Connect with us

Today News

فرانس؛ فوجی اہلکاروں کی کھیل ہی کھیل میں گولی چل گئی؛ ایک ہلاک

Published

on


فرانس میں فوجی اہلکار ایک ایسا کھیل وقت گزارنے کے لیے کھیل رہے تھے جس کے بارے میں انھیں زرا اندازہ نہ تھا کہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ پیرس کے مغرب میں واقع فوجی تربیت گاہ میں پیش آیا جہاں 4 فوجی اہلکار فارغ وقت میں ایک گیم کھیلنے لگے۔

یہ ایک فوجی کھیل تھا جس میں ساتھی اہلکار کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عام طور پر یہ کھیل بغیر لوڈڈ ہتھیار کے کھیلا جاتا ہے لیکن ایک پستول میں گولی رہ گئی تھی۔

یہ اہلکار مبینہ طور پر شراب کے نشے میں بھی تھے اور اسی دوران کھیل ہی کھیل میں ایک اہلکار نے اپنی پستول خالی سمجھ کر چلائی تو گولی دوسرے کے سر پر جا لگی۔

سر پر گولی لگنے سے فرانسیسی فوجی 20 سالہ الیگزینڈر لینکبین شدید زخمی ہوگیا جنھیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

پیرس کے فوجی گورنرنے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی خاندان کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق واقعے کے بعد تین دیگر فوجیوں کو پیرس کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک فوجی پر ہتھیار کے ذریعے شدید جسمانی نقصان اور شراب نوشی کے ذریعے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

دیگر دو فوجیوں پر غیر ارادی جسمانی نقصان، حفاظتی قوانین کی جان بوجھ کر خلاف ورزی، اور جرم کی جگہ تبدیل کرنے کے ذریعے انصاف کے عمل میں رکاوٹ کے الزامات عائد کیے گئے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جمہوریت کا پہلا زینہ – ایکسپریس اردو

Published

on


طلبہ یونین پر پابندی کو 42 سال گزر گئے۔ ایک آمر نے طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی لگائی۔ جمہوری حکومتیں اپنے منشور کے مطابق طلبہ یونین پر سے پابندی ختم نہ کرسکیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ اور پاکستانی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی کے 42 سال پورے ہونے کے موقع پر ایک بیان میں اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی سے لاکھوں طلبہ کے حقوق معطل ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر 23 کی خلاف ورزی ہے اور یہ اس منشور کی اظہارِ رائے سے متعلق شق 19 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

 جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو اقتدار سنبھالا اور 1973 کے آئین کو معطل کردیا، یوں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی غضب ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پیپلز پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ مزدور انجمن، طلبہ یونین اور صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کی سبھائیں تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ جب طلبہ یونین پر پابندی لگی تو دائیں اور بائیں بازو کی تمام طلبہ تنظیموں نے ایک مؤثر مہم چلائی۔ یہ تحریک عروج پر تھی کہ اس دوران اسلامی جمعیت تحریک سے علیحدہ ہوگئی۔

1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں قائم ہوئی مگر یہ حکومت اپنے منشور پر عملدرآمد نہیں کرسکی۔ اس دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رہنما نے سپریم کورٹ میں طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف عرضداشت دار کی۔مگر عدلیہ کے ایک عبوری حکم میں طلبہ یونین پر پابندی برقرار رکھی گئی۔ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت وفاق میں قائم ہوئی تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا مگر اس اعلان پر عملدرآمد کبھی نہیں ہوا۔

2013 میں پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ میر حاصل بزنجو نے طلبہ یونین پر پابندی کے خاتمے کی قرارداد پیش کی۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل طحہٰ کے طلبہ یونین پر پابندی کے بارے میں مفصل فیصلے کو ایوان میں پڑھ کر سنایا تو پتہ چلا کہ معزز عدالت نے 1990 میں طلبہ یونین پر پابندی بعض شرائط کے ساتھ ختم کردی تھی۔ سینیٹ نے حاصل بزنجو کی طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔

ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی ایکٹیوسٹ اور بائیں بازو کی تنظیم پرو گریسو فرنٹ کے رہنما بصیر نوید نے اس وقت کے صدر ممنون حسین کو ایک عرضداشت بھیجی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلبہ یونین پر پابندی ختم کی جائے۔ ایوانِ صدر نے یہ عرضداشت وزارت قانون کو بھجوا دی۔ وزارت قانون کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ فیصلہ دیا کہ طلبہ یونین پر پابندی مارشل لاء ریگولیشن کے تحت عائد کی گئی تھی۔ اب مارشل لاء ختم ہونے کے بعد طلبہ یونین پر پابندی ختم ہوچکی ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف تحریک مسلسل جاری رکھی۔

بائیں بازو کے طلبہ نے 2017 میں طلبہ کی ایک تنظیم پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کے بائیں بازو کی دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ ایک متحدہ محاذ قائم کیا۔ اس متحدہ محاذ نے پورے ملک میں طلبہ یونین کی سرگرمیوں کو بحال کرانے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ یکم مارچ 2018 کو ملتان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ایک پرامن مارچ کیا۔ یکم مارچ 2019 کو پورے پاکستان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا۔ یہ احتجاج اتنا پرزور تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں طلبہ یونین کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

بلاول بھٹو کے اس وعدہ کے تحت سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کا مسودہ پیش ہوا۔ سندھ اسمبلی میں تعلیم کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، اساتذہ اور صحافی نمائندوں کی مشاورت سے ایک جامع قانون تیار کیا۔ سندھ اسمبلی نے اس قانون کی منظوری دیدی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور دیگر تینوں صوبائی اسمبلیوں نے اس بارے میں کوئی قانون منظور نہیں کیا مگر سندھ میں قانون کے نفاذ ہونے کے باوجود ابھی تک کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتخابات منعقد نہیں ہوسکے۔ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان مقرر ہوئے تو وہ قائد اعظم یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے بلحاظِ عہدہ رکن بن گئے۔

ان کے ایماء پر قائد اعظم یونیورسٹی نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا، مگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) کے سابق رہنما اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور احسن نے سینیٹ میں بار بار طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کیا مگر حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہ ہوا۔ لاہور میں ترقی پسند طلبہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے زبردست مظاہرہ کیا۔انگریز حکومت نے جب ہندوستان میں یونیورسٹیاں قائم کیں تو ان یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنی یونین منتخب کرنے کا موقع دیا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوتے تھے۔

اس یونین کے عہدیداروں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پاکستان بنانے کے پیغام کو مسلمانوں میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کے باقاعدہ انتخابات ہوتے تھے۔ 1953 میں کراچی کے تعلیمی اداروں میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نامزد کردہ امیدوار کامیاب ہوئے، یوں ان طلبہ یونینز نے انٹرکالجیٹ باڈی کے پلیٹ فارم سے تعلیم کو عام کرنے اور فیسوں میں کمی کے لیے 8 جنوری 1953 کو تاریخی جدوجہد کی۔ خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے اس تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ، یوں کراچی میں نئے کالج قائم ہوئے، فیسوں میں کمی ہوئی اور طلبہ کو بسوں کے کرایہ میں رعایت ملی۔

یہ رعایت 80 کی دہائی تک جاری رہی۔ اس وقت طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ 1963 میں طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل ہوا۔ معروف صحافی حسین نقی کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے براہِ راست ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بلوچ طلبہ سے یکجہتی کرنے پر یونیورسٹی سے انھیں برطرف کیا۔

ابلاغیات کے استاد اور دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے سابق رہنما ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی کا کہنا ہے کہ نوجوان طلبہ کی تربیت کے لیے طلبہ یونین انتہائی ضروری ہے۔ طلبہ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طالب علم فتح اور شکست کو برداشت کرنے کے جذبہ سے آراستہ ہوتے ہیں اور انھیں قانون کے تحت پہلی دفعہ اپنی سرگرمیوں کو مرتب کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے، یوں طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہوتا ہے۔ طلبہ یونین جمہوری نظام کا پہلا زینہ ہے۔ ملک کی قیادت میں بہت سے رہنما آئے ہیں جو منتخب طلبہ یونین کے تجربہ سے گزرے ہیں۔ یہ رہنما زیادہ بہتر انداز میں جمہوری روایات کی پیروی کرتے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی سے جمہوری نظام مستحکم ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ ٹیپو سلطان بلوچ پاڑہ میں بھائیوں کے درمیان فائرنگ، ایک بھائی جاں بحق دوسرا زخمی

Published

on



ٹیپو سلطان کے علاقے بلوچ پاڑہ کے قریب گھر میں فائرنگ کے واقعے میں ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، بلدیہ میں گھر کے اندر فائرنگ سے بھی ایک شخص زخمی ہوگیا۔

 تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی سٹی اسکول کے قریب گھر کے اندر فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا ، مقتول کی لاش اور زخمی کو جناح اسپتال لیجایا گیا۔

 چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 45 بہاؤ الدین کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی بھائی 43 سالہ محی الدین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

 ایس ایچ او ٹیپو سلطان اظہر خان نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ گھر میں بھائیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں پیش آیا ہے جس میں جلال الدین نامی بھائی نے فائرنگ کی تھی جو موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔

دریں اثنا بلدیہ حب ریور روڈ روٹ اے 25 اسٹاپ کے قریب گھر میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے ایدھی کے رضا کاروں نے طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔

 ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کی شناخت 26 سالہ بلال ولد علی شیر کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ گھر میں اسلحہ صاف کرتے ہوئے اتفاقیہ گولی چلنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

غربت 29 فیصد ہوگئی، 7 کروڑ افراد انتہائی غریب، دولت کی عدم مساوات میں اضافہ؛ سرکاری سروے

Published

on



پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر29 فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 11برسوں کی بلندترین شرح ہے۔لوگوں کی آمدن میں عدم مساوات بھی گزشتہ 27 برسوں کی بلندترین شرح پر ہے ۔

یہ بات جمعے کو جاری سرکاری سروے رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 7برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال 2018-19ء سے 2024-25ء کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو2024-25ء میں بڑھ کر28.9 فیصد ہوگئی،2014  کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے خطرناک صورتحال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998ء میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔اسی طرح غربت گیارہ برسوں کی بلندترین شرح پر ہے جبکہ دولت کی عدم مساوات 27 برسوں کی بلندشرح پر پہنچ چکی ہے۔یہ سب حکمران اشرافیہ کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر  36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔

لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7  فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جبکہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔

لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔

حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Trending