ کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہماری اجتماعی سوچ میں جدیدیت کی ابتداء دراصل سر سید احمد خان کے افکار سے ہوتی ہے‘ اگرچہ شاہ ولی اللہ کے بعض نظریات اس ضرورت کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں؟ سرسید کے علاوہ کیا حالی ‘ شبلی‘ آپ اور قائداعظم کے نظریات کو اسی طرح جدیدیین میں شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے سید جمال الدین افغانی اور ان کے ترکی‘ مصری یا ایرانی ہمعصر مفکرین کو کیا جاتا ہے؟

نظریہ سے انحراف:قائداعظم کے نزدیک پارلیمانی وفاقی جمہوری طرز حکومت کا قیام‘ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ‘ شہریوں میں عدم امتیاز کی بنیاد پر مساوات‘ معاشی انصاف کی فراہمی اور قانون کی حاکمیت اسلام ہی کے اصول تھے مگر ان کی آنکھیںبند ہونے کے ساتھ ان نظریات سے انحراف کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ 1949میں ’’قرار داد مقاصد‘‘ کے ذریعے ان اصولوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان کا دستور بنانے میں کئی برس لگ گئے۔ خدا خدا کر کے جب دستور بنا بھی تو تھوڑے عرصے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا۔

سیاستدانوں پر بیورو کریسی غالب آئی اور بیورو کریسی پر دوسری بالا دست قوتیں‘ ملک میں مارشل لا ء لگا دیا گیا۔ پھر مارشل لاؤں کے دور شروع ہوئے جن کا تسلسل بھٹو کی جمہوری حکومت سے ٹوٹا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان دو لخت ہوگیا۔ اس کا ذمے دار کون تھا؟ بھٹو یا مجیب الرحمن یا جنرل یحییٰ خان یا اندرا گاندھی؟ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے دار دراصل ہم میں راوداری کی عدم موجودگی تھی۔ ہم ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کے نعرے تو بلند کرتے رہے لیکن جمہوری کلچر پیدا نہ کر سکے۔

نتیجہ یہ کہ جس جمہوریت کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا‘ اسی جمہوریت نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ بھٹو جاتے جاتے ہمیں اسلام کے نام پر چند مزید ایسے تحفے ’’عطا‘‘ کر گئے جن سے قائداعظم کی ’’جدید لبرل اسلامی فلاحی جمہوریت‘‘ کے تصور کو نقصان پہنچا۔ رجعت پسند مذہبی عناصر‘ جن کے ’’جن‘‘ کو قائداعظم کی بلند قامت شخصیت نے بوتل میں بند کر رکھا تھا‘ رہائی اور زبان مل گئی اور بچے کچھے پاکستان میں علاقہ پرستی‘ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصبات نے فروغ پانا شروع کر دیا۔ بات یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنی نام نہاد نظریاتی اسلام کی اصطلاحیں مثلاً ’’جدید‘‘ ’’لبرل‘‘ ’’اسلامی‘‘ ’’فلاحی‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کی صحیح طور پر تشریح نہیں کر پائے۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم ’’جویو‘‘ ہیں گر درحقیقت ہم عاشق ’’قویم‘‘ ہی کے ہیں۔

اسی طرح بظاہر ہم ’’لبرل‘‘ بھی بنتے ہیں‘ لیکن اندر سے ہمارے دل قدامت پسندی ‘ تقلید اور فرقہ وارانہ تعصب کی دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا محال ہے۔ دراصل ہم نہ تو جدید ہیں‘ نہ لبرل‘ نہ جمہوریت نواز‘ نہ فلاح پسند‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم صحیح معنوں میں اسلام کے پیروکار بھی نہیں۔ شاید اسی سبب پاکستانی اسلام ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کا باعث نہیں بن سکا۔ ہم ’’ملت مسلمین‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں۔ ہم تو محض فرقوں‘ قومیتوں اور قبیلوں پر مشتمل’’ہجوم مسلمین ‘‘ ہیں۔

 اس سے آگے کچھ بھی لکھنا میرے بس کی بات نہیں!





Source link

Continue Reading

Trending