Today News
ہمالیہ سے الپس تک، ایک لسانی پُل
سفارت کاری محض لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ جذبوں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے دورہ آسٹریا کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے اپنی ’’جرمن‘‘ لسانی مہارت کو بروئے کار لا کر ویانا کے سرد ایوانوں میں جو گرم جوشی پیدا کی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ’’ زبان‘‘ ہزاروں میل کے فاصلے مٹا سکتی ہے، اگرچہ یہ ہنر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ہی جرمن زبان بولنے والے ملکوں پر آزمایا جاتا تو آج ہمالیہ اور الپس کے درمیان معاشی شاہراہیں پہلے تعمیر ہو چکی ہوتیں۔ مگر موجودہ پیش رفت خواہ وہ جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت ہو یا سیاحت میں تعاون کی خواہش اور تجارت سرمایہ کاری، آئی ٹی، صحت، انسانی ترقی کے حوالے سے ایم او یوزکو جلد حتمی شکل دینے کی بات ہو۔
وزیر اعظم نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ملک کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلانے کی سمت میں اہم ہے۔ جرمن زبان کی وہ گفتگو دراصل ایک پکار تھی۔ ایک ایسی پکار جس نے ویانا سے لے کر اسلام آباد تک کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ ’’پاکستان اب آپ لوگوں کے کاروبار کے لیے کھلا ہے‘‘ جب جرمن زبان کی مٹھاس کے ساتھ سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہے تھے تو وہاں کے سرمایہ کار، تاجر کس اپنائیت کی نظر سے وزیر اعظم کو دیکھ رہے تھے۔
اب یہ ہماری اپنی اہلیت پر منحصر ہے کہ ہم اس دعوت کو اس یورپی معیار کے مطابق ڈھالیں، جس کا خواب آسٹروی سامعین کو دکھایا گیا ہے، کیونکہ وزیر اعظم کی جرمن گفتگو نے اہل ویانا کے دل جیت لیے ہیں۔ اب اگر ان ایم او یوز کو حقیقی رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے تو ہمارے باصلاحیت طالب علم وہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوں گے۔ آئی ٹی، ہماری کوڈنگ اور آسٹریا کی انجینئرنگ مل کر ایک نیا ڈیجیٹل شاہکار تخلیق کریں گی۔گلگت، سوات، چترال میں جب سیاحت کے شعبے میں ’’آسٹروی‘‘ سرمایہ اور ہنر تجربہ مل کر کام کریں گے تو ان کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں کے پہاڑ ان کے الپس پہاڑ جیسے ہوں گے اور یہاں کا لیڈر ان کی زبان بولنے والا۔
آج کا پاکستان آسٹریا کے ساتھ مل کر تعلیم ، صحت، سیاحت، انسانی وسائل، آئی ٹی، تجارت، سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے جو نیا باب کھولنا چاہ رہا ہے، اس میں جرمن زبان کی چاشنی نے ایک نیا رنگ بکھیر دیا ہے۔ پاکستان اور آسٹریا کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلا جائے۔
حکومت پاکستان نے آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت جوکہ اس وقت بہت ہی کم ہے اسے بڑھانے کے لیے ’’ بزنس ٹو بزنس‘‘ رابطوں کو فعال کرنے اور تجارتی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی، صحت و سیاحت کے ایم او یوز پر جب دستخط ہو جائیں گے تو یہ محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کے مقدر کو بدلنے والا عہد نامہ ہوگا۔
پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام میں ایک سچا ہم سفر ہے۔ آسٹریا کے پاس پہاڑوں کو سنوارنے کا فن ہے اور ہمارے پاس دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، اگر ہم آسٹریا کے ماڈل کو شمالی علاقہ جات میں نافذ کر دیں تو سیاحت کے میدان میں نوبل شاہکار بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی ’’جرمن‘‘ زبان میں گفتگو نے اس سرد مہری کو ختم کر دیا ہے جو اکثر مترجمین کے درمیان کھو جاتی ہے۔ پاکستان اب صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ایک ’’گلوبل بزنس حب‘‘ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر اعظم پاکستان اور آسٹریا کے چانسلر نے دونوں ممالک کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
اس موقع پر دونوں فریقین نے زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نے سب سے اہم یہ بات کی کہ پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کو آسٹریا میں ملازمتوں تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ وزیر اعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔
انھوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ ایک موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں۔ حکومت ان کی میزبانی اور ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ اب یہ حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کی کاوشیں کرتی ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کریں، یہاں پر ان کو ہر طرح کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ کیونکہ ہمالیہ اور الپس دونوں کے درمیان بہت سی باتیں قدر مشترک ہیں جس میں اگر جرمن زبان کو شامل کر دیا جائے تو ایک لسانی پُل کا کام کرے گا اور پھر فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے۔
Today News
ٹیرف سے متعلق اب دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا، امریکی وزیرِخزانہ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ٹیرف سے متعلق اب دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔
امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اپنے بیان میں اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے دوران ٹیرف کی مجموعی سطح کم و بیش یہی رہے گی جو اس وقت نافذ ہے، تاہم ان کے نفاذ کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 جیسے قوانین کا سہارا لے گی، جنہیں ماضی میں متعدد بار عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن عدالتوں نے درست قرار دیا۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے صدر کے بعض اختیارات محدود ہوئے ہیں، تاہم مختلف ممالک کے لیے ٹیرف کی سطح کو ایک حد تک برقرار رکھا جائے گا، البتہ اس کے لیے قانونی بنیاد مختلف ہوگی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس کے نتیجے میں عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔
عدالت کے مطابق جس قانون کے تحت یہ ٹیرف نافذ کیے گئے وہ قومی ایمرجنسی کے حالات کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ قانون صدر کو اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور یہ کہ دیگر ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔
Today News
18 سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار، نیا آرڈیننس جاری
پنجاب میں لڑکا ہو یا لڑکی ، 18سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار ہوگا، پنجاب حکومت کی طرف سے نیا آرڈیننس جاری کردیا گیا۔
حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق نکاح رجسٹرار کو کم عمر شادی رجسٹر کرنے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا ، 18سال سے زائد عمر شخص کو کم عمر لڑکی سے نکاح پر کم از کم دو سال قید ہوگی ، کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو 5لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
آرڈیننس میں شادی کے بعد کم عمر کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ابیوز قرار دیدیا گیا ، چائلڈ ابیوز پر 5سے 7سال قید اور کم از کم 10لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا ۔
آرڈیننس کے مطابق کم عمر بچوں کو شادی کے لیے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہوگا ، چائلڈ ٹریفکنگ پر 5سے 7سال قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا ، سرپرست یا والدین کی جانب سے کم عمری کی شادی کرانے پر 2سے 3سال قید کی سزا ہوگی۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش ہوگا۔
Source link
Today News
ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا نجی شعبے پر مشتمل بورڈ قائم، 22 رکنی بورڈ میں 6 سرکاری ارکان شامل
حکومت نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے انتظامی امور میں شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے 22 رکنی نیابورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز تشکیل دیدیاہے، جس میں اکثریت نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر عمرسعید کوبورڈ کا نیا چیئرمین مقررکیاگیا ہے۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے پاس تھا ،جبکہ سیکریٹری تجارت بورڈکے وائس چیئرمین تھے، حالیہ قانونی ترامیم کے بعددونوں عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ ماہ ای ڈی ایف ایکٹ میں وزیراعظم کی جانب سے قائم پینل کی سفارشات کی روشنی میں ترامیم کی تھیں،جن کامقصد فنڈکے استعمال کی نگرانی سخت کرنا اور بیوروکریسی کاکردارمحدودکرنا ہے۔
ای ڈی ایف میں تقریباً 52 ارب روپے کی رقم موجودہے،جو برآمدکنندگان پر عائد 0.25 فیصدسرچارج کے ذریعے جمع کی جاتی تھی۔ حکومت پہلے ہی اس سرچارج کو ختم کر چکی ہے اور وزیراعظم نے فنڈکابین الاقوامی معیارکے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
گزشتہ ماہ بورڈ نے چاول برآمدکنندگان کوعالمی مسابقت اور برآمدی حجم میں کمی کے پیش نظر 15 ارب روپے کی منظوری دی تھی اور جون تک 3 سے 9 فیصد ریبیٹ دینے کافیصلہ کیاتھا،تاہم اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔
نئے بورڈ میں 22 ارکان میں سے صرف 6 سرکاری افسران شامل ہیں،نجی شعبے کے ارکان میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور صنعتی نمائندے شامل کیے گئے ہیں،جبکہ پاکستان بزنس کونسل،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،رائس ایکسپورٹرز ، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز،میٹ ایکسپورٹرز اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزکے نمائندگان بھی بورڈکاحصہ ہونگے۔
قانونی ترامیم کے تحت گزشتہ تین برسوں کی بنیاد پر چار بڑے برآمدکنندگان، بڑا نان ٹیکسٹائل برآمد کنندہ اور زراعت، آئی ٹی اور صنعت کے شعبوں سے ایک، ایک رکن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔
Source link
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims